زحل 4 اکتوبر کو مخالفت کی حالت میں پہنچے گا اور رات بھر چمکتا رہے گا، زمین سے اس کا فاصلہ تقریباً 1.26 بلین کلومیٹر ہوگا۔ جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں رات کا آسمان کئی نمایاں فلکیاتی مظاہر کا گواہ بنے گا، جن میں زحل کی مخالفت، فعال شہابیوں کی بارشیں اور سیاروں کے ملاپ شامل ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے صدر انجینئر ماجد ابو زہرہ نے بتایا کہ زحل 4 اکتوبر کو مخالفت میں آئے گا، جب یہ روشن ترین انداز میں رات بھر نظر آئے گا۔ سورج کے گرد زمین کی گردش کے دوران جب کوئی بیرونی سیارہ زمین کے سامنے سورج کے بالکل مخالف سمت میں آ جاتا ہے تو اسے مخالفت کہا جاتا ہے۔ ایسی پوزیشن میں سیارہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ زمین کے قریب ترین اور آسمان پر سب سے زیادہ دیر تک نظر آتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زحل کی انگوٹھیاں اس وقت کتنی نمایاں دکھائی دیتی ہیں؟
ایس پی اے کے مطابق زحل اس وقت زمین سے تقریباً 1.26 بلین کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔ یہ فاصلہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مخالفت کے باوجود زحل آسمان پر ایک روشن ستارے کی طرح نظر آئے گا، نہ کہ چاند کی طرح بڑا۔ فلکیاتی مشاہدے کے لیے یہ موقع اس لیے اہم ہے کہ زحل رات بھر آسمان پر رہے گا اور اسے دیکھنے کے لیے کسی خاص وقت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
صبح سے پہلے کے آسمان میں 5 اور 6 اکتوبر کو مریخ اور روشن مشتری چاند کے ساتھ قریب قریب جڑے نظر آئیں گے۔ سیاروں کا یہ ملاپ رات کے آخری حصے میں مشاہدہ کرنے والوں کے لیے ایک دلچسپ منظر پیش کرے گا۔ کیا آپ نے کبھی چاند کے ساتھ دو روشن سیاروں کو اتنے قریب دیکھا ہے؟
مزید برآں 11 سے 13 اکتوبر کے دوران مریخ “بی ہائیو” ستاروں کے جھرمٹ سے گزرے گا۔ یہ جھرمٹ اپنی شکل کی وجہ سے مشہور ہے اور مریخ کے اس کے درمیان سے گزرنے کا منظر دوربین کے بغیر بھی قابل مشاہدہ ہو سکتا ہے۔ ماہ کے آخر میں صبح سے پہلے زہرہ مشرقی افق پر کم بلندی پر نمودار ہوگا۔
شہابیوں کی سرگرمی کے حوالے سے ڈریکونڈز 8 اور 9 اکتوبر کو عروج پر ہوں گے، اور اس دوران آسمان تاریک رہے گا جو مشاہدے کے لیے سازگار ہوگا۔ اس کے بعد اورینڈز 21 اور 22 اکتوبر کو عروج پر ہوں گے، جن کی رفتار 20 شہابیوں فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شہابیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے شہر کی روشنیوں سے دور جانا کیوں ضروری ہے؟
ایس پی اے کے مطابق تاریک آسمان والے مقامات پر مشاہدہ کرنے والے اینڈرومیڈا کہکشاں، پلیئڈیز جھرمٹ اور ملکی وے کو بھی دیکھ سکیں گے، اور یہ منظر 26 اکتوبر کو مکمل “ہنٹرز مون” آنے سے پہلے دستیاب ہوگا۔ مکمل چاند کی روشنی شہابیوں اور دور کی کہکشاؤں کے مشاہدے کو متاثر کرتی ہے، اسی لیے ماہ کے اوائل اور درمیان کا وقت اس کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔
فلکیاتی مظاہر کے ان مواقع پر سعودی عرب میں رات کا آسمان کافی واضح رہتا ہے، خاص طور پر صحرائی علاقوں میں جہاں مصنوعی روشنی کم ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی صحرا میں رات کے آسمان کو اس طرح دیکھا ہے؟
زحل کی مخالفت کا مظہر ہر سال ایک بار پیش آتا ہے، جب زمین اپنے مدار میں سورج اور زحل کے درمیان آ جاتی ہے۔ اس موقع پر زحل سورج کے مخالف سمت میں ہوتا ہے، اس لیے یہ غروب آفتاب کے وقت مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور رات بھر آسمان پر رہتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ منظر 4 اکتوبر کو دیکھا جا سکے گا۔
مریخ اور مشتری کا چاند کے ساتھ ملاپ 5 اور 6 اکتوبر کو صبح سے پہلے کے آسمان میں ہوگا۔ اس قسم کے ملاپ فلکیاتی اعتبار سے دلچسپ ہوتے ہیں کیونکہ سیارے آسمان پر ایک دوسرے کے قریب نظر آتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کے درمیان کروڑوں کلومیٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ قربت صرف نظر کا دھوکا ہے؟
مریخ کا “بی ہائیو” جھرمٹ سے گزر 11 سے 13 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ یہ جھرمٹ کینسر برج میں واقع ہے اور اسے چھتے کی شکل کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔ اس دوران مریخ جھرمٹ کے ستاروں کے درمیان سے گزرتا دکھائی دے گا، جو کہ فلکیاتی مشاہدے کے شوقین افراد کے لیے ایک منفرد موقع ہے۔
زہرہ ماہ کے آخر میں مشرقی افق پر کم بلندی پر صبح سے پہلے نمودار ہوگا۔ زہرہ سورج اور چاند کے بعد آسمان پر سب سے روشن قدرتی جسم ہے، اس لیے اسے دیکھنے کے لیے کسی خاص آلے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیا آپ نے کبھی صبح کے وقت زہرہ کو افق کے قریب دیکھا ہے؟
ڈریکونڈز کی بارش 8 اور 9 اکتوبر کو عروج پر ہوگی اور اس دوران آسمان تاریک رہے گا، جو مشاہدے کے لیے سازگار حالات فراہم کرے گا۔ ڈریکونڈز کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی رفتار ہر سال مختلف ہو سکتی ہے، لیکن ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس بار حالات سازگار ہیں۔
اورینڈز 21 اور 22 اکتوبر کو عروج پر ہوں گے اور ان کی رفتار 20 شہابیوں فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔ اورینڈز کو ہیلی کے دمدار ستارے سے منسوب کیا جاتا ہے اور یہ ہر سال اکتوبر میں نظر آتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی شہابیوں کی بارش کو کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے؟
ایس پی اے کے مطابق تاریک آسمان والے مقامات پر اینڈرومیڈا کہکشاں، پلیئڈیز جھرمٹ اور ملکی وے کو 26 اکتوبر کو مکمل “ہنٹرز مون” آنے سے پہلے دیکھا جا سکتا ہے۔ اینڈرومیڈا ہماری کہکشاں کے قریب ترین بڑی کہکشاں ہے اور اسے صاف آسمان میں کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پلیئڈیز جھرمٹ سات روشن ستاروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔
یہ تمام مظاہر اکتوبر کے مہینے میں یکے بعد دیگرے پیش آئیں گے، جس سے ماہرین فلکیات اور شوقین افراد دونوں کے لیے مشاہدے کے متعدد مواقع پیدا ہوں گے۔ جدہ فلکیاتی سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ اس معلومات کے مطابق مشاہدے کے لیے بہترین وقت رات کا وہ حصہ ہے جب آسمان صاف اور روشنی کم ہو۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان مظاہر کے مشاہدے کے لیے سعودی عرب میں کون سے مخصوص مقامات تجویز کیے گئے ہیں، نہ ہی کسی خاص تقریب یا پروگرام کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں صرف فلکیاتی تفصیلات اور مشاہدے کے اوقات فراہم کیے گئے ہیں۔
زحل کی مخالفت کب اور کیسے ہوگی؟ جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے صدر انجینئر ماجد ابو زہرہ کے مطابق زحل 4 اکتوبر کو مخالفت میں آئے گا اور رات بھر روشن نظر آئے گا۔ ایس پی اے کے مطابق اس وقت زحل زمین سے تقریباً 1.26 بلین کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔ مخالفت کا مطلب ہے کہ زمین سورج اور زحل کے درمیان آ جاتی ہے، جس سے سیارہ غروب آفتاب کے وقت مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔
اکتوبر میں کون سے سیاروں کے ملاپ ہوں گے؟ ایس پی اے کے مطابق 5 اور 6 اکتوبر کو صبح سے پہلے کے آسمان میں مریخ اور روشن مشتری چاند کے ساتھ قریب قریب جڑے نظر آئیں گے۔ 11 سے 13 اکتوبر کے دوران مریخ “بی ہائیو” ستاروں کے جھرمٹ سے گزرے گا۔ ماہ کے آخر میں زہرہ مشرقی افق پر کم بلندی پر صبح سے پہلے نمودار ہوگا۔
شہابیوں کی بارشیں کب عروج پر ہوں گی؟ رپورٹ کے مطابق ڈریکونڈز 8 اور 9 اکتوبر کو عروج پر ہوں گے اور اس دوران آسمان تاریک رہے گا جو مشاہدے کے لیے سازگار ہے۔ اس کے بعد اورینڈز 21 اور 22 اکتوبر کو عروج پر ہوں گے، جن کی رفتار 20 شہابیوں فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔
تاریک آسمان والے مقامات پر کیا دیکھا جا سکتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق تاریک آسمان والے مقامات پر مشاہدہ کرنے والے اینڈرومیڈا کہکشاں، پلیئڈیز جھرمٹ اور ملکی وے کو دیکھ سکیں گے۔ یہ منظر 26 اکتوبر کو مکمل “ہنٹرز مون” آنے سے پہلے دستیاب ہوگا۔ مکمل چاند کی روشنی دور کی کہکشاؤں کے مشاہدے کو متاثر کرتی ہے۔
یہ معلومات کس نے فراہم کیں؟ یہ معلومات جدہ فلکیاتی سوسائٹی نے فراہم کیں اور سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے یکم اکتوبر 2026 کو جاری کیں۔ سوسائٹی کے صدر انجینئر ماجد ابو زہرہ نے زحل کی مخالفت، سیاروں کے ملاپ اور شہابیوں کی بارشوں کی تفصیلات بتائیں۔





