Sunday, October 25, 2026
ثقافت

سعودی کاریگر لہدہ العنزی شاہین نمائش میں چھ دہائیوں کا الصدو ورثہ پیش کر رہی ہیں

سعودی کاریگر لہدہ العنزی شاہین نمائش میں چھ دہائیوں کا الصدو ورثہ پیش کر رہی ہیں

ریاض میں جاری بین الاقوامی سعودی شاہین اور شکار نمائش میں سعودی کاریگر لہدہ العنزی، جو اپنی برادری میں «ام الصدو» کے نام سے جانی جاتی ہیں، الصدو بُنائی کی چھ دہائیوں سے زائد کی مہارت زندہ مظاہروں کی صورت میں پیش کر رہی ہیں۔ یہ نمائش زائرین کو مملکت کے سب سے پائیدار غیر محسوس ورثے میں سے ایک فن کو قریب سے دیکھنے کا موقع دے رہی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، لہدہ العنزی نے یہ فن تیرہ برس کی عمر میں سیکھنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے الصدو کے صحرائی بدوی زندگی سے گہرے تاریخی تعلق کو اجاگر کیا۔ یہ تکنیک اون کو کاتنے، رنگنے اور روایتی کھڈیوں پر ہاتھ سے بُننے پر مشتمل ہے، جس سے پیچیدہ ہندسی نقش بنتے ہیں جو صحرائی رہائش گاہوں، گھریلو فرنیچر اور اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سامان میں استعمال ہوتے ہیں۔

ان کے نمائش کردہ کاموں میں روایتی خیمے کے ٹیپسٹری اور زین کے تھیلوں سے لے کر جدید آرائشی کپڑوں، دیوار پر لٹکانے والے پارچوں اور لوازمات تک شامل ہیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک ہی فن صحرا کے خیمے اور آج کے گھر کی دیوار، دونوں کو سجا سکتا ہے؟ الصدو کی یہ لچک ہی اسے نسلوں سے نسلوں تک منتقل ہونے دیتی ہے۔

لہدہ العنزی اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے چھیالیس خواتین کو مستند بُنائی کے طریقے سکھائے ہیں، جس سے روایتی متنی مہارتوں کی نسل در نسل منتقلی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ چھیالیس خواتین کا یہ سلسلہ کیا صرف ایک عدد ہے، یا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ورثہ زندہ رہتا ہے جب اسے سکھایا جائے؟ ہر نئی سیکھنے والی اپنے ساتھ ایک پورا نقشہ، ایک پوری کہانی لے کر آگے بڑھتی ہے۔

ان کے زندہ بُنائی کے سیشن نمائش کے ثقافتی پویلین کا حصہ ہیں، جو مستند سعودی دستکاری کو نمایاں کرتا ہے اور قومی ورثے کے تحفظ کے لیے وقف کاریگروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ نمائش میں آنے والے زائرین صرف نمائش نہیں دیکھتے، وہ ایک ایسے عمل کا حصہ بنتے ہیں جس میں اون سے لے کر نقش تک کا سفر آنکھوں کے سامنے مکمل ہوتا ہے۔

الصدو کا عمل کئی مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے اون کو کاتا جاتا ہے، پھر اسے رنگا جاتا ہے، اور آخر میں روایتی کھڈی پر ہاتھ سے بُنا جاتا ہے۔ ہر مرحلے میں صبر، مہارت اور آنکھ کی پیمائش درکار ہوتی ہے۔ کیا آج کی تیز رفتار دنیا میں کوئی شخص کھڈی کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے کا تصور کر سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ایسی کاریگر خواتین کا کردار ناقابلِ تبادلہ ہے۔

بدوی زندگی میں الصدو صرف آرائش کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ روزمرہ ضرورت کا حصہ تھا۔ خیمے کی چھت سے لے کر فرش تک، اور اونٹ کے ساز سے لے کر گھوڑے کی زین تک، ہر جگہ اس کا استعمال ہوتا تھا۔ پیچیدہ ہندسی نقش محض ڈیزائن نہیں تھے، وہ شناخت، قبیلے اور روایت کی علامت تھے۔ کیا یہ نقش آج بھی وہی کہانی سناتے ہیں جو صدیوں پہلے سناتے تھے؟

لہدہ العنزی کے نمائش کردہ کاموں کی رینج ان کی مہارت کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ روایتی خیمے کی ٹیپسٹری اور زین کے تھیلے ان کے ورثے کی جڑوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ جدید آرائشی کپڑے، دیوار پر لٹکانے والے پارچے اور لوازمات بتاتے ہیں کہ یہ فن آج کے ذوق کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ ایک ہی ہاتھ سے روایت اور جدت، دونوں کو کیسے سنبھالا جاتا ہے؟ یہی تو اصل کاریگری ہے۔

انہوں نے چھیالیس خواتین کو مستند بُنائی کے طریقے سکھائے ہیں۔ یہ تربیت صرف تکنیک کی منتقلی نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری کی منتقلی ہے۔ جب ایک استاد اپنی زندگی بھر کی سیکھی ہوئی باریکیاں شاگردوں کو دیتا ہے، تو فن ختم نہیں ہوتا۔ کیا ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان چھیالیس خواتین کے ہاتھوں سے کتنی مزید نسلیں سیکھیں گی؟

بین الاقوامی سعودی شاہین اور شکار نمائش کا ثقافتی پویلین مستند سعودی دستکاری کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ پویلین صرف مصنوعات کی نمائش نہیں، بلکہ ان کاریگروں کو خراج تحسین ہے جو قومی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہیں۔ شاہین اور شکار کی نمائش میں الصدو کا پویلین کیا یہ نہیں بتاتا کہ سعودی ثقافت کتنی وسیع اور متنوع ہے؟

لہدہ العنزی کی کہانی ان گنت سعودی کاریگروں کی کہانیوں کا عکس ہے جو خاموشی سے اپنا فن آگے بڑھا رہے ہیں۔ تیرہ برس کی عمر میں شروع ہونے والا سفر آج چھ دہائیوں سے زائد پر محیط ہے۔ یہ تسلسل کسی عزم سے کم نہیں۔ کیا کوئی فن چھ دہائیوں تک سیکھا اور سکھایا جا سکتا ہے بغیر اس کے کہ وہ دل سے جڑا ہو؟

الصدو کو غیر محسوس ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے، اور اس کی بقا کا انحصار ایسے ہی زندہ مظاہروں، تربیتی حلقوں اور نمائشوں پر ہے۔ جب زائرین کھڈی کے سامنے کھڑے ہو کر اون کے دھاگے کو نقش میں بدلتے دیکھتے ہیں، تو ورثہ ایک تصویر سے نکل کر ایک تجربہ بن جاتا ہے۔ کیا تجربہ تصویر سے زیادہ دیر تک یاد رہتا ہے؟ یقیناً۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، ان کے زندہ بُنائی کے سیشن نمائش کے ثقافتی پویلین کا حصہ ہیں۔ رپورٹ میں نمائش کے دورانیے، زائرین کی تعداد، یا تربیت یافتہ خواتین کے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ تربیتی سلسلہ کہاں اور کس شکل میں جاری رہے گا۔

یہ نمائش سعودی عرب میں دستکاری اور ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ الصدو جیسے فنون نہ صرف ماضی کی یاد دلاتے ہیں بلکہ معاشی اور سماجی طور پر بھی اہم ہیں، کیونکہ یہ خواتین کاریگروں کو روزی اور شناخت دونوں فراہم کرتے ہیں۔ کیا ورثے کا تحفظ صرف ثقافتی نہیں، معاشی فیصلہ بھی ہے؟ بہت حد تک ہاں۔

لہدہ العنزی کا لقب «ام الصدو» اپنی جگہ ایک کہانی ہے۔ برادری میں یہ نام محبت اور احترام سے دیا جاتا ہے، اور یہ ان کی مہارت کا اعتراف ہے۔ جب کوئی کاریگر اپنے فن کا نام بن جائے، تو سمجھ لیں کہ اس نے اپنا کام مکمل کر لیا۔ کیا ایسا اعزاز ہر محنت کش کو نصیب ہوتا ہے؟ نہیں، اور یہی اسے خاص بناتا ہے۔

نمائش میں پیش کیے جانے والے جدید آرائشی کپڑے، دیوار پر لٹکانے والے پارچے اور لوازمات یہ ثابت کرتے ہیں کہ الصدو آج کے گھروں اور بازاروں میں بھی اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ روایت اور جدیدیت کا یہ امتزاج کاریگر کی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔ کیا پرانا فن نیا گاہک نہیں ڈھونڈ سکتا؟ بالکل ڈھونڈ سکتا ہے۔

چھیالیس خواتین کی تربیت ایک قابلِ ذکر کوشش ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشینی پیداوار نے ہاتھ کے کام کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ہاتھ سے بُنا ہوا ہر ٹکڑا منفرد ہوتا ہے، اس میں وقت، محنت اور جذبات شامل ہوتے ہیں۔ کیا مشین وہ باریکیاں پیدا کر سکتی ہے جو انسانی ہاتھ پیدا کرتا ہے؟ شاید نہیں۔

ثقافتی پویلین کا مقصد مستند سعودی دستکاری کو نمایاں کرنا اور ورثے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کاریگروں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ یہ پویلین زائرین کو مملکت کی ثقافتی گہرائی سے روشناس کراتا ہے۔ کیا ایسی نمائشیں صرف سیاحوں کے لیے ہوتی ہیں، یا مقامی نسل کے لیے بھی؟ دونوں کے لیے، اور یہی ان کی خوبصورتی ہے۔

الصدو کی تکنیک میں کاتنا، رنگنا اور ہاتھ سے بُننا شامل ہے۔ ہر مرحلہ الگ مہارت مانگتا ہے۔ رنگنے میں قدرتی اور روایتی رنگ استعمال ہوتے رہے ہیں، اور بُنائی میں ہندسی توازن کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کیا یہ سادہ عمل لگتا ہے؟ درحقیقت یہ برسوں کی مشق کا نتیجہ ہے۔

لہدہ العنزی کی چھ دہائیوں پر محیط مہارت اور چھیالیس خواتین کی تربیت، دونوں مل کر ایک واضح پیغام دیتے ہیں: ورثہ خود بخود زندہ نہیں رہتا، اسے زندہ رکھنا پڑتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی تربیت یافتہ خواتین میں سے کتنی اب خود کاریگر بن چکی ہیں، نہ ہی نمائش میں ان کے کام کی قیمتوں یا فروخت کا کوئی ذکر ہے۔

بین الاقوامی سعودی شاہین اور شکار نمائش کا انعقاد ریاض میں ہو رہا ہے، اور ثقافتی پویلین اس کا ایک اہم حصہ ہے۔ شاہین اور شکار کی روایت بذات خود سعودی ثقافت کا ستون ہے، اور اس کے ساتھ الصدو جیسے فن کا ہونا ثقافتی تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا ایک نمائش میں ماضی اور حال دونوں کی جھلک مل سکتی ہے؟ یہاں ملتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، لہدہ العنزی نے الصدو کے صحرائی بدوی زندگی سے گہرے تاریخی تعلق پر روشنی ڈالی۔ یہ تعلق صرف جذباتی نہیں، عملی بھی ہے، کیونکہ یہ فن صحرا کی ضروریات سے پیدا ہوا۔ جب ضرورت ختم ہوتی ہے تو فن بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ کیا اسے نئی ضرورت سے جوڑنا ضروری نہیں؟ یہی تربیت اور نمائش کا مقصد ہے۔

ان کے کاموں میں روایتی خیمے کے ٹیپسٹری سے لے کر جدید لوازمات تک کا سفر ایک مکمل داستان ہے۔ یہ داستان بتاتی ہے کہ ایک فن کیسے اپنے وقت کے ساتھ چلتا ہے۔ ایس پی اے نے ان کے کاموں کی تعداد، نمائش کی مدت، یا زائرین کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سعودی عرب میں دستکاری کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں، اور ایسے کاریگر ان کوششوں کا چہرہ ہیں۔ لہدہ العنزی کا نمائش میں زندہ مظاہرہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ورثہ صرف کتابوں میں نہیں، ہاتھوں میں زندہ رہتا ہے۔ کیا ہاتھ سے سیکھا ہوا سبق کتاب سے سیکھے سبق سے زیادہ گہرا ہوتا ہے؟ تجربہ یہی کہتا ہے۔

آخر میں، یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ الصدو جیسے فنون کی بقا کا انحصار ایسے افراد پر ہے جو اسے سیکھیں، سکھائیں اور دکھائیں۔ لہدہ العنزی نے تینوں کام کیے۔ ان کی چھ دہائیوں کی مہارت، چھیالیس خواتین کی تربیت، اور نمائش میں زندہ مظاہرہ، سب ایک ہی مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ نمائش کب تک جاری رہے گی یا ان کے سیشنز کا کوئی مقررہ شیڈول کیا ہے۔

الصدو بُنائی کی تکنیک میں کیا شامل ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، الصدو کی تکنیک اون کو کاتنے، رنگنے اور روایتی کھڈیوں پر ہاتھ سے بُننے پر مشتمل ہے۔ اس سے پیچیدہ ہندسی نقش بنتے ہیں جو صحرائی رہائش گاہوں، گھریلو فرنیچر اور اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سامان میں استعمال ہوتے ہیں۔ لہدہ العنزی نے یہ فن تیرہ برس کی عمر میں سیکھنا شروع کیا اور آج چھ دہائیوں سے زائد کا تجربہ رکھتی ہیں۔

لہدہ العنزی نے کتنی خواتین کو تربیت دی ہے؟ رپورٹ کے مطابق، لہدہ العنزی نے چھیالیس خواتین کو مستند بُنائی کے طریقے سکھائے ہیں، جس سے روایتی متنی مہارتوں کی نسل در نسل منتقلی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ وہ اپنی برادری میں «ام الصدو» کے نام سے جانی جاتی ہیں اور اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ایس پی اے نے تربیت یافتہ خواتین کی مزید تفصیلات یا ان کے موجودہ کام کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں۔

نمائش میں ان کے کاموں میں کیا شامل ہے؟ ان کے نمائش کردہ کاموں میں روایتی خیمے کے ٹیپسٹری اور زین کے تھیلوں سے لے کر جدید آرائشی کپڑوں، دیوار پر لٹکانے والے پارچوں اور لوازمات تک شامل ہیں۔ یہ رینج روایتی اور جدید دونوں پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے زندہ بُنائی کے سیشن نمائش کے ثقافتی پویلین کا حصہ ہیں، جو مستند سعودی دستکاری کو نمایاں کرتا ہے اور ورثے کے تحفظ کے لیے وقف کاریگروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

یہ نمائش کہاں اور کیسی ہے؟ یہ بین الاقوامی سعودی شاہین اور شکار نمائش ہے، جس کا انعقاد ریاض میں ہو رہا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس کا ثقافتی پویلین مستند سعودی دستکاری کو نمایاں کرتا ہے اور قومی ورثے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کاریگروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ رپورٹ میں نمائش کے دورانیے، زائرین کی تعداد یا سیشنز کے شیڈول کا ذکر نہیں کیا گیا۔

الصدو کا بدوی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ لہدہ العنزی نے الصدو کے صحرائی بدوی زندگی سے گہرے تاریخی تعلق کو اجاگر کیا۔ یہ فن صحرائی رہائش گاہوں، گھریلو فرنیچر اور اونٹوں اور گھوڑوں کے ساز و سامان کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس لیے یہ روزمرہ ضرورت سے جڑا ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مملکت کے سب سے پائیدار غیر محسوس ورثے میں سے ایک ہے، اور اس کی بقا تربیت اور زندہ مظاہروں پر منحصر ہے۔

کیا رپورٹ میں مزید تفصیلات دی گئی ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں لہدہ العنزی کے کاموں کی تعداد، نمائش کی مدت، زائرین کی تعداد، یا تربیت یافتہ خواتین میں سے کتنی اب خود کاریگر بن چکی ہیں، جیسی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح نمائش میں ان کے کام کی قیمتوں یا فروخت کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ ان کے زندہ بُنائی کے سیشن ثقافتی پویلین کا حصہ ہیں۔