جدہ میں قائم روا الحرم المکی، جو پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی کمپنی اور کنگ سلمان گیٹ پروجیکٹ کی ماسٹر ڈیولپر ہے، نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر ڈیولپر ملائیشین ریسورسز کارپوریشن برہاد (ایم آر سی بی) کے ساتھ ایک تعاون معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ کنگ سلمان گیٹ کے اندر ایک بڑے ٹرانسپورٹ پر مبنی مکسڈ یوز ڈیسٹینیشن کی ترقی کے مطالعے کے لیے ہے، جس کی تخمینی کل مالیت 21 بلین سعودی ریال بتائی گئی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، معاہدہ گزشتہ روز کوالالمپور میں طے پایا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ پروجیکٹ ابھی ڈیو ڈیلیجنس کی تکمیل، مطلوبہ منظوریوں اور فنانسنگ، نفاذ کے مراحل کے تعین اور حتمی معاہدوں کے دستخط پر منحصر ہے۔
یہ تعاون معاہدہ کنگ سلمان گیٹ پروجیکٹ کی ترقی میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی راہ کھولتا ہے، اور سعودی عرب کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد مکہ مکرمہ کی دنیا بھر سے آنے والے حاجیوں اور زائرین کی خدمت کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی شراکت داری مکہ مکرمہ کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو وہ رفتار دے سکتی ہے جو مقامی سرمایہ کاری اکیلے نہیں دے سکتی؟
ایس پی اے کے مطابق تعاون معاہدہ ایم آر سی بی کے ان تجربات سے فائدہ اٹھانے پر مرکوز ہے جو مربوط ٹرانسپورٹ نظام سے جڑے منصوبوں کی ترقی میں حاصل ہیں، جن میں سب سے نمایاں کے ایل سینٹرل ہے، جو ملائیشیا کا سب سے بڑا مربوط ٹرانسپورٹ ہب ہے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو متعدد شہری استعمالات کے ساتھ جوڑتا ہے۔
مجوزہ پروجیکٹ میں ایک پبلک بس اسٹیشن کی ترقی کا مطالعہ شامل ہے، اس کے ساتھ کنگ سلمان گیٹ کے اندر رہائشی، تجارتی، ریٹیل اور دیگر مکسڈ یوز ترقیات بھی شامل ہیں۔ انفراسٹرکچر کی ترقی سے ہٹ کر، اس شراکت داری کا مقصد ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور معاون خدمات کے استعمال کے ایسے طریقوں کا مطالعہ کرنا ہے جو حاجیوں اور زائرین کی آمدورفت کو آسان بنائیں، رسائی کو بہتر کریں اور مکہ مکرمہ میں ان کے تجربے کو بہتر بنائیں۔ کیا ایک مربوط بس اسٹیشن اور شہری استعمالات کا امتزاج زائرین کے سفر کو واقعی آسان بنا سکتا ہے؟
تعاون معاہدہ مجوزہ پروجیکٹ کی ترقی، فنانسنگ اور نفاذ کے لیے ایک مربوط فریم ورک کی بھی کھوج کرے گا، جس میں کنگ سلمان گیٹ کے بارے میں روا الحرم المکی کے وژن اور ٹرانسپورٹ نظام سے جڑے بڑے مکسڈ یوز منصوبوں میں ایم آر سی بی کی مہارت کو بروئے کار لایا جائے گا، اور سرمایہ کاری، ترقی، نقل و حرکت کے حل اور زائرین کی خدمات کے درمیان ہم آہنگی حاصل کی جائے گی۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب مکہ مکرمہ میں بڑے پیمانے پر شہری اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن کا مقصد بڑھتی ہوئی تعداد میں حاجیوں اور زائرین کی میزبانی کے لیے شہر کی گنجائش کو بڑھانا ہے۔ کنگ سلمان گیٹ کو روا الحرم المکی کے تحت ایک ماسٹر ڈیولپمنٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اور اس معاہدے کا دائرہ کار اس منصوبے کے اندر ٹرانسپورٹ سے جڑے ایک بڑے مکسڈ یوز مقام کے مطالعے تک پھیلا ہوا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کی مالیت کا تخمینہ 21 بلین سعودی ریال لگایا گیا ہے، تاہم یہ رقم حتمی نہیں کیونکہ پروجیکٹ ڈیو ڈیلیجنس، منظوریوں اور فنانسنگ کی تکمیل سے مشروط ہے۔ کیا 21 بلین ریال کا تخمینہ اس منصوبے کی حقیقی لاگت کی عکاسی کرتا ہے یا یہ صرف ابتدائی مطالعے کی بنیاد پر لگایا گیا عدد ہے؟
رپورٹ کے مطابق معاہدے میں نفاذ کے مراحل کے تعین اور حتمی معاہدوں کے دستخط کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، یعنی موجودہ تعاون معاہدہ کسی حتمی معاہدے کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک مطالعاتی اور فریم ورک سطح کا معاہدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایس پی اے نے اسے ایک تعاون معاہدہ قرار دیا ہے جو ترقی کے امکانات کا جائزہ لینے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
کوالالمپور میں دستخط کیے جانے والے اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ سعودی عرب اور ملائیشیا کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں ملائیشیائی کمپنی کی شہری نقل و حمل کے منصوبوں میں مہارت کو سعودی منصوبے میں بروئے کار لانے کی بات کی گئی ہے۔ کے ایل سینٹرل کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ملائیشیا کا سب سے بڑا مربوط ٹرانسپورٹ ہب ہے جو ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو شہری استعمالات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ کیا کے ایل سینٹرل کا ماڈل مکہ مکرمہ کی منفرد آبادیاتی اور مذہبی حقیقتوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے؟
ایس پی اے کے مطابق مجوزہ پروجیکٹ میں پبلک بس اسٹیشن کے علاوہ رہائشی، تجارتی، ریٹیل اور دیگر مکسڈ یوز ترقیات شامل ہیں۔ ان استعمالات کا مقصد صرف تجارتی منافع نہیں بلکہ حاجیوں اور زائرین کی نقل و حرکت کو آسان بنانا، رسائی بہتر کرنا اور ان کے تجربے کو بہتر بنانا بھی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر معاہدے میں خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
معاہدے کا ایک اور محور ترقی، فنانسنگ اور نفاذ کے لیے ایک مربوط فریم ورک کی کھوج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین صرف تعمیراتی پہلو پر نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے اور عملی نفاذ کے طریقوں پر بھی غور کریں گے۔ کیا ایک مربوط فریم ورک بڑے شہری منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں اضافے کے خطرات کو کم کر سکتا ہے؟
رپورٹ کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد سرمایہ کاری، ترقی، نقل و حرکت کے حل اور زائرین کی خدمات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ یہ چاروں عناصر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ مکہ مکرمہ میں کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ زائرین کی خدمت کے بنیادی مقصد کو کس حد تک پورا کرتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ معاہدہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی راہ کھولتا ہے۔ یہ پہلو سعودی عرب کی ان کوششوں سے ہم آہنگ ہے جن کا مقصد مکہ مکرمہ کی حاجیوں اور زائرین کی خدمت کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری کی شمولیت سے منصوبے کی مالی صلاحیت اور تکنیکی مہارت دونوں میں اضافہ متوقع ہے۔
تاہم، رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پروجیکٹ ابھی ڈیو ڈیلیجنس، مطلوبہ منظوریوں اور فنانسنگ کی تکمیل سے مشروط ہے۔ اس کے علاوہ نفاذ کے مراحل کا تعین اور حتمی معاہدوں کے دستخط بھی باقی ہیں۔ یہ شرائط ظاہر کرتی ہیں کہ فی الحال یہ ایک مطالعاتی مرحلہ ہے اور کوئی حتمی عہد یا ٹھیکہ دیا نہیں گیا۔
رپورٹ میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ معاہدے کی مدت کتنی ہے، مطالعہ کب مکمل ہوگا، یا تعمیر کب شروع ہوگی۔ اسی طرح ایس پی اے نے اس بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں دی کہ بس اسٹیشن کی گنجائش کتنی ہوگی، رہائشی اور تجارتی یونٹس کی تعداد کیا ہوگی، یا فنانسنگ کا ڈھانچہ کیسا ہوگا۔ یہ وہ پہلو ہیں جن پر حتمی معاہدوں کے مرحلے میں وضاحت متوقع ہے۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اس معاہدے کا کنگ سلمان گیٹ کے مجموعی منصوبے کے دیگر حصوں سے کیا تعلق ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ کنگ سلمان گیٹ کے اندر ایک مخصوص ٹرانسپورٹ پر مبنی مکسڈ یوز مقام کے مطالعے تک محدود ہے، نہ کہ پورے منصوبے تک۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ معاہدے کے دائرہ کار کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
ملائیشیائی کمپنی ایم آر سی بی کی شمولیت اس لحاظ سے بھی قابل توجہ ہے کہ وہ رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر دونوں شعبوں میں کام کرتی ہے، اور اس کا تجربہ خاص طور پر ٹرانسپورٹ سے جڑے منصوبوں میں نمایاں ہے۔ کے ایل سینٹرل کی مثال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپنی مربوط ٹرانسپورٹ ہب کے ساتھ شہری استعمالات کو کیسے جوڑ سکتی ہے۔
سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے منصوبے اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہیں کیونکہ ان کا تعلق دنیا بھر سے آنے والے حاجیوں اور زائرین کی خدمت سے ہے۔ اس لیے کسی بھی بین الاقوامی شراکت داری کو مقامی تقاضوں، مذہبی حساسیتوں اور موسمی رش کے عوامل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ کیا ایک غیر ملکی ڈیولپر ان منفرد تقاضوں کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کا مقصد ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور معاون خدمات کے استعمال کے طریقوں کا مطالعہ کرنا بھی ہے تاکہ حاجیوں اور زائرین کی آمدورفت آسان ہو اور ان کی رسائی بہتر ہو۔ یہ مقصد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ منصوبے کی کامیابی کا معیار صرف تجارتی منافع نہیں بلکہ زائرین کے تجربے میں بہتری بھی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ معاہدہ کوالالمپور میں گزشتہ روز ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی وفد نے ملائیشیا کا دورہ کیا اور وہاں یہ تعاون طے پایا۔ اس سے سعودی عرب کی بین الاقوامی اقتصادی سفارت کاری کے ایک پہلو کی بھی عکاسی ہوتی ہے، جس میں بڑے منصوبوں کے لیے عالمی شراکت داروں کی تلاش شامل ہے۔
تاہم، رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں کہ اس معاہدے کے تحت کتنی سرمایہ کاری ملائیشیا سے آئے گی، یا ایم آر سی بی کا حصہ کیا ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ کیا یہ شراکت داری مشترکہ کمپنی کی صورت میں ہوگی یا صرف خدمات کے معاہدے کی صورت میں۔ یہ وہ نکات ہیں جن پر حتمی معاہدوں کے مرحلے میں بات ہوگی۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کا دائرہ کار کنگ سلمان گیٹ کے اندر ایک بڑے ٹرانسپورٹ پر مبنی مکسڈ یوز مقام کی ترقی کے مطالعے تک ہے، جس کی تخمینی کل مالیت 21 بلین سعودی ریال ہے۔ یہ رقم اس منصوبے کی ممکنہ وسعت کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن چونکہ یہ تخمینہ مطالعے کے مرحلے میں ہے، اس لیے اسے حتمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کتنے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، یا مقامی ٹھیکیداروں اور سپلائرز کو کس حد تک شامل کیا جائے گا۔ یہ وہ پہلو ہیں جن کا تعلق منصوبے کے سماجی اور اقتصادی اثرات سے ہے اور جن پر تفصیلی معلومات بعد کے مراحل میں سامنے آ سکتی ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ معاہدے میں فنانسنگ کے فریم ورک کی کھوج شامل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین مختلف مالیاتی ماڈلز پر غور کریں گے۔ بڑے شہری منصوبوں میں فنانسنگ کا ڈھانچہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ منصوبہ کس رفتار سے آگے بڑھے گا اور اس میں کون کون سے شراکت دار شامل ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ روا الحرم المکی کے کنگ سلمان گیٹ کے وژن اور ایم آر سی بی کی ٹرانسپورٹ سے جڑے بڑے مکسڈ یوز منصوبوں کی مہارت کو یکجا کرنے کی بات کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا امتزاج ہے جس میں ایک طرف مقامی منصوبہ بندی اور دوسری طرف بین الاقوامی تکنیکی تجربہ شامل ہے۔
تاہم، ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ اس معاہدے پر کس نے دستخط کیے، یا اس موقع پر کون سے عہدیدار موجود تھے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ معاہدہ کوالالمپور میں ہوا اور اس کا تعلق کنگ سلمان گیٹ کے اندر ایک مکسڈ یوز مقام کے مطالعے سے ہے۔
مجموعی طور پر، یہ معاہدہ سعودی عرب کے بڑے شہری منصوبوں میں بین الاقوامی شراکت داری کی ایک مثال ہے، جس کا مقصد مکہ مکرمہ کی حاجیوں اور زائرین کی خدمت کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ چونکہ یہ ابھی مطالعاتی مرحلے میں ہے، اس لیے اس کے حتمی نتائج کا انحصار ڈیو ڈیلیجنس، منظوریوں، فنانسنگ اور حتمی معاہدوں پر ہوگا۔
یہ تعاون معاہدہ کس کے درمیان ہوا اور کہاں؟ روا الحرم المکی، جو پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی کمپنی اور کنگ سلمان گیٹ پروجیکٹ کی ماسٹر ڈیولپر ہے، اور ملائیشین ریسورسز کارپوریشن برہاد (ایم آر سی بی) کے درمیان یہ معاہدہ ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں گزشتہ روز ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق معاہدے کا مقصد کنگ سلمان گیٹ کے اندر ایک بڑے ٹرانسپورٹ پر مبنی مکسڈ یوز مقام کی ترقی کا مطالعہ ہے، جس کی تخمینی کل مالیت 21 بلین سعودی ریال بتائی گئی ہے۔
اس معاہدے کا تخمینی مالی حجم کیا ہے اور کیا یہ حتمی ہے؟ ایس پی اے کے مطابق اس منصوبے کی تخمینی کل مالیت 21 بلین سعودی ریال ہے۔ تاہم یہ رقم حتمی نہیں، کیونکہ پروجیکٹ ڈیو ڈیلیجنس کی تکمیل، مطلوبہ منظوریوں اور فنانسنگ، نفاذ کے مراحل کے تعین اور حتمی معاہدوں کے دستخط پر منحصر ہے۔ رپورٹ میں رقم، صلاحیت یا تکمیل کی تاریخ کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔
مجوزہ پروجیکٹ میں کیا کیا شامل ہوگا؟ ایس پی اے کے مطابق مجوزہ پروجیکٹ میں ایک پبلک بس اسٹیشن کی ترقی کا مطالعہ شامل ہے، اس کے ساتھ کنگ سلمان گیٹ کے اندر رہائشی، تجارتی، ریٹیل اور دیگر مکسڈ یوز ترقیات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور معاون خدمات کے استعمال کے طریقوں کا مطالعہ بھی شامل ہے تاکہ حاجیوں اور زائرین کی آمدورفت آسان ہو، رسائی بہتر ہو اور ان کے تجربے میں بہتری آئے۔
ایم آر سی بی کی شمولیت کی کیا وجہ بتائی گئی ہے؟ ایس پی اے کے مطابق تعاون معاہدہ ایم آر سی بی کے ان تجربات سے فائدہ اٹھانے پر مرکوز ہے جو مربوط ٹرانسپورٹ نظام سے جڑے منصوبوں کی ترقی میں حاصل ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے نمایاں کے ایل سینٹرل کا حوالہ دیا گیا ہے، جو ملائیشیا کا سب سے بڑا مربوط ٹرانسپورٹ ہب ہے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو متعدد شہری استعمالات کے ساتھ جوڑتا ہے۔
اس معاہدے کے کیا ممکنہ اثرات بتائے گئے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق یہ تعاون معاہدہ کنگ سلمان گیٹ پروجیکٹ کی ترقی میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی راہ کھولتا ہے اور سعودی عرب کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد مکہ مکرمہ کی دنیا بھر سے آنے والے حاجیوں اور زائرین کی خدمت کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ معاہدہ ترقی، فنانسنگ اور نفاذ کے لیے ایک مربوط فریم ورک کی بھی کھوج کرے گا۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں کہ معاہدے پر کس نے دستخط کیے یا کون سے عہدیدار موجود تھے۔ اسی طرح مطالعے کی مدت، تعمیر کے آغاز کی تاریخ، بس اسٹیشن کی گنجائش، رہائشی اور تجارتی یونٹس کی تعداد، فنانسنگ کا ڈھانچہ اور ملائیشیائی سرمایہ کاری کا حصہ بھی واضح نہیں کیا گیا۔





