Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی مذمت کی

عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی مذمت کی

قاہرہ، 11 اکتوبر 2026: عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الیماحی نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے، اور یہ شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کی ضمانت دینے والے قواعد کی بھی پامالی ہے۔

انہوں نے عرب پارلیمنٹ کی سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب کی سلامتی عرب قومی سلامتی کا لازمی حصہ ہے اور اسے کوئی بھی خطرہ خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کو روکنے، ان کے دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے مداخلت کرے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں شہری ہوابازی اور اہم شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے واقعات پر بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر کا موقف عرب دنیا کے پارلیمانی ادارے کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں کی مسلسل مذمت کا تسلسل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ شہری تنصیبات، خاص طور پر ہوائی اڈے، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تحفظ کے حقدار ہیں، اور ان پر حملے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی براہ راست خطرے میں ڈالتے ہیں۔

عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی سلامتی عرب قومی سلامتی کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے خلاف کوئی بھی خطرہ پورے خطے کے استحکام کو متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، یہ بیان قاہرہ سے جاری کیا گیا، جہاں عرب پارلیمنٹ کا صدر دفتر ہے۔ رپورٹ میں حملے کی مزید تفصیلات، ہلاکتوں کی تعداد یا نقصان کی نوعیت کے بارے میں کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر کا یہ بیان سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کے سلسلے میں عرب ممالک کی مشترکہ پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے، جس میں شہری تنصیبات کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی قانون اور شہری تحفظ

عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے بیان میں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈوں اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ان قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کی ضمانت دینے والے قواعد کی پامالی ناقابل قبول ہے۔

ان کا موقف تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں، اور عالمی برادری کو اس معاملے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، ان کے دوبارہ ہونے کو یقینی بنائے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی سلامتی عرب قومی سلامتی کا لازمی جزو ہے، اور اسے کوئی بھی خطرہ پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ بیان عرب پارلیمنٹ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی مسلسل مذمت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں شہری تنصیبات کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ حملے کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے، نہ ہی نقصان کی نوعیت یا حملے کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیل دی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے یہ بیان کس تاریخ کو جاری کیا، البتہ رپورٹ کی تاریخ 11 اکتوبر 2026 درج ہے۔

عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کس واقعے کی مذمت کی؟ عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الیماحی نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد یا نقصان کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیسے کیا؟ انہوں نے عرب پارلیمنٹ کی سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب کی سلامتی عرب قومی سلامتی کا لازمی حصہ ہے اور اسے کوئی بھی خطرہ خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ بیان قاہرہ سے جاری کیا گیا۔

عالمی برادری سے کیا مطالبہ کیا گیا؟ عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کو روکنے، ان کے دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے مداخلت کرے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کی ضمانت دینے والے قواعد کی پامالی ناقابل قبول ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ سلامتی کونسل نے کیا جواب دیا۔

یہ بیان کہاں سے جاری کیا گیا اور کب؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان قاہرہ سے جاری کیا گیا، جہاں عرب پارلیمنٹ کا صدر دفتر ہے۔ رپورٹ کی تاریخ 11 اکتوبر 2026 درج ہے، البتہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے یہ بیان کس تاریخ کو جاری کیا۔ رپورٹ میں حملے کے وقت کے بارے میں بھی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔