Monday, November 2, 2026
سائنس

چاند اور ثریا کا ملاپ: قران 19 اور الوسم موسم کا آغاز

چاند اور ثریا کا ملاپ: قران 19 اور الوسم موسم کا آغاز

عرعر میں سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یکم اکتوبر 2026 کو مملکت کے آسمانوں پر کل چاند اور ثریا (Pleiades) کا قریبی ظاہری ملاپ دیکھا گیا، جو عرب لوک روایت میں قران 19 کہلاتا ہے اور روایتی طور پر الوسم موسم اور اس کے پہلے مرحلے وسم الحریف کے آغاز کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ روایتی موسمی اشارے جزیرہ نما عرب میں صدیوں سے موسموں کی تبدیلیوں کو جانچنے اور موسم کے انداز کو دیکھنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ بدو اور کسان انہی اشاروں کی بنیاد پر اپنے زرعی اور چرائی کے کاموں کا وقت مقرر کرتے تھے۔

ایسٹرونومی کلب کے رکن محمد الحازمی نے وضاحت کی کہ چاند کا ثریا کے ساتھ ملاپ روایت میں قران 19 کے نام سے جانا جاتا ہے اور لوک روایت میں اسے الوسم موسم کی آمد اور بتدریج ٹھنڈے موسم کی طرف منتقلی سے جوڑا جاتا ہے۔ روایتی مشاہدات اس عرصے کو مغرب اور جنوب مغرب سے بارش برسانے والے بادلوں کے بننے کے امکان سے بھی جوڑتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آسمان پر ایک نظر آنے والا ملاپ زمین پر کسانوں کے کیلنڈر کا حصہ کیسے بن جاتا ہے؟ الحازمی کے مطابق الوسم موسم تقریباً 81 دن تک جاری رہتا ہے اور اسے کئی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ وسم الحریف، جو اس موسم کا پہلا مرحلہ ہے، تقریباً 27 دن تک رہتا ہے۔

لوک روایت میں اس عرصے کی بارش کو بہاری نباتات کے اگنے اور زمین کو فقع (desert truffles) کے لیے تیار کرنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ فقع مقامی زبان میں صحرائی کھمبی کو کہا جاتا ہے، جس کا موسم عرب علاقوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

الحازمی نے نوٹ کیا کہ چاند اور ثریا کا ملاپ اور دیگر فلکیاتی مشاہدات طویل عرصے سے عرب برادریوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاریخی طور پر عرب لوگ قمری منزلیں، طلوع ہوتے ستارے اور ستاروں کی پوزیشنیں موسمی اشاروں کے طور پر استعمال کرتے تھے تاکہ زراعت، چرائی اور متوقع موسمی تبدیلیوں کا وقت طے کیا جا سکے۔

یہ روایت بتاتی ہے کہ جدید فلکیات سے پہلے آسمان ہی کسان کا کیلنڈر تھا۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ صحرا میں رہنے والے لوگ بغیر کسی آلے کے موسموں کا اتنا درست اندازہ کیسے لگاتے تھے؟ قمری منزلوں کا نظام اسی ضرورت کا نتیجہ تھا، جس میں ہر منزل آسمان کے ایک مخصوص حصے سے منسوب تھی۔

ثریا کا ملاپ اس نظام میں ایک نمایاں نشان سمجھا جاتا ہے۔ عرب شاعری اور کہاوتوں میں بھی ثریا کا ذکر بار بار ملتا ہے، جو اس کی ثقافتی گہرائی کا ثبوت ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک ستاروں کا جھرمٹ صدیوں سے لوگوں کی زبان اور کیلنڈر دونوں پر چھایا ہوا ہے؟

وسم الحریف کے 27 دن کا دورانیہ کسانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس عرصے میں بارش ہو جائے تو زمین نرم ہوتی ہے اور بہاری نباتات کے بیج اگنے لگتے ہیں۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف 27 دن کا یہ وقفہ کسی پورے موسم کی کامیابی کا فیصلہ کیسے کر دیتا ہے؟

فقع کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسی موسم کی بارشوں سے زمین کے نیچے تیار ہوتی ہے۔ عرب علاقوں میں فقع کو روایتی خوراک اور مقامی ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک صحرائی کھمبی کا موسم آسمانی ملاپ سے جڑا ہو؟ لوک روایت میں یہی تعلق بیان کیا جاتا ہے۔

مغرب اور جنوب مغرب سے بارش برسانے والے بادلوں کا امکان بھی اسی دور سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ سمت عرب علاقوں میں موسمی ہواؤں کے لیے جانی جاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ بادلوں کی سمت کا اندازہ لوگوں کو پہلے سے کیسے ہو جاتا تھا؟ روایتی مشاہدہ یہی بتاتا ہے۔

الوسم موسم کے کل 81 دن کئی ادوار میں بٹے ہوئے ہیں، اور ہر دور کا اپنا نام اور اپنی خصوصیت ہے۔ وسم الحریف پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد دیگر مراحل آتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ہی موسم کے اندر اتنے مراحل کیوں بنائے گئے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسان اور چرواہے ہر مرحلے کے مطابق اپنے کام بدلتے تھے۔

الحازمی کے مطابق یہ فلکیاتی مشاہدات محض دلچسپی کا موضوع نہیں بلکہ عملی رہنمائی کا ذریعہ تھے۔ زراعت، چرائی اور موسم کی توقعات، سب انہی اشاروں پر منحصر تھے۔ کیا آج کے دور میں بھی ان روایتی اشاروں کی کوئی اہمیت باقی ہے؟ بہت سے لوگ یہ مانتے ہیں کہ یہ علم نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاپ کل دیکھا گیا اور اسے قران 19 کے روایتی نشان کے طور پر بیان کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مشاہدہ کس آلے سے کیا گیا، نہ ہی اس کے علاوہ کوئی عددی تفصیل دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آئندہ کون سے فلکیاتی ملاپ متوقع ہیں۔

رپورٹ میں الوسم موسم کے 81 دن اور وسم الحریف کے 27 دن کے علاوہ کوئی مدت نہیں دی گئی۔ بارش، بادل یا فقع کے حوالے سے بھی کوئی مقداری پیش گوئی نہیں کی گئی۔ یہ تفصیلات روایتی علم اور الحازمی کے بیان پر مبنی ہیں، جیسا کہ ایس پی اے نے نقل کیا۔

قران 19 کیا ہے؟ قران 19 چاند اور ثریا کے قریبی ظاہری ملاپ کا روایتی نام ہے۔ ایسٹرونومی کلب کے رکن محمد الحازمی کے مطابق لوک روایت میں اسے الوسم موسم کی آمد اور بتدریج ٹھنڈے موسم کی طرف منتقلی سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ ملاپ یکم اکتوبر 2026 کو مملکت کے آسمانوں پر دیکھا گیا، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا۔

الوسم موسم کتنا طویل ہوتا ہے؟ الحازمی کے مطابق الوسم موسم تقریباً 81 دن تک جاری رہتا ہے اور اسے کئی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ وسم الحریف کہلاتا ہے، جو تقریباً 27 دن تک رہتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اسی دورانیے کا ذکر ہے، جبکہ باقی مراحل کی الگ الگ مدتیں نہیں دی گئیں۔

اس موسم کی بارش کو کیسا سمجھا جاتا ہے؟ لوک روایت میں اس عرصے کی بارش کو بہاری نباتات کے اگنے اور زمین کو فقع کے لیے تیار کرنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ الحازمی کے مطابق روایتی مشاہدات اس دور کو مغرب اور جنوب مغرب سے بارش برسانے والے بادلوں کے امکان سے بھی جوڑتے ہیں۔ ایس پی اے نے بارش کی مقدار یا پیش گوئی کے بارے میں کوئی عددی تفصیل نہیں دی۔

عرب لوگ ان اشاروں کو کیسے استعمال کرتے تھے؟ الحازمی کے مطابق عرب لوگ قمری منزلیں، طلوع ہوتے ستارے اور ستاروں کی پوزیشنیں موسمی اشاروں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ انہی اشاروں کی بنیاد پر زراعت، چرائی اور متوقع موسمی تبدیلیوں کا وقت طے کیا جاتا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ روایتی موسمی اشارے جزیرہ نما عرب میں موسموں کی تبدیلیوں کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

فقع کیا ہے اور اس کا اس موسم سے کیا تعلق ہے؟ فقع مقامی زبان میں صحرائی کھمبی کو کہا جاتا ہے۔ لوک روایت کے مطابق اس عرصے کی بارش زمین کو فقع کے لیے تیار کرنے میں مفید سمجھی جاتی ہے۔ الحازمی نے یہی تعلق بیان کیا، جبکہ ایس پی اے کی رپورٹ میں فقع کی پیداوار، مقدار یا مقام کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مشاہدہ کس آلے سے کیا گیا اور نہ ہی آئندہ متوقع فلکیاتی ملاپ کا ذکر ہے۔ الوسم کے 81 دن اور وسم الحریف کے 27 دن کے علاوہ کوئی مدت نہیں دی گئی۔ بارش، بادل یا فقع کے حوالے سے بھی کوئی مقداری پیش گوئی نہیں کی گئی۔