سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک مجرم کو تعزیری طور پر موت کی سزا دی گئی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اگست 2026 کو بیان کیا، وزارت داخلہ کے مطابق سعودی شہری محمد بن مجخر بن عبدالهادی الدوسری نے مملکت میں ہشیش منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔ سیکیورٹی اداروں نے ملزم کو گرفتار کیا، جس کے بعد تفتیش اور متعلقہ عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد اسے تعزیری طور پر موت کی سزا سنائی گئی۔
یہ سزا اپیل اور سپریم کورٹ کی توثیق کے بعد حتمی قرار دی گئی، جس کے بعد شاہی فرمان کے ذریعے شرعی فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ مجرم کو پیر 27 صفر 1448ھ بمطابق 10 اگست 2026 کو مشرقی علاقے میں پھانسی دی گئی۔
وزارت داخلہ نے اس اقدام کے ذریعے شہریوں اور مقیم افراد کو منشیات کی لعنت سے بچانے اور اسمگلروں و ڈیلرز کے خلاف سخت ترین قانونی سزاؤں کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
مجرم کو کس جرم میں سزا دی گئی؟ سعودی شہری محمد بن مجخر بن عبدالهادی الدوسری کو مملکت میں ہشیش منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں تعزیری طور پر موت کی سزا دی گئی۔ سیکیورٹی اداروں نے اسے گرفتار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔
سزا پر عمل درآمد کب اور کہاں کیا گیا؟ سزا پر عمل درآمد پیر 27 صفر 1448ھ بمطابق 10 اگست 2026 کو سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں کیا گیا۔ یہ عمل شاہی فرمان کے بعد شرعی طور پر مکمل کیا گیا۔
عدالتی عمل کیا تھا؟ مجرم کے خلاف متعلقہ عدالت میں کیس چلایا گیا جہاں اسے موت کی سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی، تاہم سپریم کورٹ کی توثیق کے بعد یہ سزا حتمی ہو گئی۔