Friday, October 30, 2026
معیشت

اسلامی ترقیاتی بینک کے چیئرمین کی برونائی کے مذہبی امور کے وزیر سے ملاقات

اسلامی ترقیاتی بینک کے چیئرمین کی برونائی کے مذہبی امور کے وزیر سے ملاقات

اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد الجاسر نے برونائی دارالسلام کے دارالحکومت بندر سری بیگوان میں برونائی کے وزیر برائے مذہبی امور محمد تشیم بن پینگیران حاجی حسن سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات نئے شروع کیے گئے کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کے تحت پائیدار اسلامی مالیات پر گفتگو کے لیے ہوئی، جسے اس فریم ورک کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ ملاقات 6 اکتوبر 2026 کو بندر سری بیگوان میں ہوئی۔ ایس پی اے کے مطابق ملاقات میں برونائی دارالسلام میں وقف کی ترقی کو آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا، جس کا مرکز قانون سازی اور گورننس کے فریم ورک کو مضبوط بنانا اور وقف اثاثوں کے پیداواری استعمال کو بہتر بنانا تھا۔

کیا اسلامی مالیات کے بین الاقوامی ادارے اور ایک چھوٹی سی مسلم ریاست کے مذہبی امور کی وزارت کے درمیان یہ ملاقات محض ایک رسمی ملاقات ہے، یا اس کے پیچھے کوئی بڑا مالیاتی ڈھانچہ کام کر رہا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے پائیدار اسلامی مالیات کو نئے کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کا اہم ستون قرار دیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ ملاقات کسی ایک منصوبے تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل المدتی تعاون کی بنیاد ہے۔

وقف اثاثوں کی پیداواری صلاحیت پر توجہ

رپورٹ کے مطابق گفتگو کا ایک بڑا حصہ وقف اثاثوں کے پیداواری استعمال پر مرکوز رہا۔ برونائی دارالسلام میں وقف ایک طویل روایت رکھتا ہے، اور اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان اثاثوں کو صرف محفوظ رکھنے کے بجائے معاشی طور پر فعال بنایا جائے۔ اس کے لیے قانون سازی اور گورننس کے فریم ورک کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

کیا وقف اثاثوں کو پیداواری بنانے کا مطلب ان کے مذہبی مقصد سے دوری ہے، یا یہ اصل میں وقف کے مقصد کو مزید مؤثر بنانے کا راستہ ہے؟ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے وقف کے قانونی اور گورننس ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقصد وقف کی حفاظت اور اس کی افادیت میں اضافہ، دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔

ملاقات میں صکوک اور وقف پراپرٹیز انویسٹمنٹ فنڈ (Awqaf Properties Investment Fund) کے ذریعے پائیدار وقف ترقی کی حمایت اور ان اثاثوں کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ دونوں مالیاتی اوزار اسلامی دنیا میں وقف کے شعبے کو منظم اور سرمایہ کاری کے قابل بنانے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

کیا صکوک جیسے اسلامی مالیاتی آلات وقف کے روایتی ڈھانچے کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہو سکتے ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں صکوک اور وقف پراپرٹیز انویسٹمنٹ فنڈ کا ذکر خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق ان آلات کو وقف کی ترقی کے لیے قابل عمل ذریعہ سمجھتے ہیں، اور اس پر مزید کام کی گنجائش موجود ہے۔

اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کا صدر دفتر جدہ، سعودی عرب میں ہے، اور یہ ملاقات برونائی دارالسلام کے دارالحکومت بندر سری بیگوان میں ہوئی۔ ایس پی اے کے مطابق ملاقات کا وقت 6 اکتوبر 2026 تھا، اور اس کی اطلاع 17:06 مقامی وقت یعنی 14:06 گرین وچ مین ٹائم پر جاری کی گئی۔

کیا جدہ میں قائم اسلامی ترقیاتی بینک کا برونائی جیسے ملک کے ساتھ یہ تعاون باقی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لیے بھی نمونہ بن سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس سوال کا براہ راست جواب موجود نہیں، لیکن کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کا نام خود بتاتا ہے کہ یہ طریقہ کار کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ ہر ملک کے ساتھ الگ فریم ورک کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔

برونائی دارالسلام کی وزارت برائے مذہبی امور اس ملاقات میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وقف اور اسلامی مالیات کا معاملہ وہاں مذہبی امور کی وزارت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق وزیر محمد تشیم بن پینگیران حاجی حسن نے اس ملاقات میں برونائی کی نمائندگی کی۔

کیا مذہبی امور کی وزارت کے ذریعے وقف کی ترقی پر کام کرنا اس شعبے کو معاشی پالیسی کے مرکز میں لے آتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں قانون سازی اور گورننس کے فریم ورک کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، جو عام طور پر ریاستی پالیسی سازی کا حصہ ہوتا ہے، اور اس سے وقف کے معاملے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس ملاقات میں پائیدار اسلامی مالیات کو نئے کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کا اہم ستون قرار دیا گیا۔ یہ فریم ورک حال ہی میں شروع کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ اپنے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے انداز میں ترتیب دے رہا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ فریم ورک ہی اس ملاقات کی بنیادی وجہ اور سیاق و سباق ہے۔

کیا ایک نیا فریم ورک شروع کرنا اپنے آپ میں کافی ہے، یا اس کے لیے رکن ممالک کی جانب سے ٹھوس قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی درکار ہوتی ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں قانون سازی اور گورننس کے فریم ورک کو مضبوط بنانے پر بات ہوئی، جس سے لگتا ہے کہ فریم ورک کے کاغذی اعلان کے ساتھ ساتھ عملی اصلاحات پر بھی کام ہو رہا ہے۔

وقف اثاثوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے صکوک کا استعمال ایک ایسا راستہ ہے جس پر اسلامی مالیاتی ادارے کئی سالوں سے غور کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان اثاثوں کی صلاحیت کو کھولا جائے، یعنی انہیں مزید منظم اور سرمایہ کاری کے قابل بنایا جائے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ نقطہ ملاقات کے مرکزی موضوعات میں شامل تھا۔

کیا وقف اثاثوں کی صلاحیت کو کھولنے سے عام مسلمانوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے، یا اس کا اثر صرف ادارہ جاتی سطح تک محدود رہے گا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں تفصیل موجود نہیں، البتہ یہ واضح ہے کہ گفتگو کا دائرہ قانون سازی، گورننس اور مالیاتی آلات تک پھیلا ہوا تھا، جو بالواسطہ طور پر عوامی مفاد سے جڑے امور ہیں۔

اس ملاقات میں وقف پراپرٹیز انویسٹمنٹ فنڈ کا ذکر ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلامی دنیا میں وقف کی جائیدادوں کے انتظام اور ان کی آمدنی کو بہتر بنانے پر زور بڑھ رہا ہے۔ یہ فنڈ اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ وقف جائیدادوں میں سرمایہ کاری کر کے ان سے پائیدار آمدنی حاصل کی جائے۔ ایس پی اے کے مطابق اس فنڈ کا استعمال اس ملاقات کے اہم نکات میں شامل تھا۔

کیا اس طرح کے فنڈز وقف کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے منافع بھی پیدا کر سکتے ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں پائیدار وقف ترقی کی حمایت پر بات ہوئی، اور پائیداری کا تصور خود اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مقصد طویل المدتی توازن ہے، نہ کہ قلیل مدتی فائدہ۔

برونائی دارالسلام جنوب مشرقی ایشیا کا ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، اور اس کا اسلامی مالیاتی نظام کئی سالوں سے ترقی کر رہا ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے ساتھ اس کی یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں فریق اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق ملاقات میں مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا، جو اس تعاون کی دو طرفہ نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کیا اس طرح کی دو طرفہ ملاقاتیں اسلامی مالیاتی تعاون کے لیے کوئی ٹھوس فریم ورک تشکیل دے سکتی ہیں، یا یہ صرف اعلانات تک محدود رہتی ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کا تعلق ایک باقاعدہ کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک سے جوڑا گیا ہے، جو اس بات کا امکان ظاہر کرتا ہے کہ یہ تعاون کسی منظم عمل کا حصہ ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں کسی مخصوص مالیاتی رقم، منصوبے کی تکمیل کی تاریخ، یا کسی معاہدے کے دستخط کا ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ گفتگو پائیدار اسلامی مالیات، وقف کی ترقی، قانون سازی اور گورننس کے فریم ورک، اور صکوک و وقف پراپرٹیز انویسٹمنٹ فنڈ کے استعمال کے مواقع پر ہوئی۔

کیا اس ملاقات کے بعد کوئی باقاعدہ معاہدہ یا عملی منصوبہ سامنے آئے گا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس کا کوئی اشارہ موجود نہیں، اور یہی اس خبر کا وہ پہلو ہے جس پر مزید تفصیلات کا انتظار رہے گا۔

اس ملاقات کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس میں اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد الجاسر نے خود شرکت کی، جو اس معاملے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق ملاقات بندر سری بیگوان میں ہوئی، اور اس کا وقت 6 اکتوبر 2026 تھا۔

کیا بینک کے اعلیٰ ترین عہدیدار کی ذاتی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ برونائی کے ساتھ تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس کی تصریح نہیں، البتہ ملاقات کا موضوع اور اس کا فریم ورک اس بات کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے کہ یہ تعلق معمولی نہیں۔

وقف کے شعبے میں قانون سازی اور گورننس کی مضبوطی ایک ایسا موضوع ہے جو کئی مسلم ممالک میں زیر بحث رہا ہے۔ برونائی دارالسلام میں اس پر توجہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہاں وقف کے انتظام کو مزید منظم کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس ملاقات میں اسی پہلو پر خصوصی زور دیا گیا۔

کیا مضبوط گورننس کے بغیر وقف اثاثوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ممکن ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے قانون سازی اور گورننس کے فریم ورک کو مضبوط بنانے اور پیداواری استعمال کو بہتر بنانے، دونوں پر بات کی، جس سے لگتا ہے کہ وہ انہیں ایک دوسرے سے جڑے امور سمجھتے ہیں۔

اس ملاقات کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس میں صکوک کا ذکر کیا گیا، جو اسلامی مالیات کا ایک ایسا آلہ ہے جسے دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وقف کے شعبے میں اس کے استعمال سے وقف اثاثوں کو بڑے مالیاتی منصوبوں سے جوڑنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس امکان پر غور کیا گیا۔

کیا صکوک کے ذریعے وقف اثاثوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاری سے جوڑنا وقف کے مقامی کردار کو کمزور کر سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس سوال کا جواب موجود نہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ گفتگو کا دائرہ صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہا۔

مجموعی طور پر یہ ملاقات اسلامی ترقیاتی بینک گروپ اور برونائی دارالسلام کے درمیان ایک ایسے وقت میں ہوئی جب بینک اپنے کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کے ذریعے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس ملاقات میں پائیدار اسلامی مالیات کو اس فریم ورک کا اہم ستون قرار دیا گیا، اور وقف کی ترقی کو اس کا مرکزی موضوع بنایا گیا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اس ملاقات کے نتیجے میں کوئی معاہدہ ہوا، کوئی رقم مختص کی گئی، یا کوئی ٹائم لائن طے ہوئی۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ دونوں فریقوں نے مشترکہ عزم کا اظہار کیا اور مختلف مالیاتی آلات کے استعمال کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے مزید سرکاری تفصیلات کا انتظار رہے گا۔

اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے چیئرمین نے برونائی میں کس سے ملاقات کی؟ ایس پی اے کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد الجاسر نے برونائی دارالسلام کے وزیر برائے مذہبی امور محمد تشیم بن پینگیران حاجی حسن سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات بندر سری بیگوان میں 6 اکتوبر 2026 کو ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ملاقات کا مقصد نئے کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کے تحت پائیدار اسلامی مالیات پر گفتگو کرنا تھا۔

ملاقات میں وقف کے حوالے سے کون سے امور زیر بحث آئے؟ ایس پی اے کے مطابق ملاقات میں برونائی دارالسلام میں وقف کی ترقی کو آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس کا مرکز قانون سازی اور گورننس کے فریم ورک کو مضبوط بنانا اور وقف اثاثوں کے پیداواری استعمال کو بہتر بنانا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں پہلوؤں پر ایک ساتھ توجہ دی گئی۔

صکوک اور وقف پراپرٹیز انویسٹمنٹ فنڈ کا ذکر کیوں کیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق ملاقات میں صکوک اور وقف پراپرٹیز انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے پائیدار وقف ترقی کی حمایت اور ان اثاثوں کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ دونوں مالیاتی اوزار وقف کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے زیر بحث آئے۔

کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کیا ہے اور اس کا اس ملاقات سے کیا تعلق ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ فریم ورک حال ہی میں شروع کیا گیا ہے، اور اس ملاقات میں پائیدار اسلامی مالیات کو اس کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ملاقات کا بنیادی سیاق و سباق یہی فریم ورک تھا۔ رپورٹ میں فریم ورک کی مزید تفصیلات یا اس کے دائرہ کار کا ذکر نہیں کیا گیا۔

کیا ملاقات میں کوئی معاہدہ یا رقم کا اعلان ہوا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں کسی معاہدے کے دستخط، کسی مالیاتی رقم، یا کسی تکمیل کی تاریخ کا ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ پائیدار اسلامی مالیات، وقف کی ترقی، قانون سازی اور گورننس کے فریم ورک، اور صکوک و وقف پراپرٹیز انویسٹمنٹ فنڈ کے استعمال کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔