Sunday, November 1, 2026
معیشت

سعودی فوڈ شو اور مینوفیکچرنگ میں 28,000 سے زائد پیشہ ور افراد کی شرکت

سعودی فوڈ شو اور مینوفیکچرنگ میں 28,000 سے زائد پیشہ ور افراد کی شرکت

جدہ سپرڈوم میں اختتام پذیر ہونے والے سعودی فوڈ شو 2026 اور سعودی فوڈ مینوفیکچرنگ 2026 میں 28,000 سے زائد صنعتی پیشہ ور افراد اور 95 سے زائد ممالک کی نمائندگی کرنے والے 1,000 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ ان تقریبات میں 100,000 سے زائد مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور حل پیش کیے گئے اور 12,000 سے زائد کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوئیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 1 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، دونوں تقریبات پہلی بار خوراک اور مشروبات کی صنعت کی ویلیو چین کے تمام مراحل کو ایک ساتھ لے کر آئیں۔ یہ دونوں نمائشیں ایک ہی مقام پر بیک وقت منعقد ہوئیں، جس میں سعودی اتھارٹی فار انڈسٹریل سٹیز اینڈ ٹیکنالوجی زونز (MODON) کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری شامل تھی۔

ان نمائشوں میں صنعتی پیشہ ور افراد، خریداروں، مینوفیکچررز، سپلائرز اور ٹیکنالوجی و حل فراہم کرنے والوں کی وسیع شرکت دیکھی گئی۔ اس نے خوراک اور مشروبات کی پیداوار، مینوفیکچرنگ، سپلائی اور متعلقہ خدمات میں نیٹ ورکنگ اور تعاون کے مواقع فراہم کیے۔ کیا یہ ایک ہی چھت کے نیچے ویلیو چین کے تمام مراحل کو یکجا کرنے کا پہلا موقع نہیں تھا؟

نمائشوں میں خوراک اور مشروبات کی مصنوعات اور اجزاء کے ساتھ ساتھ مینوفیکچرنگ، پروسیسنگ اور پیکیجنگ ٹیکنالوجیز، آٹومیشن اور ٹیکنالوجی حل بھی شامل تھے، جو خوراک کی صنعت کی ویلیو چین کے تنوع اور انضمام کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ تقریبات ایسے وقت میں منعقد ہوئیں جب سعودی عرب سعودی وژن 2030 کے اہداف کے تحت خوراک کی سلامتی، مینوفیکچرنگ، لوکلائزیشن اور لاجسٹکس خدمات میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل ترقی دے رہا ہے۔

مملکت کا خوراک اور مشروبات کا شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے، جس کی نشاندہی مقامی پیداوار کی توسیع، مینوفیکچرنگ صلاحیتوں میں پیش رفت اور سپلائی چینز کے زیادہ انضمام سے ہوتی ہے۔ یہ ترقی مملکت کے خوراک کی سلامتی کو بڑھانے، صنعتوں کو مقامی بنانے اور شعبے کی مسابقت کو مضبوط بنانے کے اہداف کی حمایت کرتی ہے۔ کیا یہ شعبہ خطے میں ایک نیا معیار قائم کر رہا ہے؟

ویلیو چین کے مختلف مراحل کو ایک چھت کے نیچے لانا پروڈیوسرز، مینوفیکچررز، سپلائرز، خریداروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے درمیان تعاون کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اس نے تجارت، مینوفیکچرنگ اور جدت میں مواقع تلاش کرنے اور سعودی عرب کی خوراک اور مشروبات کی صنعت کو مزید مربوط کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

سعودی فوڈ شو 2026 اور سعودی فوڈ مینوفیکچرنگ 2026 کا انعقاد جدہ سپرڈوم میں ہوا، جہاں 95 سے زائد ممالک کے نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ یہ تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت کی خوراک اور مشروبات کی صنعت بین الاقوامی سطح پر کس قدر توجہ حاصل کر رہی ہے۔ کیا یہ بین الاقوامی شرکت مملکت کی تجارتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے؟

MODON کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری نے ان تقریبات کو صنعتی شعبے کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ شراکت داری صنعتی شہروں اور ٹیکنالوجی زونز میں خوراک اور مشروبات کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ کیا صنعتی زونز میں خوراک کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے؟

تقریبات میں 12,000 سے زائد کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوئیں، جو خریداروں اور سپلائرز کے درمیان براہ راست رابطے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح کی ملاقاتیں تجارتی معاہدوں اور شراکت داریوں کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ کیا یہ ملاقاتیں مملکت میں خوراک کی درآمدات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی؟

نمائشوں میں 100,000 سے زائد مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور حل پیش کیے گئے، جن میں خوراک اور مشروبات کی مصنوعات، اجزاء، مینوفیکچرنگ، پروسیسنگ، پیکیجنگ، آٹومیشن اور ٹیکنالوجی حل شامل تھے۔ یہ تنوع خوراک کی صنعت کی ویلیو چین کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہ تنوع مملکت کی صنعتی خود کفالت کی طرف ایک قدم ہے؟

سعودی وژن 2030 کے تحت خوراک کی سلامتی، مینوفیکچرنگ، لوکلائزیشن اور لاجسٹکس خدمات کی ترقی مملکت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خوراک اور مشروبات کے شعبے کی ترقی مقامی پیداوار کی توسیع، مینوفیکچرنگ صلاحیتوں میں پیش رفت اور سپلائی چینز کے انضمام سے ہو رہی ہے۔ کیا یہ شعبہ مملکت کی غیر تیل برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے؟

ان تقریبات کا انعقاد جدہ میں ہوا، جو مملکت کا ایک اہم تجارتی اور صنعتی مرکز ہے۔ جدہ سپرڈوم میں 28,000 سے زائد پیشہ ور افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شہر خوراک اور مشروبات کی صنعت کے لیے ایک اہم مقام بنتا جا رہا ہے۔ کیا جدہ خطے میں خوراک کی تجارت کا مرکز بن سکتا ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، دونوں نمائشوں نے پہلی بار خوراک اور مشروبات کی صنعت کی ویلیو چین کے تمام مراحل کو ایک ساتھ پیش کیا۔ اس میں پیداوار، مینوفیکچرنگ، سپلائی اور متعلقہ خدمات شامل ہیں۔ یہ یکجائی صنعت کے مختلف حصوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔ کیا اس یکجائی سے مملکت میں خوراک کی پیداوار کے اخراجات کم ہوں گے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تقریبات میں کتنے معاہدے طے پائے یا کتنی سرمایہ کاری کی گئی۔ یہ معلومات اس بات کا تعین کرنے کے لیے اہم ہو سکتی ہیں کہ ان تقریبات کا صنعت پر کیا اثر پڑا۔ کیا مستقبل میں اس طرح کی تفصیلات جاری کی جائیں گی؟

سعودی فوڈ شو 2026 اور سعودی فوڈ مینوفیکچرنگ 2026 کا اختتام جدہ سپرڈوم میں ہوا، جہاں 95 سے زائد ممالک کے نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ یہ تقریبات مملکت کی خوراک اور مشروبات کی صنعت کی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں تقریبات کے دوران ہونے والے معاہدوں، سرمایہ کاری یا شرکاء کی تفصیلی صنعت کے لحاظ سے تقسیم کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

سعودی فوڈ شو 2026 اور سعودی فوڈ مینوفیکچرنگ 2026 میں کتنے پیشہ ور افراد نے شرکت کی؟ ان تقریبات میں 28,000 سے زائد صنعتی پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔ یہ تعداد ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ہے، جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 95 سے زائد ممالک کی نمائندگی کرنے والے 1,000 سے زائد نمائش کنندگان موجود تھے۔ تقریبات جدہ سپرڈوم میں اختتام پذیر ہوئیں۔

ان تقریبات میں کتنی مصنوعات اور کاروباری ملاقاتیں پیش کی گئیں؟ ایس پی اے کے مطابق، ان تقریبات میں 100,000 سے زائد مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور حل پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ 12,000 سے زائد کاروباری ملاقاتیں بھی منعقد ہوئیں۔ یہ ملاقاتیں خریداروں، سپلائرز اور مینوفیکچررز کے درمیان رابطے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

ان تقریبات کا انعقاد کس شراکت داری میں ہوا؟ دونوں نمائشیں سعودی اتھارٹی فار انڈسٹریل سٹیز اینڈ ٹیکنالوجی زونز (MODON) کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری میں منعقد ہوئیں۔ یہ شراکت داری صنعتی شعبے کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، تقریبات میں صنعتی پیشہ ور افراد، خریداروں، مینوفیکچررز اور سپلائرز کی وسیع شرکت دیکھی گئی۔

ان تقریبات کا سعودی وژن 2030 سے کیا تعلق ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، یہ تقریبات ایسے وقت میں منعقد ہوئیں جب سعودی عرب سعودی وژن 2030 کے اہداف کے تحت خوراک کی سلامتی، مینوفیکچرنگ، لوکلائزیشن اور لاجسٹکس خدمات میں اپنی صلاحیتوں کو ترقی دے رہا ہے۔ مملکت کا خوراک اور مشروبات کا شعبہ مقامی پیداوار کی توسیع اور سپلائی چینز کے انضمام سے ترقی کر رہا ہے۔

ان تقریبات میں کون سی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں؟ نمائشوں میں خوراک اور مشروبات کی مصنوعات اور اجزاء کے ساتھ ساتھ مینوفیکچرنگ، پروسیسنگ اور پیکیجنگ ٹیکنالوجیز، آٹومیشن اور ٹیکنالوجی حل شامل تھے۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ تنوع خوراک کی صنعت کی ویلیو چین کے انضمام کی عکاسی کرتا ہے۔ تقریبات میں 100,000 سے زائد مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور حل پیش کیے گئے۔

ان تقریبات کا مقام کیا تھا اور کتنے ممالک نے شرکت کی؟ تقریبات جدہ سپرڈوم میں منعقد ہوئیں اور اختتام پذیر ہوئیں۔ ایس پی اے کے مطابق، ان میں 95 سے زائد ممالک کی نمائندگی کرنے والے 1,000 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ یہ تقریبات ایک ہی مقام پر بیک وقت منعقد ہوئیں، جس سے شرکاء کو نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم ہوئے۔