سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) نے 2024 میں لائسنس یافتہ فیکٹریوں اور گوداموں کی تعداد میں 2023 کے مقابلے میں ریکارڈ 82 فیصد اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ یہ اضافہ ریاض سے جاری ہونے والی اتھارٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا، جس میں کھانے، ادویات، کاسمیٹکس، طبی آلات اور فیڈ کے شعبوں میں جاری کیے گئے لائسنسوں کی تفصیل شامل ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 28 مارچ 2025 کو بیان کیا، ایس ایف ڈی اے نے اس اضافے کی وجہ مختلف عوامل کو قرار دیا، جن میں سب سے نمایاں ریگولیٹری نظام کی ترقی ہے، جس نے ایک منصوبے کے ذریعے سرمایہ کاروں کو نمایاں طور پر بااختیار بنایا ہے۔ اس منصوبے میں کئی اقدامات شامل ہیں، جن میں لائسنسنگ کے طریقہ کار کو دوبارہ ترتیب دینے کا اقدام بھی شامل ہے، جبکہ دیگر اقدامات صنعتوں کو تحریک دینے اور مقامی پیداوار کو بڑھانے پر مرکوز ہیں، جو مختلف متعلقہ سرکاری اداروں کے اشتراک سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔
خوراک کے شعبے میں 2024 کے دوران 693 فیکٹریوں اور 3,857 گوداموں کو لائسنس جاری کیے گئے، جبکہ دواسازی کے شعبے میں آٹھ فیکٹریوں اور 565 گوداموں کو لائسنس ملے۔ اس کے علاوہ کاسمیٹکس کے شعبے میں 42 فیکٹریوں اور 857 گوداموں، طبی آلات کے شعبے میں 24 فیکٹریوں اور 1,405 گوداموں، اور فیڈ کے شعبے میں 29 فیکٹریوں اور 270 گوداموں کو لائسنس دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق نو نجی لیبارٹریوں کو بھی لائسنس جاری کیے گئے۔
کیا یہ اعداد و شمار سعودی صنعتی شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا ثبوت نہیں؟ خوراک کے شعبے میں 693 فیکٹریوں اور 3,857 گوداموں کے لائسنس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں خوراک کی پیداوار اور ذخیرہ اندوزی کے نظام کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ تعداد دیگر شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو خوراک کی مقامی فراہمی اور محفوظ ذخائر کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
دواسازی کے شعبے میں آٹھ فیکٹریوں اور 565 گوداموں کے لائسنس اگرچہ تعداد کے لحاظ سے کم ہیں، لیکن کیا یہ شعبہ معیار اور ضوابط کے لحاظ سے زیادہ سخت ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں؟ ادویات کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے عمل میں بین الاقوامی معیارات کی پابندی ضروری ہوتی ہے، جس کی وجہ سے لائسنسنگ کا عمل طویل اور تفصیلی ہوتا ہے۔ ایس ایف ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ ادویات کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری جاری ہے، مگر اس کی رفتار دیگر شعبوں سے مختلف ہے۔
کاسمیٹکس کے شعبے میں 42 فیکٹریوں اور 857 گوداموں کے لائسنس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سعودی مارکیٹ میں خوبصورتی اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ مقامی پیداوار میں اضافے سے درآمدات پر انحصار کم ہو؟ ایس ایف ڈی اے کے مطابق لائسنسنگ کے طریقہ کار کو دوبارہ ترتیب دینے سے سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار شروع کرنا آسان ہوا ہے، جس سے نئے منصوبوں کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
طبی آلات کے شعبے میں 24 فیکٹریوں اور 1,405 گوداموں کو لائسنس ملنا اس بات کا اشارہ ہے کہ صحت کی دیکھ بھال سے متعلق آلات کی تیاری اور تقسیم میں بھی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ کیا یہ شعبہ سعودی عرب کی صحت عامہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے؟ گوداموں کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آلات کی ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے، جو ہسپتالوں اور طبی مراکز تک رسائی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
فیڈ کے شعبے میں 29 فیکٹریوں اور 270 گوداموں کے لائسنس جانوروں کی خوراک کی پیداوار سے منسلک ہیں۔ کیا یہ شعبہ زراعت اور مویشی پالن کے شعبے میں خود کفالت کی طرف بڑھنے میں معاون ہے؟ ایس ایف ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ لائسنس مختلف سرکاری اداروں کے اشتراک سے جاری کیے گئے، جو صنعتوں کو تحریک دینے اور مقامی پیداوار کو بڑھانے کے اقدامات کا حصہ ہیں۔
نو نجی لیبارٹریوں کو لائسنس جاری کرنا بھی اس رپورٹ کا اہم نکتہ ہے۔ کیا نجی شعبے کی لیبارٹریوں کو شامل کرنے سے معیار کی جانچ اور نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا؟ ایس ایف ڈی اے نے لیبارٹریوں کے لائسنس کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، مگر یہ اقدام نجی شعبے کی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ایس ایف ڈی اے نے اضافے کی وجوہات میں ریگولیٹری نظام کی ترقی کو سب سے نمایاں قرار دیا۔ کیا لائسنسنگ کے طریقہ کار کو دوبارہ ترتیب دینے سے سرمایہ کاروں کے لیے داخلے کی راہیں آسان ہوئیں؟ اتھارٹی کے مطابق یہ اقدامات مختلف متعلقہ سرکاری اداروں کے اشتراک سے نافذ کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد صنعتوں کو تحریک دینا اور مقامی پیداوار کو بڑھانا ہے۔ اس پالیسی کا اثر یہ ہے کہ 2024 میں لائسنس یافتہ فیکٹریوں اور گوداموں کی مجموعی تعداد میں 82 فیصد اضافہ ہوا، جو 2023 کے مقابلے میں ریکارڈ سطح ہے۔
رپورٹ میں ہر شعبے کے لیے الگ الگ اعداد و شمار دیے گئے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ خوراک کا شعبہ تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔ خوراک کے شعبے میں 693 فیکٹریاں اور 3,857 گودام، دواسازی میں آٹھ فیکٹریاں اور 565 گودام، کاسمیٹکس میں 42 فیکٹریاں اور 857 گودام، طبی آلات میں 24 فیکٹریاں اور 1,405 گودام، اور فیڈ میں 29 فیکٹریاں اور 270 گودام شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق گوداموں کی تعداد فیکٹریوں سے کہیں زیادہ ہے، جو تقسیم اور ذخیرہ اندوزی کے نیٹ ورک کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
کیا یہ اضافہ صرف لائسنسنگ کی آسانی کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب بھی ہے؟ ایس ایف ڈی اے نے اپنی رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی کہ ان لائسنسوں کے پیچھے سرمایہ کاری کی مقدار کتنی ہے یا ان سے کتنی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ تاہم اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری نظام کی ترقی اور لائسنسنگ کے طریقہ کار میں اصلاحات نے سرمایہ کاروں کو بااختیار بنایا ہے۔
سعودی عرب میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے حکومتی سطح پر کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں مقامی پیداوار کو بڑھانا شامل ہے۔ ایس ایف ڈی اے کی یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف شعبوں میں لائسنسنگ کی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔ کیا یہ رجحان آئندہ برسوں میں بھی جاری رہے گا؟ رپورٹ میں 2025 یا اس کے بعد کے لیے کوئی پیش گوئی یا ہدف نہیں دیا گیا، نہ ہی کسی مخصوص شعبے کے لیے اضافی ترغیبات کا ذکر ہے۔
ایس ایف ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں یہ واضح نہیں کہ لائسنس یافتہ فیکٹریوں اور گوداموں کی تعداد میں اضافے کا براہ راست اثر صارفین پر کیا پڑے گا یا قیمتوں پر کیا فرق پڑے گا۔ رپورٹ میں صرف لائسنسنگ کے اعداد و شمار اور وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ اتھارٹی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان لائسنسوں کی منظوری میں کتنا وقت لگا یا کون سے مخصوص سرکاری ادارے شامل تھے۔
مجموعی طور پر 2024 میں ایس ایف ڈی اے نے خوراک، ادویات، کاسمیٹکس، طبی آلات اور فیڈ کے شعبوں میں فیکٹریوں اور گوداموں کے لیے لائسنس جاری کیے، جبکہ نو نجی لیبارٹریوں کو بھی لائسنس دیے گئے۔ یہ اعداد و شمار 2023 کے مقابلے میں 82 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں، جسے اتھارٹی نے ریکارڈ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ریگولیٹری نظام کی ترقی، لائسنسنگ کے طریقہ کار کی اصلاح، اور صنعتوں کو تحریک دینے اور مقامی پیداوار بڑھانے کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان لائسنسوں کی کل مالیت کتنی ہے، نہ ہی یہ کہ کتنے لائسنس مسترد یا معطل کیے گئے۔ رپورٹ میں کسی مخصوص کمپنی یا سرمایہ کار کا نام بھی شامل نہیں، اور نہ ہی کسی شعبے کے لیے آئندہ کے اہداف کا ذکر ہے۔ یہ معلومات ایس ایف ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار تک محدود ہیں۔
ایس ایف ڈی اے نے 2024 میں کتنے لائسنس جاری کیے؟ ایس ایف ڈی اے کے مطابق خوراک کے شعبے میں 693 فیکٹریوں اور 3,857 گوداموں کو لائسنس ملے، جبکہ دواسازی میں آٹھ فیکٹریاں اور 565 گودام شامل ہیں۔ کاسمیٹکس میں 42 فیکٹریاں اور 857 گودام، طبی آلات میں 24 فیکٹریاں اور 1,405 گودام، اور فیڈ میں 29 فیکٹریاں اور 270 گودام لائسنس یافتہ ہوئے۔ نو نجی لیبارٹریوں کو بھی لائسنس جاری کیے گئے۔
82 فیصد اضافے کی وجہ کیا بتائی گئی؟ ایس ایف ڈی اے نے اضافے کی وجہ ریگولیٹری نظام کی ترقی کو قرار دیا، جس نے ایک منصوبے کے ذریعے سرمایہ کاروں کو بااختیار بنایا۔ اس منصوبے میں لائسنسنگ کے طریقہ کار کو دوبارہ ترتیب دینے کا اقدام اور صنعتوں کو تحریک دینے اور مقامی پیداوار بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں، جو مختلف متعلقہ سرکاری اداروں کے اشتراک سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔
کون سے شعبے رپورٹ میں شامل ہیں؟ رپورٹ میں خوراک، دواسازی، کاسمیٹکس، طبی آلات اور فیڈ کے شعبوں کا ذکر ہے۔ خوراک میں 693 فیکٹریاں اور 3,857 گودام، دواسازی میں آٹھ فیکٹریاں اور 565 گودام، کاسمیٹکس میں 42 فیکٹریاں اور 857 گودام، طبی آلات میں 24 فیکٹریاں اور 1,405 گودام، اور فیڈ میں 29 فیکٹریاں اور 270 گودام شامل ہیں۔ نو نجی لیبارٹریوں کو بھی لائسنس ملے۔
کیا رپورٹ میں سرمایہ کاری کی رقم بتائی گئی؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں لائسنسوں کی مالیت، سرمایہ کاری کی مقدار یا ملازمتوں کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ رپورٹ صرف لائسنس یافتہ فیکٹریوں اور گوداموں کی تعداد، شعبوں کے لحاظ سے تقسیم، اور اضافے کی وجوہات تک محدود ہے۔ کسی مخصوص کمپنی یا سرمایہ کار کا نام بھی شامل نہیں۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں؟ رپورٹ میں 2025 یا آئندہ برسوں کے اہداف، مسترد یا معطل لائسنسوں کی تعداد، لائسنسنگ میں لگنے والا وقت، اور ان لائسنسوں کے صارفین یا قیمتوں پر اثرات کا ذکر نہیں۔ ایس ایف ڈی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کون سے مخصوص سرکاری ادارے شامل تھے یا کتنے لائسنس زیر التوا ہیں۔