Tuesday, October 13, 2026
سعودی خبریں

رمضان کے آخری عشرے میں مسجد الحرام کے داخلے و خروج کے لیے مخصوص دروازے اور پل

رمضان کے آخری عشرے میں مسجد الحرام کے داخلے و خروج کے لیے مخصوص دروازے اور پل

مکہ مکرمہ میں رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت گزاروں اور عمرہ ادا کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کے پیش نظر جنرل اتھارٹی فار دی کیئر آف دی ٹو ہولی مساجد نے مسجد الحرام میں داخلے اور خروج کو منظم رکھنے کے لیے اہم دروازے اور پل مختص کیے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 21 مارچ 2025 کو بیان کیا، ان اہم داخلی اور خارجی دروازوں کی شناخت ان کے میناروں سے ہوتی ہے، جن میں کنگ عبدالعزیز گیٹ (1)، کنگ فہد گیٹ (79) اور کنگ عبداللہ گیٹ (100) شامل ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد الحرام کے دروازوں کی شناخت ان کے میناروں سے کیوں کی جاتی ہے؟ یہ مینار زائرین کے لیے سمت کا تعین آسان بناتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ہزاروں افراد ایک ساتھ حرکت میں ہوں۔

مطاف یعنی طواف کے میدان تک پہلی منزل سے رسائی کے لیے عبادت گزار شبیكہ برج، ایاد برج اور الارقم برج کے داخلی راستے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ پل مسجد الحرام کے ارد گرد پھیلے مختلف علاقوں سے آنے والوں کو مطاف تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ مطاف تک پہنچنے کے لیے الگ الگ پلوں کا تعین کیوں ضروری ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں رش انتہائی بلند سطح پر پہنچ جاتا ہے اور ہر راستے کو الگ کرنے سے بھگدڑ کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

المسعیٰ یعنی سعی کے علاقے سے باہر نکلنے کے لیے، جو زمینی اور پہلی منزل پر مشتمل ہے، الصفا گیٹ (13)، پیغمبر محمد گیٹ، المروہ گیٹ، المروہ برج اور المروہ وہیل چیئر برج سے راستہ لیا جا سکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ وہیل چیئر برج کا الگ سے تعین کس مقصد کے لیے کیا گیا ہے؟ یہ ان زائرین کے لیے ہے جو جسمانی معذوری یا کمزوری کی وجہ سے پیدل چلنے سے قاصر ہیں، تاکہ وہ بھی سعی کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کر سکیں۔

جنرل اتھارٹی فار دی کیئر آف دی ٹو ہولی مساجد کے مطابق ان انتظامات کا مقصد نقل و حرکت کو منظم رکھنا، رش کو کم کرنا اور مسجد الحرام تک محفوظ اور مؤثر رسائی فراہم کرنا ہے، تاکہ عبادت گزار اپنے مناسک آسانی اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں رش اتنا کیوں بڑھ جاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں میں شب قدر کی تلاش، اعتکاف اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے زائرین مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں۔

داخلی دروازوں میں کنگ عبدالعزیز گیٹ، کنگ فہد گیٹ اور کنگ عبداللہ گیٹ کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ یہ دروازے اپنے میناروں کی بدولت نمایاں ہیں، جس سے زائرین کو بھیڑ میں بھی راستہ پہچاننے میں آسانی ہوتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ان دروازوں کے نمبر کیوں دیے گئے ہیں؟ نمبروں کی مدد سے زائرین، رضاکار اور سیکیورٹی عملہ ایک ہی زبان میں مقام کا تعین کر سکتے ہیں، جس سے ہنگامی صورت حال میں مدد پہنچانا آسان ہو جاتا ہے۔

مطاف تک رسائی کے لیے شبیكہ برج، ایاد برج اور الارقم برج کے داخلی راستوں کا تعین کیا گیا ہے۔ یہ پل مسجد الحرام کے مختلف اطراف سے آنے والے زائرین کو پہلی منزل سے طواف کے میدان تک پہنچاتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ ایک ہی مقام تک پہنچنے کے لیے کئی راستے ہونے سے کتنی سہولت ہوتی ہے؟ متبادل راستے نہ صرف رش کو تقسیم کرتے ہیں بلکہ کسی ایک راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے پر بھی حرکت جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

المسعیٰ سے خروج کے لیے الصفا گیٹ (13)، پیغمبر محمد گیٹ، المروہ گیٹ، المروہ برج اور المروہ وہیل چیئر برج مختص کیے گئے ہیں۔ یہ انتظام زمینی اور پہلی منزل دونوں سے نکلنے والوں پر لاگو ہوتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سعی مکمل کرنے کے بعد خروج کے راستے الگ رکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اس سے داخل ہونے والوں اور باہر نکلنے والوں کی نقل و حرکت ایک دوسرے سے ٹکراتی نہیں، جس سے بھیڑ کی شدت کم ہوتی ہے۔

جنرل اتھارٹی فار دی کیئر آف دی ٹو ہولی مساجد نے یہ انتظامات رمضان کے آخری دس دنوں میں بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے ہیں۔ ان دنوں میں عبادت گزاروں اور عمرہ ادا کرنے والوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ان انتظامات کے پیچھے سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق مقصد نقل و حرکت کو منظم رکھنا، رش کو کم کرنا اور مسجد الحرام تک محفوظ و مؤثر رسائی فراہم کرنا ہے، تاکہ عبادت گزار سکون سے اپنے مناسک ادا کر سکیں۔

واضح رہے کہ ایس پی اے کی اس رپورٹ میں ان دروازوں اور پلوں کے اوقات کار، ان پر تعینات عملے کی تعداد، یا کسی مخصوص دن کے لیے الگ انتظامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان راستوں پر کسی قسم کی پابندی یا تبدیلی آئندہ کے لیے متوقع ہے یا نہیں۔

مسجد الحرام میں داخلے کے لیے کون سے اہم دروازے مختص کیے گئے ہیں؟ جنرل اتھارٹی فار دی کیئر آف دی ٹو ہولی مساجد کے مطابق اہم داخلی اور خارجی دروازوں میں کنگ عبدالعزیز گیٹ (1)، کنگ فہد گیٹ (79) اور کنگ عبداللہ گیٹ (100) شامل ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق ان دروازوں کی شناخت ان کے میناروں سے ہوتی ہے، جس سے زائرین بھیڑ میں بھی راستہ آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔ یہ انتظام رمضان کے آخری دس دنوں میں بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

مطاف تک پہلی منزل سے پہنچنے کے لیے کون سے پل استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق مطاف یعنی طواف کے میدان تک پہلی منزل سے رسائی کے لیے عبادت گزار شبیكہ برج، ایاد برج اور الارقم برج کے داخلی راستے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ پل مسجد الحرام کے مختلف اطراف سے آنے والے زائرین کو مطاف تک پہنچاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان راستوں کا تعین رش کو تقسیم کرنے اور نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

المسعیٰ کے علاقے سے باہر نکلنے کے لیے کون سے راستے مقرر ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق المسعیٰ یعنی سعی کے علاقے سے خروج، جو زمینی اور پہلی منزل دونوں پر لاگو ہے، الصفا گیٹ (13)، پیغمبر محمد گیٹ، المروہ گیٹ، المروہ برج اور المروہ وہیل چیئر برج سے کیا جا سکتا ہے۔ وہیل چیئر برج ان زائرین کے لیے ہے جو جسمانی معذوری یا کمزوری کی وجہ سے پیدل چلنے سے قاصر ہیں، تاکہ وہ بھی سعی مکمل کر سکیں۔

ان انتظامات کا بنیادی مقصد کیا بتایا گیا ہے؟ جنرل اتھارٹی فار دی کیئر آف دی ٹو ہولی مساجد کے مطابق ان انتظامات کا مقصد نقل و حرکت کو منظم رکھنا، رش کو کم کرنا اور مسجد الحرام تک محفوظ اور مؤثر رسائی فراہم کرنا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس سے عبادت گزار اپنے مناسک آسانی اور سکون کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت گزاروں اور عمرہ ادا کرنے والوں کی نمایاں اضافے کے پیش نظر کیا گیا۔

رمضان کے آخری دس دنوں میں رش کیوں بڑھ جاتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت گزاروں اور عمرہ ادا کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل اتھارٹی فار دی کیئر آف دی ٹو ہولی مساجد نے اہم دروازے اور پل مختص کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان دنوں میں زائرین کی آمد میں اضافے کے باعث مسجد الحرام میں داخلے اور خروج کو منظم رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی اس رپورٹ میں ان دروازوں اور پلوں کے اوقات کار، ان پر تعینات عملے کی تعداد، یا کسی مخصوص دن کے لیے الگ انتظامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان راستوں پر کسی قسم کی پابندی یا تبدیلی آئندہ کے لیے متوقع ہے یا نہیں۔ رپورٹ میں صرف دروازوں، پلوں اور ان کے مقامات کا تعین کیا گیا ہے۔