مکہ مکرمہ کے حراء کلچرل ویلیج میں واقع قرآن میوزیم نے قرآن کریم کا ایک نفیس نسخہ نمائش کے لیے پیش کیا ہے، جس کا تعلق تقریباً 12ویں صدی ہجری (18ویں صدی عیسوی) سے ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اگست 2026 کو بیان کیا، یہ نسخہ کنگ عبدالعزیز لائبریری میں محفوظ ہے اور اس میں کالی سیاہی کے ساتھ خط ثلث، ریحانی اور نسخ کا امتزاج استعمال کیا گیا ہے۔
اس نسخے میں مکمل اعراب موجود ہیں اور ابتدائی صفحات کو نباتی نقش و نگار اور تذهیب سے سجایا گیا ہے۔ آیات کے درمیان فاصلوں کو سنہری دائروں سے واضح کیا گیا ہے۔
اس میں سورہ فاتحہ، انعام، کہف، سبأ، فاطر، یس، فتح، واقعہ، ملک، نبأ اور اخلاص سمیت منتخب سورتیں شامل ہیں، جن کی ترتیب ایک خاص خصوصیت رکھتی ہے۔
رپورٹ میں اس نسخے کی قیمت یا کاتب کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا۔
نمائش کے لیے پیش کردہ نسخہ کس دور کا ہے؟ یہ نسخہ تقریباً 12ویں صدی ہجری یا 18ویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ کنگ عبدالعزیز لائبریری میں محفوظ ہے اور حراء کلچرل ویلیج کے قرآن میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔
اس قرآنی نسخے میں کون سے خطوط استعمال کیے گئے ہیں؟ اس نسخے کی کتابت کے لیے کالی سیاہی کا استعمال کیا گیا ہے اور اس میں خط ثلث، ریحانی اور نسخ کا امتزاج پایا جاتا ہے، جو مختلف اسلامی خطاطی کے انداز کو ظاہر کرتا ہے۔
نسخے کی فنکارانہ خصوصیات کیا ہیں؟ اس کے ابتدائی صفحات نباتی نقش و نگار اور تذهیب سے آراستہ ہیں، جبکہ آیات کے فاصلوں کو سنہری دائروں سے نشان زد کیا گیا ہے۔ اس میں مکمل اعراب بھی درج ہیں۔
اس نسخے میں کون سی سورتیں شامل ہیں؟ اس نسخے میں سورہ فاتحہ، انعام، کہف، سبأ، فاطر، یس، فتح، واقعہ، ملک، نبأ اور اخلاص سمیت منتخب سورتیں شامل ہیں، جن کی ترتیب ایک خاص خصوصیت رکھتی ہے۔