Friday, October 16, 2026
ثقافت

ابہا کا المتفحہ ضلع: رمضان میں ثقافت، فن اور سیاحت کا سنگم

ابہا کا المتفحہ ضلع: رمضان میں ثقافت، فن اور سیاحت کا سنگم

ابہا کے قلب میں واقع المتفحہ ضلع کئی دہائیوں سے ثقافتی اور تاریخی نشان کی حیثیت رکھتا ہے، جو اپنی بھرپور ورثے کو وادی ابہا کے ساتھ واقع اپنے ممتاز مقام کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس رمضان میں یہ ضلع ایک متحرک سیاحتی اور ثقافتی مرکز میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں زائرین تفریحی، فنی اور ورثے سے جڑے تجربات کے منفرد امتزاج کے لیے آتے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 مارچ 2025 کو بیان کیا، یہ رمضانی تقریبات عسیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ٹورازم ڈیسٹینیشنز سیکٹر کے زیر اہتمام منعقد ہو رہی ہیں اور ان میں مختلف قسم کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ رہائشی اور سیاح دونوں طرح کے خاندان آرٹ ولیج کا رخ کرتے ہیں، جو ضلع کے شمالی حصے میں 35 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور جہاں نمائشیں اور فنی نمایش خطے کے تخلیقی ورثے کا اظہار کرتی ہیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک ضلع اپنے ماضی کو اس طرح زندہ کیسے رکھ سکتا ہے کہ وہ آنے والوں کے لیے روزانہ کی کشش بن جائے؟ المتفحہ میں جدید ترین تھیٹر بھی موجود ہے جس کی گنجائش 3,500 سے زائد افراد ہے اور جو جدید ترین آڈیو ویژول ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ اس کی تاریخی جھلکیوں میں سوق الثلاثاء یعنی منگل بازار شامل ہے، جو عسیر کے قدیم ترین روایتی بازاروں میں سے ایک ہے اور اپنے ہفتہ وار منگل کے اجتماعات کی نسبت سے نامزد کیا گیا ہے۔

یہ بازار بیضوی ترتیب میں ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں پیدل چلنے والوں کے لیے دوستانہ راستے اور کھلے اسٹالز ہیں جو مقامی دستکاری اور روایتی مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک بازار اپنے نام کے ساتھ ساتھ اپنے ہفتے کے دن کی تال بھی محفوظ رکھے ہوئے ہے؟

ضلع کی تعمیرات ابہا کی مخصوص عمارتی روایات کو محفوظ رکھتی ہیں، جن میں موٹی دیواریں، چھوٹی کھڑکیاں اور “رقف” نامی پلاسٹر کی تہہ شامل ہے جو مٹی کی دیواروں کو بارش سے بچاتی ہے اور ساتھ ہی سایہ بھی فراہم کرتی ہے۔ کئی تاریخی محلات اس ضلع کے لازوال حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ضلع اپنے ایک بالکل مختلف پیشے کی وجہ سے بھی مشہور تھا؟ تاریخی طور پر المتفحہ تلوار سازی کے لیے جانا جاتا تھا، جہاں دستکار السودہ پہاڑوں سے لوہے سے بھرپور تلچھٹی چٹانیں حاصل کرتے تھے، جو ابہا سے 20 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہیں۔ وہ روایتی طریقوں سے لوہا نکال کر تلواریں، خنجر اور زراعتی اوزار بناتے تھے۔

یہ تاریخی تفصیل بتاتی ہے کہ المتفحہ کی شناخت صرف عمارتوں یا بازاروں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی معیشت اور دستکاری کی جڑیں بھی اس خطے کی زمین اور پہاڑوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آج کے سیاح انہی گلیوں میں چلتے ہوئے اس پرانی ہنر مندی کی بازگشت محسوس کر سکیں؟

رمضان کے دوران اس ضلع کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہاں تفریح، فن اور ورثہ ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔ آرٹ ولیج کی نمائشیں، تھیٹر کی فنی پیشکشیں اور سوق الثلاثاء کے روایتی اسٹالز مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں خاندان ایک ہی جگہ پر کئی طرح کے تجربات حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا یہی وجہ نہیں کہ رہائشی اور سیاح دونوں یہاں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں آتے ہیں؟

عسیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ٹورازم ڈیسٹینیشنز سیکٹر کی جانب سے ان تقریبات کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں سیاحت کو ثقافتی ورثے کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ المتفحہ کی جگہ وادی ابہا کے ساتھ ہونا بھی اسے ایک قدرتی اور تاریخی دونوں لحاظ سے اہم مقام بناتا ہے۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ کسی بھی سیاحتی مقام کی اصل طاقت اس کی کہانی میں چھپی ہوتی ہے؟

ضلع کی عمارتی خصوصیات میں موٹی دیواریں اور چھوٹی کھڑکیاں محض جمالیاتی انتخاب نہیں بلکہ موسم اور ماحول کے مطابق سوچی سمجھی تعمیر کی عکاسی کرتی ہیں۔ “رقف” کی تہہ مٹی کی دیواروں کو بارش سے بچانے کے ساتھ ساتھ سایہ فراہم کرتی ہے، جو اس خطے کے سخت موسمی حالات میں رہنے کے لیے ایک عملی حل ہے۔ کیا جدید تعمیرات بھی پرانی دانش سے کچھ سیکھ سکتی ہیں؟

سوق الثلاثاء کا بیضوی ڈیزائن اور پیدل چلنے والوں کے لیے دوستانہ راستے اس بات کا ثبوت ہیں کہ روایتی بازار بھی منظم اور آرام دہ ہو سکتے ہیں۔ کھلے اسٹالز پر مقامی دستکاری اور روایتی مصنوعات کی نمائش نہ صرف خریداروں کو راغب کرتی ہے بلکہ مقامی کاریگروں کی معیشت کو بھی سہارا دیتی ہے۔ کیا یہ ماڈل دوسرے شہروں کے لیے قابل تقلید نہیں؟

المتفحہ کی تلوار سازی کی تاریخ اس خطے کی معدنیات اور دستکاری کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ السودہ پہاڑوں سے لوہے سے بھرپور تلچھٹی چٹانیں لانا اور پھر روایتی طریقوں سے تلواریں، خنجر اور زراعتی اوزار بنانا ایک محنت طلب اور ہنر مند عمل تھا۔ کیا آج کے نوجوان اس ورثے کو زندہ رکھنے میں دلچسپی لیں گے؟

یہ ضلع نہ صرف ماضی کا عکس ہے بلکہ حال کی سیاحت کا ایک فعال مرکز بھی ہے۔ رمضان کی راتوں میں یہاں کی رونق، آرٹ ولیج کی نمائشیں اور تھیٹر کی گنجائش 3,500 سے زائد افراد کی موجودگی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ لوگ ثقافتی تجربات کے لیے کس قدر متوجہ ہو رہے ہیں۔ کیا یہ رجحان آنے والے سالوں میں مزید بڑھے گا؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ تقریبات رمضان کے دوران جاری ہیں اور ضلع روزانہ سینکڑوں زائرین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تقریبات کا کوئی مخصوص شیڈول، بجٹ یا شرکاء کی حتمی تعداد کیا ہے، نہ ہی آرٹ ولیج یا تھیٹر کی سرگرمیوں کی تفصیلی فہرست دی گئی ہے۔

اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ تلوار سازی کے روایتی طریقے آج بھی کس حد تک جاری ہیں یا انہیں محفوظ رکھنے کے لیے کوئی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں محلات کی تعداد، ان کی تاریخی تفصیلات یا ان کے موجودہ استعمال کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

بہر حال، المتفحہ ضلع اپنی جگہ، اپنی عمارتوں، اپنے بازار اور اپنی دستکاری کی کہانی کے ذریعے ابہا کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ رمضان کے دوران یہاں کا ماحول ثابت کرتا ہے کہ ثقافت، فن اور سیاحت ایک ساتھ مل کر ایک ایسا تجربہ بنا سکتے ہیں جو ہر عمر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچے۔ کیا یہی کسی بھی تاریخی مقام کے زندہ رہنے کا راز نہیں؟

المتفحہ ضلع کہاں واقع ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟ المتفحہ ضلع ابہا کے قلب میں واقع ہے اور کئی دہائیوں سے ثقافتی و تاریخی نشان کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وادی ابہا کے ساتھ واقع ہے، جس سے اس کا مقام ممتاز ہو جاتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ضلع اپنے بھرپور ورثے کو اپنے مقام کے ساتھ جوڑتا ہے اور اس رمضان میں یہ سیاحتی و ثقافتی مرکز بن گیا ہے جہاں روزانہ سینکڑوں زائرین آتے ہیں۔

آرٹ ولیج کب قائم ہوا اور اس میں کیا ہوتا ہے؟ آرٹ ولیج ضلع کے شمالی حصے میں 35 سال قبل قائم کیا گیا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق یہاں نمائشیں اور فنی نمایش منعقد ہوتی ہیں جو خطے کے تخلیقی ورثے کا اظہار کرتی ہیں۔ رہائشی اور سیاح دونوں طرح کے خاندان یہاں آتے ہیں۔ رپورٹ میں آرٹ ولیج کی سرگرمیوں کا کوئی تفصیلی شیڈول یا شرکاء کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

سوق الثلاثاء کیا ہے اور اس کا نام کیسے پڑا؟ سوق الثلاثاء یعنی منگل بازار عسیر کے قدیم ترین روایتی بازاروں میں سے ایک ہے اور اس کا نام اس کے ہفتہ وار منگل کے اجتماعات کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بازار بیضوی ترتیب میں ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں پیدل چلنے والوں کے لیے دوستانہ راستے اور کھلے اسٹالز ہیں جو مقامی دستکاری اور روایتی مصنوعات پیش کرتے ہیں۔

ضلع کی عمارتوں میں کون سی روایتی خصوصیات پائی جاتی ہیں؟ ضلع کی تعمیرات ابہا کی مخصوص عمارتی روایات کو محفوظ رکھتی ہیں، جن میں موٹی دیواریں، چھوٹی کھڑکیاں اور “رقف” نامی پلاسٹر کی تہہ شامل ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تہہ مٹی کی دیواروں کو بارش سے بچاتی ہے اور ساتھ ہی سایہ بھی فراہم کرتی ہے۔ ضلع میں کئی تاریخی محلات بھی موجود ہیں جو اس کے لازوال حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔

المتفحہ کو تلوار سازی میں کیا مقام حاصل تھا؟ تاریخی طور پر المتفحہ تلوار سازی کے لیے جانا جاتا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق دستکار السودہ پہاڑوں سے لوہے سے بھرپور تلچھٹی چٹانیں حاصل کرتے تھے، جو ابہا سے 20 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہیں۔ وہ روایتی طریقوں سے لوہا نکال کر تلواریں، خنجر اور زراعتی اوزار بناتے تھے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ طریقے آج بھی جاری ہیں یا نہیں۔

رمضان کی تقریبات کا اہتمام کون کر رہا ہے اور تھیٹر کی کیا خصوصیت ہے؟ یہ تقریبات عسیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ٹورازم ڈیسٹینیشنز سیکٹر کے زیر اہتمام منعقد ہو رہی ہیں اور ان میں مختلف قسم کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق ضلع میں جدید ترین تھیٹر بھی موجود ہے جس کی گنجائش 3,500 سے زائد افراد ہے اور جو جدید ترین آڈیو ویژول ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ رپورٹ میں تقریبات کے بجٹ یا شیڈول کی تفصیل نہیں دی گئی۔