سعودی عرب نے جاپان کے شہر کیوٹو میں منعقدہ گلوبل سمٹ آف ریسرچ انسٹیٹیوٹ لیڈرز میں شرکت کی، جو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اِن سوسائٹی (STS) فورم کے موقع پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں دنیا بھر کے 33 تحقیقی اداروں کے سربراہان اکٹھے ہوئے تاکہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر بات کی جا سکے جو سائنسی تحقیقی ماحولیاتی نظام اور علم کی پیداوار کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، مملکت کی نمائندگی شاہ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KACST) کے صدر اور ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن اتھارٹی کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر منیر الدسوقی نے کی، جنہوں نے STS فورم کونسل میں شمولیت اختیار کی۔ یہ قدم بین الاقوامی سائنسی اور تکنیکی پلیٹ فارمز پر مملکت کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے اور تحقیق، جدت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مستقبل سے متعلق مباحثوں میں اس کی شرکت کو مضبوط کرتا ہے۔
کیا یہ حقیقت کہ ایک سعودی عہدیدار نے 33 ممالک کے تحقیقی اداروں کے سربراہان کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ کر AI کے مستقبل پر بات کی، اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی کہ عالمی سائنسی منظرنامے میں مملکت کا کردار کس حد تک بدل رہا ہے؟ اور کیا یہ تبدیلی صرف نمائندگی تک محدود ہے یا اس کے پیچھے کوئی ٹھوس علمی اور تحقیقی حکمت عملی کارفرما ہے؟
اجلاس کا موضوع «AI Integrity and Openness» یعنی مصنوعی ذہانت کی سالمیت اور کھلا پن تھا۔ اس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت دریافت اور سائنسی تحقیق کو تیز کرنے کے لیے کیا مواقع فراہم کرتی ہے، اور ساتھ ہی ان چیلنجوں پر بھی بات ہوئی جو علم کی اعتبار، کمپیوٹنگ صلاحیتوں اور جدید بنیادی ڈھانچے تک رسائی، ڈیٹا کی خودمختاری، ماڈلز کے کھلے پن، اور محققین کی فکری شراکت کے تحفظ سے جڑے ہیں۔
کیا علم کی اعتبار کو برقرار رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی رفتار کو بروئے کار لانا ممکن ہے، جب کہ ہر نیا ماڈل پہلے سے زیادہ ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے؟ اور جب کمپیوٹنگ صلاحیتیں چند اداروں کے پاس مرکوز ہوں تو کیا تحقیق کا عالمی منظرنامہ متوازن رہ سکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر کیوٹو میں جمع تحقیقی اداروں کے سربراہان نے غور کیا۔
تحقیقی اداروں کے سربراہان نے اپنا اجلاس ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اختتام پذیر کیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسا سائنسی ماحولیاتی نظام تیار کرنا ضروری ہے جو مصنوعی ذہانت کی جدید صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے، مگر ساتھ ہی تحقیقی سالمیت اور کھلے پن کو برقرار رکھے، اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنایا جائے تاکہ جدید سائنسی اوزاروں اور صلاحیتوں تک زیادہ وسیع اور منصفانہ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں ڈیٹا کی خودمختاری اور AI ماڈلز کے کھلے پن کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ سائنسی تحقیق میں ڈیٹا اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کیا یہ توازن تلاش کرنا آسان ہے جب ہر ملک اپنے ڈیٹا کی حفاظت کو قومی ترجیح سمجھتا ہے، اور ساتھ ہی کھلے ماڈلز کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے؟
بیان میں جدید سائنسی اوزاروں اور صلاحیتوں تک رسائی کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقی اوزار تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، مگر ان تک رسائی ہر ادارے یا ہر ملک کے لیے یکساں نہیں ہے۔ کیا عالمی تحقیقی برادری اس فرق کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر سکتی ہے، یا یہ خلا مزید گہرا ہوتا جائے گا؟
ڈاکٹر منیر الدسوقی کی STS فورم کونسل میں شمولیت کو ایس پی اے نے مملکت کی بین الاقوامی سائنسی اور تکنیکی پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی موجودگی اور تحقیق، جدت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مستقبل سے متعلق مباحثوں میں شرکت کو مضبوط بنانے کے طور پر بیان کیا۔ یہ فورم سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات کے موضوع پر ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے سائنسی رہنما ایک ساتھ آتے ہیں۔
کیا سعودی عرب کی اس شرکت کو صرف ایک علامتی اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، یا یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت مصنوعی ذہانت کے عالمی ضوابط اور تحقیقی معیارات کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے کی خواہاں ہے؟ اور کیا 33 اداروں کے مشترکہ بیان کے بعد کوئی عملی فریم ورک بھی سامنے آئے گا؟
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت سائنسی دریافت کو کس طرح تیز کر سکتی ہے۔ تحقیقی اداروں کے سربراہان نے اس امر پر اتفاق کیا کہ AI کی جدید صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے، لیکن یہ فائدہ اٹھانا تحقیقی سالمیت اور کھلے پن کی قربانی کے بغیر ہونا چاہیے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ ایک ساتھ چلنے چاہئیں۔
کیا مصنوعی ذہانت کے دور میں تحقیقی سالمیت کا تصور بدل رہا ہے؟ جب ماڈلز خود تحقیقی مواد تیار کر سکتے ہیں، تو محققین کی فکری شراکت کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟ یہ سوال اجلاس کے مرکزی موضوعات میں شامل تھا، اور اس پر عالمی سطح پر مزید غور کی ضرورت ہے۔
مشترکہ بیان میں محققین کی فکری شراکت کے تحفظ کو بھی نمایاں کیا گیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تحقیقی ادارے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران انسانی محققین کے کردار اور ان کی فکری ملکیت کو کیسے محفوظ رکھا جائے، اس پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
کیا یہ ممکن ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کی گئی تحقیق کو اس طرح ریکارڈ کیا جائے کہ انسانی شراکت کا احترام بھی برقرار رہے اور علم کی ترقی کی رفتار بھی سست نہ ہو؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا آسان نہیں، مگر تحقیقی اداروں کے سربراہان نے اسے اپنے مشترکہ بیان کا حصہ بنا کر اس کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں 33 تحقیقی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ یہ تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے موضوع پر عالمی سطح پر کتنا وسیع اتفاق رائے موجود ہے، اور کس طرح مختلف ممالک کے سائنسی ادارے ایک مشترکہ فریم ورک کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔
کیا 33 اداروں کا مشترکہ بیان بین الاقوامی سطح پر پالیسی سازوں کے لیے کوئی رہنما اصول فراہم کرے گا، یا یہ صرف ایک اعلامیہ رہے گا جس پر عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات درکار ہوں گے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی سائنسی بیانات اکثر اپنے اثرات کے حوالے سے جانچے جاتے ہیں۔
سعودی عرب کی شرکت اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ مملکت نے حالیہ برسوں میں تحقیق اور جدت کے شعبے میں اپنی موجودگی کو نمایاں کیا ہے۔ ڈاکٹر منیر الدسوقی کی قیادت میں KACST اور ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن اتھارٹی کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب سائنسی تحقیق کے عالمی مباحثوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
کیا مملکت کی یہ شرکت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آئندہ برسوں میں سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید بین الاقوامی تعاون کی راہیں تلاش کرے گا؟ اور کیا اس سے ملکی تحقیقی اداروں کو عالمی سطح پر مزید مواقع فراہم ہوں گے؟ یہ سوالات اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جب AI کے ضوابط پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
اجلاس کا انعقاد جاپان کے شہر کیوٹو میں STS فورم کے موقع پر ہوا، جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات کے موضوع پر ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے۔ اس فورم کے ساتھ ساتھ تحقیقی اداروں کے سربراہان کا اجلاس منعقد ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سائنسی برادری AI کے موضوع کو کس قدر سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے انعقاد کی تاریخ 5 اکتوبر 2026 بتائی گئی ہے، جب کہ اس میں مزید تفصیلات جیسے کہ کسی مخصوص معاہدے، فنڈنگ کے وعدے یا عملی اقدامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مشترکہ بیان کے بعد کوئی فالو اپ میکانزم تشکیل دیا جائے گا یا نہیں۔
کیا مشترکہ بیان کے بعد تحقیقی ادارے اپنے اپنے ممالک میں AI کے استعمال کے حوالے سے پالیسیوں میں تبدیلی لائیں گے؟ اور کیا اس بیان کو اقوام متحدہ یا دیگر عالمی اداروں کی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا؟ یہ وہ پہلو ہیں جن پر رپورٹ خاموش ہے، اور جن کا جواب وقت ہی دے گا۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں ڈیٹا کی خودمختاری کا سوال خاص طور پر اہم ہے۔ جب تحقیقی ادارے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہوں، تو ڈیٹا کی ملکیت اور اس تک رسائی کے قواعد پر اتفاق کرنا آسان نہیں۔ مشترکہ بیان میں اس توازن کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا، مگر اسے حاصل کرنے کا طریقہ کار واضح نہیں کیا گیا۔
کیا ڈیٹا کی خودمختاری اور ماڈلز کے کھلے پن کے درمیان توازن کا کوئی عالمی معیار قائم ہو سکتا ہے، یا ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق الگ راستہ اختیار کرے گا؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ سائنسی تحقیق میں ڈیٹا اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، اور اس انحصار کے ساتھ انحصار کی سیاست بھی جنم لے رہی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت کو ایس پی اے نے مملکت کی بین الاقوامی سائنسی پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی موجودگی سے جوڑا ہے۔ یہ ایک ایسا بیان ہے جو مملکت کی علمی سفارت کاری کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بین الاقوامی فورموں میں فعال شرکت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
کیا اس قسم کی شرکت سے سعودی محققین کو عالمی تحقیقی نیٹ ورکس تک زیادہ رسائی حاصل ہوگی؟ اور کیا اس سے مملکت میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں کے نئے دروازے کھلیں گے؟ یہ امکانات اس وقت مزید روشن نظر آتے ہیں جب مملکت تحقیق اور جدت کو اپنی ترقیاتی ترجیحات میں شامل کر رہی ہے۔
اجلاس کے موضوعات میں کمپیوٹنگ صلاحیتوں اور جدید بنیادی ڈھانچے تک رسائی بھی شامل تھی۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تحقیق صرف الگورتھم اور ماڈلز کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے لیے طاقتور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے، جو ہر ادارے کے پاس دستیاب نہیں۔
کیا کمپیوٹنگ صلاحیتوں تک رسائی میں عدم مساوات عالمی تحقیقی تعاون کو کمزور کر سکتی ہے؟ اور کیا امیر اور غریب ممالک کے تحقیقی اداروں کے درمیان یہ خلا مصنوعی ذہانت کے دور میں مزید گہرا ہو جائے گا؟ مشترکہ بیان میں اس خلا کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، مگر اس کے لیے کوئی مخصوص اقدام تجویز نہیں کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تاکہ جدید سائنسی اوزاروں اور صلاحیتوں تک زیادہ وسیع اور منصفانہ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ایک ایسا عزم ہے جو اپنے آپ میں مثبت ہے، مگر اس کی عملی تعبیر کے لیے ٹھوس میکانزم درکار ہوں گے۔
کیا 33 تحقیقی اداروں کے سربراہان کا یہ مشترکہ بیان ایک ایسے عالمی فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے جس کے تحت AI کے تحقیقی استعمال کے لیے مشترکہ اصول وضع کیے جائیں؟ اور کیا اس فریم ورک میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو بھی مناسب نمائندگی ملے گی؟ یہ سوالات اس وقت مزید اہم ہو جاتے ہیں جب عالمی سطح پر AI کے ضوابط پر بحث عروج پر ہے۔
سعودی عرب کی شرکت اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ مملکت نے حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو نمایاں کیا ہے۔ ڈاکٹر منیر الدسوقی کی قیادت میں KACST کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت کی سائنسی قیادت عالمی مباحثوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے دوران ہونے والی تفصیلی گفتگو، کسی مخصوص ملک یا ادارے کے موقف، یا آئندہ کے لیے طے شدہ اقدامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف مشترکہ بیان کے عمومی نکات بیان کیے گئے ہیں، جن میں سالمیت، کھلا پن، ڈیٹا کی خودمختاری، کمپیوٹنگ تک رسائی اور فکری شراکت کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
کیا اس اجلاس کے نتائج کی کوئی تفصیلی رپورٹ یا دستاویز عوامی سطح پر دستیاب ہوگی؟ اور کیا اس سے یہ اندازہ لگانا ممکن ہوگا کہ مختلف اداروں کے درمیان کس حد تک اتفاق رائے پایا جاتا ہے؟ یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ عالمی سائنسی بیانات کی تاثیر کا انحصار اکثر ان کی شفافیت اور عمل درآمد پر ہوتا ہے۔
بہرحال، کیوٹو میں 33 تحقیقی اداروں کے سربراہان کا یہ اجلاس اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں سائنسی تحقیق کے اصولوں پر عالمی سطح پر غور و فکر جاری ہے، اور سعودی عرب اس غور و فکر کا حصہ ہے۔ مملکت کی نمائندگی اور STS فورم کونسل میں شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب اس عالمی مکالمے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
کیوٹو میں ہونے والے اجلاس میں کون کون شریک ہوا؟ جاپان کے شہر کیوٹو میں STS فورم کے موقع پر گلوبل سمٹ آف ریسرچ انسٹیٹیوٹ لیڈرز منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر کے 33 تحقیقی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ سعودی عرب کی نمائندگی KACST کے صدر اور ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن اتھارٹی کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر منیر الدسوقی نے کی، جنہوں نے STS فورم کونسل میں شمولیت اختیار کی۔ ایس پی اے نے یہ تفصیلات 5 اکتوبر 2026 کو بتائیں۔
اجلاس کا مرکزی موضوع کیا تھا؟ اجلاس کا موضوع «AI Integrity and Openness» یعنی مصنوعی ذہانت کی سالمیت اور کھلا پن تھا۔ اس میں AI کے سائنسی تحقیق کو تیز کرنے کے مواقع اور علم کی اعتبار، کمپیوٹنگ صلاحیتوں تک رسائی، ڈیٹا کی خودمختاری، ماڈلز کے کھلے پن اور محققین کی فکری شراکت کے تحفظ جیسے چیلنجوں پر بات ہوئی۔ شرکا نے ان موضوعات پر مشترکہ بیان جاری کیا۔
مشترکہ بیان میں کیا نکات شامل تھے؟ مشترکہ بیان میں ایسے سائنسی ماحولیاتی نظام کی اہمیت پر زور دیا گیا جو AI کی جدید صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے مگر تحقیقی سالمیت اور کھلے پن کو برقرار رکھے۔ اس میں ڈیٹا کی خودمختاری اور AI ماڈلز کے کھلے پن کے درمیان توازن قائم کرنے، بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے، اور جدید سائنسی اوزاروں تک وسیع و منصفانہ رسائی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
سعودی عرب کی شرکت کو کیسے دیکھا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق، سعودی عرب کی اس شرکت سے مملکت کی بین الاقوامی سائنسی اور تکنیکی پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی موجودگی ظاہر ہوتی ہے اور تحقیق، جدت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مستقبل سے متعلق مباحثوں میں اس کی شرکت مضبوط ہوتی ہے۔ ڈاکٹر منیر الدسوقی کی STS فورم کونسل میں شمولیت کو اس رجحان کا حصہ قرار دیا گیا۔
کیا اجلاس میں کوئی عملی اقدام طے پایا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں کوئی مخصوص معاہدہ، فنڈنگ کا وعدہ یا فالو اپ میکانزم طے پانے کا ذکر نہیں ہے۔ شرکا نے صرف ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اصولی نکات پر زور دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس بیان کو کسی بین الاقوامی ادارے کی سطح پر اٹھایا جائے گا یا نہیں۔