Sunday, November 1, 2026
معیشت

جازان میں سعودی کافی: دس لاکھ سے زائد درخت، صدیوں کی وراثت اور بڑھتی معیشت

جازان میں سعودی کافی: دس لاکھ سے زائد درخت، صدیوں کی وراثت اور بڑھتی معیشت

جازان کے پہاڑی علاقوں میں دس لاکھ سے زائد پھل دینے والے درخت سالانہ 650 ٹن سے زائد خالص کافی پیدا کر رہے ہیں، اور یہ شعبہ تین صدیوں سے زائد زرعی وراثت کو جدید سرمایہ کاری سے جوڑ رہا ہے۔ یہ تفصیلات یکم اکتوبر کو بین الاقوامی کافی ڈے کے موقع پر سامنے آئیں، جب جازان کے علاقے نے اپنے کافی کی کاشت کے شعبے کا جائزہ پیش کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، جازان میں کافی کی کاشت نسلوں سے تاریخی پہاڑی چبوتروں پر کی جا رہی ہے، اور یہ خطہ کافی کی پیداوار اور سرمایہ کاری دونوں لحاظ سے مسلسل پھیل رہا ہے۔ کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایک خطے کی زرعی وراثت تین صدیوں تک اپنی جڑیں مضبوط رکھے اور پھر جدید معیشت کا ستون بن جائے؟

یونیسکو کی عالمی شناخت اور خولانی کافی

سعودی کافی کو عالمی شہرت 2022 میں اس وقت حاصل ہوئی جب یونیسکو نے «خولانی کافی کی کاشت سے متعلق علم اور طریقوں» کو انسانیت کے غیر محسوس ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا۔ یہ اعتراف ملکی سطح پر جاری کوششوں کا نتیجہ تھا، جن کا آغاز 2013 میں الدایر گورنریٹ میں کافی فیسٹیول کے انعقاد سے ہوا۔

اس کے بعد 2016 میں حکومتی معاونت کو وسعت دی گئی، جس کے تحت پہاڑی چبوتروں کی بحالی، پودوں کی تقسیم اور آبپاشی کے نظام کو جدید بنانے کے کام شروع ہوئے۔ کیا یونیسکو کی فہرست میں شامل ہونا کسی زرعی روایت کے لیے بین الاقوامی منڈیوں کے دروازے کھولنے کا سبب بن سکتا ہے؟

جازان کافی کوآپریٹو، جو مملکت کا پہلا خصوصی کافی کوآپریٹو ہے اور 2022 میں قائم ہوا، اب 2,300 سے زائد کسانوں اور مستفیدین کی خدمت کر رہا ہے۔ اس کے 850 شیئر ہولڈرز ہیں، جبکہ 150 سے زائد خواتین شرکاء کو بااختیار بنایا جا رہا ہے اور فصل کے معیار اور مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے 15 سے زائد شراکت داریاں نافذ کی جا رہی ہیں۔

کیا ایک کوآپریٹو ڈھانچہ چھوٹے کسانوں کے لیے منڈی تک رسائی آسان بنا سکتا ہے؟ رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ جاتی ترقی ہی جازان کی کافی کو مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی بنانے کی بنیاد فراہم کر رہی ہے۔

مالی معاونت اور دیہی ترقی

ان کوششوں کو مضبوط مالی معاونت حاصل ہے۔ زرعی ترقیاتی فنڈ کی جازان شاخ کے مطابق، 2025 میں سعودی کافی کے شعبے کو دیہی ترقی کی فنڈنگ کے تحت 60 ملین سعودی ریال سے زائد مالی معاونت فراہم کی گئی۔ یہ معاونت کسانوں کو فارم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور پیداوار کو بہتر کرنے کے قابل بناتی ہے۔

کیا مالی معاونت کے بغیر پہاڑی چبوتروں کی بحالی اور آبپاشی کے نظام کی جدید کاری ممکن تھی؟ رپورٹ کے مطابق یہ فنڈنگ جازان کی زندہ ثقافتی وراثت کو ایک پائیدار اور مسابقتی معاشی محرک میں تبدیل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔

جازان کی کافی کی کاشت صرف ایک زرعی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ثقافتی روایت ہے جو نسلوں سے منتقل ہو رہی ہے۔ پہاڑی چبوتروں پر کاشت کی جانے والی کافی کو خولانی کہا جاتا ہے، اور یہی نام یونیسکو کی فہرست میں درج علم اور طریقوں سے جڑا ہوا ہے۔ کیا یہ وراثت آنے والی نسلوں کے لیے معاشی مواقع بھی پیدا کر رہی ہے؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2013 میں الدایر گورنریٹ میں کافی فیسٹیول کا آغاز ہوا، جو اس شعبے کی فروغ کے لیے ایک اہم قدم تھا۔ اس کے بعد 2016 میں حکومتی معاونت میں اضافہ ہوا، جس میں چبوتروں کی بحالی، پودوں کی تقسیم اور آبپاشی کے نظام کی جدید کاری شامل تھی۔ کیا اس طرح کے میلے اور حکومتی اقدامات کسانوں کو اپنی روایتی کاشت جاری رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں؟

جازان کافی کوآپریٹو کی تشکیل 2022 میں ہوئی، اور یہ مملکت کا پہلا خصوصی کافی کوآپریٹو ہے۔ یہ ادارہ 2,300 سے زائد کسانوں اور مستفیدین کی خدمت کر رہا ہے، جن میں 850 شیئر ہولڈرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 150 سے زائد خواتین شرکاء کو بااختیار بنایا جا رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ کافی کی کاشت میں خواتین کا کردار بھی بڑھ رہا ہے۔

کوآپریٹو نے 15 سے زائد شراکت داریاں بھی کی ہیں جن کا مقصد فصل کے معیار کو بہتر بنانا اور منڈی تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔ کیا شراکت داریاں کسانوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق پیداوار تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہیں؟

زرعی ترقیاتی فنڈ کی جازان شاخ کے مطابق 2025 میں کافی کے شعبے کو 60 ملین سعودی ریال سے زائد کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔ یہ رقم دیہی ترقی کی فنڈنگ کا حصہ ہے، اور اس کا مقصد کسانوں کو فارم کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور پیداوار کو بہتر بنانے میں مدد دینا ہے۔ کیا یہ معاونت جازان کی کافی کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی بنانے کے لیے کافی ہے؟

رپورٹ کے مطابق جازان میں کافی کی کاشت تین صدیوں سے زائد پرانی زرعی وراثت ہے، اور یہ خطہ اب جدید سرمایہ کاری کو بھی اپنا رہا ہے۔ دس لاکھ سے زائد پھل دینے والے درخت سالانہ 650 ٹن سے زائد خالص کافی پیدا کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جازان مملکت کی کافی کی پیداوار میں اہم مقام رکھتا ہے۔

یونیسکو کا 2022 کا فیصلہ سعودی کافی کی عالمی شناخت کا ایک اہم موڑ تھا۔ «خولانی کافی کی کاشت سے متعلق علم اور طریقوں» کو انسانیت کے غیر محسوس ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کرنا اس بات کا اعتراف تھا کہ یہ کاشت صرف معاشی سرگرمی نہیں بلکہ علم اور روایت کا مجموعہ ہے۔ کیا اس طرح کی بین الاقوامی شناخت مقامی کسانوں کی محنت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے؟

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2016 میں حکومتی معاونت کے تحت پہاڑی چبوتروں کی بحالی، پودوں کی تقسیم اور آبپاشی کے نظام کی جدید کاری کے کام کیے گئے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ روایتی کاشت جدید تقاضوں کے مطابق جاری رہے۔ کیا روایتی چبوتروں کی بحالی کے بغیر کافی کی پیداوار میں اضافہ ممکن تھا؟

جازان کافی کوآپریٹو کے 850 شیئر ہولڈرز اور 2,300 سے زائد مستفیدین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کسانوں کی اجتماعی شرکت کو ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے۔ 150 سے زائد خواتین شرکاء کی شمولیت اور 15 سے زائد شراکت داریاں اس شعبے کی جامع ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں 60 ملین سعودی ریال سے زائد کی مالی معاونت دیہی ترقی کے تحت فراہم کی گئی۔ یہ فنڈنگ کسانوں کو فارم کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور پیداوار کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، جس سے جازان کی کافی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی بن سکتی ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں کافی کی فی درخت اوسط پیداوار، برآمدات کے حجم، یا کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح مختلف منڈیوں میں قیمتوں یا برآمدی منزلوں کا ذکر بھی موجود نہیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ جازان میں کافی کی کاشت تین صدیوں سے زائد پرانی وراثت ہے، جسے یونیسکو نے 2022 میں تسلیم کیا، اور یہ کہ 2025 میں 60 ملین سعودی ریال سے زائد کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔

بین الاقوامی کافی ڈے کے موقع پر جازان کی کافی کا یہ جائزہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زرعی وراثت اور جدید سرمایہ کاری ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ دس لاکھ سے زائد درخت، 650 ٹن سے زائد سالانہ پیداوار، 2,300 سے زائد مستفیدین، 850 شیئر ہولڈرز، 150 سے زائد خواتین شرکاء، 15 سے زائد شراکت داریاں اور 60 ملین سعودی ریال سے زائد کی مالی معاونت—یہ سب مل کر جازان کے کافی کے شعبے کی موجودہ تصویر بناتے ہیں۔ کیا یہ ماڈل مملکت کے دیگر زرعی شعبوں کے لیے بھی قابل تقلید ہے؟

جازان میں کافی کی کاشت کتنی پرانی ہے اور کتنی پیداوار ہوتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق جازان میں کافی کی کاشت تین صدیوں سے زائد پرانی زرعی وراثت ہے، جو نسلوں سے پہاڑی چبوتروں پر کی جا رہی ہے۔ اس وقت دس لاکھ سے زائد پھل دینے والے درخت سالانہ 650 ٹن سے زائد خالص کافی پیدا کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جازان مملکت کی کافی کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

یونیسکو نے سعودی کافی کو کب اور کیسے تسلیم کیا؟ 2022 میں یونیسکو نے «خولانی کافی کی کاشت سے متعلق علم اور طریقوں» کو انسانیت کے غیر محسوس ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا۔ یہ اعتراف ملکی کوششوں کا نتیجہ تھا، جن کا آغاز 2013 میں الدایر گورنریٹ میں کافی فیسٹیول سے ہوا اور 2016 میں حکومتی معاونت میں اضافے کے ساتھ جاری رہا۔

جازان کافی کوآپریٹو کیا خدمات فراہم کر رہا ہے؟ جازان کافی کوآپریٹو، جو مملکت کا پہلا خصوصی کافی کوآپریٹو ہے اور 2022 میں قائم ہوا، 2,300 سے زائد کسانوں اور مستفیدین کی خدمت کر رہا ہے۔ اس کے 850 شیئر ہولڈرز ہیں، 150 سے زائد خواتین شرکاء کو بااختیار بنایا جا رہا ہے، اور فصل کے معیار اور مارکیٹ تک رسائی کے لیے 15 سے زائد شراکت داریاں نافذ کی جا رہی ہیں۔

کافی کے شعبے کو کتنی مالی معاونت ملی اور اس کا مقصد کیا ہے؟ زرعی ترقیاتی فنڈ کی جازان شاخ کے مطابق 2025 میں سعودی کافی کے شعبے کو دیہی ترقی کی فنڈنگ کے تحت 60 ملین سعودی ریال سے زائد مالی معاونت فراہم کی گئی۔ اس معاونت کا مقصد کسانوں کو فارم کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور پیداوار کو بہتر بنانے میں مدد دینا ہے، تاکہ جازان کی کافی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی بن سکے۔

حکومتی معاونت کے تحت کون سے اقدامات کیے گئے؟ رپورٹ کے مطابق 2016 میں حکومتی معاونت کو وسعت دی گئی، جس کے تحت پہاڑی چبوتروں کی بحالی، پودوں کی تقسیم اور آبپاشی کے نظام کو جدید بنانے کے کام کیے گئے۔ اس سے قبل 2013 میں الدایر گورنریٹ میں کافی فیسٹیول کا آغاز ہوا تھا، جو اس شعبے کی فروغ کے لیے ایک اہم قدم تھا۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں کافی کی فی درخت اوسط پیداوار، برآمدات کے حجم، کسانوں کی آمدنی میں اضافے، مختلف منڈیوں میں قیمتوں یا برآمدی منزلوں کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ جازان میں کافی کی کاشت تین صدیوں سے زائد پرانی وراثت ہے، جسے یونیسکو نے 2022 میں تسلیم کیا، اور 2025 میں 60 ملین سعودی ریال سے زائد کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔