خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے ریاض اور خمیس مشیط شہروں کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ حملے سعودی عرب کی سرزمین پر کیے گئے، اور جی سی سی کے سربراہ نے انہیں سنگین تصادم قرار دیا جو مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور شہریوں کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ بیان ریاض سے جاری ہوا اور اس میں خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے واضح موقف اختیار کیا۔ ایس پی اے کے مطابق بیان کا وقت مقامی وقت کے مطابق صبح 08:36 اور گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 05:36 تھا۔
کیا ریاض اور خمیس مشیط جیسے شہروں کو نشانہ بنانا کوئی معمولی واقعہ ہے، یا یہ خطے کے امن کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے؟ جی سی سی سربراہ کے مطابق یہ حملے بار بار ہو رہے ہیں، اور ان کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو فیصلہ کن موقف اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے، تاکہ اس طرح کے حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔
جاسم البدیوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق رکن ریاستیں مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہیں۔ یہ یکجہتی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے واقعات بار بار رونما ہو رہے ہیں۔
کیا خلیجی ممالک کی مشترکہ حمایت سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گی؟ ایس پی اے کے مطابق البدیوی نے کہا کہ یہ سنگین تصادم مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے اسے علاقائی استحکام کے لیے بھی خطرہ قرار دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے سے جڑا ہوا ہے۔
بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان بار بار ہونے والے حملوں کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن موقف اختیار کرے۔ کیا عالمی برادری اس مطالبے پر عملی اقدامات کرے گی، یا یہ صرف بیانات تک محدود رہے گا؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ حملے میزائل اور ڈرون دونوں ذرائع سے کیے گئے، جو شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔
ریاض، جو مملکت کا دارالحکومت اور خطے کا ایک بڑا شہر ہے، اور خمیس مشیط، جو جنوبی علاقے میں واقع ہے، دونوں کو ایک ہی بیان میں نشانہ بنائے جانے کا ذکر ہے۔ ایس پی اے کے مطابق جی سی سی سربراہ نے ان حملوں کو حوثی ملیشیا سے منسوب کیا اور انہیں دہشت گردانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف مملکت بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔
کیا بار بار ہونے والے حملے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں؟ البدیوی کے بیان کے مطابق یہ حملے علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے رکن ممالک کی جانب سے سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل اس معاملے کو مشترکہ سلامتی کا مسئلہ سمجھتی ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق بیان میں یہ واضح کیا گیا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
کیا بین الاقوامی برادری ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی؟ جی سی سی سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو فیصلہ کن موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ ان بار بار ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا خاتمہ ہو اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے۔ ان کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملوں میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہوا، نہ ہی یہ کہ حملے کس وقت ہوئے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ بیان 26 ستمبر 2026 کو ریاض سے جاری ہوا۔ رپورٹ میں حملوں کی تفصیلات، ان کے اہداف، یا ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ذکر نہیں ہے۔ بیان میں صرف یہ بتایا گیا کہ حملے بیلسٹک میزائل اور ڈرون کے ذریعے کیے گئے اور ان کا نشانہ ریاض اور خمیس مشیط شہر تھے۔
کیا اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؟ جی سی سی سربراہ نے اپنے بیان میں سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر زور دیا، اور رکن ممالک کی مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کو روکنے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق جاسم البدیوی نے حوثی ملیشیا کے حملوں کو دہشت گردانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے شہریوں کی سلامتی اور علاقائی استحکام کو درپیش خطرے کا بھی ذکر کیا۔ یہ بیان خلیج تعاون کونسل کے سربراہ کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت کا واضح پیغام ہے۔
کیا خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اس معاملے پر متحد موقف اختیار کریں گے؟ البدیوی کے بیان کے مطابق رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور مملکت کی سلامتی کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل اس معاملے کو مشترکہ سلامتی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملوں کے پیچھے کسی مخصوص گروہ کا نام لیا گیا ہو یا ان کے اہداف کیا تھے۔ رپورٹ میں صرف یہ درج ہے کہ حوثی ملیشیا نے بیلسٹک میزائل اور ڈرون سے ریاض اور خمیس مشیط کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ نقصانات یا جوابی اقدامات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
کیا اس طرح کے حملے خطے میں امن کے لیے طویل مدتی خطرہ بن سکتے ہیں؟ جی سی سی سربراہ کے مطابق یہ حملے علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور ان کا سلسلہ روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے لیے فیصلہ کن موقف اختیار کرے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان 26 ستمبر 2026 کو جاری ہوا، اور اس میں خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ رپورٹ میں حملوں کی مزید تفصیلات، جیسے وقت، مقام یا نقصان، شامل نہیں ہیں۔
کیا بین الاقوامی برادری کے فیصلہ کن موقف کے بغیر ان حملوں کا سلسلہ رک سکتا ہے؟ البدیوی کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی برادری کو ان بار بار ہونے والے حملوں کو ختم کرنے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اسے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
ایس پی اے کے مطابق جی سی سی سربراہ نے ریاض اور خمیس مشیط پر حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں دہشت گردانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور شہریوں کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ حملوں کے بعد کیا جوابی کارروائی کی گئی۔
کیا خلیجی یکجہتی کا یہ اعلان خطے میں مزید تعاون کی راہ ہموار کرے گا؟ البدیوی کے مطابق رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ بیان خلیجی تعاون کونسل کے مشترکہ موقف کی عکاسی کرتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان مقامی وقت کے مطابق صبح 08:36 اور گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 05:36 پر جاری ہوا۔ رپورٹ میں حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات، جانی نقصان یا کسی جوابی اقدام کا ذکر نہیں ہے۔ بیان میں صرف مذمت، یکجہتی اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ شامل ہے۔
کیا اس طرح کے بیانات کے بعد عملی اقدامات کی توقع کی جا سکتی ہے؟ جی سی سی سربراہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بار بار ہونے والے حملوں کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن موقف اختیار کرے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے۔ انہوں نے اسے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا اور رکن ممالک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
ایس پی اے کے مطابق رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے کس وقت ہوئے، کتنے میزائل یا ڈرون استعمال ہوئے، یا ان کا نشانہ کون سی مخصوص جگہیں تھیں۔ بیان میں صرف ریاض اور خمیس مشیط شہروں کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ کسی قسم کی تفصیل یا اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔
کیا خطے میں بار بار ہونے والے حملے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنیں گے؟ جی سی سی سربراہ کے بیان کے مطابق یہ حملے علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فیصلہ کن موقف اختیار کرے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق جاسم البدیوی نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے رکن ممالک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے حوثی ملیشیا کے حملوں کو دہشت گردانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ شہریوں کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
جی سی سی سربراہ نے کس واقعے کی مذمت کی؟ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی جو ریاض اور خمیس مشیط شہروں کو نشانہ بناتے تھے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے ان حملوں کو دہشت گردانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور شہریوں کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
رکن ممالک کا موقف کیا بیان کیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق جاسم البدیوی نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ بیان ریاض سے 26 ستمبر 2026 کو جاری ہوا اور اس میں رکن ممالک کی مشترکہ حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
بین الاقوامی برادری سے کیا مطالبہ کیا گیا؟ جی سی سی سربراہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ان بار بار ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن موقف اختیار کرے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ان حملوں کو علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا اور رکن ممالک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
بیان میں کون سی تفصیلات شامل نہیں تھیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے کس وقت ہوئے، کتنے میزائل یا ڈرون استعمال ہوئے، یا ان سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہوا۔ رپورٹ میں صرف ریاض اور خمیس مشیط شہروں کا ذکر ہے اور یہ کہ حملے بیلسٹک میزائل اور ڈرون سے کیے گئے۔ اس کے علاوہ کوئی اضافی تفصیل یا اعداد و شمار موجود نہیں۔





