Tuesday, November 3, 2026
ثقافت

سعودی پاک فنون کمیشن نے ’دی آرٹ آف سعودی کوکنگ‘ دوبارہ شائع کر دی

سعودی پاک فنون کمیشن نے ’دی آرٹ آف سعودی کوکنگ‘ دوبارہ شائع کر دی

سعودی پاک فنون کمیشن نے کتاب ’دی آرٹ آف سعودی کوکنگ‘ دوبارہ شائع کی ہے، جو سعودی ترکیبوں کے لیے وقف پہلی کتاب اور اس میدان کی ایک pioneer تصنیف ہے۔ یہ اقدام النہضہ ویمن سوسائٹی کے تعاون سے کیا گیا ہے، جس نے اصل ایڈیشن تیار اور شائع کیا تھا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، اس منصوبے کا مقصد قومی پاک ورثے کا تحفظ اور سعودی پاک فنون سے متعلق علم کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز 1981 میں ہوا، جب النہضہ سوسائٹی نے مملکت کے مختلف علاقوں سے سعودی کھانوں کو جمع کرنے اور دستاویزی شکل دینے کی مہم شروع کی۔ کتاب کی تیاری کی نگرانی ایک خصوصی کمیٹی نے کی، جس نے مملکت بھر کی خواتین کے ساتھ وسیع میدانی کام کیا۔ ان خواتین نے مقامی ترکیبیں ریکارڈ کیں اور اجزاء اور روایتی تیاری کے طریقوں کو دستاویزی شکل دی۔

کمیٹی تین خواتین پر مشتمل تھی، جنہوں نے کتاب کی تیاری میں کئی سال صرف کیے۔ اس کام میں ترکیبوں کو جمع کرنا اور ان کی تصدیق، پیمانوں اور تیاری کے طریقوں کو معیاری بنانا، اور فوٹوگرافی، جائزے اور حتمی تیاری کو مکمل کرنا شامل تھا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی کھانوں کی دستاویز بندی کا یہ سفر چار دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے؟ 1981 میں شروع ہونے والی یہ کوشش اس وقت کے سعودی معاشرے کی ایک اہم ثقافتی ضرورت کا جواب تھی۔

اس دور میں جب کھانوں کی ترکیبیں زبانی روایت کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی تھیں، النہضہ سوسائٹی نے انہیں تحریری شکل میں محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک سماجی تنظیم نے وہ کام کیا جو عام طور پر سرکاری ادارے کیا کرتے ہیں؟

کمیٹی نے مملکت کے مختلف علاقوں کی خواتین سے ملاقاتیں کیں اور ان سے ان کے علاقائی کھانے پوچھے۔ اس میدانی کام کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ہر علاقے کی مخصوص ترکیبیں، اجزاء اور طریقے درست شکل میں محفوظ ہو جائیں۔

تین خواتین پر مشتمل اس کمیٹی نے کئی سال اس کام میں صرف کیے۔ ترکیبوں کی تصدیق کا مرحلہ خاصا طویل تھا، کیونکہ ایک ہی کھانے کی مختلف علاقوں میں مختلف شکلیں رائج تھیں۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک ترکیب کو حتمی شکل دینے سے پہلے کتنی بار اس کا جائزہ لیا گیا ہوگا؟

پیمانوں کو معیاری بنانا اس منصوبے کا ایک اہم حصہ تھا۔ روایتی کھانوں میں اکثر پیمانے اندازے کے مطابق ہوتے ہیں، جیسے ’ایک مٹھی‘ یا ’ایک چٹکی‘۔ کمیٹی نے انہیں قابلِ پیمائش شکل میں ڈھالا تاکہ آنے والی نسلیں انہیں آسانی سے دہرا سکیں۔

اسی طرح تیاری کے طریقوں کو بھی معیاری بنایا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ روایتی انداز ختم کر دیا جائے، بلکہ یہ کہ انہیں واضح اور قابلِ عمل شکل میں بیان کیا جائے۔ کیا روایت اور معیار کا یہ امتزاج ہی اس کتاب کو منفرد نہیں بناتا؟

کتاب کی تیاری کے آخری مراحل میں فوٹوگرافی، جائزہ اور حتمی پیداوار شامل تھی۔ تصاویر نے نہ صرف کھانوں کو دکھایا بلکہ ان کی تیاری کے مراحل کو بھی قلمبند کیا۔ اس سے کتاب صرف ایک ترکیب نامہ نہیں بلکہ ایک بصری دستاویز بھی بن گئی۔

ایس پی اے کے مطابق، اس طرح تیار ہونے والا ایڈیشن سعودی کھانوں کے تنوع اور بھرپوریت کی عکاسی کرتا ہے۔ مملکت کے مختلف خطوں کی آب و ہوا، زراعت اور ثقافت نے وہاں کے کھانوں کو الگ شناخت دی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی کھانوں کا تنوع اس کی جغرافیائی وسعت کا آئینہ دار ہے؟ ساحلی علاقوں کی سمندری غذا سے لے کر پہاڑی علاقوں کے روایتی پکوانوں تک، ہر خطے کا اپنا ذائقہ ہے۔

پاک فنون کمیشن نے اس موقع پر اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علم پر مبنی خصوصی منصوبوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ کمیشن کے مطابق، سعودی کھانوں کی موجودگی کو قومی ثقافتی شناخت کے ایک کلیدی جزو کے طور پر مضبوط بنانا اس کی کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ کوششیں پاک ورثے کے تحفظ، دستاویز بندی اور اسے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے سے متعلق ہیں۔ کمیشن کی یہ پالیسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کھانے کو صرف خوراک نہیں بلکہ ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

کیا کھانا کسی قوم کی شناخت کا اتنا ہی اہم حصہ ہو سکتا ہے جتنا اس کی زبان یا لباس؟ سعودی پاک فنون کمیشن کے اس اقدام سے لگتا ہے کہ جواب مثبت ہے۔

کتاب کا دوبارہ اجرا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چار دہائیوں پرانی یہ دستاویز آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اگر یہ کتاب 1981 میں تیار نہ ہوئی ہوتی تو آج بہت سی ترکیبیں شاید معدوم ہو چکی ہوتیں۔

النہضہ ویمن سوسائٹی کا کردار اس منصوبے میں مرکزی ہے۔ اس نے نہ صرف اصل ایڈیشن تیار کیا بلکہ اسے شائع بھی کیا۔ کیا یہ خواتین کی قیادت میں ثقافتی تحفظ کی ایک مثال نہیں؟

یہ بات قابلِ غور ہے کہ اس منصوبے کی نگرانی کرنے والی کمیٹی بھی تین خواتین پر مشتمل تھی۔ انہوں نے میدانی دوروں، ترکیبوں کی تصدیق اور حتمی تیاری تک ہر مرحلے میں فعال کردار ادا کیا۔

کتاب کی دوبارہ اشاعت کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا، اس کی تفصیل ایس پی اے کی رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ نئے ایڈیشن میں کوئی اضافہ یا تبدیلی کی گئی ہے یا نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کتاب کہاں سے دستیاب ہوگی، اس کی قیمت کیا ہوگی، یا اسے کس زبان میں شائع کیا گیا ہے۔ ان تفصیلات کے بغیر عام قاری کے لیے کتاب تک رسائی کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ ثقافتی ورثے کی دستاویز بندی کے لیے صرف کتاب چھاپ لینا کافی ہے؟ اس کے لیے مسلسل تحقیق، تدریس اور عوامی رسائی بھی ضروری ہے۔

پاک فنون کمیشن کی جانب سے یہ اعادہ کہ وہ علم پر مبنی منصوبوں کی حمایت کرے گا، اس بات کا اشارہ ہے کہ آئندہ بھی اس نوعیت کے کام جاری رہ سکتے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں کسی مخصوص آئندہ منصوبے کا ذکر نہیں ہے۔

سعودی کھانوں کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کی بات بھی کمیشن کے بیان کا حصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کیا سعودی کھانے بین الاقوامی سطح پر اپنی الگ شناخت بنا سکیں گے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ دستاویز بندی کے ساتھ ساتھ انہیں کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔

1981 سے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ ایک کتاب کی دوبارہ اشاعت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اصل چیلنج اس علم کو زندہ رکھنا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں کمیٹی کے ارکان کے نام، کتاب کے صفحات کی تعداد، یا اس کے ایڈیشن کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ یہ معلومات قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتی تھیں۔

اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ اصل ایڈیشن اور نئے ایڈیشن میں کیا فرق ہے۔ اگر کوئی فرق ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے، یہ رپورٹ سے معلوم نہیں ہوتا۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ثقافتی منصوبوں کی کامیابی کا اندازہ ان کی دستاویز بندی سے لگایا جا سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے کا بنیادی مقصد ورثے کا تحفظ اور علم کا تسلسل ہے۔

سعودی پاک فنون کمیشن کا یہ اقدام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کھانا کسی بھی معاشرے کی ثقافتی شناخت کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اسے محفوظ رکھنا آنے والی نسلوں کے لیے ایک ذمہ داری ہے۔

’دی آرٹ آف سعودی کوکنگ‘ کیا ہے اور اسے دوبارہ کیوں شائع کیا گیا؟ یہ سعودی ترکیبوں کے لیے وقف پہلی کتاب اور اس میدان کی pioneer تصنیف ہے۔ سعودی پاک فنون کمیشن نے اسے النہضہ ویمن سوسائٹی کے تعاون سے دوبارہ شائع کیا، جس نے اصل ایڈیشن تیار اور شائع کیا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی پاک ورثے کا تحفظ اور سعودی پاک فنون سے متعلق علم کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ منصوبہ 1981 کا ہے، جب النہضہ سوسائٹی نے مملکت کے مختلف علاقوں سے سعودی کھانوں کو جمع کرنے اور دستاویزی شکل دینے کی مہم شروع کی۔ ایک خصوصی کمیٹی نے کتاب کی تیاری کی نگرانی کی اور مملکت بھر کی خواتین کے ساتھ وسیع میدانی کام کیا، جنہوں نے مقامی ترکیبیں ریکارڈ کیں اور اجزاء اور روایتی تیاری کے طریقوں کو دستاویزی شکل دی۔

کتاب کی تیاری میں کتنا وقت لگا اور کمیٹی نے کیا کام کیا؟ کمیٹی تین خواتین پر مشتمل تھی، جنہوں نے کتاب کی تیاری میں کئی سال صرف کیے۔ ان کے کام میں ترکیبوں کو جمع کرنا اور ان کی تصدیق، پیمانوں اور تیاری کے طریقوں کو معیاری بنانا، اور فوٹوگرافی، جائزے اور حتمی تیاری کو مکمل کرنا شامل تھا۔ ایس پی اے کے مطابق اس طرح تیار ہونے والا ایڈیشن سعودی کھانوں کے تنوع اور بھرپوریت کی عکاسی کرتا ہے۔

پاک فنون کمیشن نے اس موقع پر کیا عزم ظاہر کیا؟ کمیشن نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علم پر مبنی خصوصی منصوبوں کی حمایت جاری رکھے گا اور سعودی کھانوں کی موجودگی کو قومی ثقافتی شناخت کے ایک کلیدی جزو کے طور پر مضبوط بنائے گا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ کوششیں پاک ورثے کے تحفظ، دستاویز بندی اور اسے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے سے متعلق ہیں۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں کمیٹی کے ارکان کے نام، کتاب کے صفحات کی تعداد، یا اس کے ایڈیشن کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ نئے ایڈیشن میں کوئی اضافہ یا تبدیلی کی گئی ہے، کتاب کہاں سے دستیاب ہوگی، اس کی قیمت کیا ہوگی، یا اسے کس زبان میں شائع کیا گیا ہے۔