Sunday, October 25, 2026
معیشت

جی سی سی معاشی انضمام کی اہمیت پر سیکرٹری جنرل کا بیان

جی سی سی معاشی انضمام کی اہمیت پر سیکرٹری جنرل کا بیان

منامہ میں جی سی سی اقتصادی اور ترقیاتی امور کمیشن کی وزارتی سطح کی مستقل تیاری کمیٹی کے دسویں اجلاس میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ معاشی وحدت کی راہوں کو تیز کرنا اور کسٹمز یونین اور جی سی سی مشترکہ مارکیٹ کو مکمل کرنا خلیجی معیشتوں کی مسابقت بڑھانے، عالمی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط کرنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اہم ستون ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، انہوں نے زور دیا کہ وزارتی سطح کی مستقل تیاری کمیٹی ان منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ان کی پیروی کرنے میں بڑھتی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ پالیسیوں، اقدامات اور عملی پروگراموں کی تشکیل کرتی ہے جو رکن ممالک کے درمیان معاشی انضمام کے سفر میں ٹھوس نتائج دیتی ہے۔

البدیوی کے یہ ریمارکس آج منامہ میں منعقدہ جی سی سی اقتصادی اور ترقیاتی امور کمیشن کی وزارتی سطح کی مستقل تیاری کمیٹی کے دسویں اجلاس کے دوران دیے گئے۔ اس اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ اور قومی معیشت شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی، جو موجودہ سیشن کے چیئرمین بھی ہیں، اور اس میں جی سی سی رکن ممالک کے وزارتی تیاری کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

اپنی تقریر کے آغاز میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے کئی معاشی اشاروں کا جائزہ لیا جو جی سی سی معیشتوں کی مضبوطی اور تنوع اور معاشی انضمام میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں۔ انہوں نے جی سی سی شماریاتی مرکز (جی سی سی سٹیٹ) کے 2025 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ موجودہ قیمتوں پر جی سی سی کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) تقریباً 2.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے جی سی سی رکن ممالک اجتماعی طور پر دنیا کی نویں بڑی معیشت بن گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر تیل شعبے کا حصہ جی ڈی پی کا تقریباً 79 فیصد ہے، جو معاشی بنیاد کو متنوع بنانے میں نمایاں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ جی سی سی کے اندر تجارت — جس کی پیمائش اندرونی برآمدات کی قیمت سے کی جاتی ہے — 177 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 2007 کے مقابلے میں 125 فیصد اضافے کو ریکارڈ کرتی ہے۔

کیا خلیجی معیشتوں کی اجتماعی طاقت عالمی معاشی منظر نامے میں ان کے کردار کو نئی شکل دے رہی ہے؟ سیکرٹری جنرل نے یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کے طور پر پیش کیے کہ رکن ممالک نے تنوع کے میدان میں کس طرح ترقی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی سی سی کے اندر سرمایہ کاری کا ذخیرہ بھی بڑھ رہا ہے، جو خطے کے اندر معاشی روابط کو مضبوط کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آ رہی ہے جب عالمی معیشت کئی چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے، اور خلیجی ممالک اپنی معاشی بنیاد کو متنوع بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

البدیوی نے اس بات پر زور دیا کہ کسٹمز یونین اور مشترکہ مارکیٹ کی تکمیل ان کوششوں کا مرکز ہے۔ کیا رکن ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر مشترکہ مارکیٹ کا ہدف حاصل ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ مستقل تیاری کمیٹی ان منصوبوں کی نگرانی اور انہیں آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ اور قومی معیشت شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی، جو موجودہ سیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ اجلاس میں جی سی سی رکن ممالک کے وزارتی تیاری کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ یہ اجلاس منامہ میں منعقد ہوا، جو بحرین کا دارالحکومت ہے۔

سیکرٹری جنرل نے اپنی تقریر میں کہا کہ معاشی وحدت کی راہوں کو تیز کرنا خلیجی معیشتوں کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے اور پائیدار ترقی کے حصول میں معاون ہے۔ کیا یہ اہداف رکن ممالک کی مشترکہ کوششوں کے بغیر قابل حصول ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ مستقل تیاری کمیٹی پالیسیوں، اقدامات اور عملی پروگراموں کی تشکیل کے ذریعے ان منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ان کی پیروی کرنے میں بڑھتی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام رکن ممالک کے درمیان معاشی انضمام کے سفر میں ٹھوس نتائج دیتے ہیں۔

جی سی سی شماریاتی مرکز کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ قیمتوں پر جی سی سی کی مجموعی گھریلو پیداوار تقریباً 2.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس سے جی سی سی رکن ممالک اجتماعی طور پر دنیا کی نویں بڑی معیشت بن گئے ہیں۔ کیا یہ درجہ بندی خطے کی اقتصادی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے؟

غیر تیل شعبے کا حصہ جی ڈی پی کا تقریباً 79 فیصد ہے۔ یہ معاشی بنیاد کو متنوع بنانے میں نمایاں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ جی سی سی کے اندر تجارت — جس کی پیمائش اندرونی برآمدات کی قیمت سے کی جاتی ہے — 177 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 2007 کے مقابلے میں 125 فیصد اضافے کو ریکارڈ کرتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جی سی سی کے اندر سرمایہ کاری کا ذخیرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطے کے اندر معاشی روابط کو مضبوط کر رہا ہے۔ کیا سرمایہ کاری کے بہاؤ میں یہ اضافہ طویل مدتی معاشی استحکام کی ضمانت ہے؟

اجلاس میں جی سی سی رکن ممالک کے وزارتی تیاری کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ اور قومی معیشت شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی۔ یہ اجلاس منامہ میں منعقد ہوا۔

البدیوی نے کہا کہ کسٹمز یونین اور جی سی سی مشترکہ مارکیٹ کی تکمیل خلیجی معیشتوں کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرتے ہیں اور پائیدار ترقی کے حصول میں معاون ہیں۔ کیا ان اہداف کے حصول کے لیے مزید عملی اقدامات کی ضرورت ہے؟

انہوں نے کہا کہ مستقل تیاری کمیٹی ان منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ان کی پیروی کرنے میں بڑھتی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسیوں، اقدامات اور عملی پروگراموں کی تشکیل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام رکن ممالک کے درمیان معاشی انضمام کے سفر میں ٹھوس نتائج دیتے ہیں۔

جی سی سی شماریاتی مرکز کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، جی سی سی کی مجموعی گھریلو پیداوار موجودہ قیمتوں پر تقریباً 2.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ غیر تیل شعبے کا حصہ جی ڈی پی کا تقریباً 79 فیصد ہے۔ جی سی سی کے اندر تجارت 177 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 2007 کے مقابلے میں 125 فیصد اضافے کو ریکارڈ کرتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ اعداد و شمار جی سی سی معیشتوں کی مضبوطی اور تنوع اور معاشی انضمام میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی سی سی کے اندر سرمایہ کاری کا ذخیرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ کیا یہ رجحان آئندہ برسوں میں جاری رہے گا؟

اجلاس میں جی سی سی رکن ممالک کے وزارتی تیاری کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ اور قومی معیشت شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی۔ یہ اجلاس منامہ میں منعقد ہوا۔

البدیوی نے کہا کہ معاشی وحدت کی راہوں کو تیز کرنا خلیجی معیشتوں کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے اور پائیدار ترقی کے حصول میں معاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز یونین اور جی سی سی مشترکہ مارکیٹ کی تکمیل ان کوششوں کا مرکز ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقل تیاری کمیٹی پالیسیوں، اقدامات اور عملی پروگراموں کی تشکیل کے ذریعے ان منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ان کی پیروی کرنے میں بڑھتی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام رکن ممالک کے درمیان معاشی انضمام کے سفر میں ٹھوس نتائج دیتے ہیں۔ کیا کمیٹی کے فیصلے رکن ممالک کی معیشتوں پر فوری اثر ڈال رہے ہیں؟

جی سی سی شماریاتی مرکز کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، جی سی سی کی مجموعی گھریلو پیداوار موجودہ قیمتوں پر تقریباً 2.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے جی سی سی رکن ممالک اجتماعی طور پر دنیا کی نویں بڑی معیشت بن گئے۔ غیر تیل شعبے کا حصہ جی ڈی پی کا تقریباً 79 فیصد ہے۔ جی سی سی کے اندر تجارت 177 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 2007 کے مقابلے میں 125 فیصد اضافے کو ریکارڈ کرتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جی سی سی کے اندر سرمایہ کاری کا ذخیرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطے کے اندر معاشی روابط کو مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار جی سی سی معیشتوں کی مضبوطی اور تنوع اور معاشی انضمام میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں۔

اجلاس میں جی سی سی رکن ممالک کے وزارتی تیاری کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ اور قومی معیشت شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی۔ یہ اجلاس منامہ میں منعقد ہوا۔

البدیوی نے کہا کہ معاشی وحدت کی راہوں کو تیز کرنا، کسٹمز یونین اور جی سی سی مشترکہ مارکیٹ کی تکمیل خلیجی معیشتوں کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرتے ہیں اور پائیدار ترقی کے حصول میں معاون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقل تیاری کمیٹی ان منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ان کی پیروی کرنے میں بڑھتی اہمیت رکھتی ہے۔

رپورٹ میں کسٹمز یونین یا مشترکہ مارکیٹ کی تکمیل کے لیے کوئی خاص ٹائم لائن، رقم یا اضافی تفصیل نہیں دی گئی۔

جی سی سی سیکرٹری جنرل نے معاشی انضمام کے بارے میں کیا کہا؟ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ معاشی وحدت کی راہوں کو تیز کرنا اور کسٹمز یونین اور جی سی سی مشترکہ مارکیٹ کو مکمل کرنا خلیجی معیشتوں کی مسابقت بڑھانے، عالمی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط کرنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس منامہ میں جی سی سی اقتصادی اور ترقیاتی امور کمیشن کی وزارتی سطح کی مستقل تیاری کمیٹی کے دسویں اجلاس کے دوران دیے۔

اجلاس کی صدارت کس نے کی اور کہاں منعقد ہوا؟ اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ اور قومی معیشت شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے کی، جو موجودہ سیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ یہ اجلاس منامہ میں منعقد ہوا اور اس میں جی سی سی رکن ممالک کے وزارتی تیاری کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ جی سی سی اقتصادی اور ترقیاتی امور کمیشن کی وزارتی سطح کی مستقل تیاری کمیٹی کا دسواں اجلاس تھا۔

جی سی سی کے معاشی اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟ جی سی سی شماریاتی مرکز کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ قیمتوں پر جی سی سی کی مجموعی گھریلو پیداوار تقریباً 2.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے جی سی سی رکن ممالک اجتماعی طور پر دنیا کی نویں بڑی معیشت بن گئے۔ غیر تیل شعبے کا حصہ جی ڈی پی کا تقریباً 79 فیصد ہے، جو معاشی بنیاد کو متنوع بنانے میں نمایاں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

جی سی سی کے اندر تجارت میں کتنی ترقی ہوئی ہے؟ جی سی سی کے اندر تجارت — جس کی پیمائش اندرونی برآمدات کی قیمت سے کی جاتی ہے — 177 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 2007 کے مقابلے میں 125 فیصد اضافے کو ریکارڈ کرتی ہے۔ سیکرٹری جنرل نے یہ اعداد و شمار جی سی سی معیشتوں کی مضبوطی اور تنوع اور معاشی انضمام میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی تصدیق کے طور پر پیش کیے۔

مستقل تیاری کمیٹی کا کیا کردار ہے؟ سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ وزارتی سطح کی مستقل تیاری کمیٹی ان منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ان کی پیروی کرنے میں بڑھتی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ پالیسیوں، اقدامات اور عملی پروگراموں کی تشکیل کرتی ہے جو رکن ممالک کے درمیان معاشی انضمام کے سفر میں ٹھوس نتائج دیتی ہیں۔ اجلاس میں جی سی سی رکن ممالک کے وزارتی تیاری کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

کیا رپورٹ میں کسٹمز یونین کی تکمیل کی کوئی ٹائم لائن دی گئی ہے؟ رپورٹ میں کسٹمز یونین یا مشترکہ مارکیٹ کی تکمیل کے لیے کوئی خاص ٹائم لائن، رقم یا اضافی تفصیل نہیں دی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق، سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کسٹمز یونین اور جی سی سی مشترکہ مارکیٹ کی تکمیل خلیجی معیشتوں کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اہم ستون ہیں، لیکن انہوں نے تکمیل کی کوئی تاریخ نہیں بتائی۔