Saturday, October 24, 2026
سعودی خبریں

جمیعت علمائے ہند کے صدر نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی

جمیعت علمائے ہند کے صدر نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی

جمیعت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے پرنسپل شیخ ارشد مدنی نے سعودی عرب پر حوثیوں کے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اس کے امن، استحکام یا مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والے کسی بھی عمل کو مسترد کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 23 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، شیخ ارشد مدنی نے ان حملوں کو اسلام کی تعلیمات اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی حفاظت، ان کی سلامتی اور حج و عمرہ زائرین کی خدمات پر مملکت کی نگہداشت کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ مملکت کی سلامتی کو کوئی بھی خطرہ پوری مسلم امہ سے متعلق ہے۔

اسی سلسلے میں وزیر اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کو 70 سے زائد ممالک کے وزرا، مفتیان کرام، علمائے کرام اور اسلامی اداروں کے سربراہان کی جانب سے 176 سے زائد خطوط، کیبلز اور بیانات موصول ہوئے ہیں۔ ان بیانات میں حوثی حملوں کی مذمت، مملکت کے ساتھ یکجہتی اور اس کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔

کیا یہ واضح نہیں کہ مقدس مقامات کی حفاظت صرف ایک ریاست کا معاملہ نہیں بلکہ پوری امت کی ذمہ داری ہے؟ شیخ ارشد مدنی کا بیان اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی سلامتی کی بات آتی ہے تو جغرافیائی سرحدیں اہمیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کسی بھی ایسے عمل کو مسترد کیا جو اس کے امن، استحکام یا مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنائے۔

جمیعت علمائے ہند برصغیر کی قدیم اور بااثر اسلامی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے اور دارالعلوم دیوبند کی علمی روایت سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ اس پس منظر میں شیخ ارشد مدنی کا بیان اس بات کا غماز ہے کہ سعودی عرب کے خلاف حملوں کی مذمت صرف عرب دنیا تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں پھیل رہی ہے۔ کیا یہ اتحاد اس بات کا ثبوت نہیں کہ امت کے مشترکہ مفادات پر حملہ کسی بھی خطے میں برداشت نہیں کیا جاتا؟

ایس پی اے کے مطابق شیخ ارشد مدنی نے ان حملوں کو اسلام کی تعلیمات اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مملکت کی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر عالمی سطح پر ردعمل جاری ہے۔ انہوں نے مملکت کی جانب سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی دیکھ بھال، ان کی سلامتی اور حج و عمرہ زائرین کی خدمات کو سراہا۔ کیا حج و عمرہ کی خدمات کا تسلسل اس خطے کے استحکام کے بغیر ممکن ہے؟

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مملکت کی سلامتی کو کوئی بھی خطرہ پوری مسلم امہ سے متعلق ہے۔ یہ نکتہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی حفاظت کا تعلق صرف سعودی عرب سے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات سے جڑا ہوا ہے۔ کیا امت کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے مشترکہ آواز ضروری نہیں؟

ادھر وزیر اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کو موصول ہونے والے خطوط، کیبلز اور بیانات کی تعداد 176 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ پیغامات 70 سے زائد ممالک کے وزرا، مفتیان کرام، علمائے کرام اور اسلامی اداروں کے سربراہان کی جانب سے آئے ہیں۔ ان میں حوثی حملوں کی مذمت، مملکت کے ساتھ یکجہتی اور اس کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت شامل ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ردعمل کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔ 70 سے زائد ممالک کا احاطہ کرنے والا یہ سلسلہ بتاتا ہے کہ مملکت کے خلاف حملوں کو مختلف براعظموں اور مکاتب فکر کے علماء نے یکساں طور پر مسترد کیا ہے۔ کیا یہ بین الاقوامی یکجہتی اس بات کا پیغام نہیں کہ مقدس مقامات کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں؟

وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کو موصول ہونے والے ان پیغامات میں صرف مذمت ہی نہیں بلکہ مملکت کے اقدامات کی حمایت بھی شامل ہے۔ یہ حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو اسلامی دنیا میں پذیرائی حاصل ہے۔ کیا خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت امت کی مشترکہ ذمہ داری نہیں؟

شیخ ارشد مدنی کا بیان اور وزارت کو موصول ہونے والے 176 سے زائد پیغامات ایک ہی سمت میں اشارہ کرتے ہیں۔ دونوں میں حوثی حملوں کی مذمت، مملکت کے ساتھ یکجہتی اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ ہم آہنگی بتاتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک خطے یا ایک مکتب فکر تک محدود نہیں۔ کیا یہ مشترکہ مؤقف امت کے اجتماعی شعور کی علامت نہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق شیخ ارشد مدنی نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کسی بھی ایسے عمل کو مسترد کیا جو اس کے امن، استحکام یا مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنائے۔ انہوں نے ان حملوں کو اسلام کی تعلیمات اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ کیا انسانی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے خلاف حملوں کی مذمت ہر مسلمان کی ذمہ داری نہیں؟

انہوں نے مملکت کی جانب سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی دیکھ بھال، ان کی سلامتی اور حج و عمرہ زائرین کی خدمات کو سراہا۔ یہ خدمات دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین کے لیے سہولت کا باعث بنتی ہیں۔ کیا ان خدمات کا تسلسل مملکت کے استحکام اور سلامتی سے جڑا ہوا نہیں؟

وزیر اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کو موصول ہونے والے پیغامات کی تعداد 176 سے زائد ہے اور ان کا تعلق 70 سے زائد ممالک سے ہے۔ ان میں وزرا، مفتیان کرام، علمائے کرام اور اسلامی اداروں کے سربراہان شامل ہیں۔ یہ تنوع بتاتا ہے کہ مذمت کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔ کیا مختلف ممالک اور مکاتب فکر کے علماء کا ایک ہی مؤقف اختیار کرنا اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر نہیں کرتا؟

ایس پی اے کی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حوثی حملے کب اور کہاں ہوئے، ان کی نوعیت کیا تھی یا ان کے نتیجے میں کیا نقصان ہوا۔ رپورٹ میں مذمت کرنے والے بیانات کی تفصیلی فہرست، خطوط کے متن یا ان کے ارسال کنندگان کے نام بھی شامل نہیں۔ مزید یہ کہ وزارت کو موصول ہونے والے پیغامات کے سلسلے کی کوئی تاریخ وار ترتیب یا اس کے جاری رہنے کی کوئی مدت بھی درج نہیں۔

رپورٹ میں شیخ ارشد مدنی کے بیان کی مکمل تفصیل، اس کے اوقات یا اس کے جاری ہونے کی جگہ کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ وزارت کو موصول ہونے والے خطوط، کیبلز اور بیانات کس عرصے میں آئے اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے یا نہیں۔ ان تفصیلات کے بغیر صرف دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ مذمت اور یکجہتی کے پیغامات کا سلسلہ وسیع پیمانے پر جاری ہے۔

اس رپورٹ کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں پر عالمی اسلامی ردعمل کو اجاگر کرتی ہے۔ جمیعت علمائے ہند کے صدر کا بیان اور 70 سے زائد ممالک سے موصول ہونے والے 176 سے زائد پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مملکت کی سلامتی اور مقدس مقامات کی حفاظت کا معاملہ پوری امت کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

شیخ ارشد مدنی کا یہ مؤقف کہ مملکت کی سلامتی کو کوئی بھی خطرہ پوری مسلم امہ سے متعلق ہے، اس بحث کا مرکزی نکتہ ہے۔ یہ نکتہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی حفاظت صرف ایک ریاست کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیا اس مشترکہ ذمہ داری کا احساس دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں مزید مضبوط ہو رہا ہے؟

وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کو موصول ہونے والے پیغامات میں مملکت کے اقدامات کی حمایت بھی شامل ہے۔ یہ حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مملکت کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو اسلامی دنیا میں قبولیت حاصل ہے۔ کیا یہ قبولیت مملکت کی قیادت کے لیے اعتماد کا باعث نہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیانات، خطوط اور کیبلز 70 سے زائد ممالک سے موصول ہوئے ہیں۔ ان میں وزرا، مفتیان کرام، علمائے کرام اور اسلامی اداروں کے سربراہان شامل ہیں۔ یہ تنوع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مذمت کا دائرہ کسی ایک خطے یا مکتب فکر تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا ہے۔

شیخ ارشد مدنی نے ان حملوں کو اسلام کی تعلیمات اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مقدس مقامات اور عام شہریوں کی سلامتی کو نشانہ بنانا کسی بھی مذہبی یا انسانی اصول کے مطابق نہیں۔ کیا اسلام کی تعلیمات امن اور تحفظ کی ضمانت نہیں دیتیں؟

انہوں نے مملکت کی جانب سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی دیکھ بھال، ان کی سلامتی اور حج و عمرہ زائرین کی خدمات کو سراہا۔ یہ خدمات دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ کیا ان خدمات کا تحفظ مملکت کی سلامتی کے بغیر ممکن ہے؟

وزیر اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کو موصول ہونے والے پیغامات کی تعداد 176 سے زائد ہے۔ یہ تعداد بتاتی ہے کہ مذمت اور یکجہتی کا سلسلہ کتنا وسیع ہے۔ ان پیغامات میں حوثی حملوں کی مذمت، مملکت کے ساتھ یکجہتی اور اس کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت شامل ہے۔

ایس پی اے کی اس رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حوثی حملوں کا مقام، وقت یا ان کا نتیجہ کیا تھا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ وزارت کو موصول ہونے والے خطوط اور بیانات کس عرصے میں آئے یا ان کا سلسلہ کب شروع ہوا۔ رپورٹ میں مذمت کرنے والے افراد یا اداروں کے ناموں کی مکمل فہرست بھی شامل نہیں۔

ان تفصیلات کے بغیر دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت اور مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار عالمی اسلامی حلقوں میں جاری ہے۔ جمیعت علمائے ہند کے صدر کا بیان اور 70 سے زائد ممالک سے موصول ہونے والے 176 سے زائد پیغامات اس رجحان کی واضح مثالیں ہیں۔

سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کس نے کی؟ جمیعت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے پرنسپل شیخ ارشد مدنی نے سعودی عرب پر حوثیوں کے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کسی بھی ایسے عمل کو مسترد کیا جو اس کے امن، استحکام یا مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنائے۔ انہوں نے ان حملوں کو اسلام کی تعلیمات اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا۔

وزیر اسلامی امور کو کتنے پیغامات موصول ہوئے؟ وزیر اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کو 176 سے زائد خطوط، کیبلز اور بیانات موصول ہوئے ہیں۔ یہ پیغامات 70 سے زائد ممالک کے وزرا، مفتیان کرام، علمائے کرام اور اسلامی اداروں کے سربراہان کی جانب سے آئے ہیں۔ ان میں حوثی حملوں کی مذمت، مملکت کے ساتھ یکجہتی اور اس کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت شامل ہے۔

شیخ ارشد مدنی نے مملکت کی کن خدمات کو سراہا؟ شیخ ارشد مدنی نے مملکت کی جانب سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی دیکھ بھال، ان کی سلامتی اور حج و عمرہ زائرین کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت کی سلامتی کو کوئی بھی خطرہ پوری مسلم امہ سے متعلق ہے۔ یہ بیان ان کی جانب سے مملکت کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کی عکاسی کرتا ہے۔

حوثی حملوں کی مذمت کرنے والوں کا تعلق کن ممالک سے ہے؟ وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کو موصول ہونے والے پیغامات 70 سے زائد ممالک سے آئے ہیں۔ ان میں وزرا، مفتیان کرام، علمائے کرام اور اسلامی اداروں کے سربراہان شامل ہیں۔ یہ تنوع بتاتا ہے کہ مذمت کا دائرہ کسی ایک خطے یا مکتب فکر تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا ہے۔ ایس پی اے نے ان ممالک کے نام تفصیل سے نہیں دیے۔

کیا رپورٹ میں حملوں کی تفصیلات دی گئی ہیں؟ ایس پی اے کی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حوثی حملے کب اور کہاں ہوئے، ان کی نوعیت کیا تھی یا ان کے نتیجے میں کیا نقصان ہوا۔ رپورٹ میں مذمت کرنے والے بیانات کی تفصیلی فہرست، خطوط کے متن یا ان کے ارسال کنندگان کے نام بھی شامل نہیں۔ وزارت کو موصول ہونے والے پیغامات کے سلسلے کی کوئی تاریخ وار ترتیب بھی درج نہیں۔