جدہ میں قائم تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) نے اسرائیلی کابینہ کے اس فیصلے کو شدید مذمت کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت مغربی کنارے میں 13 غیر قانونی بستیوں کو الگ کرنے کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ انہیں نوآبادیاتی بستیوں کے طور پر قانونی حیثیت دی جا سکے۔ او آئی سی کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، تنظیم نے اسرائیلی وزیر خزانہ بیتزالیل سموٹریچ کے انتہا پسندانہ اور نسل پرستانہ بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں اس قدم کو مغربی کنارے پر اسرائیل کی مبینہ خودمختاری مسلط کرنے کے منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا۔
او آئی سی نے خبردار کیا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے “رضاکارانہ روانگی” کے نام سے ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور تنظیم فلسطینی عوام کو ان کی زمین کے اندر یا باہر انفرادی یا اجتماعی طور پر بے دخل کرنے، زبردستی ہجرت یا جلاوطنی کے تمام منصوبوں کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ او آئی سی کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
کیا بین الاقوامی برادری اسرائیلی کابینہ کے اس فیصلے کے مضمرات کا ادراک رکھتی ہے؟ او آئی سی نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیلی جرائم کا مقابلہ کرے، جن میں نسل کشی، غیر قانونی بستیاں، مکانات کی تباہی، زبردستی بے دخلی اور خودمختاری کے دعوے شامل ہیں۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں اور دو ریاستی حل کی حمایت کی جائے۔ یہ موقف او آئی سی کی جانب سے اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف مسلسل مزاحمت کا تسلسل ہے، جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر مرکوز ہے۔
کیا سلامتی کونسل اسرائیل کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے؟ او آئی سی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے منصوبے تیز ہو رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کے کسی بھی منصوبے کو تسلیم نہیں کرے گی، چاہے وہ ان کی اپنی زمین کے اندر ہو یا باہر۔ او آئی سی کے مطابق اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
کیا اسرائیلی وزیر خزانہ کے بیانات بین الاقوامی سطح پر کوئی قانونی وزن رکھتے ہیں؟ او آئی سی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی جرائم کے خلاف متحد ہو کر کھڑی ہو اور فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ تنظیم نے دو ریاستی حل کو واحد قابل عمل راستہ قرار دیا ہے جو فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنا سکتا ہے۔
او آئی سی کا یہ بیان جدہ سے جاری کیا گیا، جہاں تنظیم کا صدر دفتر واقع ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان 24 مارچ 2025 کو جاری ہوا، جس میں تنظیم نے اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کے بغیر خطے میں امن ممکن ہے؟ او آئی سی نے زور دیا کہ اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی مزید تشدد اور بے گناہ فلسطینیوں کی قربانی کا سبب بن سکتی ہے۔ تنظیم نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے۔
او آئی سی کے مطابق اسرائیلی کابینہ کی جانب سے 13 بستیوں کو الگ کرنے کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی پرواہ نہیں کرتا اور وہ مغربی کنارے پر اپنی خودمختاری مسلط کرنے کے منصوبے پر گامزن ہے۔ تنظیم نے اسے نوآبادیاتی توسیع قرار دیا جو فلسطینی عوام کے وجود کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
کیا فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کے منصوبے کو روکا جا سکتا ہے؟ او آئی سی نے “رضاکارانہ روانگی” کے نام سے اسرائیلی ادارے کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینیوں کی اجتماعی سزا ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے فوری اقدام کرے۔
او آئی سی نے اپنے بیان میں اسرائیلی وزیر خزانہ کے ان بیانات کو بھی مسترد کیا جن میں مغربی کنارے پر اسرائیل کی خودمختاری کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تنظیم کے مطابق یہ بیانات انتہا پسندی اور نسل پرستی پر مبنی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں۔
کیا عالمی برادری اسرائیل کے خلاف پابندیوں کے نفاذ پر متفق ہو سکتی ہے؟ او آئی سی نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جن میں نسل کشی، غیر قانونی بستیاں، مکانات کی تباہی اور زبردستی بے دخلی شامل ہیں۔ تنظیم نے دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
او آئی سی کے مطابق اسرائیلی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کھڑی ہو اور اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔
کیا اسرائیلی بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کو ناممکن بنا دے گی؟ او آئی سی نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری بروقت اقدام نہ کرے تو خطے میں مزید تشدد اور بے گناہوں کی قربانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تنظیم نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
او آئی سی کا یہ بیان اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف تنظیم کی مسلسل مزاحمت کا حصہ ہے، جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیتی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کے کسی بھی منصوبے کو تسلیم نہیں کرے گی۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ او آئی سی کے اس بیان پر اسرائیل کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی اس میں اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کی تفصیلات یا اس کے نفاذ کے شیڈول کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سلامتی کونسل نے او آئی سی کے مطالبے پر کوئی اقدام کیا ہے یا نہیں۔
او آئی سی نے اسرائیلی کابینہ کے کس فیصلے کی مذمت کی ہے؟ او آئی سی نے اسرائیلی کابینہ کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت مغربی کنارے میں 13 غیر قانونی بستیوں کو الگ کرنے کی منظوری دی گئی ہے تاکہ انہیں نوآبادیاتی بستیوں کے طور پر قانونی حیثیت دی جا سکے۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس فیصلے کی مزید تفصیلات یا نفاذ کے شیڈول کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ کے بیانات پر او آئی سی کا کیا ردعمل ہے؟ او آئی سی نے اسرائیلی وزیر خزانہ بیتزالیل سموٹریچ کے انتہا پسندانہ اور نسل پرستانہ بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں اس قدم کو مغربی کنارے پر اسرائیل کی مبینہ خودمختاری مسلط کرنے کے منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق یہ بیانات خطے میں عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان بیانات کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔
او آئی سی نے فلسطینیوں کی بے دخلی کے حوالے سے کیا خبردار کیا ہے؟ او آئی سی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے “رضاکارانہ روانگی” کے نام سے ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تنظیم نے فلسطینی عوام کو ان کی زمین کے اندر یا باہر انفرادی یا اجتماعی طور پر بے دخل کرنے، زبردستی ہجرت یا جلاوطنی کے تمام منصوبوں کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔ او آئی سی کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
او آئی سی نے عالمی برادری سے کیا مطالبہ کیا ہے؟ او آئی سی نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیلی جرائم کا مقابلہ کرے، جن میں نسل کشی، غیر قانونی بستیاں، مکانات کی تباہی، زبردستی بے دخلی اور خودمختاری کے دعوے شامل ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں اور دو ریاستی حل کی حمایت کی جائے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس مطالبے پر سلامتی کونسل کے ردعمل کا ذکر نہیں ہے۔
او آئی سی کا یہ بیان کب اور کہاں سے جاری ہوا؟ او آئی سی کا یہ بیان جدہ سے 24 مارچ 2025 کو جاری کیا گیا، جہاں تنظیم کا صدر دفتر واقع ہے۔ ایس پی اے کے مطابق بیان میں اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ بیان مقامی وقت کے مطابق 02:03 پر جاری ہوا، جبکہ گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 23:03 تھا۔
او آئی سی نے دو ریاستی حل کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا ہے؟ او آئی سی نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور اسے فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے میں پائیدار امن کے لیے واحد قابل عمل راستہ قرار دیا ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں دو ریاستی حل کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔