ریاض میں قائم نووس کریٹ کنسورشیم نے امریکن کنکریٹ انسٹیٹیوٹ (اے سی آئی) کے بین الاقوامی ایکسیلینس ان کنکریٹ کنسٹرکشن ایوارڈز میں “فلیٹ ورک” کے زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ یہ اعزاز کنکریٹ کی تعمیر کے شعبے میں جدت اور بہترین کارکردگی کو سراہنے کے لیے دیا جاتا ہے، اور اس کی سالانہ تقریب میں دنیا بھر سے اعلیٰ قائدین، فیصلہ ساز اور ماہرین جمع ہوتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ ایوارڈ آٹھ الگ الگ زمروں میں دیا جاتا ہے، اور “فلیٹ ورک” کا زمرہ خاص طور پر ان جدید کنکریٹ منصوبوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جن کی شناخت افقی کنکریٹ سطحوں سے ہوتی ہے، جیسے فرش، پارکنگ لاٹ، رن وے اور تجارتی یا صنعتی فرش۔
کیا یہ اعزاز سعودی عرب کی تعمیراتی صنعت کے لیے عالمی سطح پر ایک نئی پہچان کا آغاز ہے؟ ایس پی اے کے مطابق نووس کریٹ کنسورشیم کی قیادت آئل سسٹین ایبلٹی پروگرام (او ایس پی) کر رہا ہے، اور اس اسٹریٹجک کنسورشیم میں مقامی اور بین الاقوامی اداروں کا نیٹ ورک شامل ہے۔
اس نیٹ ورک میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف)، سعودی انویسٹمنٹ ری سائیکلنگ کمپنی (سیرک)، نیوم، سیکا، کلائمیٹ کریٹ، سعودی ریڈی مکس کنکریٹ کمپنی، کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز (کے ایف یو پی ایم) اور کنگ سعود یونیورسٹی (کے ایس یو) شامل ہیں۔
کیا یہ شراکت داری سعودی عرب میں تعمیراتی شعبے کے مستقبل کا نقشہ بدل سکتی ہے؟ نووس کریٹ کو ایک ایسے عالمی اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے، اور اس کا مقصد تعمیراتی شعبے میں جدت کو آگے بڑھانا اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے مقاصد کے مطابق ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ کنسورشیم 26 جنوری 2025 کو قائم کیا گیا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد تعمیراتی صنعت کے کاربن فوٹ پرنٹ اور پانی کی کھپت کو کم کرنا، ڈھانچوں کی عمر کو بڑھانا، پیداواری لاگت میں کمی لانا اور جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کو مقامی بنانے کے ذریعے مقامی ویلیو چینز کو مضبوط کرنا ہے تاکہ مستقبل کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
کیا پانی کی کھپت میں کمی اور کاربن فوٹ پرنٹ میں تخفیف سعودی عرب کے صحرائی ماحول میں تعمیراتی لاگت کو واقعی کم کر سکتی ہے؟ کنسورشیم کی توجہ ان پائیدار کنکریٹ حل کو تیار کرنے اور ان کے استعمال کو تیز کرنے پر مرکوز ہے جو سمندری پانی اور جدید مقامی مواد سے تیار کیے جاتے ہیں۔
اس میں گلاس فائبر ری انفورسڈ پولیمر (جی ایف آر پی) ریبارز اور تعمیراتی و مسماری کے فضلے سے حاصل کردہ ری سائیکل شدہ مواد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کنسورشیم کے ارکان تعمیراتی شعبے میں ان اطلاقات کے دائرہ کار کو فعال بنانے اور بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں، جس میں قومی معیارات اور بلڈنگ کوڈز تیار کرنے کی کوششوں کی قیادت بھی شامل ہے۔
کیا سمندری پانی سے تیار کردہ کنکریٹ روایتی میٹھے پانی پر انحصار کرنے والے تعمیراتی طریقوں کی جگہ لے سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کنسورشیم کے ارکان ان اطلاقات کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں، اور اس سلسلے میں قومی معیارات اور بلڈنگ کوڈز کی تیاری کی کوششوں کی قیادت بھی کی جا رہی ہے۔
یہ ایوارڈ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ کنکریٹ کے ڈیزائن اور تعمیر میں جدت کو عالمی سطح پر تسلیم کرتا ہے، اور اس کی سالانہ تقریب میں دنیا بھر سے ماہرین اور فیصلہ ساز شریک ہوتے ہیں۔ “فلیٹ ورک” کے زمرے میں افقی کنکریٹ سطحوں والے منصوبوں کو اعزاز دیا جاتا ہے، جن میں فرش، پارکنگ لاٹ، رن وے اور تجارتی یا صنعتی فرش شامل ہیں۔
کیا سعودی عرب کی یونیورسٹیاں اور صنعتی ادارے مل کر اس طرح کے عالمی معیار کے منصوبے مزید آگے بڑھا سکیں گے؟ کنسورشیم میں کے ایف یو پی ایم اور کے ایس یو جیسی تعلیمی درسگاہوں کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تحقیق اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نووس کریٹ کا قیام 26 جنوری 2025 کو عمل میں آیا، اور یہ اقدام اپنی نوعیت کا پہلا عالمی اقدام قرار دیا گیا ہے جو تعمیراتی شعبے میں جدت اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد تعمیراتی صنعت کے کاربن فوٹ پرنٹ اور پانی کی کھپت میں کمی، ڈھانچوں کی عمر میں اضافہ، پیداواری لاگت میں کمی اور جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کو مقامی بنا کر مقامی ویلیو چینز کو مضبوط بنانا ہے۔
کیا یہ کنسورشیم سعودی وژن 2030 کے تحت تعمیراتی شعبے میں خود انحصاری کے ہدف کو حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوگا؟ کنسورشیم کے ارکان کی فہرست میں پی آئی ایف، سیرک، نیوم، سیکا، کلائمیٹ کریٹ، سعودی ریڈی مکس کنکریٹ کمپنی، کے ایف یو پی ایم اور کے ایس یو شامل ہیں، جو مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ایوارڈ کی تقریب کہاں منعقد ہوئی، کنکریٹ کے کس مخصوص منصوبے کو ایوارڈ دیا گیا، یا اس منصوبے کی تفصیلات کیا تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ایوارڈ کے دیگر سات زمروں میں کون سے منصوبے شامل تھے یا کنسورشیم کے ارکان نے اس اعزاز پر کیا ردعمل دیا۔
کیا اس عالمی اعزاز کے بعد سعودی عرب میں پائیدار کنکریٹ کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا جائے گا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کنسورشیم کے ارکان قومی معیارات اور بلڈنگ کوڈز تیار کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، تاکہ ان اطلاقات کے دائرہ کار کو تعمیراتی شعبے میں بڑھایا جا سکے۔
ایس پی اے کے مطابق نووس کریٹ کنسورشیم کا مقصد سمندری پانی اور جدید مقامی مواد سے تیار کردہ پائیدار کنکریٹ حل کو تیار کرنا اور ان کے استعمال کو تیز کرنا ہے، جس میں جی ایف آر پی ریبارز اور تعمیراتی و مسماری کے فضلے سے حاصل کردہ ری سائیکل شدہ مواد شامل ہیں۔ یہ اقدام تعمیراتی صنعت کے کاربن فوٹ پرنٹ اور پانی کی کھپت کو کم کرنے، ڈھانچوں کی عمر بڑھانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کو مقامی بنا کر مقامی ویلیو چینز کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
کیا اس طرح کے عالمی ایوارڈز سعودی عرب کی تعمیراتی صنعت میں جدت کی حوصلہ افزائی کریں گے اور نوجوان انجینئروں کو نئے مواقع فراہم کریں گے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی اضافی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
نووس کریٹ کنسورشیم نے کون سا ایوارڈ جیتا؟ کنسورشیم نے امریکن کنکریٹ انسٹیٹیوٹ (اے سی آئی) کے ایکسیلینس ان کنکریٹ کنسٹرکشن ایوارڈز میں “فلیٹ ورک” کے زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ایوارڈ آٹھ الگ الگ زمروں میں دیا جاتا ہے، اور فلیٹ ورک کا زمرہ افقی کنکریٹ سطحوں والے منصوبوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، جیسے فرش، پارکنگ لاٹ، رن وے اور تجارتی یا صنعتی فرش۔
کنسورشیم کی قیادت کون کر رہا ہے اور اس میں کون شامل ہے؟ ایس پی اے کے مطابق اس کنسورشیم کی قیادت آئل سسٹین ایبلٹی پروگرام (او ایس پی) کر رہا ہے۔ اس نیٹ ورک میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف)، سعودی انویسٹمنٹ ری سائیکلنگ کمپنی (سیرک)، نیوم، سیکا، کلائمیٹ کریٹ، سعودی ریڈی مکس کنکریٹ کمپنی، کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز (کے ایف یو پی ایم) اور کنگ سعود یونیورسٹی (کے ایس یو) شامل ہیں۔
نووس کریٹ کنسورشیم کب قائم ہوا اور اس کا مقصد کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ کنسورشیم 26 جنوری 2025 کو قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد تعمیراتی صنعت کے کاربن فوٹ پرنٹ اور پانی کی کھپت کو کم کرنا، ڈھانچوں کی عمر بڑھانا، پیداواری لاگت میں کمی لانا اور جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کو مقامی بنا کر مقامی ویلیو چینز کو مضبوط کرنا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے مقاصد کے مطابق ہے۔
کنسورشیم کن ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق کنسورشیم سمندری پانی اور جدید مقامی مواد سے تیار کردہ پائیدار کنکریٹ حل تیار کرنے اور ان کے استعمال کو تیز کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ اس میں گلاس فائبر ری انفورسڈ پولیمر (جی ایف آر پی) ریبارز اور تعمیراتی و مسماری کے فضلے سے حاصل کردہ ری سائیکل شدہ مواد شامل ہیں۔ ارکان قومی معیارات اور بلڈنگ کوڈز تیار کرنے کی کوششوں کی بھی قیادت کر رہے ہیں۔
ایوارڈ کی تقریب میں کون شریک ہوتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ سالانہ ایوارڈ تقریب دنیا بھر سے اعلیٰ قائدین، فیصلہ سازوں اور ماہرین کو اکٹھا کرتی ہے تاکہ کنکریٹ کے ڈیزائن اور تعمیر میں جدت اور بہترین کارکردگی کا جشن منایا جا سکے۔ ایوارڈ آٹھ الگ الگ زمروں میں دیا جاتا ہے، اور فلیٹ ورک کا زمرہ افقی کنکریٹ سطحوں والے منصوبوں کو اعزاز دیتا ہے۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایوارڈ کی تقریب کہاں منعقد ہوئی، کنکریٹ کے کس مخصوص منصوبے کو ایوارڈ دیا گیا، یا اس منصوبے کی تفصیلات کیا تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر نہیں کہ ایوارڈ کے دیگر سات زمروں میں کون سے منصوبے شامل تھے یا کنسورشیم کے ارکان نے اس اعزاز پر کیا ردعمل دیا۔