سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کو عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کا فون آیا، جس میں عمان نے ابھا اور کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، عمان کے وزیر خارجہ نے کال کے آغاز میں اپنے ملک کی جانب سے ان حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہری تنصیبات پر حملوں اور سعودی عرب کی سلامتی اور شہریوں کی حفاظت کو لاحق خطرات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔
یہ کال ایسے وقت میں ہوئی جب خطے کی فضا کشیدگی کے متعدد دھاروں سے گزر رہی ہے، اور خلیجی تعاون کونسل کے دو اہم شراکت داروں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی راستے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کیا یہ رابطہ صرف اظہار یکجہتی تک محدود ہے، یا اس کے پیچھے وسیع تر علاقائی مفاہمت کی حکمت عملی کارفرما ہے؟
ایس پی اے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی حل کی حمایت اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ابھا اور کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے سعودی عرب کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں شہری ہوابازی کے اہم مراکز ہیں، اور ان پر حملوں کا ذکر عمان کے وزیر خارجہ نے خود کیا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ عمان نے اپنے بیان میں شہری تنصیبات کے تحفظ کو مرکزی نکتہ بنایا۔ کیا شہری ہوابازی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانا خطے کی سلامتی کے تصور کو نئے سرے سے متعین کر رہا ہے؟
عمان کی جانب سے یہ مؤقف سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کے تحفظ کے بین الاقوامی اصولوں کی توثیق بھی ہے۔ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے واضح طور پر کہا کہ عمان شہری تنصیبات پر حملوں اور سعودی عرب کی سلامتی اور شہریوں کی حفاظت کو لاحق خطرات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
دونوں وزراء کے درمیان گفتگو کا دوسرا محور علاقائی پیش رفت اور سفارتی حل کی حمایت تھا۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے کشیدگی میں کمی اور خطے میں سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی راستوں کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ کیا سفارتی حل کی یہ مشترکہ وکالت آنے والے دنوں میں کسی ٹھوس اقدام کی بنیاد بن سکتی ہے؟
خلیجی خطے میں عمان کی خارجہ پالیسی طویل عرصے سے توازن اور ثالثی کے لیے جانی جاتی ہے، اور اس کال کا وقت بھی اس کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی عرب اور عمان کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے علاقائی بحرانوں کے انتظام میں ایک مستقل عنصر رہے ہیں۔ کیا یہ فون کال اس روایت کا تسلسل ہے یا اس کے پیچھے کوئی فوری ایجنڈا ہے؟
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کال کتنی دیر تک جاری رہی، نہ ہی اس میں کسی مخصوص اقدام یا اعلان کا ذکر ہے۔ ایس پی اے نے صرف یہ بتایا کہ دونوں وزراء نے علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور سفارتی حل کی حمایت پر زور دیا۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے کال کے دوران عمان کے مؤقف کا خیرمقدم کیا، تاہم رپورٹ میں اس خیرمقدم کے الفاظ تفصیل سے نہیں دیے گئے۔ یہ بات بھی سامنے نہیں آئی کہ دونوں وزراء نے کسی مخصوص علاقائی تنازعے کا نام لیا یا نہیں۔ کیا اس خاموشی کو سفارتی احتیاط سمجھا جائے یا اس کے پیچھے کوئی غیر اعلانیہ مفاہمت ہے؟
ابھا اور کنگ خالد ہوائی اڈوں پر حملوں کا تذکرہ عمان کے وزیر خارجہ کی جانب سے آیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ معاملہ خلیجی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شہری ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کی اقتصادی اور انسانی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔ کیا خلیجی تعاون کونسل کے فریم ورک میں اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے؟
عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کی سلامتی اور شہریوں کی حفاظت کا ذکر الگ الگ انداز میں کیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسقط کی نظر میں ریاست کی سلامتی اور شہریوں کی حفاظت ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ مؤقف بین الاقوامی قانون کے ان اصولوں سے ہم آہنگ ہے جو شہری تنصیبات کو فوجی اہداف سے الگ رکھنے پر زور دیتے ہیں۔
علاقائی پیش رفت پر بات چیت کے دوران دونوں وزراء نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی حل کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ مؤقف دونوں فریقوں کا مشترکہ نقطہ نظر تھا۔ کیا اس مشترکہ مؤقف کو خطے میں اعتماد سازی کے کسی نئے مرحلے کا پیش خیمہ قرار دیا جا سکتا ہے؟
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں خلیجی ہمسایوں کے ساتھ ہم آہنگی ایک بنیادی ستون رہی ہے، اور عمان کے ساتھ یہ رابطہ اس پالیسی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کی گہرائی کو دیکھتے ہوئے یہ کال غیر معمولی نہیں، تاہم اس کا وقت اور اس میں اٹھائے گئے نکات اسے اہم بناتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کال کے آغاز میں ہی عمان کے وزیر خارجہ نے حملوں کی مذمت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ دونوں فریقوں کے ایجنڈے میں سرفہرست تھا۔ اس کے بعد علاقائی پیش رفت اور سفارتی حل پر بات ہوئی۔ کیا اس ترتیب سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سلامتی کے خدشات اور سفارتی کوششیں ایک ہی گفتگو کا لازمی حصہ بن چکی ہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں کال کی تفصیلات محدود ہیں: نہ کوئی مخصوص قرارداد، نہ کوئی مشترکہ بیان، نہ ہی کسی ملاقات کا اعلان۔ صرف مذمت، یکجہتی، اور سفارتی حل کی حمایت کا ذکر ہے۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ رابطہ زیادہ تر اعتماد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔
خطے میں سلامتی اور استحکام کو بڑھانے کی اہمیت پر دونوں وزراء کا اتفاق اس بات کا غماز ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے کثیرالجہتی اور دوطرفہ دونوں راستے زیر غور ہیں۔ عمان کا کردار اس تناظر میں ثالثی اور پُل سازی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کیا مسقط کی یہ کوششیں خطے کے دیگر فریقوں کے لیے بھی قابل قبول فارمولہ فراہم کر سکتی ہیں؟
شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عمان کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جو خلیجی یکجہتی کی روایت کا تسلسل ہے۔ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان ایسے مواقع پر رابطہ ایک قائم شدہ عمل ہے، تاہم ہر کال کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کال میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے عمان کے مؤقف کا جواب کیسے دیا، نہ ہی کسی مشترکہ پریس کانفرنس یا بیان کا ذکر ہے۔ یہ خاموشی سفارتی روابط کی معمول کی خصوصیت ہے، جہاں عوامی بیان اور نجی گفتگو کے درمیان فرق رکھا جاتا ہے۔ کیا اس فرق کو برقرار رکھنا ہی مؤثر سفارت کاری کی شرط ہے؟
ابھا اور کنگ خالد ہوائی اڈوں کا ذکر اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ سعودی عرب کے جنوبی اور وسطی علاقوں کی سلامتی کو خطے کی مجموعی سلامتی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ہوائی اڈے شہری ہوابازی کے ساتھ ساتھ اقتصادی روابط کے مراکز بھی ہیں، اور ان کی سلامتی کا معاملہ تجارت اور سیاحت سے بھی جڑا ہوا ہے۔
دونوں وزراء کی گفتگو میں علاقائی پیش رفت کا ذکر عمومی نوعیت کا ہے، جس میں کسی مخصوص ملک یا تنازعے کا نام نہیں لیا گیا۔ یہ عمومی انداز سفارتی بیانات کی عام خصوصیت ہے، جہاں تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے اصولی مؤقف پر زور دیا جاتا ہے۔ کیا اس عمومی انداز کو کمزوری سمجھا جائے یا حکمت عملی کی پختگی؟
سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں وزراء نے کشیدگی میں کمی کو ترجیح قرار دیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ مؤقف خطے میں سلامتی اور استحکام کے فروغ سے منسلک تھا۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ فریقین فوجی راستوں کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عمان کے وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ ان کا ملک شہری تنصیبات پر حملوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، بین الاقوامی سطح پر ایک واضح مؤقف ہے۔ اس مؤقف کی بازگشت خطے کے دیگر ممالک کے بیانات میں بھی سنی جا سکتی ہے، تاہم اس کال میں اسے سعودی عرب کے ساتھ براہ راست یکجہتی سے جوڑا گیا۔
رپورٹ کے اختتام پر صرف ایس پی اے کا حوالہ اور وقت درج ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک مختصر سرکاری بیان ہے۔ اس میں کال کی مدت، شرکاء کی تعداد، یا کسی فالو اپ میٹنگ کا ذکر نہیں۔ یہ بات قارئین کے لیے یہ سوال چھوڑتی ہے کہ اس طرح کے رابطوں کے عملی نتائج کی پیمائش کیسے کی جائے؟
مجموعی طور پر یہ کال سعودی عرب اور عمان کے درمیان قریبی رابطے اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے مشترکہ فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں وزراء نے علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور سفارتی حل کی حمایت پر زور دیا، جبکہ عمان نے ابھا اور کنگ خالد ہوائی اڈوں پر حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ کال کے بعد کوئی مشترکہ بیان جاری ہوا، نہ ہی کسی مخصوص علاقائی بحران کا نام لیا گیا، اور نہ ہی کسی آنے والی ملاقات یا معاہدے کا اشارہ دیا گیا۔ یہی وہ نکات ہیں جو سرکاری بیان کی حدود کو واضح کرتے ہیں اور قارئین کو دستیاب معلومات کی حد تک رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
عمان کے وزیر خارجہ نے کال میں کیا مؤقف اپنایا؟ عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے کال کے آغاز میں اپنے ملک کی جانب سے ابھا اور کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور شہری تنصیبات پر حملوں اور سعودی عرب کی سلامتی اور شہریوں کی حفاظت کو لاحق خطرات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ مؤقف کال کے آغاز میں ہی پیش کیا گیا۔
دونوں وزراء نے علاقائی پیش رفت پر کیا بات کی؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں وزراء نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی حل کی حمایت اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ رپورٹ میں کسی مخصوص علاقائی تنازعے یا ملک کا نام نہیں لیا گیا، اور نہ ہی کسی مخصوص اقدام کا ذکر ہے۔
یہ کال کس نے کی اور کس کو موصول ہوئی؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کو عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کا فون آیا۔ یہ کال 10 اکتوبر 2026 کو موصول ہوئی اور اس کا اعلان ریاض سے کیا گیا۔ رپورٹ میں کال کی مدت یا اس میں شامل دیگر افراد کا ذکر نہیں ہے۔
عمان نے شہری تنصیبات کے بارے میں کیا کہا؟ عمان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک شہری تنصیبات پر حملوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور شہریوں کی حفاظت کو لاحق خطرات کو بھی مسترد کیا۔ یہ مؤقف بین الاقوامی قانون کے اس اصول سے ہم آہنگ ہے جو شہری تنصیبات کو فوجی اہداف سے الگ رکھنے پر زور دیتا ہے۔
کیا اس کال میں کوئی مخصوص معاہدہ یا اعلان ہوا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس کال میں کوئی مخصوص معاہدہ، قرارداد یا مشترکہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ میں صرف مذمت، یکجہتی اور سفارتی حل کی حمایت کا ذکر ہے۔ نہ کسی فالو اپ ملاقات کا اعلان ہوا اور نہ کسی مخصوص علاقائی بحران کا نام لیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رابطہ اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش تھا۔
اس کال کی اہمیت کیا ہے؟ یہ کال سعودی عرب اور عمان کے درمیان قریبی سفارتی رابطے اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے مشترکہ فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ عمان کی خارجہ پالیسی توازن اور ثالثی کے لیے جانی جاتی ہے، اور اس کال کا وقت بھی اس کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دونوں وزراء نے سفارتی حل کی حمایت پر زور دیا، جو کشیدگی میں کمی کی کوششوں کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔