Thursday, October 29, 2026
سعودی خبریں

نائب وزیر صحت: وبائی نگرانی کے نظام متعدی امراض کے خلاف پہلی دفاعی صف

نائب وزیر صحت: وبائی نگرانی کے نظام متعدی امراض کے خلاف پہلی دفاعی صف

ریاض میں تعزیز سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر صحت برائے آبادی صحت ڈاکٹر عبداللہ عسیری نے کہا کہ وبائی نگرانی کے نظام اور ان کی چوبیس گھنٹے کام کرنے کی صلاحیت متعدی امراض کے خلاف پہلی دفاعی صف ہے۔ یہ کانفرنس کنگ سعود یونیورسٹی میں سعودی ایسوسی ایشن برائے صحت فروغ و تعلیم نے منعقد کی، جس میں صحت عامہ اور پالیسی کے ماہرین جمع ہوئے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 4 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، ڈاکٹر عبداللہ عسیری نے کانفرنس سے خطاب میں صحت عامہ کے کردار کو نمایاں کیا اور کہا کہ صحت عامہ وبا کے پھیلنے سے پہلے اپنا سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے، یعنی روک تھام، تیاری اور نئی بیماریوں یا ان کے انداز میں تبدیلی کی ابتدائی نشاندہی کے ذریعے۔

انہوں نے کہا کہ صحت عامہ صحت کی سلامتی کا ایک اہم ستون ہے، جبکہ صحت کی سہولیات میں حفاظتی ٹیکوں اور انفیکشن کنٹرول کے پروگرام روک تھام کے نظام کے سب سے اہم اجزاء میں شامل ہیں۔ کیا یہی وجہ ہے کہ وبائی نگرانی کو کسی بھی صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے؟

ڈاکٹر عسیری نے بحرانوں کے دوران رابطے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عوام کو متوازن معلومات فراہم کی جائیں جو احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی حوصلہ افزائی کریں اور گھبراہٹ سے بچنے میں مدد دیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدی امراض سرحدوں کو نہیں مانتے، اور ان سے نمٹنے کے لیے کیسز کی ابتدائی نشاندہی اور الگ تھلگ کرنا، رابطوں کا سراغ لگانا اور متاثرہ افراد کے لیے خطرے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کے تجربے کا جائزہ بھی پیش کیا، خاص طور پر مشرق وسطیٰ ریسپیریٹری سنڈروم (MERS) کے حوالے سے، جو 2012 میں پہلی بار سامنے آیا تھا، اور اس دوران نگرانی، اسکریننگ اور انفیکشن کنٹرول کے نظام کی ترقی کا ذکر کیا۔ کیا یہ تجربہ آج کی صحت عامہ کی پالیسیوں کی بنیاد نہیں بنتا؟

نائب وزیر صحت نے کہا کہ صحت عامہ کے لیے آئندہ کے اہم چیلنجز میں اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس اور ون ہیلتھ نقطہ نظر شامل ہیں، جو انسانوں، جانوروں اور ماحول کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششیں درکار ہیں۔

کانفرنس کا انعقاد کنگ سعود یونیورسٹی میں ہوا اور اس کا اہتمام سعودی ایسوسی ایشن برائے صحت فروغ و تعلیم نے کیا، جس کا مقصد صحت عامہ اور پالیسی کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا۔ کیا ایسی کانفرنسیں پالیسی سازوں اور ماہرین کے درمیان خلا کو پُر کرنے میں مدد دیتی ہیں؟

ڈاکٹر عسیری نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ وبائی نگرانی کے نظام کا مستقل اور چوبیس گھنٹے فعال رہنا ہی متعدی امراض کے خلاف مؤثر دفاع کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کا اصل امتحان وبا کے پھوٹنے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے ہوتا ہے، جب روک تھام اور تیاری کے ذریعے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ کیا ہم اپنے صحت کے نظاموں میں اس پیشگی تیاری کو کافی اہمیت دیتے ہیں؟

انہوں نے صحت کی سلامتی کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صحت عامہ اس کا ایک بنیادی ستون ہے، اور صحت کی سہولیات میں حفاظتی ٹیکوں اور انفیکشن کنٹرول کے پروگرام اس نظام کی مضبوطی کی علامت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بحران کے وقت عوام تک متوازن معلومات پہنچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ یہی معلومات احتیاطی تدابیر پر عمل اور گھبراہٹ سے بچاؤ کی ضمانت بنتی ہیں۔ کیا بحران کے دوران شفاف اور متوازن رابطہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے؟

MERS کے تجربے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عسیری نے کہا کہ 2012 میں اس بیماری کے ظہور کے بعد سے سعودی عرب نے نگرانی، اسکریننگ اور انفیکشن کنٹرول کے نظاموں کو بہتر بنایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ متعدی امراض کسی ملک کی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے، اس لیے کیسز کی ابتدائی نشاندہی، انہیں الگ تھلگ کرنا، رابطوں کا سراغ لگانا اور متاثرہ افراد کے خطرے کا جائزہ لینا عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیا یہ سبق عالمی صحت تعاون کی اہمیت کو مزید واضح نہیں کرتا؟

انہوں نے آئندہ کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس اور ون ہیلتھ نقطہ نظر کو نمایاں کیا، جو انسانوں، جانوروں اور ماحول کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ کیا ون ہیلتھ نقطہ نظر کے بغیر اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس پر قابو پانا ممکن ہے؟

تعزیز سالانہ کانفرنس کا انعقاد کنگ سعود یونیورسٹی میں سعودی ایسوسی ایشن برائے صحت فروغ و تعلیم کی جانب سے کیا گیا، جس میں صحت عامہ اور پالیسی کے ماہرین نے شرکت کی۔ یہ فورم صحت عامہ کے شعبے میں تجربات کے تبادلے اور آئندہ کی حکمت عملیوں پر غور و خوض کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کیا صحت عامہ کے چیلنجز کا مقابلہ صرف حکومتوں کے بجائے اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے؟

ڈاکٹر عسیری کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ وبائی نگرانی کے نظام، حفاظتی ٹیکے، انفیکشن کنٹرول اور بحران کے دوران مؤثر رابطہ سب مل کر صحت کی سلامتی کا نظام تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کا اصل کردار وبا سے پہلے کی تیاری میں ہے، اور یہی نقطہ ان کی تقریر میں بار بار نمایاں ہوا۔ کیا ہمارے صحت کے نظام اس پیشگی کردار کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی علاج کو؟

رپورٹ میں کانفرنس کے شرکاء کی تعداد، خطاب کی مکمل تفصیلات یا کسی مخصوص اقدام کے اعلان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں صرف ڈاکٹر عبداللہ عسیری کے بیان کردہ نکات اور کانفرنس کے انعقاد کی جگہ اور منتظمین کا تذکرہ موجود ہے، جبکہ کسی نئی پالیسی یا پروگرام کے اجرا کا اعلان شامل نہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ عسیری کون ہیں اور انہوں نے کیا کہا؟ ڈاکٹر عبداللہ عسیری نائب وزیر صحت برائے آبادی صحت ہیں۔ انہوں نے ریاض میں تعزیز سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وبائی نگرانی کے نظام اور ان کی چوبیس گھنٹے کام کرنے کی صلاحیت متعدی امراض کے خلاف پہلی دفاعی صف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت عامہ وبا کے پھیلنے سے پہلے روک تھام، تیاری اور ابتدائی نشاندہی کے ذریعے اپنا سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کانفرنس کا انعقاد کس نے اور کہاں کیا؟ کانفرنس کا انعقاد سعودی ایسوسی ایشن برائے صحت فروغ و تعلیم نے کنگ سعود یونیورسٹی میں کیا۔ اس میں صحت عامہ اور پالیسی کے ماہرین جمع ہوئے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ تعزیز سالانہ کانفرنس تھی، جس میں ڈاکٹر عبداللہ عسیری نے خطاب کیا اور صحت عامہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

MERS کے تجربے کا کیا ذکر ہوا؟ ڈاکٹر عسیری نے سعودی عرب کے تجربے کا جائزہ پیش کیا، خاص طور پر مشرق وسطیٰ ریسپیریٹری سنڈروم (MERS) کے حوالے سے، جو 2012 میں پہلی بار سامنے آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران نگرانی، اسکریننگ اور انفیکشن کنٹرول کے نظام تیار کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعدی امراض سرحدوں کو نہیں مانتے اور ان سے نمٹنے کے لیے ابتدائی نشاندہی، الگ تھلگ کرنا، رابطوں کا سراغ لگانا اور خطرے کا جائزہ ضروری ہے۔

آئندہ کے چیلنجز کون سے بتائے گئے؟ ڈاکٹر عسیری نے کہا کہ صحت عامہ کے لیے آئندہ کے اہم چیلنجز میں اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس اور ون ہیلتھ نقطہ نظر شامل ہیں، جو انسانوں، جانوروں اور ماحول کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششیں درکار ہیں۔

بحران کے دوران رابطے پر کیا کہا گیا؟ ڈاکٹر عسیری نے بحرانوں کے دوران رابطے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ عوام کو متوازن معلومات فراہم کی جائیں جو احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی حوصلہ افزائی کریں اور گھبراہٹ سے بچنے میں مدد دیں۔ انہوں نے صحت عامہ کو صحت کی سلامتی کا ایک اہم ستون قرار دیا اور کہا کہ صحت کی سہولیات میں حفاظتی ٹیکوں اور انفیکشن کنٹرول کے پروگرام روک تھام کے نظام کے اہم اجزاء ہیں۔

رپورٹ میں کیا تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے شرکاء کی تعداد، خطاب کی مکمل تفصیلات یا کسی مخصوص اقدام کے اعلان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف ڈاکٹر عبداللہ عسیری کے بیان کردہ نکات اور کانفرنس کے انعقاد کی جگہ اور منتظمین کا تذکرہ موجود ہے، جبکہ کسی نئی پالیسی یا پروگرام کے اجرا کا اعلان شامل نہیں۔