جدہ میں قائم بین الاقوامی اسلامی تجارتی مالیاتی کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کی جانب سے تجارتی مالیات کی منظوریوں کی مجموعی مالیت 2008 میں کام کے آغاز سے اب تک 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ ادارہ اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) گروپ کا رکن ہے اور اس کی فراہم کردہ مالیات رکن ممالک میں تجارت اور معاشی ترقی کو سہارا دیتی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 27 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس مالیات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ان کم ترقی یافتہ ممالک اور ایسی منڈیوں کی طرف گیا ہے جہاں تجارتی مالیات تک رسائی میں مشکلات درپیش ہیں۔ یہ بات اس ادارے کی کارکردگی کے تناظر میں کیوں اہم ہے کہ اس کی نصف سے زائد رقوم ان معاشروں تک پہنچی ہیں جو عام طور پر بین الاقوامی مالیاتی نظام سے کٹے ہوئے رہتے ہیں؟
آئی ٹی ایف سی اپنی مالیاتی رسائی کو وسیع کرنے، نجی شعبے کی شرکت بڑھانے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور برآمد کنندگان کی معاونت کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے عرب افریقہ ٹریڈ برجز اور عرب ریاستوں کے لیے ایڈ فار ٹریڈ انیشیٹو جیسے پروگرام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کیا یہ پروگرام درحقیقت ان کاروباروں تک پہنچ رہے ہیں جنہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے؟
ادارہ زرعی ویلیو چینز کی ترقی اور مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بھی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ انہی کوششوں کے سلسلے میں کارپوریشن نے عرب تنظیم برائے زرعی ترقی کے تعاون سے اس ہفتے کے اوائل میں خرطوم میں ایک سرمایہ کاری اور تجارتی فورم کا انعقاد کیا، جس کا مرکز ترجیحی اجناس کی ویلیو چینز تھیں۔ اس فورم میں سرکاری اداروں، مالیاتی اداروں، نجی شعبے اور چھوٹے پیمانے کے پیداواریوں کے نمائندے اکٹھے ہوئے۔
دو روزہ فورم میں ترجیحی اجناس میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع، مالیاتی اور مارکیٹنگ کے چیلنجز اور چھوٹے پیمانے کے پیداواریوں کی مالیات اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ اس کا مقصد سوڈانی مصنوعات کی مسابقت کو بڑھانے میں مدد دینا تھا۔ کیا ایسے فورمز کے بعد عملی سطح پر پیداواریوں کی آمدنی میں کوئی قابلِ پیمائش فرق آتا ہے؟
آئی ٹی ایف سی کا قیام اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے تحت ہوا اور اس نے 2008 میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سے اس کی منظوریوں کا حجم 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو کہ ایک طویل المدتی مالیاتی سفر کی عکاسی کرتا ہے۔ رکن ممالک میں تجارت اور معاشی ترقی کی حمایت اس کے بنیادی مینڈیٹ کا حصہ ہے۔ اگر یہ رقم 2008 سے اب تک جمع ہوئی ہے تو اس کی سالانہ اوسط کتنی بنتی ہے اور کیا یہ رفتار موجودہ عالمی تجارتی ضروریات کے لیے کافی ہے؟
ادارے کی توجہ ان منڈیوں پر بھی ہے جہاں تجارتی مالیات تک رسائی مشکل ہے۔ ایسی منڈیوں میں کاروباروں کو بین الاقوامی بینکوں سے قرضہ ملنا مشکل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ درآمد و برآمد کے لیے مہنگی اور غیر یقینی مالیاتی سہولیات پر انحصار کرتے ہیں۔ آئی ٹی ایف سی کی مداخلت اس خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے۔ کیا اس طرح کی مداخلت طویل مدت میں ان منڈیوں کو خودمختار بنا پاتی ہے یا انہیں مسلسل بیرونی سہارے کی ضرورت رہتی ہے؟
کم ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہدایت کردہ مالیات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارے کی ترجیحات میں ان معاشروں کو شامل کیا گیا ہے جو عالمی تجارتی نظام میں کمزور پوزیشن رکھتے ہیں۔ ان ممالک میں تجارتی مالیات کی دستیابی کاروباروں کو درآمدات کے لیے ادائیگی اور برآمدات کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے قابل بناتی ہے۔ کیا یہ ایک تہائی حصہ ان ممالک کی مجموعی ضروریات کے تناسب سے کافی ہے؟
نجی شعبے کی شرکت بڑھانا بھی آئی ٹی ایف سی کے اہداف میں شامل ہے۔ نجی کاروبار، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے، روزگار اور پیداوار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن انہیں اکثر رسمی مالیاتی نظام تک رسائی نہیں ملتی۔ آئی ٹی ایف سی کے پروگرام ان اداروں کو برآمدی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا چھوٹے کاروباروں کے لیے مالیاتی دروازے کھولنا ان کی مسابقت کو حقیقی طور پر بہتر بناتا ہے؟
عرب افریقہ ٹریڈ برجز اور عرب ریاستوں کے لیے ایڈ فار ٹریڈ انیشیٹو جیسے پروگرام علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور تجارتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ پروگرام تاجروں، برآمد کنندگان اور متعلقہ اداروں کو معلومات، تربیت اور مالیاتی سہولیات فراہم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ خطے میں تجارت کی راہ میں موجود رکاوٹیں صرف مالیاتی نہیں بلکہ لاجسٹک اور ضابطہ جاتی بھی ہیں۔ کیا مالیاتی پروگرام ان دیگر رکاوٹوں کے بغیر مکمل نتائج دے سکتے ہیں؟
زرعی ویلیو چینز کی ترقی آئی ٹی ایف سی کی ایک اور ترجیح ہے۔ زراعت بہت سے رکن ممالک میں روزگار اور برآمدات کا بڑا ذریعہ ہے، لیکن پیداوار، پروسیسنگ، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹنگ کے مراحل میں کمزوریاں پیداواریوں کی آمدنی کم رکھتی ہیں۔ ویلیو چین کی بہتری کا مطلب ہے کہ کسان اور چھوٹے پیداواری اپنی مصنوعات کی قیمت میں زیادہ حصہ حاصل کر سکیں۔ کیا ویلیو چین کی اصلاح کے بغیر برآمدی ترقی ممکن ہے؟
خرطوم میں منعقدہ فورم اس سلسلے کی ایک عملی کوشش تھی۔ اس میں ترجیحی اجناس پر توجہ مرکوز کی گئی، جو کسی بھی معیشت کے لیے خوراک کی سلامتی اور برآمدی آمدنی دونوں کے لحاظ سے اہم ہوتی ہیں۔ فورم میں سرمایہ کاری اور تجارت کے مواقع کے ساتھ ساتھ مالیاتی اور مارکیٹنگ کے چیلنجز پر بھی بات کی گئی۔ کیا ایسے اجتماعات میں اٹھائے گئے مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن مقرر کی جاتی ہے؟
فورم کا ایک اہم موضوع چھوٹے پیمانے کے پیداواریوں کی مالیات اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے طریقہ کار تھے۔ چھوٹے پیداواری اکثر رسمی قرضوں سے محروم رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ضمانت یا دستاویزی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ مالیاتی اداروں اور حکومتی نمائندوں کی موجودگی میں اس مسئلے پر بات چیت سے ممکنہ حل کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ کیا چھوٹے پیداواریوں کے لیے مالیاتی رسائی کے ماڈل دوسرے ممالک میں کامیابی سے آزمائے جا چکے ہیں؟
فورم کا مقصد سوڈانی مصنوعات کی مسابقت کو بڑھانے میں مدد دینا بھی تھا۔ مسابقت کا انحصار قیمت، معیار، پیکیجنگ اور بروقت ترسیل جیسے عوامل پر ہوتا ہے، جن کے لیے سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت درکار ہوتی ہے۔ مالیاتی سہولیات کے ساتھ ساتھ مارکیٹ تک رسائی کی سہولت بھی اسی مقصد کی تکمیل کرتی ہے۔ کیا مسابقت میں بہتری کے لیے صرف مالیات کافی ہیں یا بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے؟
آئی ٹی ایف سی اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کا رکن ہونے کے ناطے رکن ممالک کی مشترکہ ترقیاتی ترجیحات کے دائرے میں کام کرتا ہے۔ اس کا مینڈیٹ تجارت کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے، جس میں مالیات کی فراہمی، صلاحیت کی تعمیر اور پالیسی مکالمہ شامل ہو سکتا ہے۔ 2008 سے اب تک کی منظوریوں کی مجموعی مالیت اس مینڈیٹ کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔ کیا تجارتی مالیات کو ترقیاتی امداد کا متبادل سمجھا جا سکتا ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ 100 بلین ڈالر کی منظوریوں میں سے کتنی رقم درحقیقت استعمال ہوئی، کس شعبے کو کتنا حصہ ملا، یا آئندہ کے لیے کوئی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں فورم کے شرکاء کی تعداد، اس کے نتائج یا کسی مخصوص معاہدے کا بھی تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح یہ تفصیل بھی موجود نہیں کہ کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے مختص رقم کا تخمینہ کس بنیاد پر لگایا گیا۔
آئی ٹی ایف سی کیا ہے اور یہ کس گروپ کا حصہ ہے؟ آئی ٹی ایف سی بین الاقوامی اسلامی تجارتی مالیاتی کارپوریشن ہے، جو اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) گروپ کا رکن ہے۔ اس نے 2008 میں کام شروع کیا اور رکن ممالک میں تجارت اور معاشی ترقی کے لیے مالیات فراہم کرتی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس کی تجارتی مالیاتی منظوریوں کی مجموعی مالیت 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
100 بلین ڈالر کی منظوریوں میں کس قسم کے ممالک شامل ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق اس مالیات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ کم ترقی یافتہ ممالک اور ایسی منڈیوں کی طرف گیا ہے جہاں تجارتی مالیات تک رسائی میں مشکلات ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ادارے کی ترجیحات میں وہ معاشرے شامل ہیں جو بین الاقوامی مالیاتی نظام میں کمزور پوزیشن رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں ہر ملک کا الگ الگ حصہ نہیں بتایا گیا۔
آئی ٹی ایف سی کون سے پروگرام استعمال کرتی ہے؟ ادارہ عرب افریقہ ٹریڈ برجز اور عرب ریاستوں کے لیے ایڈ فار ٹریڈ انیشیٹو جیسے پروگرام استعمال کرتا ہے۔ ان کے ذریعے مالیات کی توسیع، نجی شعبے کی شرکت اور چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں اور برآمد کنندگان کی معاونت کی جاتی ہے۔ ادارہ زرعی ویلیو چینز کی ترقی اور مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بھی کام کرتا ہے۔
خرطوم میں ہونے والے فورم کا مقصد کیا تھا؟ آئی ٹی ایف سی نے عرب تنظیم برائے زرعی ترقی کے تعاون سے اس ہفتے کے اوائل میں خرطوم میں سرمایہ کاری اور تجارتی فورم منعقد کیا۔ اس کا مرکز ترجیحی اجناس کی ویلیو چینز تھیں اور اس میں سرکاری اداروں، مالیاتی اداروں، نجی شعبے اور چھوٹے پیداواریوں کے نمائندے شامل ہوئے۔ فورم دو روز تک جاری رہا۔
فورم میں کن موضوعات پر بات ہوئی؟ دو روزہ فورم میں ترجیحی اجناس میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع، مالیاتی اور مارکیٹنگ کے چیلنجز اور چھوٹے پیمانے کے پیداواریوں کی مالیات اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ اس کا مقصد سوڈانی مصنوعات کی مسابقت کو بڑھانے میں مدد دینا تھا۔ ایس پی اے نے فورم کے شرکاء کی تعداد یا نتائج نہیں بتائے۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ 100 بلین ڈالر کی منظوریوں میں سے کتنی رقم درحقیقت استعمال ہوئی یا کس شعبے کو کتنا حصہ ملا۔ آئندہ کے لیے کوئی ہدف، فورم کے شرکاء کی تعداد، اس کے نتائج یا کسی مخصوص معاہدے کا تذکرہ بھی موجود نہیں۔ کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے مختص رقم کے تخمینے کی بنیاد بھی نہیں بتائی گئی۔





