Friday, October 30, 2026
معیشت

جی سی سی نے صنعتی سرمایہ کاری کے پانچ مشترکہ مواقع منظور کر لیے

جی سی سی نے صنعتی سرمایہ کاری کے پانچ مشترکہ مواقع منظور کر لیے

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا ہے کہ جی سی سی نے صنعتی سرمایہ کاری کے پانچ مشترکہ مواقع کی منظوری دی ہے۔ یہ بات انہوں نے منامہ میں منعقدہ پہلے «مید ان جی سی سی 2026» فورم اور نمائش کے موقع پر کہی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ فورم منگل کے روز بحرین کے علاقے سکھیر میں ایگزیبیشن ورلڈ بحرین میں منعقد ہوا۔ اس کا انعقاد جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور بحرین کی وزارت صنعت و تجارت نے مشترکہ طور پر کیا۔ فورم کا موضوع «مزید مربوط، مسابقتی اور مستقبل کے لیے تیار خلیجی صنعتی معیشت کی طرف» تھا۔

البدیوی نے کہا کہ «مید ان جی سی سی 2026» جی سی سی ریاستوں کے رہنماؤں کے اس مشترکہ وژن کا مظہر ہے کہ صنعت خلیجی معیشت کو متنوع بنانے کا بنیادی ستون ہے، اور ہماری معیشتوں کی طاقت کا اندازہ صرف ان وسائل سے نہیں لگایا جاتا جو ہمارے پاس ہیں بلکہ اس سے بھی لگایا جاتا ہے جو ہم پیدا اور برآمد کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فورم ایک واضح پیغام رکھتا ہے کہ خلیجی مصنوعات کو رکن ممالک کے اندر اور عالمی منڈیوں میں صارفین اور سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ کیا خلیجی صنعت واقعی عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے؟ یہ سوال اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب خطے کی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار پر پرکھا جائے۔

سیکرٹری جنرل نے وضاحت کی کہ یہ وژن خلا میں پیدا نہیں ہوا؛ مشترکہ خلیجی صنعتی اقدام برسوں سے پالیسیوں اور قراردادوں کی مضبوط بنیاد پر کھڑا ہے۔ ان بنیادوں میں معیارات اور وضاحتوں کو یکجا کرنا، صنعتی اشیا اور مواد کی نقل و حرکت کو آسان بنانا، خلیجی مصنوعات کا تحفظ، منصفانہ مقابلے کو فروغ دینا اور سپلائی چین کے انضمام کی حمایت شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں آج جی سی سی ریاستوں میں 22,000 سے زیادہ فیکٹریاں موجود ہیں جہاں 1.7 ملین سے زیادہ کارکن کام کرتے ہیں، اور مینوفیکچرنگ جی سی سی کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 13 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار خطے کی صنعتی بنیاد کی حقیقی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں؟

البدیوی نے اسی تناظر میں نشاندہی کی کہ جی سی سی صنعتی تعاون کمیٹی اس سفر کے مرکز میں خلیجی صنعتی انضمام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کمیٹی کی کوششوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں صنعتی قانون سازی کو یکجا کرنا، جی سی سی صنعتی حکمت عملی 2022-2030 کو اپنانا، قومی مصنوعات کو بااختیار بنانا اور خلیجی صنعتوں کو اجتماعی تحفظ فراہم کرنا شامل ہیں۔

صنعتی سرمایہ کاری کے محاذ پر البدیوی نے نوٹ کیا کہ جی سی سی ریاستوں نے صنعتی سرمایہ کاری کے پانچ مشترکہ مواقع کی منظوری دی ہے۔ یہ منظوری اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کی صنعتی پالیسی اب مشترکہ فیصلوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کیا مشترکہ سرمایہ کاری کے یہ مواقع رکن ممالک کے درمیان صنعتی شراکت داری کو نئی شکل دیں گے؟

فورم کا انعقاد جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور بحرین کی وزارت صنعت و تجارت نے مشترکہ طور پر کیا، جو خود اس بات کی علامت ہے کہ خلیجی تعاون صرف اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بحرین کی میزبانی اس خطے میں صنعتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

البدیوی کے مطابق فورم کا پیغام یہ ہے کہ خلیجی مصنوعات کو صارفین اور سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح بننا چاہیے، چاہے وہ رکن ممالک کی منڈیاں ہوں یا عالمی منڈیاں۔ کیا خلیجی صارفین اپنی مقامی مصنوعات کو ترجیح دینے کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب درآمدی مصنوعات کی مسابقت کا جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ مشترکہ خلیجی صنعتی اقدام نے معیارات کو یکجا کرنے، صنعتی اشیا کی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور خلیجی مصنوعات کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔ ان پالیسیوں کا مقصد منصفانہ مقابلہ اور سپلائی چین کے انضمام کو فروغ دینا ہے۔ کیا یہ پالیسیاں خطے کے اندر تجارت کے حجم کو بڑھانے میں کامیاب ہوئی ہیں؟

جی سی سی صنعتی تعاون کمیٹی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے البدیوی نے کہا کہ کمیٹی نے صنعتی قانون سازی کو یکجا کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ جی سی سی صنعتی حکمت عملی 2022-2030 اس سفر کا ایک اہم ستون ہے جو خطے کی صنعت کو ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

قومی مصنوعات کو بااختیار بنانے اور خلیجی صنعتوں کو اجتماعی تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ رکن ممالک اپنی صنعتوں کو بیرونی مسابقت کے مقابلے میں مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ کیا اجتماعی تحفظ سے خلیجی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا؟

22,000 سے زیادہ فیکٹریوں اور 1.7 ملین سے زیادہ کارکنوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خلیجی صنعتی شعبہ ایک بڑی افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ مینوفیکچرنگ کا جی ڈی پی میں 13 فیصد حصہ اس شعبے کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہ حصہ آنے والے سالوں میں مزید بڑھے گا؟

فورم کا موضوع «مزید مربوط، مسابقتی اور مستقبل کے لیے تیار خلیجی صنعتی معیشت کی طرف» اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کی توجہ انضمام، مسابقت اور مستقبل کی تیاری پر مرکوز ہے۔ یہ تینوں عناصر صنعتی پالیسی کے بنیادی ستون معلوم ہوتے ہیں۔

البدیوی نے کہا کہ خطے کی معیشتوں کی طاقت کا اندازہ صرف وسائل سے نہیں بلکہ پیداوار اور برآمدات سے بھی لگایا جاتا ہے۔ یہ نقطہ نظر وسائل پر انحصار کم کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیا خلیجی معیشتیں تیل پر انحصار سے مکمل طور پر نکل سکیں گی؟

انہوں نے کہا کہ مشترکہ خلیجی صنعتی اقدام برسوں کی پالیسیوں اور قراردادوں پر کھڑا ہے، جس میں معیارات کو یکجا کرنا اور صنعتی اشیا کی نقل و حرکت کو آسان بنانا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینا ہے۔

صنعتی سرمایہ کاری کے پانچ مشترکہ مواقع کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ جی سی سی صنعتی تعاون کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ مواقع کن شعبوں سے متعلق ہیں، اس بارے میں رپورٹ میں تفصیل نہیں دی گئی۔

فورم کے انعقاد میں بحرین کی وزارت صنعت و تجارت کی شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ رکن ممالک صنعتی تعاون کو دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ کیا اس طرح کے فورم خطے میں صنعتی شراکت داری کے نئے دروازے کھولیں گے؟

البدیوی کے مطابق خلیجی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں بھی پہلی ترجیح بننا چاہیے۔ یہ ہدف اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب معیار اور مسابقت کی سطح بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ہو۔

جی سی سی صنعتی حکمت عملی 2022-2030 کو اپنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے نے صنعتی ترقی کے لیے ایک طویل مدتی فریم ورک تیار کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت قومی مصنوعات کو بااختیار بنانے اور صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جی سی سی ریاستوں میں 22,000 سے زیادہ فیکٹریاں ہیں جن میں 1.7 ملین سے زیادہ کارکن کام کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خطے کی صنعتی بنیاد کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

مینوفیکچرنگ کا جی سی سی کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 13 فیصد حصہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صنعت خطے کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کیا یہ حصہ صنعتی سرمایہ کاری کے نئے مواقع کے ساتھ بڑھے گا؟

البدیوی نے کہا کہ فورم کا پیغام یہ ہے کہ خلیجی مصنوعات کو صارفین اور سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ یہ پیغام رکن ممالک اور عالمی منڈیوں دونوں کے لیے ہے۔

مشترکہ خلیجی صنعتی اقدام کی بنیاد میں معیارات کو یکجا کرنا، صنعتی اشیا کی نقل و حرکت کو آسان بنانا، خلیجی مصنوعات کا تحفظ، منصفانہ مقابلے کو فروغ دینا اور سپلائی چین کے انضمام کی حمایت شامل ہے۔ یہ پانچ عناصر صنعتی تعاون کی بنیاد معلوم ہوتے ہیں۔

جی سی سی صنعتی تعاون کمیٹی کی کوششوں میں صنعتی قانون سازی کو یکجا کرنا اور جی سی سی صنعتی حکمت عملی 2022-2030 کو اپنانا شامل ہے۔ کمیٹی قومی مصنوعات کو بااختیار بنانے اور خلیجی صنعتوں کو اجتماعی تحفظ فراہم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔

فورم کا انعقاد منگل کے روز سکھیر میں ایگزیبیشن ورلڈ بحرین میں ہوا۔ اس کا موضوع «مزید مربوط، مسابقتی اور مستقبل کے لیے تیار خلیجی صنعتی معیشت کی طرف» تھا۔

رپورٹ میں صنعتی سرمایہ کاری کے پانچ مشترکہ مواقع کی تفصیلات، ان کے شعبے یا سرمایہ کاری کی رقم کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح فورم میں شرکت کرنے والے دیگر شرکاء یا آنے والے اقدامات کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔

جی سی سی نے صنعتی سرمایہ کاری کے کتنے مشترکہ مواقع منظور کیے ہیں؟ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے بتایا کہ صنعتی سرمایہ کاری کے پانچ مشترکہ مواقع کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے منامہ میں پہلے «مید ان جی سی سی 2026» فورم اور نمائش کے موقع پر کہی۔ فورم کا انعقاد جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور بحرین کی وزارت صنعت و تجارت نے مشترکہ طور پر کیا۔ رپورٹ میں ان مواقع کی تفصیلات یا شعبوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جی سی سی ریاستوں میں کتنی فیکٹریاں اور کارکن موجود ہیں؟ البدیوی کے مطابق جی سی سی ریاستوں میں 22,000 سے زیادہ فیکٹریاں موجود ہیں جہاں 1.7 ملین سے زیادہ کارکن کام کرتے ہیں۔ مینوفیکچرنگ جی سی سی کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 13 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔ یہ اعداد و شمار خطے کی صنعتی بنیاد کی وسعت اور روزگار میں اس کے کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔

جی سی سی صنعتی تعاون کمیٹی کا کیا کردار ہے؟ البدیوی نے کہا کہ جی سی سی صنعتی تعاون کمیٹی خلیجی صنعتی انضمام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کمیٹی کی کوششوں میں صنعتی قانون سازی کو یکجا کرنا، جی سی سی صنعتی حکمت عملی 2022-2030 کو اپنانا، قومی مصنوعات کو بااختیار بنانا اور خلیجی صنعتوں کو اجتماعی تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔

فورم کا موضوع اور مقام کیا تھا؟ فورم منگل کے روز بحرین کے علاقے سکھیر میں ایگزیبیشن ورلڈ بحرین میں منعقد ہوا۔ اس کا موضوع «مزید مربوط، مسابقتی اور مستقبل کے لیے تیار خلیجی صنعتی معیشت کی طرف» تھا۔ اس کا انعقاد جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور بحرین کی وزارت صنعت و تجارت نے مشترکہ طور پر کیا۔

البدیوی نے خلیجی مصنوعات کے بارے میں کیا کہا؟ البدیوی نے کہا کہ فورم ایک واضح پیغام رکھتا ہے کہ خلیجی مصنوعات کو رکن ممالک اور عالمی منڈیوں میں صارفین اور سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معیشتوں کی طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ پیداوار اور برآمدات سے بھی ناپی جاتی ہے۔

مشترکہ خلیجی صنعتی اقدام کی بنیاد کیا ہے؟ البدیوی کے مطابق مشترکہ خلیجی صنعتی اقدام برسوں کی پالیسیوں اور قراردادوں پر کھڑا ہے۔ ان میں معیارات اور وضاحتوں کو یکجا کرنا، صنعتی اشیا اور مواد کی نقل و حرکت کو آسان بنانا، خلیجی مصنوعات کا تحفظ، منصفانہ مقابلے کو فروغ دینا اور سپلائی چین کے انضمام کی حمایت شامل ہے۔