وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ماہر غیر ملکی سربراہانِ خانہ اب اپنے اہل خانہ کو مملکت میں لانے کے مجاز ہیں، اور اہل افراد میں شریک حیات، 25 سال سے کم عمر بیٹے اور غیر شادی شدہ بیٹیاں شامل ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ اقدام سعودی عرب کے تمام رہائشیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے عزم کے تحت وزارت خارجہ اور وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ساتھ coordination میں کیا گیا ہے۔
اعلان کے مطابق اہل زیرِ کفالت افراد داخلے کے ویزے سربراہِ خانہ کے ورک ویزا کی تکمیل کے ساتھ ہی حاصل کر سکتے ہیں، یعنی دونوں کارروائیاں ایک ہی وقت میں مکمل ہو سکتی ہیں۔ رہائشی طریقہ کار مملکت میں پہنچنے کے بعد، رائج ضوابط اور ہدایات کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔
کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ اب تک خاندانی ویزے کے لیے ورک ویزا مکمل ہونے کا انتظار لازم تھا؟ نئے انتظام کے تحت یہ انتظار ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ داخلے کا ویزا اور ورک ویزا متوازی طور پر جاری ہو سکتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق اہل زیرِ کفالت افراد میں شریک حیات شامل ہیں۔ کیا شریک حیات کی شمولیت سے خاندانی زندگی کے استحکام پر مثبت اثر نہیں پڑے گا؟ اس کے علاوہ 25 سال سے کم عمر بیٹے بھی اہل قرار دیے گئے ہیں، جبکہ بیٹیوں کے لیے غیر شادی شدہ ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔
یہ تفصیل اہم ہے کیونکہ عمر اور ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر اہلیت کا تعین ہوتا ہے۔ کیا 25 سال کی عمر کی حد تمام صورتوں میں یکساں لاگو ہوگی؟ اعلان میں اس بارے میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا گیا، اور نہ ہی بیٹیوں کی عمر کے حوالے سے کوئی حد دی گئی ہے۔
اعلان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ داخلے کے ویزے سربراہِ خانہ کے ورک ویزا کی تکمیل کے ساتھ ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کاغذی کارروائی کے دو الگ مرحلے اب ایک ہی مرحلے میں ضم ہو گئے ہیں۔ کیا اس سے کاغذی کارروائی کا دورانیہ کم ہوگا؟ اعلان میں دورانیے کا کوئی ذکر نہیں، البتہ متوازی تکمیل کی صراحت موجود ہے۔
رہائشی طریقہ کار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ مملکت میں پہنچنے کے بعد مکمل کیا جائے گا۔ یعنی داخلے کے ویزے کی بنیاد پر خاندان مملکت میں داخل ہوگا، اور پھر رہائش کی باقی کارروائی رائج ضوابط اور ہدایات کے مطابق ہوگی۔ کیا یہ تقسیم سربراہِ خانہ کے لیے بوجھ کم کرتی ہے؟ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ پہنچنے کے بعد کے مراحل کتنے آسان رکھے جائیں۔
یہ اقدام تین وزارتوں کے coordination کا نتیجہ ہے۔ وزارت داخلہ کے ساتھ وزارت خارجہ اور وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی شامل ہیں۔ کیا تین وزارتوں کی مشترکہ کوشش سے عمل درآمد زیادہ ہموار ہوگا؟ اعلان میں صرف coordination کا ذکر ہے، اور یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر وزارت کا مخصوص کردار کیا ہوگا۔
اعلان کا سیاق و سباق یہ ہے کہ سعودی عرب تمام رہائشیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ ماہر غیر ملکی سربراہانِ خانہ اس پالیسی کا مرکز ہیں۔ کیا ماہر کارکنوں کو خاندان کے ساتھ رکھنے سے مملکت میں ان کی مستقل مزاجی بڑھے گی؟ اعلان اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیتا، لیکن معیارِ زندگی کے حوالے سے عزم کا ذکر ضرور کرتا ہے۔
زیرِ کفالت افراد کی فہرست محدود اور واضح ہے: شریک حیات، 25 سال سے کم عمر بیٹے، اور غیر شادی شدہ بیٹیاں۔ کیا اس فہرست میں والدین یا دیگر رشتہ دار شامل ہیں؟ اعلان میں ان کا کوئی ذکر نہیں، اس لیے دستیاب معلومات کے مطابق فہرست انہی تین اقسام تک محدود ہے۔
داخلے کے ویزے اور ورک ویزا کی متوازی تکمیل کا مطلب یہ بھی ہے کہ سربراہِ خانہ کو پہلے اپنا ورک ویزا مکمل کرنے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ کیا یہ ترتیب تمام اقسام کے ورک ویزا پر لاگو ہوگی؟ اعلان میں صرف ماہر سربراہانِ خانہ کا ذکر ہے، اور یہ نہیں بتایا گیا کہ دیگر اقسام پر کیا اثر پڑے گا۔
رہائشی طریقہ کار کے لیے رائج ضوابط اور ہدایات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پہنچنے کے بعد کے مراحل پہلے سے موجود قواعد کے تابع ہوں گے۔ کیا ان قواعد میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟ اعلان میں ایسی کسی تبدیلی کا ذکر نہیں، صرف موجودہ ضوابط کے مطابق تکمیل کی بات کہی گئی ہے۔
یہ اعلان ریاض سے جاری ہوا اور ایس پی اے نے اسے 6 اکتوبر 2026 کو مقامی وقت کے مطابق 14:50 اور جی ایم ٹی کے مطابق 11:50 پر نشر کیا۔ اعلان مختصر ہے اور اس میں درخواست کے طریقہ کار، فیس، یا مدت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ کیا درخواست دہندگان کو اضافی دستاویزات درکار ہوں گی؟ اس بارے میں رپورٹ خاموش ہے۔
اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ سہولت کب سے نافذ العمل ہوگی، نہ ہی اس کے لیے کوئی مخصوص تاریخ دی گئی ہے۔ کیا یہ فوری طور پر لاگو ہوتی ہے؟ دستیاب متن میں اس کا کوئی اشارہ نہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ کیا پہلے جمع کرائی گئی درخواستیں بھی اس نئے انتظام سے مستفید ہوں گی۔
ماہر کارکنوں کی اہلیت کے تعین کا معیار بھی بیان نہیں کیا گیا۔ اعلان میں “skilled expatriate heads of households” کا ذکر ہے، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ مہارت کی درجہ بندی کیسے ہوگی یا کون سی پیشہ ورانہ اقسام اس میں شامل ہوں گی۔ کیا یہ معیار وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی طے کرے گی؟ رپورٹ میں اس کی صراحت نہیں۔
زیرِ کفالت افراد کے داخلے کے ویزے کے ساتھ رہائش کے عمل کو الگ مرحلے میں رکھا گیا ہے۔ یہ تقسیم بتاتی ہے کہ داخلے اور رہائش دو مختلف انتظامی مراحل ہیں۔ کیا اس سے سربراہِ خانہ کو الگ سے کوئی درخواست دینی ہوگی؟ اعلان کے مطابق رہائشی طریقہ کار مملکت میں پہنچنے کے بعد رائج ضوابط کے مطابق مکمل ہوگا، لیکن طریقہ کار کی تفصیل نہیں دی گئی۔
اعلان میں خاندانی ویزے کے حوالے سے کسی فیس یا مالی شرط کا ذکر نہیں۔ کیا سربراہِ خانہ کو کم از کم آمدنی یا رہائش کے ثبوت کی ضرورت ہوگی؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں، اس لیے اسے موجودہ ضوابط کے دائرے میں ہی سمجھا جائے گا۔
یہ پالیسی سعودی عرب کے تمام رہائشیوں کے معیارِ زندگی کے عزم کے تحت بیان کی گئی ہے، اور اس میں ماہر غیر ملکی سربراہانِ خانہ کو خصوصی طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔ کیا اس سے مملکت میں ماہر افرادی قوت کی طویل مدتی موجودگی کو فروغ ملے گا؟ اعلان اس نتیجے کی تصدیق یا تردید نہیں کرتا، البتہ خاندان کو ساتھ لانے کی اجازت اس سمت ایک واضح قدم ہے۔
اعلان کے مطابق اہل زیرِ کفالت افراد میں شریک حیات، 25 سال سے کم عمر بیٹے اور غیر شادی شدہ بیٹیاں شامل ہیں۔ کیا بیٹوں کے لیے عمر کی حد پر کوئی لچک ہوگی؟ اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی طرح بیٹیوں کے لیے غیر شادی شدہ ہونے کی شرط واضح ہے، لیکن اس کی تصدیق کیسے ہوگی، یہ نہیں بتایا گیا۔
داخلے کے ویزے ورک ویزا کی تکمیل کے ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس جملے میں “concurrently” کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں کارروائیاں بیک وقت ہو سکتی ہیں۔ کیا اس سے سربراہِ خانہ کو الگ سے فیملی ویزا کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں رہے گی؟ اعلان میں طریقہ کار کی تفصیل نہ ہونے کے باعث اس کا قطعی جواب ممکن نہیں۔
وزارت داخلہ کے اعلان میں وزارت خارجہ اور وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ساتھ coordination کا ذکر ہے۔ یہ coordination بتاتا ہے کہ ویزا جاری کرنے اور رہائش کے مراحل میں کئی ادارے شامل ہیں۔ کیا اس سے کارروائی کے مراحل میں کمی آئے گی؟ اعلان میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ coordination کیا گیا ہے، اور یہ کہ رہائشی طریقہ کار رائج ضوابط کے مطابق ہوگا۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس پالیسی کا اطلاق کب سے ہوگا، کتنے افراد مستفید ہوں گے، یا درخواست کے لیے کون سی دستاویزات درکار ہوں گی۔ کیا اس کی تفصیلات بعد میں جاری ہوں گی؟ دستیاب متن میں اس کا کوئی اشارہ نہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ انہی نکات تک محدود ہے جو وزارت داخلہ نے بیان کیے۔
اعلان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ماہر غیر ملکی سربراہانِ خانہ اپنے اہل خانہ کو مملکت میں لا سکتے ہیں، اور داخلے کے ویزے ورک ویزا کے ساتھ ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ کیا یہ انتظام تمام شہروں یا تمام سفارت خانوں پر یکساں لاگو ہوگا؟ اس بارے میں رپورٹ خاموش ہے۔
زیرِ کفالت افراد کی اہلیت کے لیے جو شرائط دی گئی ہیں وہ واضح ہیں، مگر ان کی تصدیق کے طریقہ کار کا ذکر نہیں۔ کیا شادی یا عمر کے ثبوت کے لیے مخصوص دستاویزات درکار ہوں گی؟ اعلان میں اس کی صراحت نہیں، اور رہائشی طریقہ کار کے لیے رائج ضوابط و ہدایات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
یہ اعلان سعودی عرب کے تمام رہائشیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے عزم کے تحت آیا ہے۔ ماہر غیر ملکی سربراہانِ خانہ کے لیے خاندان کو ساتھ لانے کی اجازت اس عزم کا ایک عملی پہلو ہے۔ کیا اس سے خاندانوں کے لیے روزمرہ زندگی آسان ہوگی؟ اعلان میں اس کا براہِ راست ذکر نہیں، لیکن معیارِ زندگی کے حوالے سے عزم کا اعادہ ضرور کیا گیا ہے۔
رہائشی طریقہ کار مملکت میں پہنچنے کے بعد مکمل ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ داخلے کے ویزے کے بعد ایک الگ انتظامی مرحلہ باقی رہتا ہے۔ کیا اس مرحلے میں تاخیر ممکن ہے؟ اعلان میں اس بارے میں کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا، اور نہ ہی کوئی مدت بیان کی گئی ہے۔
اعلان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کیا اس سہولت کے لیے کوئی اضافی فیس وصول کی جائے گی۔ کیا ورک ویزا اور فیملی ویزا کی متوازی درخواست پر الگ چارجز ہوں گے؟ رپورٹ میں مالی پہلو کا کوئی ذکر نہیں، اس لیے اس سوال کا جواب دستیاب معلومات میں موجود نہیں۔
مجموعی طور پر، وزارت داخلہ کا اعلان ماہر غیر ملکی سربراہانِ خانہ کو اہل خانہ کے داخلے کے ویزے ورک ویزا کے ساتھ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور رہائشی طریقہ کار پہنچنے کے بعد رائج ضوابط کے مطابق مکمل ہوگا۔ اہل افراد میں شریک حیات، 25 سال سے کم عمر بیٹے اور غیر شادی شدہ بیٹیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں نافذ العمل تاریخ، فیس، دستاویزات، یا مہارت کی درجہ بندی کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
کسے خاندان لانے کی اجازت دی گئی ہے؟ وزارت داخلہ کے مطابق ماہر غیر ملکی سربراہانِ خانہ کو اپنے اہل خانہ کو مملکت میں لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اہل زیرِ کفالت افراد میں شریک حیات، 25 سال سے کم عمر بیٹے اور غیر شادی شدہ بیٹیاں شامل ہیں۔ اعلان میں مہارت کی درجہ بندی یا پیشہ ورانہ اقسام کی تفصیل نہیں دی گئی۔
داخلے کے ویزے کب حاصل کیے جا سکتے ہیں؟ اعلان کے مطابق اہل زیرِ کفالت افراد داخلے کے ویزے سربراہِ خانہ کے ورک ویزا کی تکمیل کے ساتھ ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ یعنی دونوں کارروائیاں متوازی طور پر مکمل ہو سکتی ہیں۔ رہائشی طریقہ کار مملکت میں پہنچنے کے بعد رائج ضوابط اور ہدایات کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔
یہ اقدام کن وزارتوں کے coordination سے کیا گیا؟ وزارت داخلہ نے یہ اعلان سعودی عرب کے تمام رہائشیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے عزم کے تحت کیا۔ اس میں وزارت خارجہ اور وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ساتھ coordination شامل ہے۔ اعلان میں ہر وزارت کے مخصوص کردار کی تفصیل نہیں دی گئی۔
کیا رہائشی کارروائی پہلے مکمل کرنی ہوگی؟ نہیں، اعلان کے مطابق رہائشی طریقہ کار مملکت میں پہنچنے کے بعد مکمل کیا جائے گا۔ داخلے کے ویزے ورک ویزا کی تکمیل کے ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور پھر آمد کے بعد رہائش کے مراحل رائج ضوابط و ہدایات کے مطابق طے ہوں گے۔ اعلان میں اس مرحلے کی مدت یا فیس کا ذکر نہیں۔
اعلان میں کون سی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ رپورٹ میں نافذ العمل تاریخ، فیس، درکار دستاویزات، یا مہارت کی درجہ بندی کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ پہلے جمع کرائی گئی درخواستیں مستفید ہوں گی یا نہیں۔ ایس پی اے نے یہ اعلان 6 اکتوبر 2026 کو ریاض سے نشر کیا۔





