Saturday, October 31, 2026
ثقافت

درعیہ آرٹ فیوچرز کا ‘مکنانہ: عرب دنیا میں نیو میڈیا آرٹ کی آثار قدیمیت’ کی نمائش کا اعلان

درعیہ آرٹ فیوچرز کا ‘مکنانہ: عرب دنیا میں نیو میڈیا آرٹ کی آثار قدیمیت’ کی نمائش کا اعلان

درعیہ آرٹ فیوچرز (ڈی اے ایف) نے اپنی دوسری بڑی نمائش ‘مکنانہ: عرب دنیا میں نیو میڈیا آرٹ کی آثار قدیمیت’ کا اعلان کیا ہے، جو 21 اپریل سے 19 جولائی 2025 تک درعیہ، ریاض میں ڈی اے ایف کے مقام پر جاری رہے گی۔ یہ اعلان ادارے نے آج ایک پریس ریلیز میں کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 13 اپریل 2025 کو بیان کیا، اس نمائش میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) کے خطے سے تعلق رکھنے والے 40 سے زائد فنکاروں کے کام شامل کیے گئے ہیں۔ یہ فنکار خطے بھر کی وہ اہم آوازیں ہیں جنہوں نے ٹیکنالوجی کو تخلیقی اظہار کے ایک ذریعے کے طور پر اپنایا اور اس کی نئی تعریف کی۔

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ عرب فنکاروں نے ڈیجیٹل دنیا کو اپنے انداز میں کیسے اپنایا؟ نمائش کئی دہائیوں اور متعدد شعبوں پر محیط ہے، جن میں ابتدائی ویڈیو آرٹ اور تجرباتی فلم سے لے کر جنریٹو سسٹمز اور توسیع شدہ میڈیا تک شامل ہیں۔ ‘مکنانہ’ عرب فنکاروں کے ڈیجیٹل منظرنامے سے اپنے طور پر جڑنے اور اسے نئے سرے سے تصور کرنے کا ایک نادر جائزہ پیش کرتی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق، عربی اصطلاح ‘مکنانہ’ جس کا ترجمہ آٹومیشن کیا جاتا ہے، نمائش کی مرکزی تحقیق کو تحریک دیتی ہے: عرب فنکاروں نے ٹیکنالوجی کو کس طرح سمجھا، اسے نئے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اسے چیلنج کیا تاکہ وہ اپنی تخلیقی ذخیرہ الفاظ تشکیل دے سکیں۔ کیا ٹیکنالوجی واقعی فنکار کی اپنی زبان بن سکتی ہے؟

نمائش کو چار موضوعاتی حصوں میں ترتیب دیا گیا ہے: آٹومیشن، خود مختاری، لہریں اور گلیچ۔ یہ حصے مختلف نسلوں، جغرافیوں اور ٹیکنالوجی کے نمونوں میں بار بار ابھرنے والے فنی خدشات اور اشاروں کا سراغ لگاتے ہیں۔ کیا مختلف نسلوں کے فنکار ایک ہی سوالات سے گزرتے ہیں؟

نمائش کے ساتھ ساتھ، درعیہ آرٹ فیوچرز گفتگو، پرفارمنس، اسکریننگ اور ورکشاپس پر مشتمل ایک عوامی پروگرام بھی پیش کرے گا، جو مکنانہ کے موضوعات کو آگے بڑھائے گا اور زائرین کو نیو میڈیا آرٹ کے شعبے کے فنکاروں اور مفکرین سے براہ راست رابطے کا موقع فراہم کرے گا۔ کیا عوام کے لیے یہ پروگرام نمائش کے تجربے کو مزید گہرا کر سکتے ہیں؟

یہ نمائش درعیہ آرٹ فیوچرز کی دوسری بڑی نمائش ہے، جو ادارے کے تسلسل اور نیو میڈیا آرٹ کے میدان میں اس کی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ نمائش کا دورانیہ تقریباً تین ماہ پر محیط ہے، جو 21 اپریل 2025 سے شروع ہو کر 19 جولائی 2025 تک جاری رہے گا۔ کیا یہ دورانیہ خطے کے فنکاروں کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا؟

نمائش میں شامل 40 سے زائد فنکار مینا خطے سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک شامل ہیں۔ یہ فنکار ٹیکنالوجی کو تخلیقی اظہار کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی منفرد آواز پیش کرتے ہیں۔ کیا خطے کے فنکار عالمی ڈیجیٹل آرٹ کے منظرنامے میں اپنا مقام بنا پائے ہیں؟

نمائش کا موضوعاتی ڈھانچہ چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ‘آٹومیشن’ ہے، جو مشینوں اور خودکار نظاموں کے فن میں استعمال سے متعلق ہے۔ دوسرا حصہ ‘خود مختاری’ ہے، جو فنکار کی اپنی تخلیقی آزادی اور فیصلہ سازی سے جڑا ہے۔ تیسرا حصہ ‘لہریں’ ہے، جو اثرات اور تسلسل کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔ چوتھا حصہ ‘گلیچ’ ہے، جو خرابی اور غیر متوقع عناصر کو فن کا حصہ بناتا ہے۔ کیا یہ چاروں حصے مل کر ایک مکمل تصویر پیش کرتے ہیں؟

نمائش کا عنوان ‘مکنانہ’ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب آٹومیشن ہے۔ یہ عنوان نمائش کی بنیادی تحقیق کی عکاسی کرتا ہے، جو یہ پوچھتی ہے کہ عرب فنکاروں نے ٹیکنالوجی کو کس طرح نیویگیٹ کیا، اسے نئے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اسے چیلنج کیا تاکہ وہ اپنی تخلیقی ذخیرہ الفاظ تشکیل دے سکیں۔ کیا ایک لفظ پوری نمائش کی روح بن سکتا ہے؟

نمائش میں ابتدائی ویڈیو آرٹ اور تجرباتی فلم سے لے کر جنریٹو سسٹمز اور توسیع شدہ میڈیا تک کے کام شامل ہیں۔ یہ تنوع ظاہر کرتا ہے کہ عرب فنکاروں نے کئی دہائیوں میں ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں کو کس طرح اپنایا۔ کیا یہ تنوع خطے کی فنی تاریخ کا آئینہ دار ہے؟

درعیہ آرٹ فیوچرز کا یہ اقدام سعودی عرب میں ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کا حصہ ہے۔ نمائش درعیہ میں منعقد ہو رہی ہے، جو ریاض کا ایک اہم ثقافتی مرکز ہے۔ کیا درعیہ خطے کے آرٹ منظر کا نیا مرکز بن رہا ہے؟

نمائش کے ساتھ عوامی پروگرام میں گفتگو، پرفارمنس، اسکریننگ اور ورکشاپس شامل ہیں۔ یہ پروگرام زائرین کو نیو میڈیا آرٹ کے شعبے کے فنکاروں اور مفکرین سے براہ راست رابطے کا موقع دیتے ہیں۔ کیا اس طرح کے پروگرام عوام کی فنی سمجھ کو بڑھا سکتے ہیں؟

نمائش کا دورانیہ 21 اپریل سے 19 جولائی 2025 تک ہے، جو تقریباً تین ماہ پر محیط ہے۔ اس عرصے میں زائرین نمائش کو دیکھ سکیں گے اور عوامی پروگراموں میں شرکت کر سکیں گے۔ کیا تین ماہ کافی وقت ہے ایک گہرے تجربے کے لیے؟

نمائش میں 40 سے زائد فنکاروں کے کام شامل ہیں، جو مینا خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ فنکار ٹیکنالوجی کو تخلیقی اظہار کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اپنی منفرد آواز پیش کرتے ہیں۔ کیا ان فنکاروں کی تعداد خطے کی فنی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے؟

نمائش کے چار موضوعاتی حصے مختلف نسلوں، جغرافیوں اور ٹیکنالوجی کے نمونوں میں بار بار ابھرنے والے فنی خدشات اور اشاروں کا سراغ لگاتے ہیں۔ یہ حصے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور مل کر نمائش کی کہانی بناتے ہیں۔ کیا یہ تقسیم نمائش کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے؟

نمائش کا انعقاد درعیہ آرٹ فیوچرز میں ہو رہا ہے، جو اپنی دوسری بڑی نمائش پیش کر رہا ہے۔ یہ ادارے کی جانب سے نیو میڈیا آرٹ کے میدان میں جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ کیا یہ ادارہ آنے والے سالوں میں مزید ایسی نمائشیں کرے گا؟

رپورٹ میں نمائش کے ٹکٹوں کی قیمت، روزانہ کے اوقات کار یا زائرین کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ نہ ہی فنکاروں کے ناموں کی مکمل فہرست فراہم کی گئی ہے۔ یہ تفصیلات بعد میں جاری ہو سکتی ہیں۔ کیا زائرین کو مزید معلومات کی ضرورت ہوگی؟

نمائش کب اور کہاں منعقد ہوگی؟ نمائش 21 اپریل سے 19 جولائی 2025 تک درعیہ، ریاض میں درعیہ آرٹ فیوچرز (ڈی اے ایف) کے مقام پر جاری رہے گی۔ یہ ادارے کی دوسری بڑی نمائش ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اعلان ادارے نے آج ایک پریس ریلیز میں کیا۔ نمائش کا دورانیہ تقریباً تین ماہ پر محیط ہے۔

نمائش میں کتنے فنکار شامل ہیں اور وہ کہاں سے ہیں؟ نمائش میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) کے خطے سے 40 سے زائد فنکاروں کے کام شامل ہیں۔ یہ فنکار خطے بھر کی وہ اہم آوازیں ہیں جنہوں نے ٹیکنالوجی کو تخلیقی اظہار کے ذریعے کے طور پر اپایا اور اس کی نئی تعریف کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ فنکار مختلف نسلوں اور شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

نمائش کے موضوعاتی حصے کون سے ہیں؟ نمائش چار موضوعاتی حصوں میں ترتیب دی گئی ہے: آٹومیشن، خود مختاری، لہریں اور گلیچ۔ یہ حصے مختلف نسلوں، جغرافیوں اور ٹیکنالوجی کے نمونوں میں بار بار ابھرنے والے فنی خدشات اور اشاروں کا سراغ لگاتے ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تقسیم نمائش کی مرکزی تحقیق کو آگے بڑھاتی ہے۔

‘مکنانہ’ کا مطلب کیا ہے اور یہ نمائش سے کیسے جڑتا ہے؟ ‘مکنانہ’ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا ترجمہ آٹومیشن کیا جاتا ہے۔ یہ نمائش کی مرکزی تحقیق کو تحریک دیتا ہے: عرب فنکاروں نے ٹیکنالوجی کو کس طرح سمجھا، نئے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور چیلنج کیا تاکہ اپنی تخلیقی ذخیرہ الفاظ تشکیل دے سکیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہی عنوان نمائش کی روح ہے۔

کیا نمائش کے ساتھ کوئی عوامی پروگرام بھی ہوگا؟ جی ہاں، درعیہ آرٹ فیوچرز نمائش کے ساتھ ساتھ گفتگو، پرفارمنس، اسکریننگ اور ورکشاپس پر مشتمل ایک عوامی پروگرام پیش کرے گا۔ یہ پروگرام مکنانہ کے موضوعات کو آگے بڑھائے گا اور زائرین کو نیو میڈیا آرٹ کے شعبے کے فنکاروں اور مفکرین سے براہ راست رابطے کا موقع فراہم کرے گا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ پروگرام نمائش کے تجربے کو گہرا کرے گا۔

نمائش میں کس قسم کے فن پارے دکھائے جائیں گے؟ نمائش میں ابتدائی ویڈیو آرٹ اور تجرباتی فلم سے لے کر جنریٹو سسٹمز اور توسیع شدہ میڈیا تک کے کام شامل ہیں۔ یہ نمائش کئی دہائیوں اور متعدد شعبوں پر محیط ہے اور عرب فنکاروں کے ڈیجیٹل منظرنامے سے اپنے طور پر جڑنے کا ایک نادر جائزہ پیش کرتی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ کام خطے کے فنکاروں کی تخلیقی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔