واشنگٹن میں عالمی بینک کے صدر دفتر میں انٹوسائی کی پالیسی، فنانس اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی (PFAC) کا 23واں اجلاس اور انٹوسائی ڈونر اسٹیئرنگ کمیٹی (IDSC) کا 19واں اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت جنرل کورٹ آف آڈٹ (جی سی اے) کے صدر ڈاکٹر حسام العنقری نے کی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 ستمبر 2026 کو بیان کیا، ڈاکٹر حسام العنقری نے PFAC کے چیئر کی حیثیت سے اس کمیٹی کی صدارت کی، جبکہ IDSC کے اجلاس کی صدارت انہوں نے انٹوسائی کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور شریک چیئر کی، جہاں عالمی بینک ڈونر کمیونٹی کی جانب سے شریک چیئر ہے۔
ڈونر اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کا آغاز جمعرات کے روز ہوا، جہاں ڈاکٹر العنقری نے کمیٹی کی کامیابیوں کو سراہا جن کا تعلق سپریم آڈٹ اداروں (SAIs) کو بااختیار بنانے اور ان کی آزادی کو مضبوط کرنے سے ہے۔ انہوں نے انٹوسائی، جس کی قیادت جی سی اے کر رہی ہے، اور ڈونر کمیونٹی، جس کی قیادت عالمی بینک کر رہا ہے، کے درمیان پھلدار شراکت داری کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ترقی پذیر ممالک میں سپریم آڈٹ اداروں کو ضروری معاونت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں کمیٹی کے ایجنڈے کے کلیدی موضوعات اور اقدامات کا احاطہ کیا گیا، اس کی حکمت عملی کی سمت کا جائزہ لیا گیا، اور گلوبل SAI اکاؤنٹیبلٹی انیشی ایٹو (GSAI) کی تازہ کاریوں کے ساتھ ساتھ گلوبل SAI انڈیپنڈنس پروجیکٹ کے نتائج اور سفارشات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
جمعہ کے روز ڈاکٹر العنقری نے PFAC کے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے انٹوسائی کمیونٹی کو مستقل تعاون فراہم کرنے، اس کے اہداف کو آگے بڑھانے، اور سپریم آڈٹ اداروں میں شفافیت کو فروغ دینے کی عالمی کوششوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، برازیل، مصر، آسٹریا، جنوبی افریقہ، بھارت، سویڈن، چیک جمہوریہ، انڈونیشیا اور ناروے کے ہم منصب رکن سپریم آڈٹ اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ مندوبین نے ایجنڈے کے کلیدی نکات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں جنرل سیکرٹریٹ کی انٹوسائی کی مالی صورتحال سے متعلق رپورٹ، جی سی اے کی بنیادی رپورٹ جو گزشتہ اجلاس کے بعد سے اہم کامیابیوں اور سرگرمیوں کو اجاگر کرتی ہے، اور انٹوسائی کے اسٹریٹجک اہداف کے چیئرز کی تازہ کاریاں شامل ہیں۔
کمیٹی نے پیشہ ورانہ صلاحیت سے متعلق رپورٹس کا بھی جائزہ لیا۔
یہ سوال اٹھتا ہے کہ انٹوسائی جیسے عالمی فورم پر سپریم آڈٹ اداروں کی آزادی کو مضبوط بنانے کے لیے ڈونر کمیونٹی کے ساتھ شراکت داری کتنی اہم ہے؟ اور کیا ترقی پذیر ممالک میں آڈٹ اداروں کو درکار معاونت اس شراکت داری کے بغیر ممکن ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ انٹوسائی دنیا بھر کے سپریم آڈٹ اداروں کی سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے، اور اس کی پالیسی، فنانس اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی اس کے مالی اور انتظامی امور کی نگرانی کرتی ہے؟ جی سی اے کی قیادت میں یہ کمیٹی کس طرح عالمی سطح پر شفافیت کے معیارات کو بلند کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے؟
ڈاکٹر حسام العنقری کی دوہری صدارت — ایک طرف PFAC کے چیئر کی حیثیت سے اور دوسری طرف IDSC کے شریک چیئر کی حیثیت سے — سعودی عرب کی بین الاقوامی آڈٹ فورمز میں بڑھتی ہوئی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا یہ سعودی عرب کی عالمی مالیاتی گورننس میں فعال کردار کی عکاسی نہیں کرتا؟
اجلاس میں گلوبل SAI اکاؤنٹیبلٹی انیشی ایٹو (GSAI) پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو سپریم آڈٹ اداروں کی جوابدہی کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ اس اقدام کے تحت ترقی پذیر ممالک کے آڈٹ اداروں کو کس قسم کی مدد فراہم کی جا رہی ہے، اور اس کے نتائج کا جائزہ کیسے لیا جاتا ہے؟
گلوبل SAI انڈیپنڈنس پروجیکٹ کے نتائج اور سفارشات بھی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ تھے۔ یہ منصوبہ سپریم آڈٹ اداروں کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کس طرح کام کرتا ہے، اور اس کی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی کون کرتا ہے؟
PFAC کے اجلاس میں جنرل سیکرٹریٹ کی انٹوسائی کی مالی صورتحال سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جس میں تنظیم کے مالی وسائل اور ان کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ کیا اس طرح کی مالی شفافیت بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ایک مثالی معیار قائم نہیں کرتی؟
جی سی اے کی بنیادی رپورٹ میں گزشتہ اجلاس کے بعد سے اہم کامیابیوں اور سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔ ان کامیابیوں میں کون سے ایسے پہلو شامل ہیں جو دیگر سپریم آڈٹ اداروں کے لیے نمونہ بن سکتے ہیں؟
اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، برازیل، مصر، آسٹریا، جنوبی افریقہ، بھارت، سویڈن، چیک جمہوریہ، انڈونیشیا اور ناروے کے سربراہان نے شرکت کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انٹوسائی کی رکنیت عالمی سطح پر پھیلی ہوئی ہے۔ کیا مختلف براعظموں کے آڈٹ اداروں کے درمیان یہ تعاون باہمی سیکھنے کے عمل کو تیز نہیں کرتا؟
انٹوسائی کے اسٹریٹجک اہداف کے چیئرز کی تازہ کاریوں نے تنظیم کی طویل مدتی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ یہ اہداف کس طرح رکن ممالک کے آڈٹ اداروں کی روزمرہ کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں؟
کمیٹی نے پیشہ ورانہ صلاحیت سے متعلق رپورٹس کا بھی جائزہ لیا، جو آڈٹ کے شعبے میں معیارات اور تربیت سے متعلق ہیں۔ پیشہ ورانہ صلاحیت کو بڑھانے کے لیے انٹوسائی کون سے پروگرام چلا رہی ہے، اور ان کا فائدہ کتنے ممالک کو پہنچ رہا ہے؟
ڈاکٹر العنقری نے ڈونر کمیٹی کے اجلاس میں سپریم آڈٹ اداروں کو بااختیار بنانے اور ان کی آزادی کو مضبوط کرنے میں کمیٹی کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے انٹوسائی اور ڈونر کمیونٹی کے درمیان شراکت داری کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ شراکت داری ترقی پذیر ممالک کے آڈٹ اداروں تک وسائل کیسے پہنچاتی ہے؟
PFAC کے اجلاس میں ڈاکٹر العنقری نے انٹوسائی کمیونٹی کو مستقل تعاون فراہم کرنے اور اس کے اہداف کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سپریم آڈٹ اداروں میں شفافیت کو فروغ دینے کی عالمی کوششوں کو آگے بڑھانے پر بھی زور دیا۔ کیا شفافیت کے بغیر عوامی مالیات کی جوابدہی ممکن ہے؟
دونوں اجلاس عالمی بینک کے صدر دفتر میں منعقد ہوئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور آڈٹ تنظیمیں مل کر کام کر رہی ہیں۔ کیا یہ تعاون عالمی مالیاتی نظام کی مضبوطی میں معاون ہے؟
رپورٹ میں اجلاسوں کے دوران اٹھائے گئے فیصلوں، منظور شدہ بجٹ، یا آئندہ اجلاسوں کی تاریخوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اس بات کی تفصیل بھی موجود نہیں کہ GSAI یا گلوبل SAI انڈیپنڈنس پروجیکٹ کے تحت کون سے ممالک کو کس قسم کی معاونت فراہم کی جائے گی۔
انٹوسائی کی PFAC کمیٹی کیا ہے اور اس کا اجلاس کس نے بلایا؟ پالیسی، فنانس اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی (PFAC) انٹوسائی کی ایک اہم کمیٹی ہے جو تنظیم کے مالی اور انتظامی امور کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کا 23واں اجلاس واشنگٹن میں عالمی بینک کے صدر دفتر میں منعقد ہوا اور اس کی صدارت جنرل کورٹ آف آڈٹ کے صدر ڈاکٹر حسام العنقری نے بطور کمیٹی چیئر کی۔ اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، برازیل، مصر، آسٹریا، جنوبی افریقہ، بھارت، سویڈن، چیک جمہوریہ، انڈونیشیا اور ناروے کے سربراہان نے شرکت کی۔
IDSC کیا ہے اور اس کی صدارت کیسے ہوتی ہے؟ انٹوسائی ڈونر اسٹیئرنگ کمیٹی (IDSC) ڈونر کمیونٹی اور انٹوسائی کے درمیان شراکت داری کا فورم ہے۔ اس کی صدارت مشترکہ طور پر ہوتی ہے: انٹوسائی کی نمائندگی کرتے ہوئے جی سی اے کے صدر ڈاکٹر حسام العنقری شریک چیئر ہیں، جبکہ عالمی بینک ڈونر کمیونٹی کی جانب سے شریک چیئر ہے۔ اس کا 19واں اجلاس جمعرات کے روز عالمی بینک کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔
اجلاسوں میں کن اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا؟ ڈونر کمیٹی کے اجلاس میں گلوبل SAI اکاؤنٹیبلٹی انیشی ایٹو (GSAI) کی تازہ کاریوں اور گلوبل SAI انڈیپنڈنس پروجیکٹ کے نتائج و سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔ PFAC کے اجلاس میں جنرل سیکرٹریٹ کی انٹوسائی کی مالی صورتحال سے متعلق رپورٹ، جی سی اے کی بنیادی رپورٹ، اور انٹوسائی کے اسٹریٹجک اہداف کے چیئرز کی تازہ کاریاں پیش کی گئیں۔ پیشہ ورانہ صلاحیت سے متعلق رپورٹس بھی زیر بحث آئیں۔
ڈاکٹر حسام العنقری نے اجلاسوں میں کیا پیغام دیا؟ ڈونر کمیٹی کے اجلاس میں ڈاکٹر العنقری نے سپریم آڈٹ اداروں کو بااختیار بنانے اور ان کی آزادی مضبوط کرنے میں کمیٹی کی کامیابیوں کو سراہا اور انٹوسائی اور ڈونر کمیونٹی کے درمیان شراکت داری برقرار رکھنے پر زور دیا۔ PFAC کے اجلاس میں انہوں نے انٹوسائی کمیونٹی کو مستقل تعاون فراہم کرنے اور سپریم آڈٹ اداروں میں شفافیت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ اجلاس کہاں اور کب منعقد ہوئے؟ دونوں اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک کے صدر دفتر میں منعقد ہوئے۔ ڈونر اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز ہوا جبکہ PFAC کا اجلاس جمعہ کے روز منعقد ہوا۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 ستمبر 2026 کو یہ رپورٹ جاری کی، جس میں اجلاسوں کے مقام اور ایام کا ذکر کیا گیا۔
کیا رپورٹ میں اجلاسوں کے فیصلوں یا بجٹ کا ذکر ہے؟ نہیں، رپورٹ میں اجلاسوں کے دوران اٹھائے گئے فیصلوں، منظور شدہ بجٹ، یا آئندہ اجلاسوں کی تاریخوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اس بات کی تفصیل بھی موجود نہیں کہ GSAI یا گلوبل SAI انڈیپنڈنس پروجیکٹ کے تحت کون سے ممالک کو کس قسم کی معاونت فراہم کی جائے گی۔ رپورٹ صرف ایجنڈے کے موضوعات اور شرکاء کے ناموں تک محدود ہے۔





