منامہ میں جمعرات کو خلیج تعاون کونسل کی ministers اور سربراہانِ سول سروس کمیٹی کا 22واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں سول سروس اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے 2026–2030 کے ایکشن پلان پر بات کی گئی۔ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے اس موقع پر کہا کہ یہ حکمت عملی اور اس میں شامل اقدامات سول سروس اور انسانی وسائل کی ترقی کے میدان میں جی سی سی کے سفر کی کامیابیوں کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہوا اور اس کی صدارت بحرین کی سول سروس بیورو کے صدر اور موجودہ اجلاس کے چیئرمین شیخ دعائج بن سلمان بن دعائج الخلیفہ نے کی، جس میں جی سی سی ریاستوں کے ministers اور سربراہانِ سول سروس نے شرکت کی۔
البدیوی نے گزشتہ مدت میں اس میدان میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کو سراہا اور اس کا سہرا ministers اور سربراہانِ سول سروس کمیٹی کے ارکان کی قابلِ قدر کوششوں اور درست ہدایات کو دیا۔ کیا یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت نہیں کہ اجتماعی کوششیں انفرادی کوششوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں؟
انہوں نے گزشتہ مدت میں سول سروس اور انسانی وسائل کی ترقی کے میدان میں ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وسائل کے ڈیٹا بیس کی تعمیر میں مہارت رکھنے والی معروف کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، اور یہ یادداشت اب بھی نافذ العمل ہے، جس سے رکن ممالک کو اس کے فوائد اور مواقع سے مستقل طور پر فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔
البدیوی نے وضاحت کی کہ متعدد رکن ممالک کی رپورٹس اس کامیابی سے حاصل ہونے والے فوائد کی عکاسی کرتی ہیں، کیونکہ اس مفاہمت کی یادداشت نے اپنے مقررہ اہداف کے حصول میں تعاون کیا ہے، اس کے علاوہ بہترین ممکنہ قیمتوں اور شرائط کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماعی مذاکرات کے طریقہ کار کی اہمیت اور اس کی افادیت کی تصدیق کرتا ہے، جو مذاکراتی طاقت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں معاون ہے، اور یہ ایک ہی گروپ کے فریم ورک میں مشترکہ عمل اور انضمام پر مبنی ہے۔
کیا اجتماعی مذاکرات کا یہ ماڈل دیگر شعبوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید آئندہ اجلاسوں میں ملے گا، لیکن فی الحال یہ بات واضح ہے کہ رکن ممالک اس طریقہ کار سے مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے رکن ممالک میں کام کرنے والے جی سی سی شہریوں کی تعداد 25,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں مزید تفصیلات بھی شامل ہیں جو رپورٹ کے اس حصے میں مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خلیجی ممالک کے درمیان انسانی وسائل کی نقل و حرکت اور روزگار کے مواقع کس حد تک پھیل چکے ہیں۔ کیا یہ اعداد و شمار خطے میں معاشی انضمام کی گہرائی کو ظاہر نہیں کرتے؟
اجلاس میں ministers اور سربراہانِ سول سروس نے سول سروس اور انسانی وسائل کی ترقی کے میدان میں جاری کوششوں کا جائزہ لیا اور آئندہ کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ بحرین کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں رکن ممالک کے نمائندوں نے اپنے تجربات اور بہترین طریقوں پر بھی بات کی۔ کیا اس طرح کے تبادلے سے رکن ممالک ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل کو تیز نہیں کر سکتے؟
البدیوی نے کہا کہ گزشتہ مدت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں میں مفاہمت کی یادداشت کے علاوہ دیگر اقدامات بھی شامل ہیں، جن کا مقصد سول سروس کے شعبے کو جدید بنانا اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کامیابیاں رکن ممالک کے درمیان مشترکہ عمل اور انضمام کی بدولت ممکن ہوئی ہیں۔ کیا مشترکہ عمل کے بغیر اس طرح کے نتائج حاصل ہو سکتے تھے؟
2026–2030 کا ایکشن پلان اور اس میں شامل اقدامات کو اس اجلاس میں نمایاں مقام دیا گیا۔ یہ پلان رکن ممالک کی سول سروس کے شعبے میں ترقی کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد گزشتہ کامیابیوں کو آگے بڑھانا ہے۔ البدیوی نے کہا کہ یہ پلان سول سروس اور انسانی وسائل کی ترقی کے میدان میں جی سی سی کے سفر کی کامیابیوں کو مضبوط بنانے میں معاون ہوگا۔ کیا پانچ سالہ پلان طویل مدتی پائیدار ترقی کی ضمانت دے سکتا ہے؟
اجلاس میں بحرین کے صدرنشین نے رکن ممالک کے وفود کا خیرمقدم کیا اور گزشتہ مدت میں کمیٹی کے کام کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کیا اس قسم کی کمیٹیوں کے اجلاس خطے میں پالیسی ہم آہنگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں؟
البدیوی نے اپنی تقریر میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت رکن ممالک کو بہترین قیمتوں اور شرائط کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے، جو اجتماعی مذاکرات کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار رکن ممالک کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ کیا یہ ماڈل دوسرے شعبوں جیسے توانائی یا ٹیکنالوجی میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے؟
اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک کے نمائندوں نے آئندہ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور سول سروس کے شعبے میں مزید تعاون پر اتفاق کیا۔ یہ اجلاس خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ کوششوں کا ایک اور سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کی حتمی کامیابی کا انحصار آنے والے برسوں میں اس پلان کے مؤثر نفاذ پر ہوگا۔ کیا رکن ممالک اس پلان کو مقررہ وقت میں مکمل کر پائیں گے؟
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اجلاس میں کون سے مخصوص فیصلے کیے گئے، نہ ہی ایکشن پلان کے تحت آنے والے اقدامات کی تفصیلات یا ان کے لیے مختص بجٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 25,000 سے زائد جی سی سی شہریوں کے حوالے سے مکمل اعداد و شمار اور ان کے پیشوں کی تفصیل بھی دستیاب نہیں ہے۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے ministers کے ناموں کی مکمل فہرست بھی رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
اجلاس کہاں اور کب منعقد ہوا؟ خلیج تعاون کونسل کی ministers اور سربراہانِ سول سروس کمیٹی کا 22واں اجلاس جمعرات کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہوا۔ اس کی صدارت بحرین کی سول سروس بیورو کے صدر شیخ دعائج بن سلمان بن دعائج الخلیفہ نے کی۔ اجلاس میں جی سی سی ریاستوں کے ministers اور سربراہانِ سول سروس نے شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اجلاس 8 اکتوبر 2026 کو ہوا۔
جی سی سی سیکرٹری جنرل نے کیا کہا؟ جاسم البدیوی نے کہا کہ سول سروس اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے 2026–2030 کا ایکشن پلان اور اس میں شامل اقدامات اس میدان میں جی سی سی کے سفر کی کامیابیوں کو مضبوط بنانے میں معاون ہوں گے۔ انہوں نے گزشتہ مدت کی پیش رفت کو سراہا اور اس کا سہرا ministers اور سربراہانِ سول سروس کمیٹی کے ارکان کی کوششوں کو دیا۔
مفاہمت کی یادداشت کا کیا فائدہ بتایا گیا؟ البدیوی کے مطابق انسانی وسائل کے ڈیٹا بیس کی تعمیر میں مہارت رکھنے والی معروف کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے اور یہ اب بھی نافذ العمل ہے۔ اس سے رکن ممالک کو فوائد اور مواقع مل رہے ہیں۔ متعدد رکن ممالک کی رپورٹس کے مطابق اس نے مقررہ اہداف کے حصول میں تعاون کیا اور بہترین قیمتوں اور شرائط کو یقینی بنایا۔
دوسرے رکن ممالک میں کام کرنے والے جی سی سی شہریوں کی تعداد کتنی ہے؟ البدیوی نے بتایا کہ دوسرے رکن ممالک میں کام کرنے والے جی سی سی شہریوں کی تعداد 25,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ رپورٹ کے اس حصے میں مزید تفصیلات مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ یہ تعداد خطے میں انسانی وسائل کی نقل و حرکت اور روزگار کے مواقع کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔
اجتماعی مذاکرات کے طریقہ کار کی کیا اہمیت بتائی گئی؟ البدیوی نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت نے بہترین ممکنہ قیمتوں اور شرائط کو یقینی بنایا، جو اجتماعی مذاکرات کے طریقہ کار کی اہمیت اور افادیت کی تصدیق کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ طریقہ کار مذاکراتی طاقت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں معاون ہے، اور یہ ایک ہی گروپ کے فریم ورک میں مشترکہ عمل اور انضمام پر مبنی ہے۔
رپورٹ میں کیا تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اجلاس میں کون سے مخصوص فیصلے کیے گئے، نہ ہی ایکشن پلان کے تحت آنے والے اقدامات کی تفصیلات یا ان کے لیے مختص بجٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ 25,000 سے زائد جی سی سی شہریوں کے مکمل اعداد و شمار اور ان کے پیشوں کی تفصیل بھی دستیاب نہیں۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے ministers کے ناموں کی مکمل فہرست بھی شامل نہیں ہے۔