Tuesday, November 3, 2026
سعودی خبریں

قاہرہ میں پانچواں عرب ماحولیاتی فورم شروع، عرب لیگ کے سیکرٹریٹ میں دو روزہ اجلاس

قاہرہ میں پانچواں عرب ماحولیاتی فورم شروع، عرب لیگ کے سیکرٹریٹ میں دو روزہ اجلاس

قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں پانچواں عرب ماحولیاتی فورم شروع ہو گیا ہے، جس کا انعقاد 29 ستمبر 2026 کو ہوا اور یہ دو روز تک جاری رہے گا۔ فورم میں عرب لیگ، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO)، اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ESCWA)، انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN)، سینٹر فار انوائرنمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ فار دی عرب ریجن اینڈ یورپ (CEDARE)، عرب آرگنائزیشن فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (AOAD) اور سعودی وزارت ماحولیات، پانی و زراعت شرکت کر رہی ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، اس دو روزہ فورم میں عرب اور بین الاقوامی ریاستوں اور تنظیموں کے حکام، ماہرین اور نمائندے جمع ہوئے ہیں تاکہ چراگاہی نظاموں کے پائیدار انتظام اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ان کی لچک بڑھانے کے طریقوں پر بات کی جا سکے۔ کیا چراگاہوں کا بحران عرب دنیا کے لیے خوراک کی حفاظت کا سب سے بڑا سوال بنتا جا رہا ہے؟

فورم کے مباحثوں کا محور شراکتی گورننس، قانونی فریم ورکس، ویلیو چینز، جدت، ٹیکنالوجی اور ڈیٹا، فطرت پر مبنی حل، اور چراگاہی شعبے میں فنانسنگ و سرمایہ کاری پر مرکوز ہے۔ یہ موضوعات بتاتے ہیں کہ عرب خطے میں چراگاہوں کو محض زرعی معاملہ نہیں بلکہ گورننس، قانون سازی، معیشت اور ماحولیات کا مجموعی سوال سمجھا جا رہا ہے۔

فورم کے ایجنڈے میں چراگاہی گورننس اور قانونی فریم ورکس سے متعلق اجلاس شامل ہیں۔ ان اجلاسوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ عرب ممالک میں چراگاہوں کے انتظام کے لیے کس قسم کے قانونی ڈھانچے موجود ہیں اور انہیں کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کیا قانونی فریم ورکس کے بغیر چراگاہوں کا تحفظ ممکن ہے؟

ایجنڈے کا دوسرا اہم حصہ فطرت پر مبنی حل اور چراگاہوں کی بحالی سے متعلق ہے۔ اس میں ان طریقوں پر بات ہوگی جن کے ذریعے قدرتی نظاموں کو بحال کر کے چراگاہوں کی پیداواری صلاحیت اور ماحولیاتی افادیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ فطرت پر مبنی حل کا تصور عرب خطے میں کتنا قابل عمل ہے، جہاں خشکی اور گرمی کے اثرات شدید ہیں؟

فورم میں چراگاہی نظاموں کے اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر بھی اجلاس ہوں گے۔ یہ پہلو ظاہر کرتے ہیں کہ چراگاہیں صرف ماحولیاتی وسائل نہیں بلکہ روزگار، مقامی معیشت اور سماجی ڈھانچے سے جڑی ہوئی ہیں۔ کیا چراگاہوں کے بغیر دیہی معیشت کا تصور قائم رہ سکتا ہے؟

ایجنڈے میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اطلاق سے متعلق اجلاس بھی شامل ہیں۔ ان اجلاسوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کے ذریعے چراگاہوں کی نگرانی، منصوبہ بندی اور بحالی کو کیسے مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے بغیر چراگاہوں کی بحالی کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہیں؟

فورم کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوگا جو چراگاہوں کی بحالی، لچک کی تعمیر اور منتقلی کی فنانسنگ پر مرکوز ہوگا۔ یہ اجلاس بتاتا ہے کہ چراگاہی شعبے میں سرمایہ کاری کو عرب خطے کی ترجیحات میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا عرب ممالک چراگاہوں کی بحالی کے لیے مطلوبہ مالی وسائل فراہم کر پائیں گے؟

فورم میں “حِمٰی” کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جسے کمیونٹی پر مبنی وسائل کے انتظام کا عرب ماڈل قرار دیا گیا ہے۔ یہ ماڈل مقامی برادریوں کی شرکت اور روایتی انتظام کے اصولوں پر مبنی ہے، اور فورم میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ اسے جدید چراگاہی پالیسیوں میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔ حِمٰی جیسا روایتی نظام جدید دور میں کتنا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے؟

فورم میں ایک متحد عرب وژن تیار کرنے پر بھی غور کیا جائے گا جس کا مقصد چراگاہوں کو قومی حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی پالیسیوں میں شامل کرنا، فنانسنگ اور سرمایہ کاری کو بڑھانا، اور چرواہوں، مقامی برادریوں، خواتین اور نوجوانوں کو اس عمل میں شامل کرنا ہے۔ یہ نقطہ نظر ظاہر کرتا ہے کہ چراگاہوں کا معاملہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ سماجی شمولیت کا بھی سوال ہے۔

شرکت کرنے والی تنظیموں کی فہرست میں عرب لیگ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے ادارے، بین الاقوامی تحفظاتی ادارے، علاقائی ترقیاتی مراکز اور عرب زرعی تنظیمیں شامل ہیں، جبکہ سعودی وزارت ماحولیات، پانی و زراعت بھی فورم میں شریک ہے۔ یہ شرکت بتاتی ہے کہ چراگاہوں کے انتظام کو عرب اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ ذمہ داری سمجھا جا رہا ہے۔

فورم کا انعقاد عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں ہوا اور یہ دو دن جاری رہے گا، جس میں حکام، ماہرین اور عرب و بین الاقوامی ریاستوں و تنظیموں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ فورم کے مباحثوں میں شراکتی گورننس، قانونی فریم ورکس، ویلیو چینز، جدت، ٹیکنالوجی و ڈیٹا، فطرت پر مبنی حل اور فنانسنگ و سرمایہ کاری جیسے موضوعات شامل ہیں۔

چراگاہی نظاموں کا پائیدار انتظام اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ان کی لچک بڑھانا فورم کا مرکزی موضوع ہے۔ یہ موضوع عرب خطے کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ چراگاہیں خوراک کی پیداوار، موسمیاتی توازن اور دیہی معاش کے لیے بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر چراگاہوں کی حفاظت کتنی ضروری ہے؟

فورم کے ایجنڈے میں شامل اجلاس چراگاہی گورننس، فطرت پر مبنی حل، بحالی، اقتصادی و سماجی و ماحولیاتی پہلوؤں، اور ٹیکنالوجی و مصنوعی ذہانت کے اطلاق جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان اجلاسوں کا مقصد چراگاہی شعبے کے مختلف پہلوؤں کو ایک جامع فریم ورک میں دیکھنا ہے۔

اعلیٰ سطحی اجلاس چراگاہوں کی بحالی، لچک کی تعمیر اور منتقلی کی فنانسنگ پر توجہ دے گا، جبکہ فورم “حِمٰی” کے عرب ماڈل کا جائزہ لے گا اور ایک متحد عرب وژن تیار کرنے پر غور کرے گا۔ اس وژن کا مقصد چراگاہوں کو قومی حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی پالیسیوں میں شامل کرنا، فنانسنگ و سرمایہ کاری بڑھانا، اور چرواہوں، مقامی برادریوں، خواتین اور نوجوانوں کو شامل کرنا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں فورم کے شرکا کی تعداد، اجلاسوں کے نتائج، یا کسی مخصوص مالی وعدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ فورم کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ یا فیصلہ جاری کیا جائے گا یا نہیں۔

پانچواں عرب ماحولیاتی فورم کہاں اور کب شروع ہوا؟ فورم قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں 29 ستمبر 2026 کو شروع ہوا اور یہ دو روز تک جاری رہے گا۔ ایس پی اے کے مطابق اس میں عرب لیگ، FAO، ESCWA، IUCN، CEDARE، AOAD اور سعودی وزارت ماحولیات، پانی و زراعت شرکت کر رہی ہیں۔ فورم میں عرب و بین الاقوامی ریاستوں اور تنظیموں کے حکام، ماہرین اور نمائندے جمع ہوئے ہیں۔

فورم کا مرکزی موضوع کیا ہے؟ فورم کا مرکزی موضوع چراگاہی نظاموں کا پائیدار انتظام اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ان کی لچک بڑھانا ہے۔ مباحثوں میں شراکتی گورننس، قانونی فریم ورکس، ویلیو چینز، جدت، ٹیکنالوجی و ڈیٹا، فطرت پر مبنی حل، اور فنانسنگ و سرمایہ کاری شامل ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ موضوعات چراگاہی شعبے کے مختلف پہلوؤں کا جامع احاطہ کرتے ہیں۔

فورم کے ایجنڈے میں کون سے اجلاس شامل ہیں؟ ایجنڈے میں چراگاہی گورننس اور قانونی فریم ورکس، فطرت پر مبنی حل اور چراگاہوں کی بحالی، چراگاہی نظاموں کے اقتصادی و سماجی و ماحولیاتی پہلوؤں، اور ٹیکنالوجی و مصنوعی ذہانت کے اطلاق سے متعلق اجلاس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہے جو چراگاہوں کی بحالی، لچک کی تعمیر اور منتقلی کی فنانسنگ پر مرکوز ہوگا۔

حِمٰی کا عرب ماڈل کیا ہے اور فورم میں اس پر کیوں بات ہو رہی ہے؟ فورم “حِمٰی” کو کمیونٹی پر مبنی وسائل کے انتظام کا عرب ماڈل قرار دے کر اس کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ ماڈل مقامی برادریوں کی شرکت اور روایتی انتظام کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق فورم ایک متحد عرب وژن تیار کرنے پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ چراگاہوں کو قومی حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی پالیسیوں میں شامل کیا جا سکے۔

فورم میں کن گروہوں کو شامل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے؟ فورم میں چرواہوں، مقامی برادریوں، خواتین اور نوجوانوں کو شامل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ شمولیت ایک متحد عرب وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد چراگاہوں کو قومی حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی پالیسیوں میں شامل کرنا، فنانسنگ و سرمایہ کاری بڑھانا اور چراگاہی شعبے کو مضبوط بنانا ہے۔

کیا رپورٹ میں فورم کے نتائج یا مالی وعدوں کا ذکر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں فورم کے شرکا کی تعداد، اجلاسوں کے نتائج یا کسی مخصوص مالی وعدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ فورم کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ یا فیصلہ جاری کیا جائے گا یا نہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق فورم دو روز جاری رہے گا اور اس کے ایجنڈے میں مذکورہ موضوعات شامل ہیں۔