Tuesday, October 27, 2026
ثقافت

KACST نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجیز کا استعمال شروع کیا

KACST نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجیز کا استعمال شروع کیا

ریاض میں King Abdulaziz City for Science and Technology (KACST) نے ثقافتی ورثے کی خصوصیات کے مطالعے اور تحفظ کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجیز کے استعمال پر ایک ورکشاپ کا اختتام کیا ہے۔ یہ پروگرام KACST نے Heritage Commission اور International Atomic Energy Agency (IAEA) کے تعاون سے منعقد کیا، جس میں 10 قومی اداروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ماہرین اور سپیشلسٹ نے شرکت کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، Heritage Commission کے سی ای او ڈاکٹر جاسر الحرباش نے مملکت کے شہری اور آثار قدیمہ کے ورثے کے درست سروے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز، میپنگ اور سیٹلائٹ امیجنگ کے استعمال میں KACST کے ساتھ شراکت داری کی تعریف کی۔ کیا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قدیم شہروں کی بہتر نشاندہی ممکن ہے؟ انہوں نے بتایا کہ کمیشن نے اب تک 55,000 سے زائد شہری ورثہ عمارتوں، 14,000 آثار قدیمہ کے مقامات اور ہزاروں آثار قدیمہ کی اشیاء کو رجسٹر کیا ہے۔

KACST کے انرجی اور انڈسٹری سیکٹر کے وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر سعید الشہری نے واضح کیا کہ KACST نے ورثے کے شعبے میں نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجیز میں جدید قومی صلاحیتیں پیدا کی ہیں۔ کیا یہ سائنسی پیش رفت آثار قدیمہ کی عمر کے تعین میں مددگار ثابت ہوگی؟ ان کے مطابق یہ صلاحیتیں 14 خصوصی لیبارٹریوں اور 100 سے زائد سعودی محققین، انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی معاونت سے حاصل کی گئی ہیں۔

ڈاکٹر الشہری نے مزید وضاحت کی کہ اس ورکشاپ کا مقصد سائنسی صلاحیتوں کو مملکت کے ورثے کے شعبے کی ضروریات سے جوڑنا ہے۔ کیا ایک قومی راستہ ترتیب دے کر ترجیحات کا تعین کیا جا سکتا ہے؟ اس اقدام کا مقصد مشترکہ طریقہ کار تیار کرنا، قابلیت بڑھانا اور حوالہ جاتی ڈیٹا بیس بنانا ہے تاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو ورثے کے تحفظ اور مطالعے کے ساتھ منسلک کرنے والا ایک پائیدار ایکو سسٹم تخلیق کیا جا سکے۔

International Atomic Energy Agency کے ماہر ڈاکٹر اسعد سیف نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ عرب دنیا میں ثقافتی املاک کی غیر قانونی تجارت کی سالانہ مالیت تقریباً 6 بلین ڈالر ہے۔ کیا اس بڑے مالی نقصان کو بین الاقوامی تعاون سے روکا جا سکتا ہے؟ انہوں نے وضاحت کی کہ اسی حقیقت نے عرب اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنا کر آثار قدیمہ کی بازیابی اور تحفظ پر مرکوز ایک پروجیکٹ کے آغاز کی تحریک دی۔

اس ورکشاپ کے ذریعے سائنس اور ثقافتی تحفظ کے ملاپ کو یقینی بنایا گیا تاکہ مستقبل میں آثار قدیمہ کی حفاظت کے لیے جدید ترین ذرائع استعمال کیے جا سکیں۔ رپورٹ میں ورکشاپ کے مخصوص نتائج یا مستقبل کے کسی خاص ٹائم لائن کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ورکشاپ کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ ورکشاپ کا مقصد ثقافتی ورثے کے تحفظ اور مطالعے کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجیز کا استعمال کرنا تھا۔ اس کا مقصد سائنسی صلاحیتوں کو ورثہ سیکٹر کی ضروریات سے جوڑنا اور ایک پائیدار ایکو سسٹم بنانا ہے جس میں مشترکہ طریقہ کار اور حوالہ جاتی ڈیٹا بیس شامل ہوں۔

Heritage Commission نے اب تک کتنے مقامات رجسٹر کیے ہیں؟ Heritage Commission نے 55,000 سے زائد شہری ورثہ عمارتوں اور 14,000 آثار قدیمہ کے مقامات کو رجسٹر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں آثار قدیمہ کی اشیاء بھی ریکارڈ میں شامل کی گئی ہیں۔

KACST کے پاس ورثے کے مطالعے کے لیے کیا وسائل موجود ہیں؟ KACST کے پاس نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں 14 خصوصی لیبارٹریز موجود ہیں۔ ان لیبارٹریوں میں 100 سے زائد سعودی محققین، انجینئرز اور ٹیکنیشنز کام کر رہے ہیں۔

عرب دنیا میں ثقافتی املاک کی غیر قانونی تجارت کی کیا صورتحال ہے؟ IAEA کے ماہر ڈاکٹر اسعد سیف کے مطابق عرب دنیا میں ثقافتی املاک کی غیر قانونی تجارت کی سالانہ مالیت تقریباً 6 بلین ڈالر ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے آثار قدیمہ کی بازیابی اور تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون پر مبنی پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔