Sunday, November 1, 2026
ثقافت

شام کے وزیر ثقافت نے مدینہ ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سینٹر کا دورہ کیا

شام کے وزیر ثقافت نے مدینہ ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سینٹر کا دورہ کیا

شام کے وزیر ثقافت محمد یاسین صالح نے یکم اکتوبر 2026 کو مدینہ ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکز کے سائنسی اور ثقافتی کاموں اور منصوبوں کا جائزہ لیا، نیز مدینہ کی تاریخ کی دستاویز سازی اور اس کے ورثے اور تہذیبی میراث کے تحفظ کی کوششوں کا معائنہ کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، وزیر نے مرکز کی عمارتوں اور خصوصی لائبریری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مدینہ کی تاریخ، نشانات اور ورثے سے متعلق ذرائع، حوالہ جات اور علمی مجموعوں کی بھرپور ذخیرہ دیکھی، نیز محققین اور مدینہ کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کو فراہم کی جانے والی علمی اور تحقیقی خدمات کا جائزہ لیا۔

کیا مدینہ کی تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے مراکز کا کردار ناقابلِ تبادلہ نہیں؟ وزیر نے مدینہ کی نایاب تصاویر کی نمائش کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے اس کے مجموعوں کا ایک حصہ دیکھا جو شہر کی تاریخی اور شہری ترقی کی دستاویز کرتا ہے، جو اس کی گہری تاریخ اور تہذیبی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی بصری یادداشت کو محفوظ رکھنے اور اسے آنے والی نسلوں اور محققین کے لیے قابلِ رسائی بنانے میں معاون ہے۔

وزیر کو مرکز کی ان کوششوں سے آگاہ کیا گیا جو تاریخی ذرائع، دستاویزات اور تصاویر کو جمع کرنے، محفوظ کرنے، فہرست سازی کرنے اور دستیاب بنانے سے متعلق ہیں، نیز تحقیق، دستاویز سازی اور علمی اشاعت کے میدان میں اس کے کام سے بھی آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے مدینہ اور مسجد الحرام و مسجد نبوی کی تاریخ کے تحفظ اور ان کی تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی میراث کے تحفظ کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔

کیا مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے متعلق تاریخی مواد کے تحفظ کے لیے علمی اداروں کا تعاون ضروری نہیں؟ مدینہ ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سینٹر اپنے قیام سے ہی مدینہ کی تاریخ، اس کے نشانات اور ورثے سے متعلق ذرائع کو جمع کرنے اور انہیں محققین کی دسترس میں لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، اور اس کا خصوصی کتب خانہ اس سلسلے میں ایک اہم علمی ذخیرہ تصور کیا جاتا ہے۔

دورے کے اختتام پر وزیر نے مرکز کے سائنسی اور ثقافتی کردار اور مدینہ کی تاریخ اور ورثے کے تحفظ اور مسجد الحرام و مسجد نبوی سے متعلق تاریخی ذرائع اور مواد کے تحفظ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے سائنسی تحقیق کی معاونت، علم کو فروغ دینے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں اس کی شراکت کو بھی سراہا۔

کیا مدینہ جیسے مقدس شہر کی تاریخ کی دستاویز سازی صرف ایک علمی مشق ہے یا یہ تہذیبی شناخت کے تحفظ کا ذریعہ بھی ہے؟ وزیر ثقافت کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مدینہ کی تاریخی اور شہری ترقی کی دستاویز سازی کے کام کو علمی حلقوں میں مسلسل اہمیت حاصل رہی ہے، اور مرکز کی جانب سے جمع کی گئی تصاویر اور دستاویزات اس شہر کی بصری یادداشت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

مدینہ ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سینٹر کی کوششیں صرف جمع آوری تک محدود نہیں بلکہ اس میں فہرست سازی، تحفظ اور علمی اشاعت بھی شامل ہے، جس سے محققین کو مدینہ کی تاریخ اور اس کے نشانات سے متعلق مستند مواد تک رسائی میں سہولت ملتی ہے۔ کیا ایسے علمی ادارے خطے کی مشترکہ تہذیبی میراث کے تحفظ میں پل کا کردار ادا نہیں کرتے؟

وزیر نے مرکز کے خصوصی کتب خانے کا دورہ کرتے ہوئے اس کے علمی مجموعوں کا معائنہ کیا جو مدینہ کی تاریخ، اس کے نشانات اور ورثے سے متعلق ذرائع اور حوالہ جات پر مشتمل ہیں، اور یہ مجموعے محققین اور تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے علمی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس دورے میں مدینہ کی نایاب تصاویر کی نمائش بھی شامل تھی، جس کے مجموعوں کا ایک حصہ شہر کی تاریخی اور شہری ترقی کو دستاویز کرتا ہے۔

کیا تاریخی تصاویر اور دستاویزات کو محفوظ کرنا آنے والی نسلوں کے لیے تہذیبی تسلسل کو یقینی بناتا ہے؟ مرکز کی جانب سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی تاریخ اور ان کی تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی میراث کے تحفظ کی کوششیں بھی وزیر کے دورے کا حصہ رہیں، جن کا مقصد تاریخی ذرائع اور مواد کو محفوظ رکھنا ہے۔

دورے کے اختتام پر وزیر نے مرکز کے کردار کو سراہتے ہوئے سائنسی تحقیق کی معاونت، علم کو فروغ دینے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں اس کی شراکت کو تسلیم کیا۔ کیا ثقافتی ورثے کا تحفظ علمی اداروں اور سرکاری سطح پر تعاون کے بغیر ممکن ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں اس دورے کے دوران کسی معاہدے یا تعاون کے نئے منصوبے کا ذکر نہیں کیا گیا، اور نہ ہی وزیر کے دورے کے شیڈول یا مدت کے بارے میں مزید تفصیلات دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں مرکز کے منصوبوں کی تکمیل یا توسیع سے متعلق کوئی اعلان بھی شامل نہیں ہے۔

شام کے وزیر ثقافت نے مدینہ میں کس مرکز کا دورہ کیا؟ شام کے وزیر ثقافت محمد یاسین صالح نے یکم اکتوبر 2026 کو مدینہ ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سینٹر کا دورہ کیا۔ انہوں نے مرکز کے سائنسی اور ثقافتی کاموں اور منصوبوں کا جائزہ لیا اور مدینہ کی تاریخ کی دستاویز سازی اور ورثے کے تحفظ کی کوششوں کا معائنہ کیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ دورہ مرکز کی علمی اور تحقیقی خدمات کے جائزے کا حصہ تھا۔

وزیر نے مرکز میں کون سی سہولیات دیکھیں؟ وزیر نے مرکز کی عمارتوں اور خصوصی لائبریری کا دورہ کیا، جہاں مدینہ کی تاریخ، نشانات اور ورثے سے متعلق ذرائع، حوالہ جات اور علمی مجموعے موجود ہیں۔ انہوں نے مدینہ کی نایاب تصاویر کی نمائش بھی دیکھی، جس کے مجموعے شہر کی تاریخی اور شہری ترقی کو دستاویز کرتے ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق انہیں تحقیق، دستاویز سازی اور علمی اشاعت کے کام سے بھی آگاہ کیا گیا۔

مرکز کی جانب سے کون سے کام کیے جاتے ہیں؟ مرکز تاریخی ذرائع، دستاویزات اور تصاویر کو جمع کرنے، محفوظ کرنے، فہرست سازی کرنے اور دستیاب بنانے پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق، دستاویز سازی اور علمی اشاعت بھی اس کے کام کا حصہ ہے۔ ایس پی اے کے مطابق مرکز مدینہ اور مسجد الحرام و مسجد نبوی کی تاریخ اور ان کی تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی میراث کے تحفظ کی کوششیں بھی کرتا ہے۔

وزیر نے دورے کے اختتام پر کیا کہا؟ وزیر نے دورے کے اختتام پر مرکز کے سائنسی اور ثقافتی کردار کی تعریف کی اور مدینہ کی تاریخ اور ورثے کے تحفظ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مسجد الحرام و مسجد نبوی سے متعلق تاریخی ذرائع اور مواد کے تحفظ کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے سائنسی تحقیق کی معاونت، علم کو فروغ دینے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں مرکز کی شراکت کو تسلیم کیا۔

کیا رپورٹ میں کسی معاہدے کا ذکر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس دورے کے دوران کسی معاہدے یا تعاون کے نئے منصوبے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں وزیر کے دورے کے شیڈول یا مدت کے بارے میں بھی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ مرکز کے منصوبوں کی تکمیل یا توسیع سے متعلق کوئی اعلان بھی رپورٹ کا حصہ نہیں ہے۔