Monday, September 14, 2026
Uncategorized

مکہ کے قریب وادی العصیلہ میں قدیم کتبات اور تاریخی کنویں دریافت

مکہ کے قریب وادی العصیلہ میں قدیم کتبات اور تاریخی کنویں دریافت

مکہ کے شمال مشرق میں واقع وادی العصیلہ میں 60 سے زائد ابتدائی اسلامی کتبات اور دو تاریخی کنویں موجود ہیں، جو قدیم عربی خطاطی اور مکہ کی جانب آنے والے حج کے راستوں کا آثارِ قدیمہ کا ریکارڈ فراہم کرتے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ وادی تقریباً چھ کلومیٹر لمبی اور دو کلومیٹر چوڑی ہے، جو تاریخی طور پر عراق اور پڑوسی خطوں سے آنے والے مسافروں اور زائرین کے قافلوں کے لیے ایک اہم راستہ رہی ہے۔ پہاڑوں کی چٹانوں پر کندہ یہ کتبات ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی (پہلی اور دوسری صدی ہجری) سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان تحریروں میں ابتدائی اسلامی دور کی نمایاں شخصیات کا ذکر ہے، جو ماہرین کو ابتدائی عربی اسکرپٹس کی ارتقائی اور جمالیاتی ترقی کے ٹھوس شواہد فراہم کرتی ہیں۔

صحرائی علاقے سے گزرنے والے قافلوں کی مدد کے لیے مختلف اسلامی حکمرانوں نے وادی میں پانی کا انفراسٹرکچر تعمیر کروایا، جس میں عباسی خلافت کے دور میں قائم کیے گئے چار اصل تاریخی کنوؤں میں سے دو اب بھی محفوظ ہیں۔

رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس اس وقت اس راہداری میں ایک جامع تحفظ پروگرام نافذ کر رہا ہے تاکہ چٹانی فن اور کنوؤں کو کٹاؤ سے بچایا جا سکے، جو سعودی Vision 2030 کے تحت قومی ورثے کے تحفظ اور ثقافتی مقامات کی ترقی کے اقدامات کا حصہ ہے۔

وادی العصیلہ کی جغرافیائی اہمیت کیا ہے؟ یہ وادی مکہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور اس کی لمبائی تقریباً چھ کلومیٹر جبکہ چوڑائی دو کلومیٹر ہے۔ یہ تاریخی طور پر عراق اور دیگر پڑوسی علاقوں سے آنے والے زائرین اور مسافروں کے قافلوں کے لیے ایک اہم راستہ رہی ہے۔

وادی میں موجود کتبات کس دور سے تعلق رکھتے ہیں؟ وادی العصیلہ کے پہاڑوں پر موجود کتبات ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی یعنی پہلی اور دوسری صدی ہجری کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تحریریں ابتدائی عربی خطاطی کے ارتقاء اور اس دور کی نمایاں شخصیات کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔

وادی میں پانی کی فراہمی کے لیے کیا انتظامات تھے؟ مختلف اسلامی حکمرانوں نے قافلوں کی سہولت کے لیے پانی کا انفراسٹرکچر تعمیر کروایا تھا۔ یہاں چار اصل تاریخی کنویں تھے جن میں سے دو اب بھی محفوظ ہیں، اور کچھ کنویں عباسی خلافت کے دور میں قائم کیے گئے تھے۔

ان آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس ایک جامع تحفظ پروگرام چلا رہا ہے تاکہ چٹانی فن اور کنوؤں کو کٹاؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ اقدام سعودی Vision 2030 کے تحت قومی ورثے کے تحفظ کے اہداف کا حصہ ہے۔