King Abdullah University of Science and Technology (KAUST) کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ مرجان (corals) کو بیماری پھیلنے سے پہلے اسے روکنے کے لیے تربیت دی جا سکتی ہے، جو عالمی سطح پر ریفس کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اگست 2026 کو بیان کیا، ISME Host Microbe میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، جب مرجان کو بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی غیر فعال شکلوں یا کم مقدار میں سامنا کرایا گیا، تو وہ مستقبل میں اسی بیماری کے خلاف زیادہ مزاحمت ظاہر کرنے لگے۔
اس عمل کو pathogen priming کہا جاتا ہے، جو ویکسین کے طریقہ کار سے مشابہ ہے جہاں جسم کو مستقبل کے خطرات کی شناخت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ انسانوں کی طرح اڈاپٹیو امیون سسٹم نہ ہونے کے باوجود مرجان میں مدافعتی یادداشت جیسی صلاحیت موجود ہے۔
KAUST میں میرین سائنس کی پروفیسر Raquel Peixoto کے مطابق، مرجان کو جراثیم کے ذریعے ان کے قدرتی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے تربیت دی جا سکتی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ حفاظتی اثر نہ صرف مرجان بلکہ اس کے مائیکروبایوم (microbiome) میں تبدیلیوں سے بھی منسلک ہے۔
بحیرہ احمر کے مرجان پر کی گئی اس تحقیق کے بعد ٹیم نے pathogen priming کے ذریعے بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھانے کے لیے پیٹنٹ کی درخواست جمع کرائی ہے۔ رپورٹ میں اس طریقہ کار کے ٹیسٹنگ کے نتائج کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
مرجان کو بیماریوں کے خلاف کیسے تیار کیا گیا؟ سائنسدانوں نے مرجان کو بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی غیر فعال شکلوں یا کم مقدار میں ایکسپوز کیا۔ اس عمل کو pathogen priming کہا جاتا ہے، جس سے مرجان مستقبل میں اسی بیماری کے خلاف بہتر مزاحمت ظاہر کرنے کے قابل ہو گئے۔
اس دریافت کی خاص بات کیا ہے؟ یہ پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ مرجان میں مدافعتی یادداشت جیسی صلاحیت موجود ہے، باوجود اس کے کہ ان میں انسانوں یا دیگر ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کی طرح اڈاپٹیو امیون سسٹم نہیں ہوتا۔
تحقیق میں کن عوامل کا ذکر کیا گیا ہے؟ تحقیق کے مطابق حفاظتی اثرات مرجان کے اندرونی بدلاؤ اور اس کے مائیکروبایوم (microbiome) یعنی ساتھ رہنے والے خوردبینی جانداروں کی کمیونٹی میں تبدیلیوں سے منسلک ہیں۔
اس تحقیق کا دائرہ کار کیا ہے؟ یہ تحقیق بحیرہ احمر کے مرجان پر کی گئی ہے اور ٹیم نے pathogen priming کے ذریعے بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھانے کے لیے پیٹنٹ کی درخواست جمع کرائی ہے۔