Tuesday, November 3, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب نے دو ریاستی حل کو منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ قرار دیا

سعودی عرب نے دو ریاستی حل کو منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ قرار دیا

جنیوا میں 29 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کے دفتر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں سعودی عرب کے مستقل مشن نے انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے ایجنڈا آئٹم 7 کے تحت عام بحث میں حصہ لیا، جس کا موضوع فلسطین اور دیگر مقبوضہ عرب علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال تھا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، وزارت خارجہ میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف ہیومینٹیرین افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سالم القحطانی نے یہ بیان پیش کیا۔

ڈاکٹر سالم القحطانی نے غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کی شدید مذمت کی اور زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور شہریوں کے لیے مکمل تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ کیا شہریوں کی حفاظت کے بغیر کوئی جنگ بندی معنی رکھتی ہے؟

انہوں نے آبادکاری کی سرگرمیوں کی توسیع اور آباد کاروں کی دہشت گردی کی بھی شدید مذمت کی۔ کیا مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی توسیع امن کی کسی بھی کوشش کو زندہ رہنے دیتی ہے؟

القحطانی نے فلسطینی عوام کو زبردستی بے دخل کرنے کے مقصد سے اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام یا مقبوضہ فلسطینی علاقے کی جغرافیائی یا آبادیاتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو سعودی عرب کی مکمل مسترد قرار دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب متعدد ممالک کی جانب سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اہم اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے، اور اس کے بعد جوابدہی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کا بھی، جن میں اسرائیلی آبادکاریوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں شامل ہیں۔ کیا جوابدہی کے بغیر کوئی سیاسی عمل پائیدار ہو سکتا ہے؟

نیو یارک ڈیکلریشن کی منظوری کے ایک سال بعد، انہوں نے دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کے شریک چیئرمینوں کے بیان میں درج موقف کی دوبارہ تصدیق کی کہ غزہ اور مغربی کنارہ، بشمول مشرقی یروشلم، ایک واحد فلسطینی علاقائی اکائی تشکیل دیتے ہیں اور قبضہ ختم ہونا چاہیے۔

سعودی عرب نے دوبارہ تصدیق کی کہ منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل کا نفاذ اور فلسطینی عوام کے ناقابل تردید حق خودارادیت کی حمایت ہے، اور 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کا حق ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری اس موقف کو عملی شکل دینے کے لیے تیار ہے؟

یہ بیان انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران ایجنڈا آئٹم 7 کے تحت عام بحث کے موقع پر دیا گیا، جو فلسطین اور دیگر مقبوضہ عرب علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق ہے۔

سعودی عرب نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے جنگ بندی کے تحفظ اور شہریوں کے مکمل تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ کیا شہریوں کے تحفظ کے بغیر کوئی امن معاہدہ قابل عمل ہو سکتا ہے؟

بیان میں آبادکاری کی سرگرمیوں کی توسیع اور آباد کاروں کی دہشت گردی کی مذمت بھی شامل تھی، اور فلسطینی عوام کو زبردستی بے دخل کرنے یا مقبوضہ فلسطینی علاقے کی جغرافیائی اور آبادیاتی شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا۔

القحطانی نے کئی ممالک کی جانب سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدامات کا خیرمقدم کیا، اور اس کے بعد جوابدہی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کا بھی، جن میں اسرائیلی آبادکاریوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں شامل ہیں۔ کیا تجارتی پابندیاں بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنا سکتی ہیں؟

نیو یارک ڈیکلریشن کی منظوری کے ایک سال بعد، سعودی عرب نے دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کے شریک چیئرمینوں کے بیان میں درج موقف کی دوبارہ تصدیق کی کہ غزہ اور مغربی کنارہ، بشمول مشرقی یروشلم، ایک واحد فلسطینی علاقائی اکائی ہیں اور قبضہ ختم ہونا چاہیے۔

سعودی عرب نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل کا نفاذ اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت ہے، اور 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ کیا دو ریاستی حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن ہے؟

یہ بیان وزارت خارجہ میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف ہیومینٹیرین افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سالم القحطانی نے پیش کیا، جو جنیوا میں سعودی عرب کے مستقل مشن کی جانب سے تھا۔

اجلاس انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران ایجنڈا آئٹم 7 کے تحت منعقد ہوا، جس کا موضوع فلسطین اور دیگر مقبوضہ عرب علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال ہے۔

سعودی عرب نے غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کی شدید مذمت کی اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے مکمل تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کیا جنگ بندی کے بغیر انسانی ہمدردی کی امداد مؤثر طریقے سے پہنچ سکتی ہے؟

بیان میں آبادکاری کی سرگرمیوں کی توسیع اور آباد کاروں کی دہشت گردی کی مذمت، فلسطینی عوام کو زبردستی بے دخل کرنے کی کوششوں کا مسترد، اور مقبوضہ فلسطینی علاقے کی جغرافیائی یا آبادیاتی شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کا مسترد شامل تھا۔

سعودی عرب نے کئی ممالک کی جانب سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اہم اقدامات کا خیرمقدم کیا، اور اس کے بعد جوابدہی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کا بھی، جن میں اسرائیلی آبادکاریوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں شامل ہیں۔ کیا تسلیم کرنے کے بعد عملی اقدامات کا مرحلہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے؟

نیو یارک ڈیکلریشن کی منظوری کے ایک سال بعد، سعودی عرب نے دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کے شریک چیئرمینوں کے بیان میں درج موقف کی دوبارہ تصدیق کی کہ غزہ اور مغربی کنارہ، بشمول مشرقی یروشلم، ایک واحد فلسطینی علاقائی اکائی تشکیل دیتے ہیں اور قبضہ ختم ہونا چاہیے۔

سعودی عرب نے دوبارہ تصدیق کی کہ منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل کا نفاذ اور فلسطینی عوام کے ناقابل تردید حق خودارادیت کی حمایت ہے، اور 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کا حق ہے۔ کیا عالمی اتحاد کے وعدے زمینی حقیقت میں تبدیل ہو سکیں گے؟

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس میں اس بیان پر کسی رکن ملک نے کوئی ردعمل دیا یا نہیں، اور نہ ہی جنگ بندی یا آبادکاری سے متعلق کسی نئی پیش رفت کا ذکر ہے۔

سعودی عرب نے انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس میں کیا موقف اپنایا؟ سعودی عرب نے غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کی شدید مذمت کی اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے مکمل تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ بیان وزارت خارجہ میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف ہیومینٹیرین افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سالم القحطانی نے پیش کیا۔ یہ بیان جنیوا میں سعودی عرب کے مستقل مشن کی جانب سے ایجنڈا آئٹم 7 کے تحت عام بحث میں دیا گیا۔

سعودی عرب نے آبادکاری اور بے دخلی کے بارے میں کیا کہا؟ ڈاکٹر سالم القحطانی نے آبادکاری کی سرگرمیوں کی توسیع اور آباد کاروں کی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو زبردستی بے دخل کرنے کے مقصد سے اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام یا مقبوضہ فلسطینی علاقے کی جغرافیائی یا آبادیاتی شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کو سعودی عرب کی مکمل مسترد قرار دیا۔ یہ موقف انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران پیش کیا گیا۔

فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے پر سعودی عرب کا ردعمل کیا تھا؟ سعودی عرب نے متعدد ممالک کی جانب سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اہم اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ اس کے ساتھ جوابدہی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کا بھی خیرمقدم کیا گیا، جن میں اسرائیلی آبادکاریوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں شامل ہیں۔ یہ بات ڈاکٹر سالم القحطانی کے بیان میں سامنے آئی، جو جنیوا میں سعودی مستقل مشن کی جانب سے پیش کیا گیا۔

نیو یارک ڈیکلریشن اور دو ریاستی حل کے بارے میں کیا کہا گیا؟ نیو یارک ڈیکلریشن کی منظوری کے ایک سال بعد، سعودی عرب نے دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کے شریک چیئرمینوں کے بیان میں درج موقف کی دوبارہ تصدیق کی۔ اس موقف کے مطابق غزہ اور مغربی کنارہ، بشمول مشرقی یروشلم، ایک واحد فلسطینی علاقائی اکائی تشکیل دیتے ہیں اور قبضہ ختم ہونا چاہیے۔ یہ بیان انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس میں پیش کیا گیا۔

سعودی عرب کے مطابق امن کا واحد راستہ کیا ہے؟ سعودی عرب نے دوبارہ تصدیق کی کہ منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل کا نفاذ اور فلسطینی عوام کے ناقابل تردید حق خودارادیت کی حمایت ہے۔ اس میں 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حق شامل ہے۔ یہ موقف ڈاکٹر سالم القحطانی نے جنیوا میں پیش کیا۔

یہ بیان کہاں اور کب پیش کیا گیا؟ یہ بیان جنیوا میں 29 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کے دفتر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں سعودی عرب کے مستقل مشن کی جانب سے پیش کیا گیا۔ یہ انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران ایجنڈا آئٹم 7 کے تحت عام بحث میں دیا گیا، جس کا موضوع فلسطین اور دیگر مقبوضہ عرب علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال تھا۔