Thursday, September 17, 2026
Uncategorized

پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو میں ایشیائی شیروں کی واپسی کی تیاریاں

پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو میں ایشیائی شیروں کی واپسی کی تیاریاں

تبوک میں واقع Prince Mohammed bin Salman Royal Reserve نے خطرے سے دوچار ایشیائی شیر (Panthera leo leo) کی واپسی کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ یہ شیر ان 23 تاریخی اقسام میں سے ایک ہے جن کی دوبارہ تعارف کے لیے ریزرو بورڈ نے منظوری دی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اگست 2026 کو بیان کیا، 24,500 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ ریزرو ایک مکمل ٹروفک پیرامڈ (trophic pyramid) تشکیل دے رہا ہے تاکہ اس شکاری جانور کی واپسی کے لیے ضروری حالات فراہم کیے جا سکیں۔

ریزرو کے سی ای او Andrew Zaloumis کے مطابق شیر اس علاقے کے قدیم مناظر کا حصہ تھا اور ان کی واپسی ایک نسل در نسل جاری رہنے والا سفر ہے۔ ریزرو کے 12 سے زائد مقامات پر موجود قدیم پتھریلی آرٹ میں شیروں کی تصاویر موجود ہیں۔

تقریباً 12,000 سال پہلے Green Arabia کے دور میں افریقہ سے پھیلا ایک زرخیز راستہ بڑے جڑی بوٹیوں کے چرنے والے جانوروں اور شیروں جیسے شکاریوں کے لیے موزوں تھا۔ بعد میں خشک سالی کے دوران Wadi Al-Disah جیسی گہری کھائیاں جنگلی حیات کے لیے پناہ گاہ بن گئیں۔

19ویں صدی کے آخر تک حد سے زیادہ شکار اور جدید ہتھیاروں کی وجہ سے عرب میں شیر ختم ہو گئے۔ IUCN کے مطابق عالمی سطح پر جنگلی حالت میں صرف 1,100 سے 1,300 شیر باقی ہیں، جن میں سے 891 مغربی بھارت کے Greater Gir Landscape میں موجود ہیں۔

ReWildArabia اقدام کے ذریعے 23 تاریخی اقسام کی واپسی کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں شیروں کی واپسی کی مخصوص تاریخ نہیں دی گئی۔

ایشیائی شیروں کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ Prince Mohammed bin Salman Royal Reserve اپنے 24,500 مربع کلومیٹر رقبے میں ایک مکمل ٹروفک پیرامڈ تشکیل دے رہا ہے تاکہ شکاری جانوروں کی واپسی ممکن ہو سکے۔ یہ عمل ReWildArabia اقدام کا حصہ ہے جس کے تحت 23 تاریخی اقسام کی دوبارہ تعارف کی منظوری دی گئی ہے۔

عرب میں شیروں کے خاتمے کی کیا وجہ تھی؟ 19ویں صدی کے آخر تک حد سے زیادہ شکار اور جدید آگ کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی وجہ سے عرب میں شیروں کے آخری گروہ ختم ہو گئے۔ اس سے پہلے Green Arabia کے دور میں یہ جانور افریقہ سے آنے والے زرخیز راستوں کے ذریعے یہاں موجود تھے۔

عالمی سطح پر ایشیائی شیروں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟ IUCN نے ان شیروں کو خطرے سے دوچار (Endangered) قرار دیا ہے اور عالمی سطح پر صرف 1,100 سے 1,300 شیر باقی ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی تعداد 891 شیروں کی بھارت کے Greater Gir Landscape میں ہے، جبکہ باقی مغربی اور وسطی افریقہ میں موجود ہیں۔

ریزرو میں شیروں کی موجودگی کے کیا ثبوت ہیں؟ ریزرو کے 12 سے زائد مقامات پر موجود قدیم پتھریلی آرٹ (rock art) میں شیروں کی تصاویر بطور موٹیف موجود ہیں۔ اس کے علاوہ Wadi Al-Disah جیسی کھائیاں قدیم زمانے میں جنگلی حیات کے لیے کلائمیٹ ریفیوجز کے طور پر کام کرتی تھیں۔