Sunday, November 8, 2026
ثقافت

نیشنل فالکن سینٹر نیلامی یکم اکتوبر سے، چھ سال میں 45.3 ملین ریال کی فروخت

نیشنل فالکن سینٹر نیلامی یکم اکتوبر سے، چھ سال میں 45.3 ملین ریال کی فروخت

ریاض میں نیشنل سینٹر فار فالکنز کی نیلامی 2026 یکم اکتوبر سے شروع ہو کر 30 نومبر تک جاری رہے گی۔ یہ اس سلسلے کی ساتویں نیلامی ہے، جس نے 2020 میں اپنے آغاز سے اب تک 455 فالکنز کی فروخت سے تقریباً 45.3 ملین سعودی ریال حاصل کیے ہیں۔ اس نیلامی میں مملکت کے مختلف مقامات سے سینکڑوں فالکنرز شرکت کرتے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، نیلامی کا آغاز 2020 میں ہوا تھا، جب 102 فالکنز کی فروخت سے 10 ملین ریال حاصل ہوئے۔ یہ پہلا سال تھا جس میں اس نیلامی نے اپنی موجودگی قائم کی اور فالکنرز کی ایک بڑی تعداد اس سے وابستہ ہوئی۔

2021 میں فروخت 8.3 ملین ریال تک پہنچی، جس میں 95 فالکنز فروخت ہوئے اور 237 فالکنرز نے حصہ لیا۔ اگلے سال 2022 میں یہ رقم 7.1 ملین ریال رہی اور 81 فالکنز نیلام ہوئے۔ کیا یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نیلامی کی مانگ میں اتار چڑھاؤ کیوں آتا ہے؟

2023 میں 87 فالکنز پیش کیے گئے اور فروخت 7.4 ملین ریال تک پہنچی، جس میں 278 فالکنرز شریک ہوئے۔ یہ اب تک کی سب سے بڑی شرکت میں سے ایک تھی۔ 2024 کی نیلامی میں مملکت کے 30 مقامات سے 50 فالکنز پیش کیے گئے اور تقریباً 6 ملین ریال کی فروخت ہوئی، جس میں 165 فالکنرز نے حصہ لیا۔ 2025 کے ایڈیشن میں 40 فالکنز 6.4 ملین ریال میں فروخت ہوئے، اور 35 ٹریپنگ سائٹس سے 119 فالکنرز نے شرکت کی۔

نیلامی خصوصی طور پر مہاجر نوعمر شاہین بحری فالکنز کے لیے مخصوص ہے، جو مملکت کے اندر پکڑے جاتے ہیں۔ اس میں بالغ شاہین، جنہیں قرناس کہا جاتا ہے، اور سیکر فالکنز، جنہیں حر کہا جاتا ہے، شامل نہیں کیے جاتے۔ یہ پابندی ان کی پائیداری کو سہارا دینے اور نسلوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ کیا اس قسم کی محدودیت نیلامی کی نوعیت کو مزید خاص بناتی ہے؟

ٹریپنگ سیزن کے دوران سینٹر کی فیلڈ ٹیمیں مملکت بھر میں تعینات کی جاتی ہیں تاکہ ٹریپرز کو وصول کیا جا سکے اور ان کے فالکنز کو نیلامی تک پہنچانے میں مدد دی جا سکے۔ یہ ٹیمیں نقل و حمل اور رہائش فراہم کرتی ہیں، فروخت کی دستاویزات تیار کرتی ہیں، اور پرندوں کو براہ راست مسابقتی نیلامی میں پیش کرتی ہیں۔

نیلامی سینٹر کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوتی ہے، جو ریاض کے شمال میں واقع ملم میں ہے۔ اسے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر نشر کیا جاتا ہے تاکہ فالکنرز اور شائقین بولی لگانے کے عمل کو براہ راست فالو کر سکیں۔ کیا براہ راست نشریات نے نیلامی کی رسائی کو نئی جہت دی ہے؟

یہ نیلامی مملکت میں فالکنری کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں ہر سال سینکڑوں افراد اس عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ 2020 سے اب تک 455 فالکنز کی فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سرگرمی مسلسل جاری ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شاہین بحری کو نیلامی کے لیے کیوں منتخب کیا جاتا ہے؟

سینٹر کی فیلڈ ٹیموں کا کردار صرف نقل و حمل تک محدود نہیں بلکہ وہ ٹریپرز کی رہنمائی بھی کرتی ہیں اور فروخت کے تمام مراحل کو دستاویزی شکل دیتی ہیں۔ اس عمل سے شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ کیا اس قسم کی دستاویزی کاری نیلامی کے اعتماد کو بڑھاتی ہے؟

گزشتہ چھ سالوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2020 میں 102 فالکنز، 2021 میں 95، 2022 میں 81، 2023 میں 87، 2024 میں 50 اور 2025 میں 40 فالکنز فروخت ہوئے۔ رجحان یہ ظاہر کرتا ہے کہ پیش کیے جانے والے فالکنز کی تعداد میں کمی آئی ہے، جبکہ مجموعی فروخت کی رقم میں بھی اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ کیا یہ کمی نیلامی کی پالیسی کا نتیجہ ہے یا قدرتی عوامل کا؟

نیلامی میں شرکت کرنے والے فالکنرز کی تعداد بھی مختلف رہی۔ 2021 میں 237، 2023 میں 278، 2024 میں 165 اور 2025 میں 119 فالکنرز نے حصہ لیا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نیلامی میں دلچسپی برقرار ہے، اگرچہ ہر سال شرکت کی سطح مختلف ہوتی ہے۔ کیا فالکنرز کی تعداد میں تبدیلی نیلامی کی مقبولیت کا پیمانہ ہے؟

نیلامی کا انعقاد ملم میں سینٹر کے ہیڈ کوارٹر میں ہوتا ہے، جو ریاض کے شمال میں واقع ہے۔ یہ مقام فالکنری سے وابستہ افراد کے لیے ایک مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کی نشریات کے ذریعے دور دراز کے علاقوں کے شائقین بھی اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ کیا یہ نشریات نیلامی کو ایک قومی تقریب میں تبدیل کرتی ہیں؟

سینٹر کی کوششیں صرف نیلامی تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ٹریپنگ سیزن کے دوران فیلڈ ٹیموں کے ذریعے ٹریپرز کی معاونت کرتا ہے۔ اس معاونت میں نقل و حمل، رہائش اور فروخت کی دستاویزات شامل ہیں۔ اس سے ٹریپرز کو اپنے فالکنز کو مناسب طریقے سے نیلامی تک پہنچانے میں سہولت ملتی ہے۔ کیا اس قسم کی معاونت ٹریپرز کے لیے نیلامی میں شرکت کو آسان بناتی ہے؟

نیلامی میں صرف مہاجر نوعمر شاہین بحری شامل کیے جاتے ہیں، جبکہ بالغ شاہین اور سیکر فالکنز کو خارج کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ان نسلوں کی پائیداری اور تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد فالکن کی آبادی کو برقرار رکھنا ہے۔ کیا اس طرح کی پابندیاں طویل مدت میں فالکنری کے شوق کو محفوظ رکھتی ہیں؟

2026 کی نیلامی یکم اکتوبر سے 30 نومبر تک جاری رہے گی، جو دو ماہ پر محیط ہے۔ اس عرصے میں مملکت بھر سے فالکنرز اپنے پرندے لے کر پہنچیں گے اور براہ راست مسابقتی نیلامی میں حصہ لیں گے۔ گزشتہ سالوں کی طرح اس بار بھی ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر نشریات متوقع ہیں۔ کیا آپ اس نیلامی کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سال کتنے فالکنز پیش کیے جائیں گے، نہ ہی متوقع فروخت کی کوئی رقم دی گئی ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ شرکت کرنے والے فالکنرز کی تعداد کتنی ہوگی۔ ایس پی اے نے ان تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔

نیلامی کب اور کہاں ہوگی؟ نیلامی 2026 یکم اکتوبر سے شروع ہو کر 30 نومبر تک جاری رہے گی۔ یہ سینٹر کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوگی جو ریاض کے شمال میں واقع ملم میں ہے۔ ایس پی اے کے مطابق نیلامی کو ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر نشر کیا جاتا ہے تاکہ فالکنرز اور شائقین بولی لگانے کے عمل کو فالو کر سکیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سال کتنے فالکنز پیش کیے جائیں گے۔

اب تک کتنی فروخت ہوئی ہے؟ 2020 میں نیلامی کے آغاز سے اب تک 455 فالکنز کی فروخت سے تقریباً 45.3 ملین سعودی ریال حاصل ہوئے ہیں۔ پہلے سال 102 فالکنز 10 ملین ریال میں فروخت ہوئے۔ 2021 میں 95 فالکنز 8.3 ملین ریال، 2022 میں 81 فالکنز 7.1 ملین ریال، 2023 میں 87 فالکنز 7.4 ملین ریال، 2024 میں 50 فالکنز تقریباً 6 ملین ریال اور 2025 میں 40 فالکنز 6.4 ملین ریال میں فروخت ہوئے۔

کس قسم کے فالکنز نیلام کیے جاتے ہیں؟ نیلامی خصوصی طور پر مہاجر نوعمر شاہین بحری فالکنز کے لیے مخصوص ہے، جو مملکت کے اندر پکڑے جاتے ہیں۔ اس میں بالغ شاہین، جنہیں قرناس کہا جاتا ہے، اور سیکر فالکنز، جنہیں حر کہا جاتا ہے، شامل نہیں کیے جاتے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ پابندی ان نسلوں کی پائیداری کو سہارا دینے اور نسلوں کے تحفظ کے لیے ہے۔

فیلڈ ٹیمیں کیا کردار ادا کرتی ہیں؟ ٹریپنگ سیزن کے دوران سینٹر کی فیلڈ ٹیمیں مملکت بھر میں تعینات کی جاتی ہیں تاکہ ٹریپرز کو وصول کیا جا سکے اور ان کے فالکنز کو نیلامی تک پہنچانے میں مدد دی جا سکے۔ یہ ٹیمیں نقل و حمل اور رہائش فراہم کرتی ہیں، فروخت کی دستاویزات تیار کرتی ہیں، اور پرندوں کو براہ راست مسابقتی نیلامی میں پیش کرتی ہیں۔

گزشتہ سالوں میں کتنے فالکنرز نے حصہ لیا؟ 2021 میں 237 فالکنرز نے حصہ لیا، 2023 میں 278، 2024 میں 165 اور 2025 میں 119 فالکنرز نے شرکت کی۔ 2024 کی نیلامی میں مملکت کے 30 مقامات سے 50 فالکنز پیش کیے گئے، جبکہ 2025 میں 35 ٹریپنگ سائٹس سے 119 فالکنرز شریک ہوئے۔ ایس پی اے نے 2026 کے لیے متوقع شرکاء کی تعداد نہیں بتائی۔

نیلامی کی نشریات کیوں کی جاتی ہیں؟ نیلامی کو ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر نشر کیا جاتا ہے تاکہ فالکنرز اور شائقین بولی لگانے کے عمل کو فالو کر سکیں۔ یہ نشریات ان افراد کے لیے اہم ہیں جو ملم میں براہ راست موجود نہیں ہو سکتے۔ ایس پی اے کے مطابق نیلامی سینٹر کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوتی ہے اور اسے براہ راست نشر کیا جاتا ہے۔