یروان میں جمعہ کو ہونے والے بایو ڈائیورسٹی لیڈرز سمٹ میں سعودی عرب نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور عالمی حیاتیاتی تنوع کے اہداف کو تیزی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ سعودی وفد کی قیادت نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے سی ای او ڈاکٹر محمد علی قربان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی وعدوں کو فیصلوں، سرمایہ کاری اور شراکت داریوں میں بدلنا ہوگا تاکہ ٹھوس نتائج سامنے آئیں۔ انہوں نے فطرت کے تحفظ کو قوموں کے استحکام، خوراک اور پانی کی سلامتی اور پائیدار ترقی میں سرمایہ کاری قرار دیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 17 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ بیان اقوام متحدہ کے کنونشن آن بایولوجیکل ڈائیورسٹی کے 17ویں کانفرنس آف پارٹیز (COP17) سے قبل منعقدہ لیڈرز سمٹ میں دیا گیا۔ COP17 19 سے 30 اکتوبر تک جاری رہے گی۔
ڈاکٹر محمد علی قربان نے کہا کہ سعودی عرب خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں سعودی وژن 2030 کے تحت حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے قومی حیاتیاتی تنوع کا فریم ورک اپنایا ہے جس کے 22 اہداف کنمنگ-مونٹریال گلوبل بایو ڈائیورسٹی فریم ورک کے مطابق ہیں۔ کیا عالمی برادری ان اہداف کو صرف کاغذی وعدوں تک محدود رکھے گی یا عملی اقدامات کی طرف بڑھے گی؟
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے محفوظ علاقے اب اس کی 18.3 فیصد زمین اور 16.2 فیصد سمندری علاقے پر محیط ہیں، جبکہ 2030 تک ہر ایک کے 30 فیصد تک پہنچنے کا ہدف ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مملکت نے زمینی اور سمندری دونوں محاذوں پر تحفظ کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ کیا یہ رفتار 2030 تک مطلوبہ 30 فیصد ہدف تک پہنچنے کے لیے کافی ہوگی؟
ڈاکٹر قربان کے مطابق سعودی عرب نے دس لاکھ ہیکٹر سے زیادہ تباہ شدہ زمین کی بحالی کی ہے، 40 ملین ہیکٹر کی بحالی کے ہدف کے تحت 159 ملین سے زیادہ درخت لگائے ہیں، اور 10,000 سے زیادہ جنگلی جانوروں کو ان کے قدرتی مسکن میں چھوڑا ہے۔ یہ اقدامات مملکت کی جانب سے زمین کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہیں۔
انہوں نے نیشنل سینٹر فار ویسٹ مینجمنٹ کے قیام کا بھی ذکر کیا جو سرکلر اکانومی کی طرف منتقلی میں معاونت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر میں مرجان کی چٹانوں اور کچھوؤں کے تحفظ کے لیے جنرل آرگنائزیشن (SHAMS) اور کورل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکسیلیریٹر پلیٹ فارم (CORDAP) کا تذکرہ کیا، جو سعودی عرب کی G20 صدارت کے دوران 2020 میں شروع کیا گیا تھا۔ کیا ایسے ادارے خطے میں سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے طویل مدتی فرق ڈال سکیں گے؟
سعودی وفد کے سربراہ نے زور دیا کہ عالمی حیاتیاتی تنوع کے اہداف کے حصول کے لیے وعدوں سے آگے بڑھ کر عمل کی طرف جانا ضروری ہے۔ ان کا موقف تھا کہ بین الاقوامی تعاون، سرمایہ کاری اور شراکت داری کے بغیر ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں۔ انہوں نے فطرت کے تحفظ کو قوموں کے استحکام، خوراک اور پانی کی سلامتی اور پائیدار ترقی سے جوڑ کر پیش کیا۔ کیا ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک ایک مشترکہ فریم ورک پر متفق ہو سکیں گے؟
سعودی عرب کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور ممالک سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں۔ مملکت نے اپنے قومی فریم ورک کے ذریعے کنمنگ-مونٹریال فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے تحت 22 قومی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ کیا دیگر ممالک بھی اسی طرح کے واضح اور قابل پیمائش اہداف اپنائیں گے؟
محفوظ علاقوں کی توسیع، زمین کی بحالی، درختوں کی شمولیت اور جنگلی حیات کی بحالی کے ساتھ ساتھ سرکلر اکانومی اور سمندری تحفظ کے اداروں کا قیام سعودی عرب کی کثیر الجہتی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈاکٹر قربان نے ان اقدامات کو سعودی وژن 2030 کے دائرے میں رکھا، جس کا مقصد اقتصادی تنوع کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی پائیداری کو بھی یقینی بنانا ہے۔ کیا ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟
COP17 کے انعقاد سے قبل ہونے والی اس لیڈرز سمٹ میں سعودی عرب کی شرکت اس عزم کا اظہار ہے کہ مملکت عالمی ماحولیاتی مباحثوں میں فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔ ڈاکٹر محمد علی قربان کی قیادت میں وفد نے واضح پیغام دیا کہ وعدوں کو فیصلوں، سرمایہ کاری اور شراکت داریوں میں بدلنا وقت کی ضرورت ہے۔ کیا یروان میں ہونے والی یہ کانفرنس ماحولیاتی سفارت کاری میں نیا باب رقم کرے گی؟
سعودی عرب نے 2020 میں اپنی G20 صدارت کے دوران CORDAP کے قیام کے ذریعے مرجان کی چٹانوں کی تحقیق اور ترقی کے میدان میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا تھا۔ اسی طرح SHAMS کے ذریعے بحیرہ احمر میں مرجان اور کچھوؤں کے تحفظ کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ مملکت سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو بھی زمینی تحفظ کے برابر اہمیت دیتی ہے۔ کیا بحیرہ احمر کا تحفظ خطے کے لیے ماہی گیری اور سیاحت کے شعبوں میں پائیدار فوائد لا سکے گا؟
نیشنل سینٹر فار ویسٹ مینجمنٹ کا قیام سرکلر اکانومی کی طرف منتقلی کی حمایت کرتا ہے، جس سے فضلے کے انتظام کو ماحولیاتی تحفظ سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ حکمت عملی وسائل کے موثر استعمال اور آلودگی میں کمی کے لیے اہم ہے۔ ڈاکٹر قربان نے اس پہلو کو بھی اپنی تقریر میں نمایاں کیا۔ کیا فضلے کے انتظام کے شعبے میں یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے نمونہ بن سکتا ہے؟
سعودی عرب کے محفوظ علاقوں کی موجودہ صورتحال 18.3 فیصد زمینی اور 16.2 فیصد سمندری علاقے پر مشتمل ہے، جبکہ ہدف 2030 تک 30 فیصد ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے مزید اقدامات درکار ہوں گے۔ ایک ملین ہیکٹر سے زیادہ زمین کی بحالی اور 159 ملین درختوں کی شمولیت اس سمت میں اہم پیش رفت ہے، لیکن 40 ملین ہیکٹر کے ہدف کے مقابلے میں یہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہے۔ کیا مملکت مقررہ وقت میں اپنے بلند اہداف حاصل کر پائے گی؟
10,000 سے زیادہ جنگلی جانوروں کی قدرتی مسکن میں واپسی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی عملی مثال ہے۔ اس سے نہ صرف جانوروں کی آبادی بحال ہوتی ہے بلکہ ماحولیاتی توازن بھی مضبوط ہوتا ہے۔ ڈاکٹر قربان نے اسے سعودی عرب کی جانب سے فطرت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری قرار دیا۔ کیا جنگلی حیات کی بحالی کے یہ منصوبے طویل مدتی ماحولیاتی استحکام میں معاون ثابت ہوں گے؟
سعودی وفد کے سربراہ نے بین الاقوامی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی اہداف کے حصول کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کا موقف تھا کہ وعدوں سے آگے بڑھ کر فیصلوں، سرمایہ کاری اور شراکت داریوں کی طرف جانا ضروری ہے۔ یہ پیغام COP17 کے ایجنڈے کے عین مطابق ہے، جہاں عالمی برادری حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک کے نفاذ کا جائزہ لے گی۔ کیا یروان میں ہونے والی یہ کانفرنس ماحولیاتی وعدوں کو ٹھوس نتائج میں بدلنے کا سبب بنے گی؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سعودی عرب نے COP17 میں کون سے مخصوص مالی یا تکنیکی وعدے پیش کیے، نہ ہی دیگر ممالک کے وفود کے ردعمل کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں کانفرنس کے دوران ہونے والے مباحثوں کی تفصیلات یا مستقبل کے اقدامات کا کوئی خاکہ بھی شامل نہیں۔
سعودی عرب نے COP17 میں کون سا اہم مطالبہ پیش کیا؟ سعودی وفد کی قیادت نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے سی ای او ڈاکٹر محمد علی قربان کر رہے تھے، جنہوں نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور عالمی حیاتیاتی تنوع کے اہداف کو تیزی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی وعدوں کو فیصلوں، سرمایہ کاری اور شراکت داریوں میں بدلنا ضروری ہے۔ انہوں نے فطرت کے تحفظ کو قوموں کے استحکام، خوراک اور پانی کی سلامتی اور پائیدار ترقی میں سرمایہ کاری قرار دیا۔
سعودی عرب کے محفوظ علاقوں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟ ڈاکٹر قربان کے مطابق سعودی عرب کے محفوظ علاقے اب اس کی 18.3 فیصد زمین اور 16.2 فیصد سمندری علاقے پر محیط ہیں۔ ہدف 2030 تک ہر ایک کے 30 فیصد تک پہنچنا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مملکت نے زمینی اور سمندری دونوں محاذوں پر تحفظ کے کام کو آگے بڑھایا ہے، تاہم ہدف تک پہنچنے کے لیے مزید اقدامات درکار ہوں گے۔
سعودی عرب نے زمین کی بحالی اور درخت لگانے میں کیا پیش رفت کی ہے؟ ڈاکٹر قربان نے بتایا کہ سعودی عرب نے دس لاکھ ہیکٹر سے زیادہ تباہ شدہ زمین کی بحالی کی ہے اور 40 ملین ہیکٹر کی بحالی کے ہدف کے تحت 159 ملین سے زیادہ درخت لگائے ہیں۔ اس کے علاوہ 10,000 سے زیادہ جنگلی جانوروں کو ان کے قدرتی مسکن میں چھوڑا گیا ہے۔ یہ اقدامات مملکت کی جانب سے زمین کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہیں۔
سعودی عرب نے کون سے ماحولیاتی ادارے قائم کیے ہیں؟ ڈاکٹر قربان نے نیشنل سینٹر فار ویسٹ مینجمنٹ کے قیام کا ذکر کیا جو سرکلر اکانومی کی طرف منتقلی میں معاونت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر میں مرجان کی چٹانوں اور کچھوؤں کے تحفظ کے لیے جنرل آرگنائزیشن (SHAMS) اور کورل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکسیلیریٹر پلیٹ فارم (CORDAP) کا تذکرہ کیا، جو سعودی عرب کی G20 صدارت کے دوران 2020 میں شروع کیا گیا تھا۔
سعودی عرب کا قومی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کیا ہے؟ ڈاکٹر قربان کے مطابق سعودی عرب نے قومی حیاتیاتی تنوع کا فریم ورک اپنایا ہے جس کے 22 اہداف کنمنگ-مونٹریال گلوبل بایو ڈائیورسٹی فریم ورک کے مطابق ہیں۔ یہ فریم ورک سعودی وژن 2030 کے تحت حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو اہمیت دیتا ہے۔ مملکت نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں یہ اہداف مقرر کیے ہیں۔
COP17 کانفرنس کب اور کہاں منعقد ہو رہی ہے؟ ایس پی اے کے مطابق COP17 کانفرنس 19 سے 30 اکتوبر تک یروان میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو بایو ڈائیورسٹی لیڈرز سمٹ منعقد ہوئی جس میں سعودی وفد نے شرکت کی۔ سعودی وفد کی قیادت نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے سی ای او ڈاکٹر محمد علی قربان کر رہے تھے۔ کانفرنس میں عالمی برادری حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک کے نفاذ کا جائزہ لے گی۔