Thursday, October 22, 2026
عمومی

اقوام متحدہ: دو ہفتوں میں مغربی کنارے کی زیتون کی فصل پر 160 آباد کار حملے

اقوام متحدہ: دو ہفتوں میں مغربی کنارے کی زیتون کی فصل پر 160 آباد کار حملے

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران مغربی کنارے کی زیتون کی فصل پر کم از کم 160 آباد کار حملے ریکارڈ کیے ہیں اور فلسطینی کسانوں کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 22 اکتوبر 2026 کو نیویارک سے بیان کیا، دفتر کے مطابق ان حملوں میں زندہ گولیاں، آتش زنی، درختوں اور باغات کی تباہی اور فصلوں اور فارم کے سامان کی چوری شامل تھی، اور یہ حملے اکثر اسرائیلی افواج کے تحفظ یا شرکت کے ساتھ ہوئے۔

دفتر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی صحافیوں اور یورپی سفارت کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

کیا فصل کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی موجودگی کافی ہے جب حملے خود تحفظ کے سائے میں ہو رہے ہوں؟

دفتر کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا کہ فصل پر حملے بے دخلی اور بے دخل کرنے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی پابندیاں ہزاروں فلسطینی کسانوں کو ان کی زمین سے روکتی ہیں جبکہ آباد کاروں کو ان کی فصلیں کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

فلسطینی وزارت زراعت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک مغربی کنارے اور غزہ میں زیتون کے شعبے کے نقصانات تقریباً 157 ملین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ غزہ کے بیس لاکھ زیتون کے درختوں میں سے 90 فیصد تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ ستمبر کے آخر تک مغربی کنارے میں 286,000 درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اگر 90 فیصد درخت غزہ میں تباہ ہو چکے ہیں تو آنے والی نسلوں کے لیے زیتون کی معیشت کا کیا بچے گا؟

دفتر نے ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی برادریوں کی حفاظت کریں، زمین پر بین الاقوامی اور سفارتی موجودگی کو مضبوط کریں، کسانوں کی اپنی زمین تک رسائی کو یقینی بنائیں، امداد پہنچائیں، جوابدہی کو فروغ دیں اور آبادکاری کی توسیع کو روکیں۔

اس نے عطیہ دہندگان پر بھی زور دیا کہ وہ کمیونٹی کے تحفظ، ہنگامی تیاری، قانونی امداد، غذائی تحفظ اور ذریعہ معاش کے لیے مناسب اور لچکدار فنڈنگ فراہم کریں۔

کیا عطیہ دہندگان کی فنڈنگ زمین پر کسانوں تک پہنچ بھی رہی ہے یا صرف رپورٹوں میں رہ جاتی ہے؟

زیتون کی فصل مغربی کنارے میں فلسطینی معیشت اور ثقافت کا مرکزی ستون ہے، اور ہر سال اکتوبر میں کٹائی کا موسم شروع ہوتا ہے۔ دفتر کے مطابق یہ موسم اس بار حملوں کی شدت کی وجہ سے کسانوں کے لیے خطرے کا وقت بن گیا ہے۔

اگر کسان اپنی زمین تک نہیں پہنچ سکتے تو کٹائی کا موسم کس کے لیے ہے؟

دفتر نے کہا کہ حملوں میں درختوں اور باغات کو جلایا گیا اور فصلوں اور فارم کے سامان کو چرایا گیا، جس سے کسانوں کے ذریعہ معاش کو براہ راست نقصان پہنچا۔

بین الاقوامی صحافیوں اور یورپی سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واقعات کی رپورٹنگ کرنے والے بھی محفوظ نہیں رہے۔

جب صحافی اور سفارت کار خود نشانہ بنیں تو دنیا کو حقیقت کون پہنچائے گا؟

فلسطینی وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک زیتون کے شعبے میں مجموعی نقصان تقریباً 157 ملین ڈالر ہے، جو مغربی کنارے اور غزہ دونوں کو ملا کر ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ غزہ میں زیتون کے درختوں کی تباہی 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جہاں کل بیس لاکھ درخت تھے۔

مغربی کنارے میں ستمبر کے آخر تک 286,000 درختوں کو نقصان پہنچا، جو کٹائی کے موسم سے قبل ہی ایک بڑا نقصان ہے۔

کیا درختوں کی گنتی نقصان کی حقیقی تصویر دکھاتی ہے یا کسانوں کی محرومی اس سے بھی بڑی ہے؟

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اپنی سفارشات میں کسانوں کی زمین تک رسائی، امداد کی فراہمی، جوابدہی کے فروغ اور آبادکاری کی توسیع کو روکنے کا مطالبہ شامل کیا ہے۔

اس نے زمین پر بین الاقوامی اور سفارتی موجودگی کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا تاکہ فلسطینی برادریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کیا سفارتی موجودگی حملوں کو روک سکتی ہے جب دفتر خود کہتا ہے کہ حملے تحفظ کے ساتھ ہوتے ہیں؟

دفتر کے سربراہ اجیت سنگھے کے مطابق، فصل پر حملے بے دخلی اور بے دخل کرنے کے آلے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، اور اسرائیلی پابندیاں کسانوں کو ان کی زمین سے روکتی ہیں جبکہ آباد کاروں کو فصل کاٹنے کی اجازت ہے۔

یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زمین تک رسائی صرف زرعی معاملہ نہیں بلکہ تحفظ اور حقوق کا سوال ہے۔

اگر آباد کار کھلے عام فصل کاٹ سکتے ہیں تو کسانوں کے لیے انصاف کا راستہ کہاں ہے؟

اقوام متحدہ کے دفتر نے عطیہ دہندگان سے کہا کہ وہ کمیونٹی کے تحفظ، ہنگامی تیاری، قانونی امداد، غذائی تحفظ اور ذریعہ معاش کے لیے مناسب اور لچکدار فنڈنگ فراہم کریں۔

یہ مطالبہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تحفظ کے لیے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی وسائل درکار ہیں۔

کیا لچکدار فنڈنگ زمین پر کسانوں کے لیے حقیقی تحفظ بن سکتی ہے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملوں کے الزام میں کوئی گرفتاری ہوئی، کوئی معاملہ عدالت میں گیا، یا جوابدہی کے لیے کوئی مخصوص اقدام اٹھایا گیا۔

یہ بھی واضح نہیں کہ امداد کی فراہمی کا کوئی شیڈول یا رقم مقرر ہوئی، یا بین الاقوامی موجودگی میں اضافے کا کوئی وقت طے ہوا۔

کیا جوابدہی کے بغیر امداد اور موجودگی کا مطالبہ کافی ہے؟

دفتر نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ 160 حملوں میں سے کتنے میں اسرائیلی افواج کی براہ راست شرکت تھی اور کتنے میں صرف تحفظ کا ذکر ہے۔

یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بین الاقوامی صحافیوں اور یورپی سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات کہاں پیش آئے یا ان کی تفصیل کیا ہے۔

کیا تفصیلات کی کمی رپورٹ کی تصدیق کو مشکل بناتی ہے یا یہ خود ایک بڑا سوال ہے؟

فلسطینی وزارت زراعت کے اعداد و شمار میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 157 ملین ڈالر کا نقصان کس طرح شمار کیا گیا یا اس میں کون سی فصلیں شامل ہیں۔

غزہ کے 90 فیصد درختوں کی تباہی اور مغربی کنارے کے 286,000 درختوں کے نقصان کے اعداد و شمار ستمبر کے آخر تک کے ہیں، جبکہ اکتوبر کے حملے اس کے بعد کے ہیں۔

اگر اعداد و شمار ستمبر تک کے ہیں تو اکتوبر کے حملوں کا نقصان کتنا بڑھ گیا ہوگا؟

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے زیتون کی فصل پر حملوں کو بے دخلی اور بے دخل کرنے کا آلہ قرار دیا، جبکہ وزارت زراعت کے اعداد و شمار زیتون کے شعبے میں 157 ملین ڈالر کے نقصان اور درختوں کی تباہی کو ظاہر کرتے ہیں۔

دفتر کی سفارشات میں تحفظ، رسائی، امداد، جوابدہی اور آبادکاری کی توسیع کو روکنا شامل ہے، اور عطیہ دہندگان سے لچکدار فنڈنگ کی اپیل بھی کی گئی۔

رپورٹ میں رقم، گرفتاریوں، عدالتی کارروائی یا امداد کے شیڈول کی تفصیل نہیں دی گئی۔

اقوام متحدہ کے دفتر نے کتنے حملے ریکارڈ کیے اور کب؟ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران مغربی کنارے کی زیتون کی فصل پر کم از کم 160 آباد کار حملے ریکارڈ کیے۔ دفتر کے مطابق ان حملوں میں زندہ گولیاں، آتش زنی، درختوں اور باغات کی تباہی اور فصلوں اور فارم کے سامان کی چوری شامل تھی۔ دفتر نے کہا کہ حملے اکثر اسرائیلی افواج کے تحفظ یا شرکت کے ساتھ ہوئے، اور حالیہ دنوں میں بین الاقوامی صحافیوں اور یورپی سفارت کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

دفتر کے سربراہ نے حملوں کے بارے میں کیا کہا؟ دفتر کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا کہ فصل پر حملے بے دخلی اور بے دخل کرنے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی پابندیاں ہزاروں فلسطینی کسانوں کو ان کی زمین سے روکتی ہیں جبکہ آباد کاروں کو ان کی فصلیں کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ بیان دفتر کی رپورٹ کا حصہ ہے جس میں فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

زیتون کے شعبے میں نقصان کے کیا اعداد و شمار دیے گئے؟ فلسطینی وزارت زراعت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک مغربی کنارے اور غزہ میں زیتون کے شعبے کے نقصانات تقریباً 157 ملین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ غزہ کے بیس لاکھ زیتون کے درختوں میں سے 90 فیصد تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ ستمبر کے آخر تک مغربی کنارے میں 286,000 درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں نقصان کے حساب کا طریقہ نہیں بتایا گیا۔

دفتر نے ممالک اور عطیہ دہندگان سے کیا مطالبہ کیا؟ دفتر نے ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی برادریوں کی حفاظت کریں، زمین پر بین الاقوامی اور سفارتی موجودگی کو مضبوط کریں، کسانوں کی اپنی زمین تک رسائی کو یقینی بنائیں، امداد پہنچائیں، جوابدہی کو فروغ دیں اور آبادکاری کی توسیع کو روکیں۔ اس نے عطیہ دہندگان پر بھی زور دیا کہ وہ کمیونٹی کے تحفظ، ہنگامی تیاری، قانونی امداد، غذائی تحفظ اور ذریعہ معاش کے لیے مناسب اور لچکدار فنڈنگ فراہم کریں۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملوں کے الزام میں کوئی گرفتاری ہوئی، کوئی معاملہ عدالت میں گیا، یا جوابدہی کے لیے کوئی مخصوص اقدام اٹھایا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ امداد کی فراہمی کا کوئی شیڈول یا رقم مقرر ہوئی، یا بین الاقوامی موجودگی میں اضافے کا کوئی وقت طے ہوا۔ 160 حملوں میں سے کتنے میں اسرائیلی افواج کی براہ راست شرکت تھی، یہ بھی نہیں بتایا گیا۔