امریکی ریاست یوٹاہ میں منعقدہ جی 20 انٹر فیتھ فورم میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل اور تنظیم علمائے مسلمین کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے بطور مہمان خصوصی اور کلیدی مقرر شرکت کی۔ یہ فورم امریکہ میں ہونے والی جی 20 سربراہ کانفرنس کے موقع پر منعقد ہوا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، ڈاکٹر العیسیٰ نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں مذاہب کے اہم کردار پر روشنی ڈالی اور ہر قسم کی تقسیم کے خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم، اشتعال انگیزی اور تشدد اکثر مسخ شدہ مذہبی بیانیے کا سہارا لیتے ہیں، اس لیے مذہبی رہنماؤں کی خصوصی ذمہ داری بنتی ہے۔
مذاہب کا کردار اور تقسیم کے خطرات
ڈاکٹر العیسیٰ نے واضح کیا کہ تقسیم صرف ایک سیاسی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا خطرہ ہے جو مذہب کے نام پر پھیلایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق جب مذہبی بیانیے کو مسخ کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نفرت، اشتعال اور تشدد جنم لیتے ہیں۔ کیا مذہبی رہنما اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھا رہے ہیں جو ان پر عائد ہوتی ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ مذاہب کے اصل پیغام کو بازیافت کرنا اور اسے تقسیم کے خلاف ڈھال بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم ورلڈ لیگ نے قوموں اور عوام کے درمیان خلیجوں کو پاٹنے کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ اس سلسلے کی سب سے نمایاں کوششوں میں سے ایک “مشرق اور مغرب کے درمیان تفہیم اور امن کے پل تعمیر کرنا” کا اقدام ہے۔ اس اقدام کی ایک تاریخی کانفرنس 2023 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں اقوام متحدہ کے رہنماؤں کے ساتھ مذہبی، فکری اور تحقیقی شخصیات نے شرکت کی۔ کیا اس طرح کے مکالمے بین الاقوامی سطح پر اعتماد بحال کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر العیسیٰ نے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر نافذ کیے گئے متعدد انسانی اقدامات کا بھی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم (داووس) کا ذکر کیا جہاں پہلی بار اپنی تاریخ میں مختلف بین الاقوامی مسائل کے حل میں مذاہب کے کردار پر ایک پینل مباحثہ منعقد ہوا۔ انہوں نے اسے فعال اور مؤثر مذہبی سفارت کاری کی اہمیت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا۔ کیا عالمی فورمز مذہب کو صرف ایک رسمی ایجنڈا سمجھتے ہیں یا اسے حقیقی حل کا حصہ مانتے ہیں؟
فورم کا انعقاد امریکہ میں ہونے والی جی 20 سربراہ کانفرنس کے ساتھ ساتھ ہوا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی اقتصادی مباحثوں کے ساتھ ساتھ بین المذاہب مکالمے کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر العیسیٰ کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ مذہبی قیادت عالمی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن کیا یہ شرکت صرف علامتی ہے یا اس کے عملی نتائج برآمد ہوں گے؟
انہوں نے کہا کہ مسلم ورلڈ لیگ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مکالمے اور تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق تقسیم کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی رہنما اپنے پیروکاروں کو اعتدال اور رواداری کی تعلیم دیں۔ کیا آج کے دور میں مذہبی رہنماؤں کے پاس اتنا اثر و رسوخ باقی ہے کہ وہ اپنی کمیونٹیز کو تقسیم سے بچا سکیں؟
ڈاکٹر العیسیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی سفارت کاری کو بین الاقوامی تعلقات میں ایک مؤثر ذریعہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ داووس میں مذاہب کے کردار پر پہلی بار پینل مباحثے کا انعقاد اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ مذاہب کو عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا بین الاقوامی ادارے مذہبی سفارت کاری کو باقاعدہ پالیسی کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہیں؟
انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 کی اقوام متحدہ کانفرنس میں مشرق اور مغرب کے درمیان تفہیم کے پل تعمیر کرنے کے اقدام کو نمایاں پذیرائی ملی تھی۔ اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے رہنماؤں، مذہبی شخصیات، دانشوروں اور محققین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس اس بات کا مظاہرہ تھی کہ مذاہب کے درمیان مکالمہ عالمی سطح پر ممکن ہے۔ کیا اس طرح کے مکالمے روزمرہ زندگی میں تبدیلی لا سکتے ہیں؟
ڈاکٹر العیسیٰ نے انسانی ہمدردی کے اقدامات کا بھی ذکر کیا جو بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر نافذ کیے گئے۔ ان اقدامات کا مقصد ضرورت مند کمیونٹیز کی مدد کرنا اور مذاہب کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مذہبی تنظیمیں عملی میدان میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ کیا انسانی ہمدردی کے کاموں میں مذہبی تنظیموں کا کردار مزید بڑھایا جا سکتا ہے؟
فورم کے شرکاء نے ڈاکٹر العیسیٰ کے خطاب کو اہمیت دی، جس میں انہوں نے تقسیم کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاہب کے پیروکاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے مشترکہ اقدار کی بنیاد پر مل کر کام کریں۔ ان کے مطابق اختلافات کے باوجود مشترکہ مقاصد کی تلاش ممکن ہے۔ کیا مختلف مذاہب کے پیروکار مشترکہ اقدار پر متحد ہو سکتے ہیں؟
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مسلم ورلڈ لیگ کا مشن صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ تمام انسانیت کی خدمت ہے۔ ان کے مطابق تنظیم مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان پل تعمیر کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ کیا اس طرح کی کوششیں طویل مدتی امن کے قیام میں کامیاب ہوں گی؟
ڈاکٹر العیسیٰ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ تقسیم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تعلیم اور آگاہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق نوجوان نسل کو رواداری اور احترام کی تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رہنما اپنے خطبات میں اعتدال اور محبت کا پیغام عام کریں۔ کیا تعلیمی ادارے اس سلسلے میں مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں؟
فورم کا انعقاد یوٹاہ میں ہوا جو امریکہ کی ایک ریاست ہے اور یہاں مختلف مذاہب کے پیروکار آباد ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر العیسیٰ کی شرکت کو بین المذاہب مکالمے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عالمی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ کیا یوٹاہ میں ہونے والا یہ فورم آنے والے سالوں میں بھی جاری رہے گا؟
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر العیسیٰ نے اپنے خطاب میں کسی خاص ملک یا گروہ کا نام لیے بغیر عمومی طور پر تقسیم کے خطرات پر بات کی۔ انہوں نے مذہبی بیانیے کی مسخ ہونے کو تشدد کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو انتہا پسندی سے دور رکھیں۔ کیا مذہبی خطبات میں اعتدال کی تعلیم کا اثر پڑتا ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ فورم میں کتنے شرکاء نے حصہ لیا، نہ ہی ڈاکٹر العیسیٰ کے خطاب کے بعد کوئی قرارداد منظور ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ فورم کے دیگر مقررین کون تھے یا اس کے نتیجے میں کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔ تاہم ڈاکٹر العیسیٰ کے خطاب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ مذاہب امن کے لیے ایک طاقت بن سکتے ہیں بشرطیکہ ان کے اصل پیغام کو مسخ ہونے سے بچایا جائے۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے جی 20 انٹر فیتھ فورم میں کیا پیغام دیا؟ انہوں نے عالمی امن اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں مذاہب کے اہم کردار پر زور دیا اور ہر قسم کی تقسیم کے خطرات سے خبردار کیا۔ ان کے مطابق تقسیم، اشتعال انگیزی اور تشدد اکثر مسخ شدہ مذہبی بیانیے کا سہارا لیتے ہیں، اس لیے مذہبی رہنماؤں کی خصوصی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاہب کے اصل پیغام کو بازیافت کرنا ضروری ہے۔
مسلم ورلڈ لیگ کے کون سے اقدامات کا ذکر کیا گیا؟ ڈاکٹر العیسیٰ نے “مشرق اور مغرب کے درمیان تفہیم اور امن کے پل تعمیر کرنا” کے اقدام کا ذکر کیا، جس کی ایک تاریخی کانفرنس 2023 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی۔ اس میں اقوام متحدہ کے رہنماؤں، مذہبی، فکری اور تحقیقی شخصیات نے شرکت کی۔ انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر نافذ کیے گئے انسانی اقدامات کا بھی جائزہ پیش کیا۔
داووس میں مذاہب کے کردار پر پینل مباحثے کا کیا مطلب ہے؟ ڈاکٹر العیسیٰ کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم (داووس) نے پہلی بار اپنی تاریخ میں مختلف بین الاقوامی مسائل کے حل میں مذاہب کے کردار پر پینل مباحثہ منعقد کیا۔ انہوں نے اسے فعال اور مؤثر مذہبی سفارت کاری کی اہمیت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی فورمز مذہب کو بین الاقوامی مسائل کے حل کا حصہ مان رہے ہیں۔
فورم کا انعقاد کب اور کہاں ہوا؟ جی 20 انٹر فیتھ فورم امریکی ریاست یوٹاہ میں منعقد ہوا اور یہ امریکہ میں ہونے والی جی 20 سربراہ کانفرنس کے موقع پر تھا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ خبر 18 اکتوبر 2026 کو جاری ہوئی۔ فورم میں ڈاکٹر العیسیٰ بطور مہمان خصوصی اور کلیدی مقرر شریک ہوئے۔ رپورٹ میں شرکاء کی تعداد یا دیگر مقررین کے نام نہیں دیے گئے۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری کیسے بیان کی؟ انہوں نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کی خصوصی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ تقسیم، اشتعال انگیزی اور تشدد اکثر مسخ شدہ مذہبی بیانیے کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو اعتدال اور رواداری کی تعلیم دیں اور محبت کا پیغام عام کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاہب کے اصل پیغام کو مسخ ہونے سے بچایا جائے۔
رپورٹ میں کیا معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں فورم میں شرکت کرنے والوں کی تعداد، دیگر مقررین کے نام، یا خطاب کے بعد کسی قرارداد یا مشترکہ اعلامیے کا ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ فورم کے نتیجے میں کوئی عملی اقدام اٹھایا گیا۔ تاہم ڈاکٹر العیسیٰ کے خطاب کا مرکزی پیغام مذاہب کے ذریعے امن کا فروغ تھا۔