مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے امام شیخ عبداللہ البعیجان نے جمعہ کے خطبے میں قناعت کو دل کا سب سے بڑا خزانہ اور اندرونی سکون کی حقیقی بنیاد قرار دیا، اور خبردار کیا کہ لالچ اور حسد مادی دولت سے قطع نظر دل کو غریب بنا دیتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 2 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ خطبہ مسجد نبوی میں ادا کیا گیا، جہاں ہر جمعہ کو ہزاروں نمازی جمع ہوتے ہیں اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین بھی اس خطبے سے مستفید ہوتے ہیں۔
شیخ البعیجان نے واضح کیا کہ قناعت کا مطلب بے بسی یا کام سے غفلت نہیں ہے، بلکہ یہ رزق کی محنت سے طلب اور اللہ پر مضبوط توکل کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ اکثر لوگ قناعت کو غلط سمجھتے ہوئے محنت ترک کر دیتے ہیں یا اس کے برعکس صرف مادی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہمارے پاس موجود نعمتوں کا شمار کرنا ہی ہمیں کس طرح سکون دیتا ہے؟ امام صاحب نے بتایا کہ قناعت انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے رزق کے لیے کوشش کرے مگر نتائج پر اللہ کے فیصلے پر راضی رہے۔ یہ رویہ انسان کو حسد اور لالچ سے بچاتا ہے، جو دل کو خالی کر دیتے ہیں چاہے بینک بیلنس کتنا ہی بڑا ہو۔
خطبے میں انہوں نے مزید فرمایا کہ مادی دولت کی نمائش اور دکھاوا ان لوگوں کے دلوں کو زخمی کرتا ہے جو کم وسائل رکھتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہماری ظاہری شان و شوکت کسی غریب کے دل پر کیا اثر ڈالتی ہے؟ یہ سوال ہر اس شخص کے لیے ہے جو اپنی کامیابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کے جذبات کا خیال نہیں رکھتا۔
امام مسجد نبوی نے آخر میں ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی کی تلقین کی اور دولت کے دکھاوے سے خبردار کیا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ معاشرے میں ہمدردی اور سخاوت ہی اصل دولت ہے، اور یہی چیزیں انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دیتی ہیں۔
کیا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں قناعت کے اس پیغام کو اپنا سکتے ہیں؟ یہ خطبہ اس وقت آیا ہے جب دنیا بھر میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں قناعت کا پیغام نہایت بروقت ہے۔
شیخ عبداللہ البعیجان کا تعلق سعودی عرب کے معروف علماء میں سے ہے اور وہ مسجد نبوی میں خطبہ دینے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ ان کے خطبات میں عموماً معاشرتی اصلاح، روحانی تربیت اور اسلامی اقدار پر زور دیا جاتا ہے۔
مسجد نبوی میں جمعہ کا خطبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں سے دیا گیا پیغام مختلف ممالک تک پہنچتا ہے۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق، یہ خطبہ 2 اکتوبر 2026 کو ادا کیا گیا۔
کیا ہم نے کبھی محسوس کیا کہ قناعت ہمیں کس طرح بے جا مقابلے سے بچاتی ہے؟ آج کے دور میں جب سوشل میڈیا پر دکھاوے کا رجحان عام ہے، ایسے پیغامات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ امام صاحب نے واضح کیا کہ قناعت محنت کے خلاف نہیں بلکہ محنت کے ساتھ توکل کا نام ہے۔
یہ خطبہ یاد دلاتا ہے کہ حقیقی خوشی مادی چیزوں کی کثرت میں نہیں بلکہ دل کی سکون میں ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ دوسروں سے آگے نکلنے کی بجائے اپنی نعمتوں پر شکر کرنا سیکھیں؟
امام مسجد نبوی نے ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ دولت کا دکھاوا ان کے دلوں کو زخمی کرتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہمارا ایک سادہ عمل کسی کی زندگی بدل سکتا ہے؟
اس خطبے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ قناعت دل کی دولت ہے، اور یہ کہ انسان کو اپنے رزق کی طلب میں محنت کرنی چاہیے مگر اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیے۔ یہ توازن ہی انسان کو حسد اور لالچ سے بچاتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ قناعت کی تعلیم اسلام میں کتنی اہمیت رکھتی ہے؟ یہ صرف ایک روحانی تصور نہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کا ضامن بھی ہے۔ جب لوگ اپنی حالت پر راضی رہتے ہیں تو وہ دوسروں سے حسد نہیں کرتے اور معاشرہ پرسکون رہتا ہے۔
مسجد نبوی کے امام نے اپنے خطبے میں یہ بھی واضح کیا کہ قناعت بے بسی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، محنت کرے، مگر پھر بھی اللہ پر بھروسہ رکھے۔ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ چلتی ہیں۔
کیا ہم اپنی مصروف زندگی میں اس توازن کو قائم کر پاتے ہیں؟ اکثر لوگ یا تو محنت چھوڑ دیتے ہیں یا پھر نتائج کے بارے میں بے جا پریشان رہتے ہیں۔ خطبے کا پیغام یہ ہے کہ دونوں انتہاؤں سے بچا جائے۔
امام صاحب نے دولت کے دکھاوے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کم وسائل والوں کے دلوں کو زخمی کرتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری ایک تصویر یا ایک پوسٹ کسی کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہے؟
یہ خطبہ سعودی عرب میں جمعہ کے خطبات کی روایت کا حصہ ہے، جہاں مسجد نبوی اور مسجد الحرام کے ائمہ ہر ہفتے مختلف موضوعات پر رہنمائی کرتے ہیں۔ ان خطبات کو سعودی خبر رساں ادارہ ایس پی اے بھی نشر کرتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ یہ خطبات کس طرح دنیا بھر کے مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہیں؟ مسجد نبوی سے دیا گیا پیغام نہ صرف مدینہ میں موجود نمازیوں تک پہنچتا ہے بلکہ مختلف ذرائع سے دور دراز تک جاتا ہے۔
شیخ عبداللہ البعیجان نے اپنے خطبے میں قناعت کو دل کا سب سے بڑا خزانہ قرار دیا۔ یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حقیقی مال و دولت وہ نہیں جو باہر نظر آتا ہے بلکہ وہ سکون جو اندر محسوس ہوتا ہے۔
کیا ہم اپنی زندگیوں میں اس خزانے کی تلاش کر رہے ہیں؟ یہ سوال ہر اس شخص کے لیے ہے جو مادی کامیابی کے پیچھے بھاگتے ہوئے اندرونی سکون کھو بیٹھا ہے۔
خطبے میں ہمدردی کی تلقین بھی کی گئی، جس کا مطلب ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات کا خیال رکھا جائے۔ کیا ہم نے کبھی اپنے آس پاس کے ضرورت مندوں کا جائزہ لیا کہ ان کی کیا ضروریات ہیں؟
امام مسجد نبوی کا یہ خطبہ ایک جامع پیغام ہے جو روحانی، معاشرتی اور اخلاقی پہلوؤں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ قناعت، محنت، توکل، ہمدردی اور دکھاوے سے پرہیز کس طرح ایک متوازن زندگی کی بنیاد ہیں۔
رپورٹ میں خطبے کی مزید تفصیلات، شرکاء کی تعداد یا دیگر اعلانات نہیں دیے گئے۔ ایس پی اے نے صرف امام صاحب کے بیان کا خلاصہ پیش کیا ہے۔
امام مسجد نبوی نے قناعت کے بارے میں کیا فرمایا؟ شیخ عبداللہ البعیجان نے قناعت کو دل کا سب سے بڑا خزانہ اور اندرونی سکون کی حقیقی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لالچ اور حسد مادی دولت سے قطع نظر دل کو غریب بنا دیتے ہیں۔ یہ خطبہ مسجد نبوی میں جمعہ کے موقع پر 2 اکتوبر 2026 کو ادا کیا گیا، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا۔
کیا قناعت کا مطلب بے بسی یا کام چھوڑ دینا ہے؟ نہیں، شیخ البعیجان نے واضح کیا کہ قناعت بے بسی یا کام سے غفلت نہیں ہے۔ اس کا مطلب رزق کی محنت سے طلب اور اللہ پر مضبوط توکل کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ یعنی انسان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے مگر نتائج پر اللہ کے فیصلے پر راضی رہے۔ یہ وضاحت ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل ہے۔
دولت کے دکھاوے کے بارے میں کیا تنبیہ کی گئی؟ امام مسجد نبوی نے دولت کے دکھاوے سے خبردار کیا اور کہا کہ یہ ان لوگوں کے دلوں کو زخمی کرتا ہے جو کم وسائل رکھتے ہیں۔ انہوں نے ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی کی تلقین کی۔ یہ پیغام سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 2 اکتوبر 2026 کے جمعہ کے خطبے میں دیا گیا۔
یہ خطبہ کہاں اور کب ادا کیا گیا؟ یہ خطبہ مسجد نبوی، مدینہ منورہ میں جمعہ کے موقع پر 2 اکتوبر 2026 کو ادا کیا گیا۔ امام شیخ عبداللہ البعیجان نے خطاب کیا۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے مقامی وقت کے مطابق دو بج کر آٹھ منٹ پر اس کی اطلاع دی۔ مسجد نبوی میں جمعہ کا خطبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
خطبے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟ مرکزی پیغام یہ ہے کہ قناعت دل کی دولت ہے اور حقیقی سکون مادی چیزوں کی کثرت میں نہیں بلکہ اللہ کے فیصلے پر رضا میں ہے۔ امام صاحب نے محنت اور توکل کے توازن، ہمدردی اور دکھاوے سے پرہیز پر زور دیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں خطبے کی مزید تفصیلات یا شرکاء کی تعداد نہیں دی گئی۔





