مکہ مکرمہ میں منگل کے روز سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی (SDAIA) کے صدر ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے مسجد الحرام آپریشنز سینٹر کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مسجد الحرام میں زائرین اور عمرہ ادا کرنے والوں کی آمد و رفت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے منظم کرنے کے نظام زیر استعمال ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، دورے کے دوران ڈاکٹر عبداللہ الغامدی کی ملاقات پبلک سیکیورٹی کے ڈائریکٹر اور حج سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی سے ہوئی۔ اس موقع پر کئی سیکیورٹی افسران اور سینٹر میں تعینات SDAIA کے سعودی پروگرامرز بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر الغامدی نے سینٹر میں «بصیر» پلیٹ فارم کے آپریشنز کا جائزہ لیا۔ یہ پلیٹ فارم SDAIA نے وزارت داخلہ کے تعاون سے تیار کیا ہے، جس کی نمائندگی پبلک سیکیورٹی کرتی ہے۔ پلیٹ فارم کمپیوٹر وژن اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مسجد الحرام آنے والے زائرین کی نقل و حرکت کی نگرانی اور تجزیہ کرتا ہے۔ اس کا مقصد ہجوم کا ہموار انتظام یقینی بنانا اور گمشدہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ لاکھوں زائرین کی نقل و حرکت کو ایک ہی پلیٹ فارم سے کیسے دیکھا اور سمجھا جاتا ہے؟ «بصیر» کا نظام کمپیوٹر وژن کے ذریعے یہ ممکن بناتا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے «سواہر» پلیٹ فارم کا بھی جائزہ لیا، جو مسجد الحرام کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایک محفوظ اور سمارٹ ماحول فراہم کرنے میں معاون ہے تاکہ نمازی اور عمرہ ادا کرنے والے اپنے مناسک آسانی کے ساتھ ادا کر سکیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد الحرام میں حفاظتی نظام کس طرح زائرین کے تجربے کو بہتر بناتا ہے؟ «سواہر» پلیٹ فارم اسی مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔
دورے کے ایک حصے کے طور پر SDAIA کے صدر نے الشمیسی میں واقع ہائی وے سیکیورٹی سینٹر کا بھی دورہ کیا۔ وہاں انہیں «بنان» ڈیوائس کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جو بائیو میٹرک خصوصیات کے ذریعے شناخت کی تصدیق کو بہتر بناتی ہے۔
انہوں نے سینٹر کے آپریشنز، کمانڈ روم اور سعودی لوسیڈ گاڑی میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کا بھی معائنہ کیا۔ یہ گاڑی مصنوعی ذہانت کے اوزاروں سے لیس ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ شاہراہوں پر سیکیورٹی کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس گاڑیاں کیسے کام کرتی ہیں؟ سعودی لوسیڈ گاڑی اسی مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مملکت میں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔ SDAIA مختلف اداروں کے ساتھ مل کر ایسے نظام تیار کر رہی ہے جو حج اور عمرہ کے دوران زائرین کی سہولت اور حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔
مسجد الحرام آپریشنز سینٹر میں تعینات سعودی پروگرامرز کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی صلاحیتوں کو ان نظاموں کی تیاری اور نگرانی میں شامل کیا جا رہا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ان پلیٹ فارمز کی تیاری میں سعودی پروگرامرز کا کیا کردار ہے؟ یہ پروگرامرز سینٹر میں تعینات ہیں اور نظاموں کی نگرانی کرتے ہیں۔
«بصیر» پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد ہجوم کے انتظام کو بہتر بنانا اور گمشدہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد کرنا ہے۔ یہ نظام کمپیوٹر وژن کے ذریعے زائرین کی نقل و حرکت کا تجزیہ کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ بڑے اجتماعات میں گمشدہ افراد کی تلاش کتنی مشکل ہوتی ہے؟ «بصیر» اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب «سواہر» پلیٹ فارم مسجد الحرام میں ایک محفوظ اور سمارٹ ماحول فراہم کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ اس کا مقصد نمازیوں اور عمرہ ادا کرنے والوں کے لیے مناسک کی ادائیگی کو آسان بنانا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک سمارٹ ماحول زائرین کے تجربے کو کس طرح بدل سکتا ہے؟ «سواہر» اسی سمت میں کام کر رہا ہے۔
الشمیسی میں واقع ہائی وے سیکیورٹی سینٹر میں «بنان» ڈیوائس کی بریفنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شناخت کی تصدیق کے لیے بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کو اپنایا جا رہا ہے۔ یہ ڈیوائس بائیو میٹرک خصوصیات کے ذریعے شناخت کی تصدیق کو بہتر بناتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ بائیو میٹرک ٹیکنالوجی شاہراہوں پر سیکیورٹی کو کیسے مضبوط بناتی ہے؟ «بنان» ڈیوائس اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
سعودی لوسیڈ گاڑی میں مصنوعی ذہانت کے اوزار نصب ہیں، اور ڈاکٹر الغامدی نے اس جدید ٹیکنالوجی کا بھی معائنہ کیا۔ انہیں سینٹر کے کمانڈ روم اور آپریشنز کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ کمانڈ روم سے شاہراہوں کی نگرانی کیسے کی جاتی ہے؟ یہ سینٹر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ کام انجام دیتا ہے۔
یہ دورہ SDAIA کی جانب سے مسجد الحرام اور شاہراہوں کی سیکیورٹی کے لیے تیار کردہ نظاموں کے جائزے کا حصہ تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے سینٹر میں موجود سعودی پروگرامرز سے بھی ملاقات کی۔
رپورٹ میں ان نظاموں کے نفاذ کی لاگت، مکمل شیڈول یا اضافی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ دورہ منگل کے روز مکہ مکرمہ میں ہوا۔
مسجد الحرام آپریشنز سینٹر میں کون سے پلیٹ فارمز کا جائزہ لیا گیا؟ ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے «بصیر» اور «سواہر» پلیٹ فارمز کا جائزہ لیا۔ «بصیر» کمپیوٹر وژن اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے زائرین کی نقل و حرکت کی نگرانی اور تجزیہ کرتا ہے، ہجوم کے انتظام اور گمشدہ افراد کی تلاش میں مدد دیتا ہے۔ «سواہر» مسجد الحرام کی حفاظت بہتر بنانے اور محفوظ و سمارٹ ماحول فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
«بصیر» پلیٹ فارم کس نے تیار کیا؟ «بصیر» پلیٹ فارم SDAIA نے وزارت داخلہ کے تعاون سے تیار کیا ہے، جس کی نمائندگی پبلک سیکیورٹی کرتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم کمپیوٹر وژن اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مسجد الحرام آنے والے زائرین کی نقل و حرکت کی نگرانی اور تجزیہ کرتا ہے۔ اس کا مقصد ہجوم کا ہموار انتظام یقینی بنانا اور گمشدہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
الشمیسی میں ہائی وے سیکیورٹی سینٹر کے دورے میں کیا دیکھا گیا؟ ڈاکٹر الغامدی کو «بنان» ڈیوائس کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جو بائیو میٹرک خصوصیات کے ذریعے شناخت کی تصدیق کو بہتر بناتی ہے۔ انہوں نے سینٹر کے آپریشنز، کمانڈ روم اور سعودی لوسیڈ گاڑی میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کا بھی معائنہ کیا۔ یہ گاڑی مصنوعی ذہانت کے اوزاروں سے لیس ہے۔
دورے کے دوران ڈاکٹر الغامدی کی ملاقات کس سے ہوئی؟ ڈاکٹر عبداللہ الغامدی کی ملاقات پبلک سیکیورٹی کے ڈائریکٹر اور حج سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی سے ہوئی۔ اس موقع پر کئی سیکیورٹی افسران اور سینٹر میں تعینات SDAIA کے سعودی پروگرامرز بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات مسجد الحرام آپریشنز سینٹر کے دورے کے دوران ہوئی۔
یہ دورہ کب اور کہاں ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ دورہ منگل کے روز مکہ مکرمہ میں ہوا۔ ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے مسجد الحرام آپریشنز سینٹر کا دورہ کیا اور پھر الشمیسی میں واقع ہائی وے سیکیورٹی سینٹر کا بھی دورہ کیا۔ رپورٹ میں دورے کی مزید تفصیلات یا شیڈول نہیں دیا گیا۔