ریاض میں کنگ سلمان گلوبل اکیڈمی فار عربی لینگویج (KSGAAL) کی پانچویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس پیر کی شام اختتام پذیر ہوگئی، جس میں 22 ممالک کے 55 سے زیادہ محققین نے زبان اور ثقافت کے باہمی تعلق اور شناخت و تخلیق، عالمی تعامل، ڈیجیٹل تبدیلیوں اور زبان و ثقافتی پالیسیوں میں اس کے مظاہر کا جائزہ لیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، کانفرنس دو روز جاری رہی اور اس میں 400 سے زیادہ ماہرین اور دلچسپی رکھنے والے شرکاء نے شرکت کی۔ کانفرنس میں 10 سائنسی نشستیں ہوئیں جن میں 44 تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔
KSGAAL کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن صالح الواشمی نے کہا کہ زبان ثقافت کے ساتھ گہرا جڑا ہوا تعلق رکھتی ہے اور شعور کی تشکیل، یادداشت کی حفاظت، علم کی پیداوار اور انسانی اقدار و تجربات کے اظہار میں حصہ ڈالتی ہے۔ کیا زبان اور ثقافت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے سمجھا جا سکتا ہے؟
انہوں نے عربی زبان میں موجود علم اور ثقافت کی دولت اور ثقافتی، فکری اور تکنیکی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کی اس کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ الواشمی نے مقامی اور عالمی سطح پر ثقافتی منظرنامے میں عربی کی موجودگی کو مضبوط بنانے میں سائنسی تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے وزیر ثقافت اور KSGAAL کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی عربی زبان کی خدمت اور دنیا بھر میں اس کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے اکیڈمی کی کوششوں اور اقدامات کی حمایت کو سراہا۔ کیا ایسی اعلیٰ سطحی حمایت کے بغیر زبان کی خدمت کے منصوبے مکمل ہو سکتے ہیں؟
کانفرنس کے مقالوں نے چھ اہم موضوعات کا احاطہ کیا: زبان اور ثقافتی شناخت؛ زبان اور بین الثقافتی تعامل؛ زبان اور فکری و فنی تخلیق؛ زبان اور ڈیجیٹل ثقافت؛ زبان اور ثقافتی پالیسیاں؛ اور زبان اور ثقافتی مستقبل کے امکانات۔
ڈاکٹر الواشمی کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عربی زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ علم کی پیداوار اور انسانی تجربات کے اظہار کا وسیلہ بھی ہے۔ کیا ڈیجیٹل دور میں زبانوں کو درپیش چیلنجز روایتی علمی مباحث سے حل کیے جا سکتے ہیں؟
22 ممالک سے 55 سے زیادہ محققین کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ زبان اور ثقافت کے موضوع پر بین الاقوامی سطح پر علمی دلچسپی موجود ہے۔ 44 تحقیقی مقالوں کی پیشکش چھ موضوعات میں تقسیم تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کانفرنس نے موضوع کو کئی جہتوں میں تقسیم کر کے زیر بحث لایا۔ کیا اتنی وسیع موضوعاتی تقسیم سے ہر پہلو پر گہرائی سے بحث ممکن ہو سکی؟
کانفرنس میں زبان اور ثقافتی شناخت کے موضوع پر ہونے والی بحث اس سوال سے جڑی ہے کہ زبان کس طرح اجتماعی یادداشت اور شناخت کو محفوظ رکھتی ہے۔ اسی طرح زبان اور بین الثقافتی تعامل کا موضوع مختلف ثقافتوں کے درمیان رابطے کے ذرائع پر روشنی ڈالتا ہے۔ کیا زبانوں کے درمیان تعامل ثقافتوں کے قریب آنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے؟
زبان اور فکری و فنی تخلیق کے موضوع نے تخلیقی عمل میں زبان کے کردار کو اجاگر کیا، جبکہ زبان اور ڈیجیٹل ثقافت کے موضوع نے ڈیجیٹل تبدیلیوں کے تناظر میں زبان کے استعمال اور ارتقا کا جائزہ لیا۔ کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز زبان کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں؟
زبان اور ثقافتی پالیسیوں کے موضوع پر ہونے والی بحث نے پالیسی سازی کے میدان میں زبان کے مقام کو زیر بحث لایا، جبکہ زبان اور ثقافتی مستقبل کے امکانات کے موضوع نے آئندہ کی سمتوں پر غور کیا۔ کیا ثقافتی پالیسیاں زبان کی ترقی کے لیے ٹھوس فریم ورک فراہم کر سکتی ہیں؟
ڈاکٹر الواشمی نے سائنسی تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ عربی زبان کی مقامی اور عالمی موجودگی کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ ان کا یہ بیان کانفرنس کے علمی کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں تحقیق کو زبان کی خدمت کا ذریعہ سمجھا گیا۔ کیا تحقیق کے بغیر زبان کی خدمت کے دعوے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو سکتے ہیں؟
کانفرنس کے اختتام پر 10 سائنسی نشستوں اور 44 مقالوں کے ذریعے چھ موضوعات پر بحث مکمل ہوئی۔ 400 سے زیادہ شرکاء کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زبان اور ثقافت کے موضوع پر علمی اجتماع کو وسیع پزیرائی حاصل ہے۔ کیا اس پیمانے کی کانفرنس کا اثر صرف دو روزہ نشستوں تک محدود رہتا ہے یا اس کے نتائج آگے بھی پہنچتے ہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے انعقاد کی جگہ ریاض اور تاریخ 5 اکتوبر 2026 درج ہے، جبکہ اختتام پیر کی شام بتایا گیا۔ رپورٹ میں کانفرنس کے اخراجات، شرکاء کی تفصیلی فہرست، مقالوں کے مصنفین کے نام یا آئندہ اجلاس کی تاریخ نہیں دی گئی۔
کانفرنس میں کتنے محققین اور ممالک نے شرکت کی؟ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس میں 22 ممالک سے 55 سے زیادہ محققین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ 400 سے زیادہ ماہرین اور دلچسپی رکھنے والے شرکاء بھی موجود تھے۔ کانفرنس دو روز جاری رہی اور پیر کی شام اختتام پذیر ہوئی۔ رپورٹ میں شرکاء یا محققین کے نام تفصیل سے نہیں دیے گئے۔
کانفرنس کے علمی نشستوں اور مقالوں کی تفصیل کیا ہے؟ کانفرنس میں 10 سائنسی نشستیں ہوئیں جن میں 44 تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ یہ مقالے چھ اہم موضوعات پر مشتمل تھے: زبان اور ثقافتی شناخت؛ زبان اور بین الثقافتی تعامل؛ زبان اور فکری و فنی تخلیق؛ زبان اور ڈیجیٹل ثقافت؛ زبان اور ثقافتی پالیسیاں؛ اور زبان اور ثقافتی مستقبل کے امکانات۔ ایس پی اے نے مقالوں کے مصنفین کے نام یا نشستوں کی تفصیل نہیں دی۔
ڈاکٹر عبداللہ الواشمی نے کیا کہا؟ KSGAAL کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن صالح الواشمی نے کہا کہ زبان ثقافت کے ساتھ گہرا جڑا ہوا تعلق رکھتی ہے اور شعور کی تشکیل، یادداشت کی حفاظت، علم کی پیداوار اور انسانی اقدار و تجربات کے اظہار میں حصہ ڈالتی ہے۔ انہوں نے عربی زبان میں موجود علم و ثقافت کی دولت اور تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔
کانفرنس کے انعقاد کی جگہ اور تاریخ کیا تھی؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کانفرنس ریاض میں منعقد ہوئی اور اس کی تاریخ 5 اکتوبر 2026 درج ہے۔ کانفرنس دو روز جاری رہی اور پیر کی شام اختتام پذیر ہوئی۔ رپورٹ میں مقام کی مزید تفصیل، کانفرنس کے اخراجات یا آئندہ اجلاس کی تاریخ نہیں دی گئی۔
وزیر ثقافت کی حمایت کا کیا ذکر ہوا؟ ڈاکٹر الواشمی نے وزیر ثقافت اور KSGAAL کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی عربی زبان کی خدمت اور دنیا بھر میں اس کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے اکیڈمی کی کوششوں اور اقدامات کی حمایت کو سراہا۔ رپورٹ میں حمایت کی نوعیت یا اس سے متعلق کسی اقدام کی تفصیل نہیں دی گئی۔