Monday, October 19, 2026
معیشت

سعودی وفد کی بینک آف ورلڈ اور آئی ایم ایف اجلاس میں شرکت کا اختتام، الجدعان کی مدت میں ایک سال کی توسیع

سعودی وفد کی بینک آف ورلڈ اور آئی ایم ایف اجلاس میں شرکت کا اختتام، الجدعان کی مدت میں ایک سال کی توسیع

سعودی عرب کا وفد، جس کی سربراہی وزیر خزانہ محمد الجدعان کر رہے تھے، تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں 2026 کے ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت مکمل کر چکا ہے۔ یہ اجلاس 12 سے 17 اکتوبر 2026 تک جاری رہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بنکاک سے بیان کیا، مملکت کی اس شرکت ایسے وقت میں ہوئی جب آئی ایم ایف نے وزیر الجدعان کی بطور چیئرمین انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فنانشل کمیٹی (IMFC) مدت میں ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا، جو جنوری 2028 تک جاری رہے گی۔

کیا یہ توسیع خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ عالمی مالیاتی نظام میں سعودی آواز کا وزن کس قدر بڑھ چکا ہے؟

وزیر خزانہ نے جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کی تیسری میٹنگ میں بھی شرکت کی، جو امریکہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ “موجودہ معاشی پیش رفت” کے سیشن کے دوران انہوں نے زور دیا کہ مملکت کے خلاف حملے عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہیں، اور یہ کہ مملکت عالمی معیشت کو جھٹکوں سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

وزیر خزانہ نے انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فنانشل کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کی، جہاں ارکان نے عالمی معاشی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور جغرافیائی سیاسی اور تجارتی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کے بوجھ کے دوران ترقی اور استحکام کو فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا۔

کیا بڑھتا ہوا قرضہ اور تجارتی کشیدگی کم آمدنی والے ممالک کو مزید پیچھے دھکیل رہی ہے؟

ارکان نے ایسی معاشی پالیسیوں اور ساختی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا جو نجی شعبے کی قیادت میں ترقی، بین الاقوامی تعاون کی مضبوطی، توانائی کے بہاؤ کی سلامتی اور بحری آمدورفت کی آزادی کو سہارا دیں، اور خاص طور پر کم آمدنی والے اور کمزور ممالک میں قرض اور مالیاتی چیلنجوں سے نمٹیں۔

انہوں نے ایک مضبوط اور بھرپور وسائل والے آئی ایم ایف کے عزم کا اعادہ کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ کوٹہ اور گورننس اصلاحات پر آئندہ مباحثے “درعیہ رہنما اصولوں” کی رہنمائی میں ہونے چاہئیں تاکہ فنڈ کی افادیت اور رکن ممالک کی نمائندگی بہتر ہو۔

کیا “درعیہ رہنما اصول” آئی ایم ایف کی اصلاحات کا نیا نقطۂ آغاز بن سکتے ہیں؟

اجلاس میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENA) کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کی میٹنگ بھی شامل تھی، جس میں خطے کے مالیاتی اور معاشی امور پر بات چیت ہوئی۔

سعودی وفد کی شرکت کا اختتام ایسے وقت میں ہوا جب عالمی معیشت متعدد دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اجلاس میں ارکان نے تسلیم کیا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی رکاوٹیں، سپلائی چین کے مسائل اور سرکاری قرضوں کا بڑھتا بوجھ عالمی ترقی کے لیے چیلنج ہیں۔ ان عوامل نے کم آمدنی والے اور کمزور ممالک کو خاص طور پر متاثر کیا ہے، جہاں قرض اور مالیاتی وسائل تک رسائی ایک مستقل مسئلہ بنا ہوا ہے۔

کیا عالمی مالیاتی ادارے ان کمزور معیشتوں کے لیے کوئی ٹھوس راستہ نکال پائیں گے؟

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینے والی پالیسیاں اور ساختی اصلاحات ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے، توانائی کے بہاؤ کی سلامتی اور بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ یہ نکات خاص طور پر اس وقت اہم ہیں جب عالمی تجارت اور توانائی کی راہداریوں کو مختلف خطرات کا سامنا ہے۔

کیا توانائی کے بہاؤ کی سلامتی اور بحری آمدورفت کی آزادی کو عالمی معیشت کی بنیادی شرط مانا جائے گا؟

ارکان نے ایک مضبوط اور بھرپور وسائل والے آئی ایم ایف کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوٹہ اور گورننس اصلاحات پر آئندہ مباحثے “درعیہ رہنما اصولوں” کی رہنمائی میں ہونے چاہئیں۔ ان اصولوں کا مقصد فنڈ کی افادیت کو بڑھانا اور رکن ممالک کی نمائندگی کو بہتر بنانا ہے۔

وزیر خزانہ محمد الجدعان کی آئی ایم ایف کی انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فنانشل کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر مدت میں ایک سال کی توسیع کا اعلان بھی اسی اجلاس کے دوران ہوا۔ یہ توسیع جنوری 2028 تک جاری رہے گی۔

کیا اس توسیع سے آئی ایم ایف کے فیصلہ سازی کے عمل میں ابھرتی معیشتوں کی نمائندگی مضبوط ہوگی؟

جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کی تیسری میٹنگ امریکہ کی صدارت میں ہوئی۔ “موجودہ معاشی پیش رفت” کے سیشن میں وزیر الجدعان نے واضح کیا کہ مملکت کے خلاف حملے عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مملکت عالمی معیشت کو جھٹکوں کے خلاف مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر سعودی وفد نے مختلف عالمی مالیاتی اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ ملاقاتوں اور بات چیت میں بھی حصہ لیا، تاہم ایس پی اے کی رپورٹ میں ان ملاقاتوں کی تفصیلات، شرکاء کے نام یا ان سے جڑے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔

کیا آنے والے مہینوں میں ان مباحثوں کے ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے؟

سعودی وفد نے کون سے اجلاسوں میں شرکت کی؟ سعودی وفد، جس کی سربراہی وزیر خزانہ محمد الجدعان کر رہے تھے، نے 12 سے 17 اکتوبر 2026 تک بنکاک میں 2026 کے ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ نے جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کی تیسری میٹنگ میں بھی حصہ لیا، جو امریکہ کی صدارت میں ہوئی۔

وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کمیٹی چیئرمین کی مدت میں توسیع کا کیا مطلب ہے؟ اجلاس کے دوران آئی ایم ایف نے وزیر محمد الجدعان کی بطور چیئرمین انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فنانشل کمیٹی مدت میں ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا، جو جنوری 2028 تک جاری رہے گی۔ یہ کمیٹی عالمی معاشی پیش رفت پر غور کرتی ہے اور ترقی و استحکام کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرتی ہے۔

جی 20 اجلاس میں وزیر خزانہ نے کیا کہا؟ جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کی تیسری میٹنگ کے “موجودہ معاشی پیش رفت” سیشن میں وزیر الجدعان نے زور دیا کہ مملکت کے خلاف حملے عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت عالمی معیشت کو جھٹکوں کے خلاف مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

آئی ایم ایف کمیٹی کے اجلاس میں کون سے امور زیر بحث آئے؟ اجلاس میں ارکان نے عالمی معاشی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور جغرافیائی سیاسی و تجارتی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کے بوجھ کے دوران ترقی و استحکام کے طریقوں پر غور کیا۔ ارکان نے نجی شعبے کی قیادت میں ترقی، بین الاقوامی تعاون، توانائی کے بہاؤ کی سلامتی اور بحری آمدورفت کی آزادی پر زور دیا۔

“درعیہ رہنما اصول” کا تذکرہ کیوں کیا گیا؟ ارکان نے ایک مضبوط اور بھرپور وسائل والے آئی ایم ایف کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کوٹہ اور گورننس اصلاحات پر آئندہ مباحثے “درعیہ رہنما اصولوں” کی رہنمائی میں ہونے چاہئیں۔ اس کا مقصد فنڈ کی افادیت اور رکن ممالک کی نمائندگی کو بہتر بنانا ہے۔

اجلاس میں کن خطوں کے وزرائے خزانہ شامل تھے؟ اجلاس میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENA) کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کی میٹنگ بھی شامل تھی۔ اس میٹنگ میں خطے کے مالیاتی اور معاشی امور پر بات چیت ہوئی، تاہم ایس پی اے کی رپورٹ میں اس کے شرکاء یا تفصیلات نہیں دی گئیں۔