منامہ میں یکم اکتوبر 2026 کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی مالیاتی و اقتصادی تعاون کمیٹی کا 126واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں مملکت سعودی عرب کے وفد کی قیادت وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کی۔ یہ اجلاس بحرین کی بادشاہت میں ہوا اور اس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت شیخ سلمان الخلیفہ نے کی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 2 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خزانہ اور جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے شرکت کی۔ شرکاء میں خلیجی ممالک کے وزرائے خزانہ شامل تھے، اور اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت کے پاس تھی۔
اجلاس کے دوران وزراء نے مالیاتی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق متعدد موضوعات کا جائزہ لیا۔ ان موضوعات میں جی سی سی کسٹمز یونین میں حاصل ہونے والی پیش رفت اور خلیجی مشترکہ مارکیٹ کی پیش رفت کی نگرانی سے متعلق دورانیہ رپورٹ کی منظوری شامل تھی۔ کیا خلیجی مشترکہ مارکیٹ کا خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے؟
وزراء نے علاقائی پیش رفت اور جی سی سی ممالک پر اس کے ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا، اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کی۔ علاقائی پیش رفت سے مراد وہ عوامل ہیں جو خلیجی معیشتوں کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں، اور اجلاس میں ان پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد الجدعان نے جی سی سی ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کے مشترکہ اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا موجود تھیں۔ اس مشترکہ اجلاس میں شرکاء نے آئی ایم ایف کے ایک مقالے پر بات کی جس کا عنوان تھا ”Economic Prospects and Policy Challenges: Enhancing Economic Resilience to Geopolitical Shocks“ یعنی اقتصادی امکانات اور پالیسی چیلنجز: جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے مقابلے میں اقتصادی لچک کو بڑھانا۔
یہ مقالہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی عوامل کس طرح معیشتوں کو متاثر کرتے ہیں اور کس طرح پالیسی ساز ان جھٹکوں کے مقابلے میں لچک پیدا کر سکتے ہیں۔ کیا خلیجی ممالک جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنی اقتصادی ترقی کی رفتار برقرار رکھ سکیں گے؟
اجلاس میں جی سی سی کسٹمز یونین کی پیش رفت کا جائزہ لینا اس بات کا غماز ہے کہ خلیجی ممالک تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور سرحدوں پر اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کسٹمز یونین کا قیام خلیجی اقتصادی انضمام کی بنیادوں میں سے ایک ہے، اور اس کی پیش رفت کی نگرانی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک اس عمل کو کس حد تک آگے بڑھا رہے ہیں۔
خلیجی مشترکہ مارکیٹ کی پیش رفت کی نگرانی سے متعلق دورانیہ رپورٹ کی منظوری بھی اجلاس کا ایک اہم نکتہ تھی۔ مشترکہ مارکیٹ کا تصور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خلیجی شہریوں کو رکن ممالک میں معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ کیا مشترکہ مارکیٹ کے قیام سے خلیجی شہریوں کی روزگار کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی؟
علاقائی پیش رفت اور ان کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی اقتصادی پالیسیوں کو وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ مشترکہ رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک ان چیلنجوں کا اجتماعی طور پر سامنا کرنے کے خواہاں ہیں۔
وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کا آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ مشترکہ اجلاس اس بات کا مظاہرہ کرتا ہے کہ خلیجی ممالک بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ اپنے تعاون کو کس سطح پر لے کر جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا مقالہ ”Economic Prospects and Policy Challenges: Enhancing Economic Resilience to Geopolitical Shocks“ اس بات پر مرکوز تھا کہ جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے مقابلے میں اقتصادی لچک کیسے پیدا کی جائے۔
اس مقالے کا موضوع اس وقت خاص اہمیت کا حامل ہے جب عالمی معیشت مختلف جغرافیائی سیاسی عوامل سے متاثر ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک کی معیشتیں تیل کی آمدنی پر انحصار سے تنوع کی طرف بڑھ رہی ہیں، اور ایسے میں جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے مقابلے میں لچک پیدا کرنا ان کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کیا تیل پر انحصار کم کرنے کی کوششیں خلیجی معیشتوں کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ بنا سکیں گی؟
اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خزانہ کی سطح پر بات چیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مالیاتی اور اقتصادی تعاون کا دائرہ کار کس قدر وسیع ہے۔ کسٹمز یونین، مشترکہ مارکیٹ، علاقائی پیش رفت اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری، یہ سب ایسے موضوعات ہیں جو خلیجی اقتصادی انضمام کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
بحرین میں ہونے والا یہ اجلاس اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جی سی سی کے رکن ممالک اپنے اجلاسوں کی میزبانی گردش کے اصول پر کرتے ہیں۔ بحرین کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت شیخ سلمان الخلیفہ نے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ سعودی وفد کی قیادت وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کی۔
جی سی سی کے سیکرٹری جنرل کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اجلاس میں فیصلہ سازی کے عمل میں سیکرٹریٹ کی کیا کردار ہے۔ سیکرٹری جنرل کی موجودگی میں ہونے والی بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کا عمل کس طرح ادارہ جاتی سطح پر جاری رہتا ہے۔
اجلاس میں علاقائی پیش رفت کے ممکنہ اثرات پر بات چیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خلیجی ممالک اپنی اقتصادی پالیسیوں کو کس طرح وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ مشترکہ رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور و فکر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
آئی ایم ایف کے مقالے پر ہونے والی بات چیت میں شرکاء نے اقتصادی امکانات اور پالیسی چیلنجز کا جائزہ لیا۔ مقالے کا عنوان ”Economic Prospects and Policy Challenges: Enhancing Economic Resilience to Geopolitical Shocks“ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے معاشی اثرات کو کس طرح دیکھتا ہے اور رکن ممالک کو کیا پالیسی مشورے دیتا ہے۔
کیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اس قسم کی مشترکہ بات چیت خلیجی ممالک کی اقتصادی پالیسی سازی میں کوئی نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ رابطہ کاری رکن ممالک کو عالمی اقتصادی رجحانات سے ہم آہنگ رہنے میں مدد دیتی ہے۔
اجلاس میں کسٹمز یونین کی پیش رفت کا جائزہ لینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خلیجی اقتصادی انضمام کا یہ ستون کس حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ کسٹمز یونین کے تحت رکن ممالک کے درمیان تجارت میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور سرحدی کارروائیوں میں یکسانی آتی ہے۔
خلیجی مشترکہ مارکیٹ کی پیش رفت کی نگرانی سے متعلق دورانیہ رپورٹ کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ رکن ممالک اس منصوبے کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیتے ہیں۔ مشترکہ مارکیٹ کے قیام کے لیے کئی مراحل طے کرنے ہوتے ہیں، اور دورانیہ رپورٹ ان مراحل کی نگرانی کا ذریعہ ہے۔
اجلاس میں علاقائی پیش رفت پر بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کس طرح اجتماعی طور پر سوچتے ہیں۔ مشترکہ رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور و فکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رکن ممالک ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ حکمت عملی اپنانے کے خواہاں ہیں۔
وزیر خزانہ محمد الجدعان کی قیادت میں سعودی وفد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت سعودی عرب خلیجی اقتصادی تعاون کے عمل میں کس قدر فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ سعودی عرب جی سی سی کا سب سے بڑا رکن ملک ہے اور اس کی معیشت خلیجی اقتصادی انضمام میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
کیا سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی اقتصادی تعاون کو نئی جہتیں مل سکتی ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ سعودی عرب کی وژن 2030 کے تحت اقتصادی تنوع کی کوششیں خلیجی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔
اجلاس میں بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت شیخ سلمان الخلیفہ کی صدارت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جی سی سی کے اندر صدارت کی گردش کا نظام کس طرح کام کرتا ہے۔ بحرین کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس خلیجی ممالک کے درمیان تعاون کی روایت کا حصہ ہے۔
جی سی سی کے وزرائے خزانہ کی سطح پر ہونے والی اس ملاقات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی اور اقتصادی تعاون کے معاملات میں فیصلہ سازی کس سطح پر ہوتی ہے۔ وزرائے خزانہ کی موجودگی میں ہونے والی بات چیت کے نتائج بعد میں متعلقہ اداروں کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے خلیجی ممالک کے ساتھ کس سطح پر رابطے میں ہیں۔ ان کی موجودگی میں ہونے والی بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس طرح مضبوط بنا رہے ہیں۔
اجلاس میں اقتصادی امکانات اور پالیسی چیلنجز پر ہونے والی بات چیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خلیجی ممالک اپنی اقتصادی پالیسیوں کو کس طرح عالمی رجحانات کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے مقابلے میں لچک پیدا کرنا اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کیا خلیجی ممالک اپنی اقتصادی پالیسیوں میں آئی ایم ایف کے مشوروں کو شامل کریں گے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ رابطہ کاری رکن ممالک کی اقتصادی پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں کسٹمز یونین اور مشترکہ مارکیٹ کے علاوہ علاقائی پیش رفت پر بھی بات ہوئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی اقتصادی تعاون کا دائرہ کار کس قدر وسیع ہے۔ رکن ممالک اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خزانہ اور سیکرٹری جنرل شامل تھے۔ رپورٹ میں اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت کے تفصیلی نکات، فیصلوں کی نوعیت یا ان کے نفاذ کے شیڈول کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کسٹمز یونین کی پیش رفت کے حوالے سے کوئی مخصوص فیصلہ ہوا یا نہیں، یا مشترکہ مارکیٹ کی دورانیہ رپورٹ میں کون سے اعداد و شمار شامل تھے۔ اسی طرح آئی ایم ایف کے مقالے پر ہونے والی بات چیت کے نتائج کے بارے میں بھی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
اجلاس کے انعقاد کی تاریخ یکم اکتوبر 2026 ہے، جبکہ ایس پی اے کی رپورٹ 2 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ اجلاس بحرین کی بادشاہت میں ہوا، اور اس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت شیخ سلمان الخلیفہ نے کی۔
کیا خلیجی مالیاتی و اقتصادی تعاون کمیٹی کے اجلاسوں کے نتائج عوامی سطح پر دستیاب ہوتے ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ اجلاس میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات عام طور پر محدود ہوتی ہیں، اور رپورٹ میں بھی صرف موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خزانہ کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مالیاتی تعاون کے معاملات میں فیصلہ سازی اعلیٰ سطح پر ہوتی ہے۔ وزرائے خزانہ کی موجودگی میں ہونے والی بات چیت کے بعد متعلقہ ادارے ان پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے وزیر خزانہ محمد الجدعان کی قیادت میں وفد کی شرکت اس بات کا مظاہرہ کرتی ہے کہ مملکت خلیجی اقتصادی تعاون کے عمل میں کس قدر سنجیدگی سے حصہ لے رہی ہے۔ سعودی عرب کی معیشت خلیجی خطے میں سب سے بڑی ہے، اور اس کی شرکت اس عمل کو تقویت دیتی ہے۔
اجلاس میں علاقائی پیش رفت اور ان کے ممکنہ اثرات پر بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی اقتصادی سلامتی کو کس طرح وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ مشترکہ رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور و فکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رکن ممالک ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
آئی ایم ایف کے مقالے کا عنوان ”Economic Prospects and Policy Challenges: Enhancing Economic Resilience to Geopolitical Shocks“ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے معاشی اثرات کو کس طرح دیکھتا ہے۔ اس مقالے پر ہونے والی بات چیت میں شرکاء نے اقتصادی امکانات اور پالیسی چیلنجز کا جائزہ لیا۔
کیا جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے مقابلے میں اقتصادی لچک پیدا کرنے کے لیے خلیجی ممالک کو اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ مقالے کا موضوع ہی اس بات پر مرکوز تھا کہ کس طرح لچک پیدا کی جائے۔
اجلاس میں کسٹمز یونین کی پیش رفت کا جائزہ لینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خلیجی اقتصادی انضمام کا یہ ستون کس حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ کسٹمز یونین کے تحت رکن ممالک کے درمیان تجارت میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور سرحدی کارروائیوں میں یکسانی آتی ہے۔
خلیجی مشترکہ مارکیٹ کی پیش رفت کی نگرانی سے متعلق دورانیہ رپورٹ کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ رکن ممالک اس منصوبے کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیتے ہیں۔ مشترکہ مارکیٹ کے قیام کے لیے کئی مراحل طے کرنے ہوتے ہیں، اور دورانیہ رپورٹ ان مراحل کی نگرانی کا ذریعہ ہے۔
اجلاس میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اجلاس میں فیصلہ سازی کے عمل میں سیکرٹریٹ کا کیا کردار ہے۔ سیکرٹری جنرل کی موجودگی میں ہونے والی بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کا عمل کس طرح ادارہ جاتی سطح پر جاری رہتا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خزانہ اور سیکرٹری جنرل شامل تھے۔ رپورٹ میں اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت کے تفصیلی نکات، فیصلوں کی نوعیت یا ان کے نفاذ کے شیڈول کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔
جی سی سی مالیاتی و اقتصادی تعاون کمیٹی کا 126واں اجلاس کب اور کہاں ہوا؟ اجلاس یکم اکتوبر 2026 کو بحرین کی بادشاہت میں ہوا، اور اس کی صدارت بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت شیخ سلمان الخلیفہ نے کی۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی 2 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خزانہ اور سیکرٹری جنرل نے شرکت کی۔ سعودی وفد کی قیادت وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کی۔
اجلاس میں کون سے اہم موضوعات کا جائزہ لیا گیا؟ وزراء نے مالیاتی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق متعدد موضوعات کا جائزہ لیا، جن میں جی سی سی کسٹمز یونین میں حاصل ہونے والی پیش رفت اور خلیجی مشترکہ مارکیٹ کی پیش رفت کی نگرانی سے متعلق دورانیہ رپورٹ کی منظوری شامل تھی۔ انہوں نے علاقائی پیش رفت اور جی سی سی ممالک پر اس کے ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں کیا بات ہوئی؟ وزیر خزانہ محمد الجدعان نے جی سی سی ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی، جس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا موجود تھیں۔ شرکاء نے آئی ایم ایف کے مقالے ”Economic Prospects and Policy Challenges: Enhancing Economic Resilience to Geopolitical Shocks“ پر بات کی، جس کا موضوع جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے مقابلے میں اقتصادی لچک بڑھانا تھا۔
کسٹمز یونین کی پیش رفت کا جائزہ کیوں اہم ہے؟ کسٹمز یونین کا قیام خلیجی اقتصادی انضمام کی بنیادوں میں سے ایک ہے، اور اس کی پیش رفت کی نگرانی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک اس عمل کو کس حد تک آگے بڑھا رہے ہیں۔ کسٹمز یونین کے تحت رکن ممالک کے درمیان تجارت میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور سرحدی کارروائیوں میں یکسانی آتی ہے۔ اجلاس میں اس پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
خلیجی مشترکہ مارکیٹ کی دورانیہ رپورٹ کیا ہے؟ اجلاس میں خلیجی مشترکہ مارکیٹ کی پیش رفت کی نگرانی سے متعلق دورانیہ رپورٹ کی منظوری دی گئی۔ مشترکہ مارکیٹ کا تصور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خلیجی شہریوں کو رکن ممالک میں معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ دورانیہ رپورٹ اس منصوبے کے مراحل کی باقاعدہ نگرانی کا ذریعہ ہے۔
اجلاس میں علاقائی پیش رفت پر کیا بات ہوئی؟ وزراء نے علاقائی پیش رفت اور جی سی سی ممالک پر اس کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا، اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔





