قصیم کے علاقے میں بریدہ سے ایک ایسا تجربہ سامنے آیا ہے جس میں کھجور کو آئس کریم کی شکل دی گئی ہے۔ یہ تجربہ ملک کی نمایاں زرعی پیداوار میں اضافی قدر پیدا کرنے والی کھجور پر مبنی غذائی صنعتوں کی نئی مصنوعات میں شامل ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، کھجور کی آئس کریم تیار کرنے کا عمل پروسیسنگ کے لیے موزوں معیار کی کھجوریں منتخب کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان کی چھانٹی، صفائی اور گٹھلی نکالی جاتی ہے تاکہ انہیں ہموار کھجور کے پیسٹ میں تبدیل کیا جا سکے، جو آئس کریم کے آمیزے کا حصہ بنتا ہے۔
کھجور کے پیسٹ سے آمیزے تک
کھجور کا پیسٹ آئس کریم کے بنیادی اجزاء کے ساتھ ایک ایسے فارمولے کے مطابق ملایا جاتا ہے جو مصنوعات کے ذائقے، ساخت اور مٹھاس کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط سے تیار کیا گیا ہے۔ کیا یہی وہ مرحلہ ہے جہاں کھجور کی قدرتی مٹھاس آئس کریم کے توازن کا تعین کرتی ہے؟
اس کے بعد آمیزے کو تیاری، پروسیسنگ، ٹھنڈک اور جمائی کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ آخر میں اس کی پیکنگ کی جاتی ہے اور مناسب منجمد حالات میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ کیا منجمد ذخیرے کے حالات ہی اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کھجور کا ذائقہ کتنی دیر تک برقرار رہے گا؟
رپورٹ کے مطابق یہ مصنوعات کیفے، ریستوران اور ہوٹلوں میں پیش کی جا سکتی ہیں اور خوردہ فروش مراکز کے ذریعے فروخت بھی کی جا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اعلیٰ درجے کی پیکنگ تیار کرنے کا امکان بھی موجود ہے جو مہمان نوازی، تحائف اور سیاحت کے شعبوں کو نشانہ بنائے گی۔ کیا تحائف اور سیاحت کے شعبے اس مصنوعات کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ منڈی ثابت ہوں گے؟
تجربہ کرنے والے محمد الصالحی نے بتایا کہ کھجوروں سے آئس کریم تیار کرنا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور اختراعی منصوبوں کے لیے ایک موقع ہے تاکہ سعودی شناخت رکھنے والی غذائی مصنوعات تیار کی جا سکیں۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مختلف سائز اور پیکنگ میں مصنوعات تیار کرنے کا امکان موجود ہے جو مختلف صارف طبقات کے لیے موزوں ہوں۔ کیا یہی لچک چھوٹے کاروباروں کو اس میدان میں آگے بڑھنے کا موقع دے سکتی ہے؟
الصالحی کے مطابق یہ مصنوعات کھجوروں اور زرعی پیداوار سے متعلق تقریبات اور میلانوں میں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ کیا ایسے میلے اس نئی مصنوعات کو عام صارفین تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں؟
یہ تجربہ کھجور پر مبنی غذائی صنعتوں کی اس رجحان کا حصہ ہے جن میں اس قومی زرعی پیداوار میں اضافی قدر پیدا کرنے والی نئی مصنوعات کی طرف توجہ دی جا رہی ہے۔ کیا کھجور کو روایتی کھانے سے آگے بڑھا کر نئی مصنوعات میں ڈھالنے کا یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا؟
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس تجربے کی پیداواری صلاحیت کتنی ہے، اس کی تجارتی دستیابی کب متوقع ہے، اس کی قیمت کیا ہوگی یا اسے کہاں تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کھجور کی کون سی اقسام اس مقصد کے لیے استعمال کی گئیں۔
کھجور کی آئس کریم کیسے تیار کی جاتی ہے؟ پہلے پروسیسنگ کے لیے موزوں معیار کی کھجوریں منتخب کی جاتی ہیں، پھر ان کی چھانٹی، صفائی اور گٹھلی نکالی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہیں ہموار پیسٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے جو آئس کریم کے آمیزے کا حصہ بنتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق پیسٹ کو بنیادی اجزاء کے ساتھ ایک ایسے فارمولے کے مطابق ملایا جاتا ہے جو ذائقے، ساخت اور مٹھاس کو مدنظر رکھتا ہے۔
آمیزے کو کون سے مراحل سے گزارا جاتا ہے؟ کھجور کے پیسٹ کو بنیادی اجزاء کے ساتھ ملانے کے بعد آمیزے کو تیاری، پروسیسنگ، ٹھنڈک اور جمائی کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے بعد پیکنگ کی جاتی ہے اور مناسب منجمد حالات میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان مراحل کی تفصیل دی گئی ہے لیکن ہر مرحلے کا دورانیہ یا درجہ حرارت نہیں بتایا گیا۔
یہ مصنوعات کہاں پیش اور فروخت کی جا سکتی ہیں؟ رپورٹ کے مطابق یہ مصنوعات کیفے، ریستوران اور ہوٹلوں میں پیش کی جا سکتی ہیں اور خوردہ فروش مراکز کے ذریعے فروخت بھی کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اعلیٰ درجے کی پیکنگ تیار کرنے کا امکان ہے جو مہمان نوازی، تحائف اور سیاحت کے شعبوں کو نشانہ بنائے گی۔ ایس پی اے نے فروخت کے حجم یا منڈی کے حصے کا کوئی عدد نہیں دیا۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے کیا موقع ہے؟ تجربہ کرنے والے محمد الصالحی نے بتایا کہ کھجوروں سے آئس کریم تیار کرنا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور اختراعی منصوبوں کے لیے ایک موقع ہے تاکہ سعودی شناخت رکھنے والی غذائی مصنوعات تیار کی جا سکیں۔ انہوں نے مختلف سائز اور پیکنگ میں مصنوعات تیار کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا جو مختلف صارف طبقات کے لیے موزوں ہوں۔
یہ مصنوعات کہاں پیش کی جا سکتی ہیں؟ الصالحی کے مطابق یہ مصنوعات کھجوروں اور زرعی پیداوار سے متعلق تقریبات اور میلانوں میں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سی خاص تقریبات یا میلے مراد ہیں اور نہ ہی یہ کہ اس تجربے کی پیداواری صلاحیت یا تجارتی دستیابی کب متوقع ہے۔