Saturday, October 24, 2026
سعودی خبریں

مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن حمید کا خطبہ جمعہ: ایمان ہی اندرونی سکون اور قناعت کی کنجی ہے

مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن حمید کا خطبہ جمعہ: ایمان ہی اندرونی سکون اور قناعت کی کنجی ہے

مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے خطیب اور امام شیخ صالح بن حمید نے جمعہ کے خطبے میں مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اللہ کی یاد کو اپنی زندگیوں میں قائم رکھیں، نیک اعمال کی طرف جلدی کریں اور وہ حقیقی قناعت حاصل کریں جو ایمان میں پوشیدہ ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، خطبے میں امام موصوف نے کہا کہ دیرپا سکون اور خوشی تین ستونوں سے جنم لیتی ہے: اللہ کو رب ماننا، اسلام کو رہنما اصول قرار دینا، اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو اپنا نمونہ بنانا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بنیادیں مومن کو اندرونی استحکام عطا کرتی ہیں، جس کے ذریعے وہ زندگی کے چیلنجوں کا صبر کے ساتھ سامنا کرتا ہے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے۔ کیا انسان آج کی تیز رفتار دنیا میں اسی اندرونی سکون کی تلاش میں نہیں بھٹک رہا؟

امام نے خبردار کیا کہ ایمان میں کمی یا اس کا زوال مایوسی، خود غرضی اور سماجی تقسیم کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے نمازیوں سے اپیل کی کہ وہ اسلامی اقدار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے اپنے تعلق کی تجدید کریں۔

یہ خطبہ ایسے وقت میں دیا گیا جب دنیا بھر کے مسلمان روحانی سکون اور معاشرتی ہم آہنگی کے چیلنجوں سے گزر رہے ہیں۔ کیا ہم اپنے روزمرہ کے معاملات میں ایمان کی ان بنیادوں کو ترجیح دیتے ہیں؟

شیخ صالح بن حمید کا یہ خطبہ مسجد الحرام سے نشر کیا گیا، جہاں ہر جمعہ کو ہزاروں نمازی جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی یاد اور نیک اعمال کی طرف بڑھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری بے چینی کی جڑ کہیں ایمان کی کمزوری تو نہیں؟

خطبے میں انہوں نے تین ستونوں کو تفصیل سے بیان کیا۔ پہلا ستون اللہ کو رب تسلیم کرنا ہے، جو انسان کو اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ کائنات کا ایک مالک اور مدبر ہے۔ دوسرا ستون اسلام کو بطور رہنما اپنانا ہے، جو زندگی کے تمام شعبوں میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ تیسرا ستون نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو نمونہ بنانا ہے، جس سے عملی زندگی میں رہنمائی ملتی ہے۔

امام موصوف نے کہا کہ یہ تینوں بنیادیں مل کر مومن کو وہ استحکام دیتی ہیں جس سے وہ مشکلات میں صبر اور نعمتوں میں شکر کر سکتا ہے۔ کیا آج کے دور میں ہم ان اقدار کو اپنی روزمرہ زندگی میں اتار پاتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ ایمان کی کمزوری معاشرے میں مایوسی، خود غرضی اور تقسیم کا باعث بنتی ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو اجتماعی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کیا ہم نے اپنے معاشرے میں ان علامات کا مشاہدہ کیا ہے؟

خطبے کا اختتام نمازیوں کی اس اپیل پر ہوا کہ وہ اسلامی اقدار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے اپنے عہد کی تجدید کریں۔ یہ پیغام مسجد الحرام سے پوری امت مسلمہ کے لیے تھا۔

ایس پی اے کے مطابق، یہ خطبہ 23 اکتوبر 2026 کو مسجد الحرام میں دیا گیا۔ رپورٹ میں خطبے کے شرکاء کی تعداد، دیگر مقامات پر اس کے اثرات یا مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

خطبہ جمعہ کہاں اور کب دیا گیا؟ یہ خطبہ مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں جمعہ کے روز دیا گیا، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 23 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا۔ خطبہ امام شیخ صالح بن حمید نے دیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ خطبہ مسجد الحرام میں پیش کیا گیا اور اس میں نمازیوں سے اپیل کی گئی۔

امام نے سکون اور خوشی کے کون سے تین ستون بتائے؟ امام شیخ صالح بن حمید نے بتایا کہ دیرپا سکون اور خوشی تین ستونوں سے حاصل ہوتی ہے: اللہ کو رب ماننا، اسلام کو رہنما اصول قرار دینا، اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو نمونہ بنانا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادیں مومن کو اندرونی استحکام دیتی ہیں جس سے وہ مشکلات میں صبر اور نعمتوں میں شکر کرتا ہے۔

ایمان کی کمزوری کے کیا اثرات بتائے گئے؟ امام موصوف نے خبردار کیا کہ ایمان میں کمی یا زوال مایوسی، خود غرضی اور سماجی تقسیم کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوامل معاشرے میں منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایمان کی مضبوطی صبر اور شکر جیسی خوبیاں پیدا کرتی ہے۔ رپورٹ میں اس کے مزید تفصیلی اثرات نہیں دیے گئے۔

امام نے نمازیوں سے کیا اپیل کی؟ امام شیخ صالح بن حمید نے نمازیوں سے اپیل کی کہ وہ اسلامی اقدار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے اپنے تعلق کی تجدید کریں۔ انہوں نے اللہ کی یاد کو قائم رکھنے اور نیک اعمال کی طرف جلدی کرنے کی تلقین کی۔ یہ اپیل خطبے کے اختتام پر کی گئی، جیسا کہ ایس پی اے نے رپورٹ کیا۔