Sunday, November 8, 2026
سعودی خبریں

عادل الجبیر نے نکاراگوا کے وزیر خارجہ سے نیویارک میں ملاقات کی

عادل الجبیر نے نکاراگوا کے وزیر خارجہ سے نیویارک میں ملاقات کی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ، کابینہ کے رکن، موسمیاتی ایلچی اور ایکسپو 2030 ریاض کے کمشنر جنرل عادل الجبیر نے نکاراگوا کی جمہوریہ کے وزیر خارجہ Valdrack Ludwing Jaentschke Whitaker سے ملاقات کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ ملاقات جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ ایس پی اے کے مطابق ملاقات 25 ستمبر 2026 کو نیویارک میں ہوئی۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت کی۔ یہی وہ دو نکات ہیں جو ایس پی اے کی رپورٹ میں درج ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس عالمی سفارت کاری کے لیے کیوں اتنا اہم موقع سمجھا جاتا ہے؟ ہر سال ستمبر میں نیویارک میں دنیا بھر کے رہنما اور وزرائے خارجہ جمع ہوتے ہیں، اور یہی وہ موقع ہوتا ہے جب دو طرفہ ملاقاتیں معمول کی سفارتی مصروفیات سے ہٹ کر ایک الگ رفتار اختیار کر لیتی ہیں۔

عادل الجبیر کی شخصیت اس ملاقات کو ایک خاص تناظر دیتی ہے۔ وہ بیک وقت وزیر مملکت برائے امور خارجہ، کابینہ کے رکن، موسمیاتی ایلچی اور ایکسپو 2030 ریاض کے کمشنر جنرل ہیں۔ ان چار ذمہ داریوں کا اجتماع خود بتاتا ہے کہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کس طرح سفارت کاری، ماحولیات اور بین الاقوامی نمائشوں کے میدانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔

کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک وزیر مملکت کے پاس اتنی متنوع ذمہ داریاں ہوں؟ سعودی عرب کے سفارتی ڈھانچے میں یہ بات عام ہے کہ ایک ہی شخصیت کو کئی کلیدی محاذوں پر ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اور عادل الجبیر اس کی واضح مثال ہیں۔

دوسری طرف نکاراگوا کی جمہوریہ کے وزیر خارجہ Valdrack Ludwing Jaentschke Whitaker کی موجودگی وسطی امریکہ کے اس ملک کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ نکاراگوا لاطینی امریکہ کا ایک اہم ملک ہے، اور ایسے ملاقاتوں کے ذریعے سعودی عرب اپنے سفارتی دائرے کو وسیع کرتا رہتا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا۔ دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تعاون کے شعبوں، ممکنہ نئے راستوں اور مشترکہ مفادات پر بات ہوئی۔ تاہم رپورٹ میں اس بات کی تفصیل نہیں دی گئی کہ کن شعبوں پر بات ہوئی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب اور لاطینی امریکی ممالک کے درمیان تجارت، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کی گنجائش کتنی ہے؟ اگرچہ ایس پی اے کی اس رپورٹ میں ان شعبوں کا ذکر نہیں، لیکن یہ سوال خود بخود ذہن میں آتا ہے جب دو ممالک کے وزرائے خارجہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت کی۔ علاقائی پیش رفت سے مراد مشرق وسطیٰ کی صورتحال ہو سکتی ہے، جبکہ بین الاقوامی پیش رفت میں عالمی سطح کے سیاسی اور اقتصادی مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایس پی اے نے ان پیش رفتوں کی کوئی تفصیل نہیں دی۔

کیا یہ ممکن ہے کہ علاقائی پیش رفت سے مراد غزہ یا لبنان کی صورتحال ہو؟ یا پھر یہ بات یمن اور بحیرہ احمر کی صورت حال سے متعلق ہو؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا گیا، اس لیے قیاس آرائی سے گریز کرنا ہی مناسب ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نیویارک میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس ہر سال دنیا بھر کے ممالک کے نمائندوں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرتا ہے۔ سعودی عرب ہر سال اس اجلاس میں شرکت کرتا ہے اور اپنے موقف کا اظہار کرتا ہے۔ اس سال بھی سعودی وفد نیویارک میں موجود ہے۔

عادل الجبیر کی نیویارک میں موجودگی صرف اس ایک ملاقات تک محدود نہیں۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ کی درجنوں ملاقاتیں ہوتی ہیں، اور ہر ملاقات ایک الگ پیغام ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں کیا ٹھوس معاہدے سامنے آتے ہیں؟

سفارتی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقاتیں اکثر طویل المدتی تعلقات کی بنیاد بنتی ہیں۔ ایک مختصر ملاقات بھی آگے چل کر کسی معاہدے یا تعاون کے آغاز کا نقطہ بن سکتی ہے۔ لیکن ایس پی اے کی رپورٹ میں اس ملاقات کے کسی فوری نتیجے کا ذکر نہیں ہے۔

کیا دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے؟ سفارتی زبان میں “جائزہ لینا” ایک وسیع اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا، اور یہ بھی کہ انہوں نے نئے شعبوں کی نشاندہی کی۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف ایک ملاقات کی رپورٹ سے نہیں نکلتا۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ سعودی عرب عالمی سطح پر اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

نکاراگوا وسطی امریکہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کی آبادی اور جغرافیائی اہمیت اسے خطے میں ایک خاص مقام دیتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ نکاراگوا کے تعلقات کا دائرہ کیا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ اس بارے میں خاموش ہے، لیکن یہ ملاقات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے فعال ہیں۔

عادل الجبیر کا موسمیاتی ایلچی کے طور پر کردار بھی اس ملاقات کے پس منظر میں اہم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے، اور سعودی عرب اس میدان میں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا نکاراگوا کے ساتھ موسمیاتی تعاون پر بھی بات ہوئی؟ رپورٹ میں اس کا ذکر نہیں۔

ایکسپو 2030 ریاض کے کمشنر جنرل کے طور پر عادل الجبیر کی ذمہ داری بھی اس ملاقات کو ایک اضافی جہت دیتی ہے۔ ایکسپو 2030 ریاض ایک عالمی تقریب ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک شرکت کریں گے۔ کیا نکاراگوا اس میں شرکت کرے گا؟ یہ سوال بھی رپورٹ میں جواب کے بغیر رہ جاتا ہے۔

سفارت کاری میں ملاقاتوں کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک مختصر ملاقات بھی دو ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سعودی عرب اور نکاراگوا کے وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران کتنی دو طرفہ ملاقاتیں ہوتی ہیں؟ یہ تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے، اور ہر ملاقات کا اپنا ایک سیاق و سباق ہوتا ہے۔ نیویارک میں ستمبر کا مہینہ سفارت کاری کے لحاظ سے سال کا مصروف ترین وقت ہوتا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی نکاراگوا کے وزیر خارجہ سے ملاقات کو علاقائی تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے، اور سعودی عرب اس حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت مختلف فورمز پر کرتا رہتا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت کی۔ یہ جملہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صرف دوطرفہ امور ہی نہیں بلکہ عالمی سطح کے مسائل پر بھی رابطہ رہتا ہے۔

کیا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک کے موقف میں ہم آہنگی ہے؟ یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ رپورٹ میں موقف کی تفصیل نہیں دی گئی۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ مختلف خطوں کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیتی ہے۔ لاطینی امریکہ اس پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ نکاراگوا کے ساتھ یہ ملاقات اسی پالیسی کا اظہار ہے۔

نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملاقات کتنی دیر تک جاری رہی، کون کون موجود تھا، یا کوئی معاہدہ ہوا یا نہیں۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو ایس پی اے کی خبر میں شامل نہیں ہیں۔

ایک خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں ہمیشہ ہر تفصیل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سفارتی ملاقاتوں کی رپورٹس مختصر ہوتی ہیں کیونکہ ان کے نتائج بعد میں سامنے آتے ہیں۔ اس ملاقات کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب اور نکاراگوا کے درمیان تعلقات کی تاریخ کیا ہے؟ اس بارے میں ایس پی اے کی رپورٹ میں کوئی پس منظر نہیں دیا گیا۔ لیکن یہ ملاقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور انہیں مزید مضبوط کرنے کی خواہش موجود ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقات سعودی عرب کی کثیرالجہتی سفارت کاری کا حصہ ہے۔ سعودی عرب اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو عالمی مسائل پر اپنی آواز بلند کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

عادل الجبیر کی نیویارک میں مصروفیات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی ہر ملاقات سعودی عرب کے سفارتی اہداف کے مطابق ہوتی ہے۔ نکاراگوا کے وزیر خارجہ سے یہ ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات 25 ستمبر 2026 کو نیویارک میں ہوئی۔ رپورٹ میں مقامی وقت کے مطابق 04:05 اور جی ایم ٹی کے مطابق 01:05 کا وقت دیا گیا ہے۔ یہ تفصیلات خبر کی تاریخ اور وقت کی تصدیق کرتی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سعودی وفد کی سرگرمیاں کس طرح ترتیب دی جاتی ہیں؟ یہ ایک منظم عمل ہے جس میں ہر ملاقات کا اپنا مقام اور وقت ہوتا ہے۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں استحکام اور تعاون کے اصول نمایاں ہیں۔ نکاراگوا کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینا انہی اصولوں کا عکس ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھانے کی خواہش اس ملاقات سے ظاہر ہوتی ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اس ملاقات میں کوئی نیا معاہدہ ہوا یا کوئی مشترکہ بیان جاری ہوا۔ یہ وہ معلومات ہیں جو ایس پی اے کی خبر میں موجود نہیں ہیں، اور ان کے بارے میں قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

سفارتی ملاقاتوں کی خبروں میں اکثر یہ جملہ استعمال ہوتا ہے کہ “دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کے موجودہ دائرے پر نظر ڈالی اور آگے بڑھنے کے راستوں پر غور کیا۔ یہ ایک معمول کی سفارتی سرگرمی ہے جو تعلقات کو فعال رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

کیا اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی نیا تعاون شروع ہوگا؟ اس کا جواب مستقبل میں سامنے آئے گا۔ فی الحال ایس پی اے کی رپورٹ صرف اتنا بتاتی ہے کہ ملاقات ہوئی، دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا، اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اس ملاقات کی خبر مختصر انداز میں دی ہے۔ رپورٹ میں نہ ملاقات کی جگہ کی مزید تفصیل ہے، نہ شرکاء کی مکمل فہرست، اور نہ ہی کسی نتیجے کا ذکر۔ یہ وہ معلومات ہیں جو اس وقت دستیاب نہیں ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر کی نکاراگوا کے وزیر خارجہ Valdrack Ludwing Jaentschke Whitaker کے ساتھ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ یہ اجلاس نیویارک میں جاری ہے، اور اس دوران مختلف ممالک کے نمائندوں کے درمیان ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔ یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات کا ایک دائرہ موجود ہے، جس پر وہ تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب اور نکاراگوا کے درمیان سفارتی تعلقات کب قائم ہوئے؟ اس بارے میں ایس پی اے کی رپورٹ میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ لیکن یہ ملاقات اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فعال سفارتی رابطے موجود ہیں۔

نیویارک میں ستمبر کا مہینہ عالمی سفارت کاری کا مرکز بن جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران شہر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں اور مختلف ممالک کے وفود مصروف رہتے ہیں۔ سعودی وفد بھی اس مصروفیت کا حصہ ہے۔

عادل الجبیر کی اس ملاقات کی خبر ایس پی اے نے جاری کی۔ سعودی خبر رساں ادارہ سرکاری خبروں کا اہم ذریعہ ہے اور اس کی رپورٹس کو سعودی عرب کی سرکاری پوزیشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس ملاقات کے بعد کیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی مشترکہ منصوبہ سامنے آئے گا؟ یہ سوال اس وقت کا جواب نہیں رکھتا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں ہے، اور سفارتی ملاقاتوں کے نتائج اکثر بعد میں سامنے آتے ہیں۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں عالمی سطح پر امن اور استحکام کی حمایت ایک بنیادی اصول ہے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر سعودی عرب اپنے اس موقف کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ نکاراگوا کے ساتھ ملاقات بھی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت ہوئی۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک عالمی سطح کے مسائل پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے واقفیت رکھتے ہیں اور ان پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

کیا اس ملاقات کو کسی بڑے سفارتی اقدام کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں ہے۔ یہ ایک معمول کی سفارتی ملاقات ہے جو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہوئی۔

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی نکاراگوا کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی خبر مختصر ہے، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سعودی عرب دنیا کے مختلف خطوں کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ ملاقات اس پالیسی کا ایک نمونہ ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملاقات میں کون سے دیگر افراد شریک تھے۔ رپورٹ صرف دو وزرائے خارجہ کے ناموں کا ذکر کرتی ہے۔ یہ وہ تفصیل ہے جو خبر میں موجود نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں جو کچھ درج ہے، وہی اس خبر کا مکمل مواد ہے۔

عادل الجبیر اور نکاراگوا کے وزیر خارجہ کی ملاقات کہاں اور کب ہوئی؟ یہ ملاقات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر 25 ستمبر 2026 کو ہوئی۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ملاقات مقامی وقت کے مطابق 04:05 اور جی ایم ٹی کے مطابق 01:05 پر رپورٹ کی گئی۔ ملاقات جنرل اسمبلی کے اجلاس کے سائیڈ لائنز پر ہوئی، جہاں دنیا بھر کے وزرائے خارجہ دوطرفہ ملاقاتیں کرتے ہیں۔

ملاقات میں کن امور پر بات چیت ہوئی؟ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت کی۔ رپورٹ میں اس بات کی تفصیل نہیں دی گئی کہ کن مخصوص شعبوں یا مسائل پر بات ہوئی۔ یہی دو نکات رپورٹ میں درج ہیں، اور اس سے آگے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

عادل الجبیر کے پاس کون سی ذمہ داریاں ہیں؟ عادل الجبیر سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ، کابینہ کے رکن، موسمیاتی ایلچی اور ایکسپو 2030 ریاض کے کمشنر جنرل ہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں انہیں ان تمام القابات کے ساتھ متعارف کرایا گیا۔ ان کی یہ کثیر ذمہ داریاں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں سفارت کاری، ماحولیات اور بین الاقوامی نمائشوں کے میدانوں کے باہمی ربط کو ظاہر کرتی ہیں۔

نکاراگوا کے وزیر خارجہ کا نام کیا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نکاراگوا کی جمہوریہ کے وزیر خارجہ کا نام Valdrack Ludwing Jaentschke Whitaker ہے۔ رپورٹ میں ان کا نام اسی لاطینی رسم الخط میں درج کیا گیا ہے۔ وہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ سے ملاقات کے لیے موجود تھے۔

کیا اس ملاقات میں کوئی معاہدہ یا مشترکہ بیان جاری ہوا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں کسی معاہدے، مفاہمت نامے یا مشترکہ بیان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر بات چیت کی۔ اس سے آگے کوئی نتیجہ یا دستاویز رپورٹ میں درج نہیں ہے، اس لیے اس بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس کہاں منعقد ہو رہا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نیویارک میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور نکاراگوا کے وزیر خارجہ کی ملاقات نیویارک میں ہوئی۔ جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر میں نیویارک میں ہوتا ہے، جہاں دنیا بھر کے رہنما اور وزرائے خارجہ جمع ہوتے ہیں۔