Tuesday, October 27, 2026
ثقافت

سعودی عرب یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کے 225ویں اجلاس میں شریک

سعودی عرب یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کے 225ویں اجلاس میں شریک

پیرس میں یونیسکو کے ہیڈ کوارٹر میں یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کا 225واں اجلاس شروع ہوا ہے، جو پیر سے شروع ہو کر منگل 20 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا، اور اس میں سعودی عرب اپنے مستقل وفد کے ذریعے شرکت کر رہا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، مملکت کی نمائندگی یونیسکو میں اس کے مستقل وفد کے ذریعے ہو رہی ہے، اور وفد کی سربراہی یونیسکو میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے ڈاکٹر عبدالالہ بن علی الطخیس کر رہے ہیں۔ وفد میں سعودی قومی کمیشن برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس کے جنرل سیکرٹریٹ کے نمائندے اور کئی متعلقہ قومی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر الطخیس نے مکمل اجلاس کے دوران سعودی عرب کا بیان پیش کیا۔ اس اجلاس میں یونیسکو کے رکن ممالک، یونیسکو کی جنرل کانفرنس کے صدر، ایگزیکٹو بورڈ کے صدر اور یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل نے شرکت کی۔ کیا یہ شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ مملکت کثیرالجہتی عالمی اداروں میں اپنے کردار کو مزید مضبوط کر رہی ہے؟

ڈاکٹر الطخیس نے سعودی عرب کی امن اور استحکام کے لیے ثابت قدم حمایت کا اعادہ کیا اور ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کیا۔ انہوں نے فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور جامع حل کے حصول اور اس کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے مملکت کے عزم پر بھی زور دیا۔ کیا یونیسکو جیسے پلیٹ فارم سے یہ موقف عالمی سطح پر گونج پیدا کر سکتا ہے؟

انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ موقف یونیسکو کے اس مشن کے مطابق ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں امن کی بنیادیں تعمیر کرتا ہے۔ اس مشن میں تنازعات کے اثرات سے ثقافتی ورثے کا تحفظ، تعلیم اور ثقافت کے حق کا تحفظ اور عوام کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔ کیا ثقافتی ورثے کا تحفظ تنازعات کے دور میں امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے؟

ڈاکٹر الطخیس نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی حکمرانی کے لیے یونیسکو کی کوششوں کو بھی سراہا۔ یہ کوششیں سعودی عرب کی جانب سے 2026 کو مصنوعی ذہانت کے سال کے طور پر نامزد کرنے کے ساتھ ہم آہنگ ہوئیں۔ کیا مصنوعی ذہانت کے سال کا اعلان عالمی ٹیکنالوجی حکمرانی میں مملکت کے کردار کو نئی جہت دے گا؟

انہوں نے اشارہ کیا کہ مملکت نے قومی دانشورانہ املاک کی پالیسی اپنائی ہے، جو متعلقہ رجحانات کو ایک متحد فریم ورک میں جمع کرتی ہے۔ یہ پالیسی ثقافتی تخلیقی صلاحیت اور جدت کے ماحول کو بہتر بناتی ہے۔ کیا دانشورانہ املاک کا یہ فریم ورک ثقافتی صنعتوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرے گا؟

سعودی وفد کی شرکت یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے 225ویں اجلاس کے ایجنڈے کے تحت ہو رہی ہے، جو پیرس میں منعقد ہو رہا ہے اور 20 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے نمائندے، جنرل کانفرنس کے صدر، ایگزیکٹو بورڈ کے صدر اور ڈائریکٹر جنرل موجود ہیں۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں میں مسلسل شرکت سے مملکت کی سفارتی موجودگی مضبوط ہوتی ہے؟

ڈاکٹر الطخیس کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یونیسکو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی حکمرانی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، اور سعودی عرب نے 2026 کو مصنوعی ذہانت کے سال کے طور پر نامزد کیا ہے۔ انہوں نے یونیسکو کی ان کوششوں کو سراہا اور انہیں مملکت کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا۔ کیا ٹیکنالوجی اور ثقافت کے امتزاج سے تعلیم کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہوں گے؟

انہوں نے قومی دانشورانہ املاک کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی متعلقہ رجحانات کو یکجا کرنے والا متحد فریم ورک ہے، جو ثقافتی تخلیقی صلاحیت اور جدت کے ماحول کو بہتر بناتا ہے۔ یہ پالیسی ثقافتی اور تخلیقی شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے ایک واضح سمت کا تعین کرتی ہے۔ کیا یہ پالیسی خطے میں تخلیقی معیشت کے لیے نمونہ بن سکتی ہے؟

سعودی عرب کے موقف میں فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور جامع حل کی حمایت شامل ہے، جو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہے۔ ڈاکٹر الطخیس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ موقف یونیسکو کے مشن سے ہم آہنگ ہے، جس میں لوگوں کے ذہنوں میں امن کی بنیادیں تعمیر کرنا، ثقافتی ورثے کو تنازعات کے اثرات سے بچانا، تعلیم اور ثقافت کے حق کا تحفظ اور عوام کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا شامل ہے۔ کیا تعلیم اور ثقافت کے حق کا تحفظ تنازعات کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتا ہے؟

یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کا 225واں اجلاس پیرس میں جاری ہے اور اس میں سعودی وفد کی شرکت مستقل بنیادوں پر ہو رہی ہے۔ وفد میں سعودی قومی کمیشن برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس کے جنرل سیکرٹریٹ اور کئی متعلقہ قومی اداروں کے نمائندے شامل ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مملکت کثیرالجہتی تعاون میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ کیا اس طرح کی شرکت سے مملکت کے ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں میں اضافہ ہوگا؟

ڈاکٹر الطخیس نے اپنے بیان میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کیا اور امن و استحکام کے لیے مملکت کی ثابت قدم حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یونیسکو کے مشن کے حوالے سے کہا کہ یہ موقف لوگوں کے ذہنوں میں امن کی بنیادیں تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔ کیا عالمی اداروں میں اس طرح کے واضح موقف سے سفارتی تعلقات میں استحکام آتا ہے؟

اجلاس میں یونیسکو کے رکن ممالک، جنرل کانفرنس کے صدر، ایگزیکٹو بورڈ کے صدر اور ڈائریکٹر جنرل کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ اجلاس عالمی تعلیمی، ثقافتی اور سائنسی تعاون کے لیے اہم پلیٹ فارم ہے۔ سعودی وفد کی قیادت ڈاکٹر عبدالالہ بن علی الطخیس کر رہے ہیں، جو یونیسکو میں مملکت کے مستقل نمائندے ہیں۔ کیا اس سطح کی نمائندگی سے مملکت کے مؤقف کو زیادہ وزن حاصل ہوتا ہے؟

سعودی عرب کی جانب سے 2026 کو مصنوعی ذہانت کے سال کے طور پر نامزد کرنا اور یونیسکو کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی حکمرانی کی کوششوں کی حمایت ایک ایسا امتزاج ہے جو تعلیم، ثقافت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے تعاون کے دروازے کھول سکتا ہے۔ ڈاکٹر الطخیس نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں مملکت کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا۔ کیا یہ ہم آہنگی بین الاقوامی پالیسی سازی میں مملکت کے اثر و رسوخ کو بڑھائے گی؟

قومی دانشورانہ املاک کی پالیسی کے حوالے سے ڈاکٹر الطخیس نے کہا کہ یہ پالیسی متعلقہ رجحانات کو یکجا کرنے والا متحد فریم ورک ہے جو ثقافتی تخلیقی صلاحیت اور جدت کے ماحول کو بہتر بناتا ہے۔ یہ پالیسی ان تخلیق کاروں، محققین اور اداروں کے لیے راہ ہموار کرتی ہے جو دانشورانہ املاک کے تحفظ کے ساتھ جدت میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ کیا اس فریم ورک سے اختراعی صنعتوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی؟

یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے 225ویں اجلاس کا انعقاد پیرس میں ہو رہا ہے اور یہ 20 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔ اس دوران سعودی وفد مختلف ایجنڈا آئٹمز پر مملکت کا موقف پیش کرے گا، جن میں تعلیم، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق امور شامل ہیں۔ کیا اس اجلاس کے نتائج سے عالمی تعلیمی اور ثقافتی پالیسیوں پر اثر پڑے گا؟

ڈاکٹر الطخیس کے بیان میں فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور جامع حل کی حمایت اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق موقف شامل تھا، جسے انہوں نے یونیسکو کے مشن سے ہم آہنگ قرار دیا۔ انہوں نے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مخالفت بھی دہرائی۔ کیا یونیسکو کا پلیٹ فارم اس طرح کے موقف کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے؟

سعودی عرب کی یونیسکو میں شرکت صرف اس اجلاس تک محدود نہیں بلکہ مستقل سفارتی مشغولیت کا حصہ ہے، جس میں قومی کمیشن برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔ یہ ادارے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تعلیمی، ثقافتی اور سائنسی تعاون کو فروغ دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا اس قسم کی ادارہ جاتی شرکت سے پالیسیوں کا نفاذ بہتر ہوتا ہے؟

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اجلاس میں کون سی مخصوص قراردادیں زیر بحث آئیں، نہ ہی سعودی وفد کی جانب سے پیش کیے گئے کسی اضافی دستاویز کا تذکرہ ہے، اور نہ ہی اجلاس کے نتائج یا ووٹنگ کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کے 225ویں اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی کون کر رہا ہے؟ سعودی عرب کی نمائندگی یونیسکو میں اس کے مستقل وفد کے ذریعے ہو رہی ہے، جس کی سربراہی یونیسکو میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے ڈاکٹر عبدالالہ بن علی الطخیس کر رہے ہیں۔ وفد میں سعودی قومی کمیشن برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس کے جنرل سیکرٹریٹ کے نمائندے اور کئی متعلقہ قومی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ یہ شرکت پیرس میں یونیسکو کے ہیڈ کوارٹر میں ہو رہی ہے۔

اجلاس کب اور کہاں منعقد ہو رہا ہے؟ اجلاس پیرس، فرانس میں یونیسکو کے ہیڈ کوارٹر میں پیر سے شروع ہوا اور منگل 20 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔ اس اجلاس میں یونیسکو کے رکن ممالک، جنرل کانفرنس کے صدر، ایگزیکٹو بورڈ کے صدر اور یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل شرکت کر رہے ہیں۔ یہ ایگزیکٹو بورڈ کا 225واں اجلاس ہے۔

ڈاکٹر الطخیس نے اپنے بیان میں کن امور پر زور دیا؟ ڈاکٹر الطخیس نے سعودی عرب کی امن اور استحکام کے لیے ثابت قدم حمایت کا اعادہ کیا اور ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کیا۔ انہوں نے فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور جامع حل اور اس کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے مملکت کے عزم پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقف یونیسکو کے مشن سے ہم آہنگ ہے۔

سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے کیا اقدام اٹھایا ہے؟ سعودی عرب نے 2026 کو مصنوعی ذہانت کے سال کے طور پر نامزد کیا ہے۔ ڈاکٹر الطخیس نے یونیسکو کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی حکمرانی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ کوششیں مملکت کی اس نامزدگی کے ساتھ ہم آہنگ ہوئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مملکت نے قومی دانشورانہ املاک کی پالیسی اپنائی ہے۔

قومی دانشورانہ املاک کی پالیسی کا مقصد کیا بتایا گیا؟ ڈاکٹر الطخیس کے مطابق مملکت نے قومی دانشورانہ املاک کی پالیسی اپنائی ہے، جو متعلقہ رجحانات کو ایک متحد فریم ورک میں جمع کرتی ہے۔ یہ پالیسی ثقافتی تخلیقی صلاحیت اور جدت کے ماحول کو بہتر بناتی ہے۔ انہوں نے یہ بات یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے 225ویں اجلاس کے مکمل اجلاس میں اپنے بیان کے دوران کہی۔

یونیسکو کے مشن میں کون سے عناصر شامل بتائے گئے؟ ڈاکٹر الطخیس نے کہا کہ یونیسکو کا مشن لوگوں کے ذہنوں میں امن کی بنیادیں تعمیر کرنا ہے۔ اس مشن میں تنازعات کے اثرات سے ثقافتی ورثے کا تحفظ، تعلیم اور ثقافت کے حق کا تحفظ اور عوام کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا شامل ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے موقف کو اس مشن کے مطابق قرار دیا۔