ریاض میں منگل کو مشرق وسطیٰ پولٹری نمائش 2026 کا آغاز ہوگا، جس کی سرپرستی ماحولیات، پانی اور زراعت کے وزیر عبدالرحمٰن الفضلی کریں گے۔ یہ نمائش 4 سے 6 اکتوبر تک ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہوگی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 4 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ نمائش کا پانچواں ایڈیشن ہے اور اس کا تھیم ہے: «Innovating Today… Producing Tomorrow» یعنی آج جدت، کل پیداوار۔
ایس پی اے کے مطابق اس ایڈیشن میں 45 ممالک کی 400 کمپنیاں اور ادارے شرکت کریں گے، جبکہ 16,000 سے زائد صنعتی پیشہ ور افراد کی شرکت متوقع ہے جو مملکت کے اندر اور باہر سے آئیں گے۔ کیا یہ تعداد سعودی پولٹری مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی کشش کا ثبوت نہیں؟
نمائش کا پہلا دن افتتاحی «پولٹری انڈسٹری ایکسیلنس ایوارڈ» کے فاتحین کی تقریبِ اعزاز پر مشتمل ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد شعبے میں بہترین کارکردگی اور کامیابی کو سراہنا اور ان علمبرداروں، اداروں، انجمنوں، کوآپریٹیوز اور بین الاقوامی شراکت داروں کو تسلیم کرنا ہے جنہوں نے شعبے کے قیام، ترقی اور اس کی کارکردگی اور مسابقت کو بہتر بنانے میں حصہ ڈالا اور قومی غذائی تحفظ کے اہداف کی معاونت کی۔
ایس پی اے کے مطابق یہ تقریب 20,000 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں پولٹری، فیڈ، جانوروں کی صحت اور غذائیت کے شعبوں کی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیاں، نیز متعلقہ ٹیکنالوجیز اور حل شامل ہیں۔ کیا 20,000 مربع میٹر کا رقبہ خطے کی سب سے بڑی پولٹری تجارتی پلیٹ فارمز میں اس کی جگہ بناتا ہے؟
رپورٹ کے مطابق پہلی بار شرکت کرنے والے نمائش کنندگان اس ایڈیشن میں شریک کمپنیوں اور اداروں کا 18 فیصد ہیں، جو سعودی مارکیٹ اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہ تناسب نئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اشارہ ہے؟
نمائش کا مقصد ایک خصوصی تجارتی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا ہے جو سرمایہ کاروں، پیداوار کنندگان، سپلائرز، ماہر کمپنیوں اور عالمی کمپنیوں کو ایک جگہ جمع کرے۔ یہ نئے سرمایہ کاری کے مواقع کھولنے، تجارتی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے، سپلائی چینز کی معاونت اور ترقی، اور پولٹری، فیڈ اور جانوروں کی صحت و غذائیت میں جدید ترین ٹیکنالوجیز، حل اور اختراعات کی نمائش کا بھی خواہاں ہے۔
ایس پی اے کے مطابق پانچواں ایڈیشن مملکت کے پولٹری شعبے میں مسلسل ترقی اور نشوونما کے دوران ہو رہا ہے، جس کی محرک شعبے کو ملنے والی معاونت اور وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کی جانب سے نجی شعبے کے تعاون سے کی جانے والی کوششیں ہیں تاکہ سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکے۔ کیا وزارت اور نجی شعبے کی یہ شراکت پولٹری شعبے کو خود کفالت کی طرف لے جا سکتی ہے؟
نمائش کے شرکا میں پولٹری، فیڈ، جانوروں کی صحت اور غذائیت کے شعبوں کی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ متعلقہ ٹیکنالوجیز اور حل بھی نمائش کا حصہ ہیں۔ یہ تنوع ظاہر کرتا ہے کہ تقریب صرف پولٹری تک محدود نہیں بلکہ اس سے جڑی پوری ویلیو چین کو محیط ہے۔ کیا یہ جامع نقطہ نظر شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دے گا؟
میزبان شہر ریاض اس ایڈیشن کی میزبانی ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں کر رہا ہے، جو مملکت میں بین الاقوامی تجارتی نمائشوں کا ایک اہم مقام ہے۔ ایس پی اے کے مطابق تقریب 4 سے 6 اکتوبر تک جاری رہے گی، یعنی تین روزہ ایونٹ۔
پہلی بار شرکت کرنے والوں کا 18 فیصد حصہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی مارکیٹ میں داخلے کی خواہش رکھنے والی کمپنیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ کیا اس سے مقامی کمپنیوں کے لیے مسابقت بھی بڑھے گی؟
ایوارڈ کا پہلا ایڈیشن اس شعبے میں کام کرنے والے افراد اور اداروں کے لیے ایک نیا اعزاز ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس کا مقصد علمبرداروں، اداروں، انجمنوں، کوآپریٹیوز اور بین الاقوامی شراکت داروں کو تسلیم کرنا ہے۔ کیا اس طرح کے اعزازات شعبے میں معیار کو بلند کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں؟
نمائش کا تھیم «Innovating Today… Producing Tomorrow» جدت اور پیداوار کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق تقریب جدید ٹیکنالوجیز، حل اور اختراعات کی نمائش پر زور دیتی ہے۔ کیا جدت کے بغیر پولٹری شعبے کی پیداواری صلاحیت بڑھ سکتی ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نمائش 400 کمپنیوں اور اداروں، 45 ممالک اور 16,000 سے زائد پیشہ ور افراد کے ساتھ ساتھ 20,000 مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایونٹ کا دائرہ مقامی سطح سے آگے بین الاقوامی ہے۔ کیا خطے کی پولٹری صنعت کے لیے یہ پلیٹ فارم طویل مدتی شراکت داریاں بنا سکتا ہے؟
وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کی قیادت میں نجی شعبے کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق پانچواں ایڈیشن اسی مسلسل ترقی کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ کیا اس قسم کی نمائشوں سے سرمایہ کاری کے فیصلے تیز ہوتے ہیں؟
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نمائش میں کتنے ممالک کے سرکاری وفود شرکت کریں گے، نہ ہی ایوارڈ کے فاتحین کے نام یا تعداد دی گئی ہے، اور نہ ہی نمائش کے دوران کسی معاہدے یا سرمایہ کاری کی رقم کا ذکر ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ معلومات دستیاب نہیں تھیں۔
مشرق وسطیٰ پولٹری نمائش 2026 کب اور کہاں ہوگی؟ ایس پی اے کے مطابق نمائش 4 سے 6 اکتوبر 2026 تک ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہوگی۔ یہ ایونٹ کا پانچواں ایڈیشن ہے اور اس کا تھیم «Innovating Today… Producing Tomorrow» ہے۔ افتتاح کی سرپرستی ماحولیات، پانی اور زراعت کے وزیر عبدالرحمٰن الفضلی کریں گے۔ رپورٹ میں روزانہ کے اوقات کار یا داخلے کی تفصیل نہیں دی گئی۔
نمائش میں کتنی کمپنیاں اور ممالک شرکت کریں گے؟ ایس پی اے کے مطابق اس ایڈیشن میں 45 ممالک کی 400 کمپنیاں اور ادارے شرکت کریں گے، جبکہ 16,000 سے زائد صنعتی پیشہ ور افراد کی شرکت متوقع ہے جو مملکت کے اندر اور باہر سے آئیں گے۔ پہلی بار شرکت کرنے والے نمائش کنندگان کل شریک کمپنیوں اور اداروں کا 18 فیصد ہیں۔ رپورٹ میں ممالک کی مکمل فہرست یا وفود کی تفصیل نہیں دی گئی۔
پولٹری انڈسٹری ایکسیلنس ایوارڈ کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق نمائش کے پہلے دن افتتاحی «پولٹری انڈسٹری ایکسیلنس ایوارڈ» کے فاتحین کی تقریبِ اعزاز ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد شعبے میں بہترین کارکردگی اور کامیابی کو سراہنا اور علمبرداروں، اداروں، انجمنوں، کوآپریٹیوز اور بین الاقوامی شراکت داروں کو تسلیم کرنا ہے جنہوں نے شعبے کی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے میں حصہ ڈالا۔ رپورٹ میں فاتحین کے نام یا تعداد نہیں دی گئی۔
نمائش کا رقبہ اور شعبے کیا ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق تقریب 20,000 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں پولٹری، فیڈ، جانوروں کی صحت اور غذائیت کی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیاں، نیز متعلقہ ٹیکنالوجیز اور حل شامل ہیں۔ نمائش کا مقصد سرمایہ کاروں، پیداوار کنندگان، سپلائرز، ماہر کمپنیوں اور عالمی کمپنیوں کو ایک خصوصی تجارتی پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے۔ رپورٹ میں ہالوں کی تقسیم یا اسٹالز کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
نمائش کے اہداف کیا بیان کیے گئے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق نمائش نئے سرمایہ کاری کے مواقع کھولنے، تجارتی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے، سپلائی چینز کی معاونت اور ترقی، اور پولٹری، فیڈ اور جانوروں کی صحت و غذائیت میں جدید ترین ٹیکنالوجیز، حل اور اختراعات کی نمائش کی خواہاں ہے۔ یہ تقریب مملکت کے پولٹری شعبے میں مسلسل ترقی کے دوران ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں مخصوص معاہدوں یا رقوم کا ذکر نہیں۔
سعودی پولٹری شعبے کی ترقی میں کس کا کردار بتایا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق پانچواں ایڈیشن مملکت کے پولٹری شعبے میں مسلسل ترقی اور نشوونما کے دوران ہو رہا ہے، جس کی محرک شعبے کو ملنے والی معاونت اور وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کی جانب سے نجی شعبے کے تعاون سے کی جانے والی کوششیں ہیں تاکہ سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکے۔ ایوارڈ کا مقصد قومی غذائی تحفظ کے اہداف کی معاونت بھی ہے۔ رپورٹ میں پیداوار یا سرمایہ کاری کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔





