سعودی بحیرہ احمر کی تہہ کی ٹوپوگرافی پر ہائی ریزولوشن ڈیٹا فراہم کرنے والی ایک سائنسی تحقیق میں نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف (این سی ڈبلیو) نے تعاون کیا ہے، جس میں 49,418.7 مربع کلومیٹر رقبے پر سمندری تہہ کی گہرائی کے ڈیجیٹل ماڈل تیار کیے گئے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ تحقیق سینٹر کی 2022 کی Journey of the Decade مہم کے دوران جمع کیے گئے ڈیٹا پر مبنی ہے، جو مقامی اور بین الاقوامی تحقیقی شراکت داروں کے ساتھ کی گئی تھی۔
یہ مطالعہ Earth System Science Data میں شائع ہوا ہے اور ایسا ڈیٹاسیٹ پیش کرتا ہے جو بحیرہ احمر کے تفصیلی سمندری تہہ کے نقشوں میں طویل عرصے سے موجود خلا کو پر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ڈیٹا سمندری رہائش گاہوں کے مطالعے، سمندری تہہ کی خصوصیات کے تجزیے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی کی معاونت کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تحقیق میں این سی ڈبلیو، کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کاوست) اور اوشن ایکس کے محققین نے حصہ ڈالا۔ اوشن ایکس سمندری کھوج اور سمندری تحقیق میں مہارت رکھنے والی تنظیم ہے۔
یہ تحقیق سعودی ساحل کے ساتھ تقریباً 860 کلومیٹر پر محیط سمندری سروے پر مبنی ہے۔ سروے کی گئی گہرائیوں کا دائرہ ساحلی کم گہرے پانیوں میں تقریباً دو میٹر سے لے کر گہرے علاقوں میں 2,460 میٹر سے زیادہ تک تھا۔ محققین نے 2,863 سروے لائنوں کے ڈیٹا پر کارروائی کی۔
کیا بحیرہ احمر کی تہہ کے بارے میں ہمارا علم واقعی اتنا محدود رہا ہے کہ آج بھی ہائی ریزولوشن نقشوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ سمندری تہہ کی تفصیلی تصویر کے بغیر نہ رہائش گاہوں کا درست جائزہ ممکن ہے اور نہ سمندری منصوبہ بندی کا۔
این سی ڈبلیو کے سی ای او اور اس تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر محمد قربان نے کہا کہ یہ اشاعت مہم کے سائنسی نتائج میں سے ایک ہے اور بحیرہ احمر کے بارے میں علم کو آگے بڑھانے میں سمندری کھوج کی قدر کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: ”یہ تحقیق مہم کے دوران جمع کیے گئے فیلڈ ڈیٹا کو ایک کھلے، ہائی ریزولوشن سائنسی وسیلے کے طور پر دستیاب بناتی ہے۔ یہ بحیرہ احمر کی سمندری تہہ کے بارے میں ہماری سمجھ کو وسیع کرتی ہے، سمندری تہہ کی ٹوپوگرافی اور سمندری رہائش گاہوں کے درمیان تعلق کی تحقیق کی معاونت کرتی ہے، اور مستقبل کے مطالعات، سروے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیٹا کو محققین اور ماہرین کے لیے دستیاب بنانا بحیرہ احمر کے بارے میں سائنسی علم کی معاونت کرے گا اور سمندری تہہ کی نقشہ سازی، سمندری رہائش گاہوں اور سائنس پر مبنی انتظام سے متعلق بین الاقوامی تحقیق میں حصہ ڈالے گا۔
کیا کھلے سائنسی ڈیٹا کی دستیابی سے بحیرہ احمر کی تحقیق کی رفتار بدل سکتی ہے؟ ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ ڈیٹا محققین اور ماہرین کے لیے کھلا ہے، جو اسے بین الاقوامی تحقیق سے جوڑتا ہے۔
یہ مطالعہ 49,418.7 مربع کلومیٹر کے کل رقبے پر سمندری تہہ کی گہرائی کے ڈیجیٹل ماڈلز کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ رقبہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں ساحلی کم گہرے پانی سے لے کر گہرے سمندری علاقوں تک کے متنوع ماحول شامل ہیں، جن کی گہرائی دو میٹر سے 2,460 میٹر سے زیادہ تک پھیلی ہوئی ہے۔
سروے کی لمبائی تقریباً 860 کلومیٹر ہے جو سعودی ساحل کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے۔ 2,863 سروے لائنوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر کارروائی کے بعد جو ڈیجیٹل ماڈل تیار ہوئے، وہ سمندری تہہ کی گہرائی کو تفصیل سے پیش کرتے ہیں۔ یہی تفصیل اس تحقیق کو بحیرہ احمر کے روایتی نقشوں سے مختلف بناتی ہے۔
کیا سمندری رہائش گاہوں کا تحفظ سمندری تہہ کی ٹوپوگرافی کو سمجھے بغیر ممکن ہے؟ تحقیق کے مطابق یہ ڈیٹا سمندری رہائش گاہوں کے مطالعے اور سمندری تہہ کی خصوصیات کے تجزیے کی سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس تحقیق میں شامل اداروں میں این سی ڈبلیو کے علاوہ کاوست اور اوشن ایکس شامل ہیں۔ اوشن ایکس سمندری کھوج اور سمندری تحقیق کے میدان میں کام کرتی ہے، جبکہ کاوست ایک تعلیمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ ان اداروں کی شراکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ کام تنہا نہیں بلکہ مشترکہ تحقیقی کوشش کا نتیجہ ہے۔
مہم کا نام Journey of the Decade ہے اور یہ 2022 میں کی گئی تھی۔ اس مہم کے دوران جمع ہونے والا ڈیٹا اب سائنسی اشاعت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس میں مقامی اور بین الاقوامی تحقیقی شراکت دار شامل تھے، جن کا تذکرہ ایس پی اے کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
کیا 2022 میں جمع کیا گیا ڈیٹا آج کے سمندری منصوبہ بندی کے فیصلوں کے لیے کافی ہے؟ رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا سمندری مقامی منصوبہ بندی کی معاونت کرتا ہے اور مستقبل کے مطالعات اور سروے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے، یعنی اسے حتمی نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا نقطہ آغاز قرار دیا گیا ہے۔
اشاعت کا مقام Earth System Science Data ہے، جو ایک سائنسی جریدہ ہے۔ اس جریدے میں اشاعت کا مطلب یہ ہے کہ یہ ڈیٹاسیٹ سائنسی برادری کی دسترس میں آیا ہے۔ ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ ڈیٹا ایک کھلا، ہائی ریزولوشن سائنسی وسیلہ ہے، جو اسے محققین اور ماہرین کے لیے قابل استعمال بناتا ہے۔
کیا بحیرہ احمر کے سمندری تہہ کے نقشوں میں طویل عرصے سے موجود خلا کو ایک ہی تحقیق پر کر سکتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق یہ مطالعہ اس خلا کو پر کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ یہ ایک ڈیٹاسیٹ ہے جس کی بنیاد پر مزید تحقیق، سروے اور منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
اس تحقیق کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ فیلڈ ڈیٹا کو کھلے سائنسی وسیلے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محققین اور ماہرین اس ڈیٹا تک رسائی حاصل کر کے اپنے مطالعات میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ دستیابی بحیرہ احمر کے بارے میں سائنسی علم کی معاونت کرے گی اور بین الاقوامی تحقیق میں حصہ ڈالے گی۔
کیا سمندری تہہ کی نقشہ سازی صرف سائنسی مشق ہے یا اس کے عملی اثرات بھی ہیں؟ رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا سمندری رہائش گاہوں کے مطالعے، سمندری تہہ کی خصوصیات کے تجزیے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی میں مدد دیتا ہے، جو اسے سائنسی اور عملی دونوں پہلوؤں سے متعلق بناتا ہے۔
سروے کی گہرائی کا دائرہ دو میٹر سے 2,460 میٹر سے زیادہ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ تنوع اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ڈیٹاسیٹ میں ساحلی کم گہرے پانیوں سے لے کر گہرے سمندری علاقوں تک کے مختلف ماحول شامل ہیں۔ 49,418.7 مربع کلومیٹر کے رقبے پر ڈیجیٹل ماڈلز کی تیاری اس ڈیٹا کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔
ڈاکٹر قربان نے کہا کہ یہ اشاعت مہم کے سائنسی نتائج میں سے ایک ہے اور یہ بحیرہ احمر کے بارے میں علم کو آگے بڑھانے میں سمندری کھوج کی قدر کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تحقیق بحیرہ احمر کی سمندری تہہ کے بارے میں سمجھ کو وسیع کرتی ہے اور سمندری تہہ کی ٹوپوگرافی اور سمندری رہائش گاہوں کے درمیان تعلق کی تحقیق کی معاونت کرتی ہے۔
کیا بین الاقوامی تحقیقی شراکت کے بغیر اس نوعیت کا ڈیٹاسیٹ تیار ہو سکتا تھا؟ رپورٹ میں این سی ڈبلیو، کاوست اور اوشن ایکس کے محققین کا تذکرہ ہے، جبکہ مہم مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کی گئی تھی۔ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ یہ کام مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا سمندری مقامی منصوبہ بندی کی معاونت کرتا ہے۔ سمندری مقامی منصوبہ بندی میں عام طور پر سمندری وسائل کے استعمال اور تحفظ کے فیصلے شامل ہوتے ہیں، اور اس کے لیے سمندری تہہ کی تفصیلی معلومات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی ریزولوشن ڈیٹا کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر قربان کے مطابق ڈیٹا کی دستیابی سمندری تہہ کی نقشہ سازی، سمندری رہائش گاہوں اور سائنس پر مبنی انتظام سے متعلق بین الاقوامی تحقیق میں حصہ ڈالے گی۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تحقیق صرف سعودی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی متعلقہ ہے۔
کیا سمندری تہہ کے ڈیٹا کو کھلا رکھنا تحقیق کے معیار کو بہتر بناتا ہے؟ رپورٹ میں اس ڈیٹا کو کھلا اور ہائی ریزولوشن سائنسی وسیلہ قرار دیا گیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی دستیابی محققین اور ماہرین کے لیے سائنسی علم کی معاونت کرے گی۔
اس تحقیق میں 2,863 سروے لائنوں کے ڈیٹا پر کارروائی کی گئی۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیٹاسیٹ کی تیاری میں کافی تفصیلی کام شامل تھا۔ سروے کی لمبائی تقریباً 860 کلومیٹر اور گہرائی کا دائرہ دو میٹر سے 2,460 میٹر سے زیادہ تک ہونا اس کام کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس تحقیق پر کتنی لاگت آئی، نہ یہ کہ ڈیٹا کو کس پلیٹ فارم پر دستیاب کرایا گیا ہے، اور نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ مستقبل میں مزید سروے کب یا کہاں کیے جائیں گے۔ یہ تفصیلات ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
اسی طرح رپورٹ میں اس بات کا تذکرہ نہیں کہ ڈیٹاسیٹ تک رسائی کے لیے کوئی شرائط ہیں یا نہیں، اور نہ ہی یہ کہ اسے کس شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ ان نکات پر رپورٹ خاموش ہے، اس لیے ان کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔
کیا اس تحقیق کے نتائج سمندری تحفظ کی پالیسیوں میں براہ راست شامل کیے جائیں گے؟ رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا سمندری مقامی منصوبہ بندی کی معاونت کرتا ہے اور سائنس پر مبنی انتظام سے متعلق بین الاقوامی تحقیق میں حصہ ڈالتا ہے، لیکن پالیسی میں اس کے استعمال کی تفصیل نہیں دی گئی۔
بحیرہ احمر کی سمندری تہہ کے تفصیلی نقشوں میں طویل عرصے سے موجود خلا کا ذکر رپورٹ کا مرکزی نکتہ ہے۔ یہ خلا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ماضی میں اس نوعیت کا ہائی ریزولوشن ڈیٹا دستیاب نہیں تھا۔ اس تحقیق کا تعاون اسی کمی کو دور کرنے کی کوشش ہے۔
ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ ڈیٹا مستقبل کے مطالعات، سروے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ بیان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تحقیق کا مقصد صرف موجودہ معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ آگے کی تحقیق کے لیے راستہ ہموار کرنا بھی ہے۔
کیا سمندری کھوج کے اخراجات اور اس کے سائنسی فوائد کے درمیان توازن قائم کرنا ممکن ہے؟ رپورٹ میں ڈاکٹر قربان کے اس بیان کا ذکر ہے کہ یہ اشاعت بحیرہ احمر کے بارے میں علم کو آگے بڑھانے میں سمندری کھوج کی قدر کو ظاہر کرتی ہے، جس سے اس سوال کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج میں 49,418.7 مربع کلومیٹر رقبے پر سمندری تہہ کی گہرائی کے ڈیجیٹل ماڈلز شامل ہیں۔ یہ ماڈلز 2,863 سروے لائنوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر کارروائی کے بعد تیار کیے گئے۔ سروے تقریباً 860 کلومیٹر پر محیط تھا اور گہرائی دو میٹر سے 2,460 میٹر سے زیادہ تک تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا سمندری رہائش گاہوں کے مطالعے، سمندری تہہ کی خصوصیات کے تجزیے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ تینوں پہلو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیٹاسیٹ کا استعمال کثیر الجہتی ہے۔
کیا بحیرہ احمر کی سمندری تہہ کی تحقیق میں یہ ڈیٹاسیٹ ایک نیا معیار قائم کرے گا؟ رپورٹ میں اسے ہائی ریزولوشن اور کھلا سائنسی وسیلہ قرار دیا گیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی تحقیق میں حصہ ڈالے گا، لیکن اس کے اثرات کا جائزہ مستقبل کے حوالے ہے۔
اس اشاعت کے مصنفین میں این سی ڈبلیو، کاوست اور اوشن ایکس کے محققین شامل ہیں۔ ڈاکٹر محمد قربان، جو این سی ڈبلیو کے سی ای او ہیں، اس تحقیق کے شریک مصنف بھی ہیں۔ ان کا بیان رپورٹ میں نقل کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے ڈیٹا کی دستیابی اور اس کے سائنسی استعمال پر روشنی ڈالی۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مہم کے دوران کتنے محققین نے حصہ لیا، نہ ہی یہ کہ سروے کے دوران کون سی مخصوص ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ ان تفصیلات کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے ان پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔
کیا سمندری تہہ کے ڈیٹا کی کھلی دستیابی سے بحیرہ احمر کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں مدد ملے گی؟ رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا سمندری رہائش گاہوں کے مطالعے کی سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے، جو تحفظ کی کوششوں کے لیے بنیادی معلومات مہیا کر سکتا ہے۔
اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ 2022 کی مہم کے دوران جمع کیے گئے فیلڈ ڈیٹا پر مبنی ہے۔ مہم کا نام Journey of the Decade ہے اور یہ مقامی اور بین الاقوامی تحقیقی شراکت داروں کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس ڈیٹا کو اب سائنسی اشاعت کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ تحقیق بحیرہ احمر کی سمندری تہہ کے بارے میں سمجھ کو وسیع کرتی ہے اور سمندری تہہ کی ٹوپوگرافی اور سمندری رہائش گاہوں کے درمیان تعلق کی تحقیق کی معاونت کرتی ہے۔ یہ بیان تحقیق کے سائنسی مقصد کو واضح کرتا ہے۔
کیا سمندری منصوبہ بندی کے فیصلے سائنسی ڈیٹا کے بغیر مؤثر ہو سکتے ہیں؟ رپورٹ میں اس ڈیٹا کو سمندری مقامی منصوبہ بندی کی معاونت کرنے والا قرار دیا گیا ہے، جس سے اس سوال کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مطالعہ Earth System Science Data میں شائع ہوا ہے۔ اشاعت کا یہ مقام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تحقیق سائنسی جریدے کی سطح پر پیش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیٹاسیٹ کو کھلا اور ہائی ریزولوشن قرار دیا گیا ہے۔
اس تحقیق میں سعودی ساحل کے ساتھ تقریباً 860 کلومیٹر پر محیط سمندری سروے شامل ہے۔ سروے کی گئی گہرائیوں کا دائرہ ساحلی کم گہرے پانیوں میں تقریباً دو میٹر سے لے کر گہرے علاقوں میں 2,460 میٹر سے زیادہ تک تھا۔ یہ تنوع ڈیٹاسیٹ کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا اس نوعیت کے ڈیٹاسیٹ کی تیاری میں بین الاقوامی شراکت لازمی ہے؟ رپورٹ میں این سی ڈبلیو، کاوست اور اوشن ایکس کے محققین کا تذکرہ ہے، جبکہ مہم مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کی گئی تھی، جو مشترکہ کوشش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈیٹاسیٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا یا نہیں، نہ ہی یہ کہ اس کے استعمال کے لیے کوئی خاص شرائط ہیں۔ ان نکات پر رپورٹ خاموش ہے، اس لیے ان کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔
ڈاکٹر قربان کے مطابق ڈیٹا کی دستیابی بحیرہ احمر کے بارے میں سائنسی علم کی معاونت کرے گی اور سمندری تہہ کی نقشہ سازی، سمندری رہائش گاہوں اور سائنس پر مبنی انتظام سے متعلق بین الاقوامی تحقیق میں حصہ ڈالے گی۔ یہ بیان تحقیق کے بین الاقوامی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔
کیا سمندری تہہ کی ٹوپوگرافی اور سمندری رہائش گاہوں کے درمیان تعلق کو سمجھنا تحفظ کے لیے ضروری ہے؟ رپورٹ میں اس تعلق کی تحقیق کی معاونت کا ذکر ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج میں 49,418.7 مربع کلومیٹر رقبے پر ڈیجیٹل ماڈلز شامل ہیں، جو 2,863 سروے لائنوں کے ڈیٹا پر کارروائی کے بعد تیار کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار رپورٹ میں دیے گئے ہیں اور تحقیق کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا سمندری تہہ کی خصوصیات کے تجزیے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سمندری رہائش گاہوں کے مطالعے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی کی معاونت کرتا ہے۔ یہ تینوں استعمالات تحقیق کے عملی پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں۔
کیا بحیرہ احمر کے بارے میں سائنسی علم میں اضافہ علاقائی تعاون کو مضبوط بناتا ہے؟ رپورٹ میں بین الاقوامی تحقیقی شراکت کا ذکر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ڈیٹا بین الاقوامی تحقیق میں حصہ ڈالے گا، جو تعاون کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔
اس اشاعت کے ساتھ ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ 2022 کی مہم کے دوران جمع کیا گیا ڈیٹا اب سائنسی برادری کے لیے دستیاب ہے۔ ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ ڈیٹا ایک کھلا، ہائی ریزولوشن سائنسی وسیلہ ہے، جو اسے محققین اور ماہرین کے لیے قابل استعمال بناتا ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس تحقیق کے بعد کون سے مخصوص سروے کیے جائیں گے، نہ ہی یہ کہ ڈیٹا کو کس شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ ان تفصیلات کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے ان پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔
کیا سمندری کھوج کے نتائج کو عوامی پالیسی سے جوڑنا ضروری ہے؟ رپورٹ میں اس ڈیٹا کو سمندری مقامی منصوبہ بندی کی معاونت کرنے والا قرار دیا گیا ہے اور سائنس پر مبنی انتظام کا ذکر بھی ہے، جو اس سوال کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس تحقیق کا مرکزی نکتہ بحیرہ احمر کے تفصیلی سمندری تہہ کے نقشوں میں طویل عرصے سے موجود خلا کو پر کرنا ہے۔ یہ ڈیٹاسیٹ اس خلا کو پر کرنے میں مدد دیتا ہے اور سمندری رہائش گاہوں کے مطالعے، سمندری تہہ کی خصوصیات کے تجزیے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ اشاعت مہم کے سائنسی نتائج میں سے ایک ہے اور یہ بحیرہ احمر کے بارے میں علم کو آگے بڑھانے میں سمندری کھوج کی قدر کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق یہ ڈیٹا مستقبل کے مطالعات، سروے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس تحقیق کے لیے کون سی مخصوص ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، نہ ہی یہ کہ مہم کے دوران کتنے محققین شامل تھے۔ ان تفصیلات کے بغیر ان پہلوؤں پر کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔
اس تحقیق میں کون کون شامل تھا؟ رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں این سی ڈبلیو، کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کاوست) اور اوشن ایکس کے محققین نے حصہ ڈالا۔ اوشن ایکس سمندری کھوج اور سمندری تحقیق میں مہارت رکھنے والی تنظیم ہے۔ ڈاکٹر محمد قربان، جو این سی ڈبلیو کے سی ای او ہیں، اس تحقیق کے شریک مصنف بھی ہیں۔ مہم مقامی اور بین الاقوامی تحقیقی شراکت داروں کے ساتھ کی گئی تھی۔
ڈیٹا کہاں سے حاصل کیا گیا؟ یہ تحقیق این سی ڈبلیو کی 2022 کی Journey of the Decade مہم کے دوران جمع کیے گئے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ سروے سعودی ساحل کے ساتھ تقریباً 860 کلومیٹر پر محیط تھا۔ گہرائیوں کا دائرہ ساحلی کم گہرے پانیوں میں تقریباً دو میٹر سے لے کر گہرے علاقوں میں 2,460 میٹر سے زیادہ تک تھا۔ محققین نے 2,863 سروے لائنوں کے ڈیٹا پر کارروائی کی۔
اس تحقیق کے نتائج کیا ہیں؟ اس تحقیق میں 49,418.7 مربع کلومیٹر رقبے پر سمندری تہہ کی گہرائی کے ڈیجیٹل ماڈلز تیار کیے گئے۔ یہ ڈیٹا سمندری رہائش گاہوں کے مطالعے، سمندری تہہ کی خصوصیات کے تجزیے اور سمندری مقامی منصوبہ بندی کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مطالعہ بحیرہ احمر کے تفصیلی سمندری تہہ کے نقشوں میں طویل عرصے سے موجود خلا کو پر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ تحقیق کہاں شائع ہوئی؟ یہ مطالعہ Earth System Science Data میں شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ اشاعت مہم کے سائنسی نتائج میں سے ایک ہے اور یہ بحیرہ احمر کے بارے میں علم کو آگے بڑھانے میں سمندری کھوج کی قدر کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحقیق فیلڈ ڈیٹا کو ایک کھلے، ہائی ریزولوشن سائنسی وسیلے کے طور پر دستیاب بناتی ہے۔
ڈیٹا کس کے لیے دستیاب ہوگا؟ ڈاکٹر قربان کے مطابق یہ ڈیٹا محققین اور ماہرین کے لیے دستیاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی دستیابی بحیرہ احمر کے بارے میں سائنسی علم کی معاونت کرے گی اور سمندری تہہ کی نقشہ سازی، سمندری رہائش گاہوں اور سائنس پر مبنی انتظام سے متعلق بین الاقوامی تحقیق میں حصہ ڈالے گی۔ رپورٹ میں رسائی کی شرائط یا پلیٹ فارم کا ذکر نہیں ہے۔
رپورٹ میں کیا نہیں بتایا گیا؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس تحقیق پر کتنی لاگت آئی، نہ یہ کہ ڈیٹا کو کس پلیٹ فارم پر دستیاب کرایا گیا ہے، اور نہ ہی یہ کہ مستقبل میں مزید سروے کب یا کہاں کیے جائیں گے۔ اسی طرح مہم میں شامل محققین کی تعداد اور استعمال شدہ مخصوص ٹیکنالوجی کا ذکر بھی نہیں ہے۔





